Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحكم والقضاء

Governance & Judiciary

29060 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6011

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ تُحَدِّثُنِي بِهِ قَالَ نَعَمْ فَذَكَرَ عُثْمَانَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ فَبَعَثَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأُخْرَى عَلَيْهَا فَقَالَ هَذِهِ لِعُثْمَانَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ اذْهَبْ بِهَذِهِ الْآنَ مَعَكَ

It was narrated that 'Uthmaan ibn 'Abdullah said: A man came to Ibn 'Umar and said: O Ibn 'Umar, I am going to ask you about something; will you tell me abo ut it? He said: Yes. He mentioned 'Uthmaan, and Ibn 'Umar said: As for his absence from Badr, a daughter of the Messenger of Allah (PBUH) was married to hiirv and she was sick, so the Prophet (PBUH) said to him: "You will have the reward and share (of the booty) of a man who was present at Badr." As for his absence from bay-'at ar-radwaan, after 'Uthmaan had gone to Makkah, the Messenger of Allah (PBUH) said of his right hand, "This is the hand of Uthmaan’ and he placed his other hand on top of it and said, "This is for 'Uthmaan”. Ibn 'Umar said to him; Take this information with you now.

عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← أبو معاوية يعني شيبان ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6011

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6015

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ

It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (PBUH) said: "Islam is built upon five [pillars]: the testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah; establishing regular prayer (salaah); paying zakaah; Hajj (pilgrimage) to the House; and fasting Ramadaan."

النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمٍ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6015

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6048

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ فَلَا حُجَّةَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ فَقَدْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی، اور جو شخص " جماعت " کو چھوڑ کر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6048

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6166

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ فَقَالَ اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ مَا جِئْتُ لِأَجْلِسَ عِنْدَكَ وَلَكِنْ جِئْتُ أُخْبِرُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ أَوْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ

زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کوخوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیاہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص " جماعت " کوچھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← مَا جِئْتُ لِأَجْلِسَ عِنْدَكَ وَلَكِنْ جِئْتُ أُخْبِرُكَ مَا ← اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً ← إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ ← زيد بن أسلم أنه ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6166

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6243

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يُلَقِّنُنَا هُوَ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات سننے اور اطاعت کرنے کی شرط پر بیعت لیا کرتے تھے کہ حسب استطاعت (جہاں تک ممکن ہو گا تم بات سنو گے اور مانو گے)

كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يُلَقِّنُنَا هُوَ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6243

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6255

حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منٰی میں عشاء کی دو رکعتیں پڑھی ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسے مکمل کرنے لگے تھے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6255

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6278

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان پر اپنے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے خواہ اسے اچھا لگے یا برا بشرطیکہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا جائے اس لئے کہ اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو اس وقت کسی کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی اجازت نہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← ابْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6278

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6301

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يُحَدِّثُ طَاوُسًا قَالَ إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَلَا تَغْزُو قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ وَحَجُّ الْبَيْتِ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اب آپ جہاد میں شرکت کیوں نہیں کرتے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں ، نماز قائم کرنا، زکوۃ اداکرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← إِنِّي ← لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَلَا تَغْزُو؟ ← إِنَّ رَجُلًا ← طَاوُسًا ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← حَنْظَلَةُ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6301

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6352

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بِمِنًى وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ صَلَّاهَا أَرْبَعًا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منٰی میں عشاء کی دو رکعتیں پڑھی ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسے مکمل کرنے لگے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6352

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6423

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص " جماعت " کوچھوڑ کر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا ← مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً ← دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6423

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6503

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ إِذْ نَادَى مُنَادِيهِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَاجْتَمَعْنَا قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا دَلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ وَيُحَذِّرُهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ شَدِيدٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا تَجِيءُ فِتَنٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ ثُمَّ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ ثُمَّ تَنْكَشِفُ فَمَنْ سَرَّهُ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَأَنْ يُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ قَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي قَالَ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ قَالَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچاوہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سناکہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پہنچ کرپڑاؤ ڈالا ہم میں سے بعض لوگوں نے خیمے لگا لئے بعض چراگاہ میں چلے گئے اور بعض تیراندازی کرنے لگے اچانک ایک منادی نداء کرنے لگا کہ نماز تیار ہے ہم لوگ اسی وقت جمع ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دوران خطبہ ارشاد فرمایا کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام گذرے ہیں وہ اپنی امت کے لئے جس چیز کو خیر سمجھتے تھے انہوں نے وہ سب چیزیں اپنی امت کو بتا دیں اور جس چیز کو شر سمجھتے تھے اس سے انہیں خبردار کر دیا اور اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں رکھی گئی ہے اور اس امت کے آخری لوگوں کو سخت مصائب اور عجیب وغریب امور کا سامنا ہو گا ایسے فتنے رو نما ہوں گے جو ایک دوسرے کے لئے نرم کردیں گے مسلمان پر آزمائش آئے گی تو وہ کہے گا کہ یہ میری موت کا سبب بن کر رہے گی اور کچھ عرصے بعد وہ بھی ختم ہوجائے گی۔ تم میں سے جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ سے بچالیا جائے اور جنت میں داخلہ نصیب ہوجائے تو اسے اس حال میں موت آنی چاہئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کو وہ دے جو خود لینا پسند کرتا ہو اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اسے اپنے ہاتھ کا معاملہ اور دل کا ثمرہ دے دے توجہاں تک ممکن ہو اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی دوسرا آدمی اس سے جھگڑے کے لئے آئے تو دوسرے کی گردن اڑادو۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنا سر لوگوں میں گھسا کر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کرپوچھتاہوں کیا یہ بات آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا میرے دونوں کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے میں نے عرض کیا کہ یہ آپ کے چچازادبھائی (وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے گمان کے مطابق مرادلے رہا تھا جب کہ حقیقت اس کے برخلاف تھی) ہمیں غلط طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانے اور اپنے آپ کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے نہ کھاؤ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ جمع کر کے پیشانی پر رکھ لئے اور تھوڑی دیر کو سر جھکالیا پھر سر اٹھا کر فرمایا کہ اللہ کی اطاعت کے کاموں میں ان کی بھی اطاعت کرو اور اللہ کی معصیت کے کاموں میں ان کی بھی نافرمانی کرو۔

انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6503

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6569

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُ كَيْفَ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے تمام بنی آدم کے دل اللہ کی دوانگلیوں کے درمیان قلب واحد کی طرح ہیں وہ انہیں جیسے چاہے پھیر دیتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کی کہ اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، أَنَّهُ ← أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6569

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 3441

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَزَادَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ فَأَخْبَرَتْهُ أَنْ قَدْ مَسَّهَا فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ أَنْ يُحِلَّهَا لِرَفَاعَةَ فَلَا يَتِمَّ لَهُ نِكَاحُهَا مَرَّةً أُخْرَى ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا

A simil ar report was narrated from Ibn 'Abbas (RA) and added: Later on she came and told him that he had been intimate with her and he did not let her go back to her first husband, and he said: "O Allah, if he is divorcing her so that she can become permissible for Rifa'ah, her marriage to him should never take place again." Then she came to Abu Bakr and 'Umar during their caliphates and they did not let her (go back to her first husband).

عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 3441

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6597

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ أَخْرَجَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قِرْطَاسًا وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا يَقُولُ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهُ كُلِّ شَيْءٍ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ

ابوعبدالرحمن حبلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعاء سکھایا کرتے تھے کہ اے آسمان و زمین کو پیداکرنے والے اللہ پوشیدہ اور ظاہر سب کو جاننے والے اللہ تو ہر چیز کا رب ہے اور ہر چیز کا معبود ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہےتیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور فرشتے بھی اس بات کے گواہ ہیں میں شیطان اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ خود کسی گناہ کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان پر اسے لا دوں (یہ دعاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سوتے وقت پڑھنے کے لئے سکھائی تھی)

حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6597

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6628

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَعَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے، بیع اور ادھار سے، اس چیز کی بیع سے جو ضمانت میں ابھی داخل نہ ہوئی ہو اور اس چیز کی بیع سے جو آپ کے پاس موجود نہ ہو " منع فرمایا۔

بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَکَ ← ربح ما لم يضمن ← بَيْعٍ وَسَلَفٍ ← بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6628

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6698

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ وَالتَّابِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی خائن مرد و عورت کی گواہی مقبول نہیں نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوکر کی گواہی اس کے مالکان کے حق میں قبول نہیں فرمائی البتہ دوسرے لوگوں کے حق میں قبول فرمائی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6698

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 3789

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ قَالَ لَيْسَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

It was narrated that 'Abdullah (RA) said: The Messenger of Allah (PBUH) said: "There will be in charge of your affairs after I am gone men who will extinguish the sunnah and introduce bid'ah (innovation); they will delay the prayer from its proper time." lbn Mas'ood (RA) said: O Messenger of Allah, what should I do if I live to see them? He said: "O lbn Umm 'Abd, there is no obedience to the one who disobeys Allah." And he said it three times.

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 3789

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 3870

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ قَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا ثُمَّ مَشَيْنَا وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا دَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ جَلَسْنَا فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ فَقَالَ طَارِقٌ أَنَا أَسْأَلُهُ فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ فَذَكَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ وَشَهَادَةَ الزُّورِ وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ وَظُهُورَ الْقَلَمِ

It was narrated that Tariq bin Shihab said: We were sitting with 'Abdullah when a man came and said: The iqarnah (call immediately preceding the prayer) lias been given. So he got up and we got up with him, and when we entered the mosque we saw the people bowing at the front of the mosque, so he said takbecr and bowed, and we bowed, then we walked and did what he did. A man came rushing past and said, ' Alaikas-snlam (upon you be peace) O Abu 'Abdur-Rahman. He said: Allah and His Messenger spoke the truth. When we had prayed and gone back, he went in to sec his family and we sat and said to one another; Did you not hear his response to the man: Allah spoke the truth and His Messengers conveyed (the message)? Which of you will ask him? Tariq said: I will ask him. So he asked him when he came out, and he narrated from the Prophet (PBUH): "Ahead of the Hour, greetings of salam will only be given to people whom one knows; commerce will become so wide- spread that a woman will help her husband in trade; ties of kinship will be severed; there will be false testimony and concealment of testimony; and there will be widespread use of the pen (i.e., literacy)."

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← سَيَّارٍ، ← بشير بن سلمان ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 3870

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 3889

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَيْفَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُضَيِّعُونَ السُّنَّةَ وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا قَالَ كَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تَسْأَلُنِي ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَيْفَ تَفْعَلُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

It was narrated from Ibn Mas'ood (RA) that the Prophet (PBUH) said: "How will you be, O 'Abdullah, when you have in charge of you rulers who neglect the Sunn ah and who delay the prayer from its proper time?" He said: What do you instruct me to do, O Messenger of Allah? He said: "Are you asking me what you should do? There is no obedience to any created being if it involves disobedience towards Allah, may He be glorified and exalted."

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 3889

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 3893

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ قَالَ فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ قَالَ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ كَانَ قَدْ أَصَابَ قَالَ فَلَا أَدْرِي كَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ قَالَ فَأَوْضَعَ النَّاسُ وَلَمْ يَزِدْ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ حَتَّى أَتَيْنَا جَمِيعًا فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ رَقَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ قَالَ وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْمَكَانِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ

It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Yazeed said: We performed Hajj with Ibn Mas'ood (RA) during the caliphate ot 'Uthman. When we stood in 'Arafah, when the sun set, Ibn Mas'ood (RA) said: If Ameer al-Mu'mineen moves on now, e will have done the right thing. He said: I do not know which came first, the words of Ibn Mas'ood (RA) or 'Uthman's moving on. The people rushed, but Ibn Mas'ood moved at a measured pace until we came to Muzdalifah. Ibn Mas'ood led us in praying Maghrib , then he called for his supper and ate his supper, then he got up and prayed 'Isha. Then he went to sleep until, when dawn first broke, he got up and prayed Fajr. I said to him: You do not usually pray at this hour! - he said: he used to pray when it got very light - and he said: I saw the Messenger of Allah (PBUH) on this day, in this place, praying at this hour.

ابْن مَسْعُود لَو ← فلما غابت الشمس ← فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ ← حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ. ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبَا إِسْحَاقَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 3893

chevron_left Previous
1…363738…1,453
Next chevron_right