Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المجتمع

Society

31473 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7931

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَتِهِ وَيُقَاتِلُ لِعَصَبَتِهِ وَيَنْصُرُ عَصَبَتَهُ فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَى لِمُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بے مقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا اور جو شخص میری امت پر خروج کرے نیک و بد سب کو مارے مومن سے حیاء نہ کرے اور عہد والے سے عہد پورا نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي قيس بن رياح، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7931

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7938

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَوَجَدْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں خواتین کی اکثریت دکھائی دی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں فقراء کی اکثریت دکھائی دی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَوْفٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7938

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7983

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنْ الْقَرْنَاءِ تَنْطَحُهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7983

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 4245

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا أَحَدَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ

It was narrated that 'Abdullah (RA) said: The Messenger of Allah (PBUH) said: "The blood of a Muslim man who bears witness that there is no god but Allah and that i am the Messenger of Allah is not permissible (to be shed) except in one of three cases: a soul for a soul, a married adulterer, and one who leaves his religion and separates from the jama’nh (the main body of Muslims)”.

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 4245

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16731

قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكْمِلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی، اگر اس نے اسے مکل اداء کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے ذریعے فرائض کی تکمیل کر سکو، اسی طرح زکوۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16731

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16737

قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُعْتِقَتْ الْأَمَةُ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا فَإِنْ هِيَ أَقَرَّتْ حَتَّى يَطَأَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ لَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ

چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی باندی کو آزادی کا پروانہ مل جائے تو اسے اختیار مل جاتا ہے، بشرطیکہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو کہ اگر چاہے تو اپنے شوہر سے جدائی اختیار کر لے، اور اگر وہ اس سے ہمبستری کر چکا ہو تو پھر اسے یہ اختیار نہیں رہتا اور وہ اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔

رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ يَتَحَدَّثُونَ ← الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16737

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16738

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدَاةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُسْفِرُ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقُ الْوَجْهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنْ الْمُوقِنِينَ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ قَالَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَمِنْ الدَّرَجَاتِ طِيبُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي النَّاسِ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے تو بڑا خوشگوار موڈ تھا اور چہرے پر بشاشت کھیل رہی تھی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کیفیت کا تذکرہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہو؟ جبکہ آج رات میرے پاس میرا رب انتہائی حسین صورت میں آیا، اور فرمایا اے محمد، میں نے عرض کیا لبیک ربی وسعدیک ، فرمایا ملا اعلی کے فرشتے کس وجہ سے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا پروردگار! میں نہیں جانتا (دو تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوا) پھر پروردگار نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں کے درمیان رکھ دیں جن کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے اور چھاتی میں محسوس کی، حتی کہ میرے سامنے آسمان و زمین کی ساری چیزیں نمایاں ہوگئیں ، پھر آپ نے وکذلک نری ابراہیم والی آیت تلاوت فرمائی، اس کے بعد اللہ نے پھر پوچھا کہ اے محمد، ملا اعلی کے فرشتے کس چیز کے بارے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کفارات کے بارے میں ، فرمایا کفارات سے کیا مراد ہے، میں نے عرض کیا جمعہ کے لئے اپنے پاؤں سے چل کر جانا، نماز کے بعد بھی مسجد میں بیٹھے رہنا، مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، ارشاد ہوا کہ جو شخص یہ کام کر لے وہ خیر کی زندگی گزارے گا اور خیر کی موت مرے گا اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجائے گا جیسے اپنی پیدائش کے دن تھا، اور جو چیزیں بلند درجات کا سبب بنتی ہیں ، وہ بہترین کلام، سلام کی اشاعت، کھانا کھلانا، اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھنا ہے، پھر فرمایا اے محمد! جب نماز پڑھا کرو تو یہ دعاء کر لیا کرو، کہ اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کا سوال کرتا ہوں ، منکرات سے بچنے کا، مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ تو میری طرف خصوصی توجہ فرما اور جب لوگوں میں کسی آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت عطا فرما دے۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16738

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16859

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى فَقَالَ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ أَدَّاهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِمْ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ وَالنَّصِيحَةُ لِوَلِيِّ الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِ

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان منی میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اسے اچھی طرح محفوظ کرے، پھر ان لوگوں تک پہنچادے جو اسے براہ راست نہیں سن سکے، کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فقہ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں لیکن فقیہ نہیں ہوتے، اور بہت سے حاملین فقیہ اس شخص تک بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرسکتا۔ (١) عمل میں اخلاص، (٢) حکمرانوں کے لئے خیر خواہی (٣) جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا کیونکہ جماعت کی دعاء اسے پیچھے سے گھیر لیتی ہے۔

نَضَّر الله امْرأً ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16859

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16875

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِالْخَيْفِ نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ أَدَّاهَا لِمَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ وَطَاعَةُ ذَوِي الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِ

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان منی میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اسے اچھی طرح محفوظ کرے، پھر ان لوگوں تک پہنچادے جو اسے براہ راست نہیں سن سکے، کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فقہ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں لیکن فقیہ نہیں ہوتے، اور بہت سے حاملین فقیہ اس شخص تک بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا۔ (١) عمل میں اخلاص، (٢) حکمرانوں کے لئے خیر خواہی (٣) جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا کیونکہ جماعت کی دعا اسے پیچھے سے گھیر لیتی ہے۔

رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِالْخَيْفِ نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا ← أَبِيهِ جُبَيْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16875

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17061

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ قَالَ حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَوْزَنِيُّ قَالَ أَبُو الْمُغِيرَةِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ الْحَرَازِيُّ عَنْ أَبِي عَامِرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَامَ حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ وَاللَّهِ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَيْرُكُمْ مِنْ النَّاسِ أَحْرَى أَنْ لَا يَقُومَ بِهِ

ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہ ظہر کی نماز پڑھ کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے یہودونصاری اپنے دین میں بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ ایک فرقہ جماعت صحابہ کے نقش پر ہوگا اور میری امت میں کچھ ایسی اقوام بھی آئیں گی جن پر یہ فرقے (اور خواہشات) اس طرح غالب آجائیں گی جیسے کتا کسی پر چڑھ دوڑتا ہے اور اس شخص کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا نہیں رہتا جس میں زہر سرایت نہ کر جائے، اللہ کی قسم! اے گروہ عرب! اگر تم اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت پر قائم نہ رہے تو دوسرے لوگ تو زیادہ ہی اس پر قائم نہ رہیں گے۔

أبي عامر عبد الله بْنِ لُحَيٍّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ الْحَرَازِيُّ ← أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَوْزَنِيُّ ← صَفْوَانُ؛ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17061

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17073

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكْمِلُونَ بِهَا فَرِيضَتَهُ ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حِسَابِ ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی، اگر اس نے اسے مکمل اداء کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے ذریعے فراض کی تکمیل کر سکو، اسی طرح زکوۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17073

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17079

وَدَاوُدَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَكْمَلَهَا قَالَ لِلْمَلَائِكَةِ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَأَكْمِلُوا بِهَا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ ثُمَّ الزَّكَاةُ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی، اگر اس نے اسے مکمل اداء کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے ذریعے فراض کی تکمیل کر سکو، اسی طرح زکوۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← زُرَارَةَ ← وَدَاوُدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17079

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17151

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْلَمَ قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قَالَ فَقُلْتُ وَهَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ أُخْرَى قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ كَأَنَّهَا حَجَفَةٌ حَتَّى تَنْتَشِرَ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَك حَتَّى يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَى ظِلِّهِ ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ لِنِصْفِ النَّهَارِ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ بَيْنِ ذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانَ هُوَ وَقَلْبُهُ وَوَجْهُهُ أَوْ كُلُّهُ نَحْوَ الْوَجْهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ انْصَرَفَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ عَشْرًا أَوْ عِشْرِينَ مَا حَدَّثْتُ بِهِ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ پر کون لوگ اسلام لائے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آزاد بھی اور غلام بھی (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ نے آپ کو جو علم دیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیجئے؟ کیا کوئی وقت زیادہ افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کا آخری پہر سب سے زیادہ افضل ہے، اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور نماز قبول ہوتی ہے، جب تم فجر کی نماز پڑھ چکو تو طلوع آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ، جب سورج طلوع ہوجائے تب بھی اس وقت تک نہ پڑھو جب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں ، البتہ جب وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے تو پھر نماز پڑھ سکتے ہو، کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری والی ہوتی ہے، یہاں تک کہ نیزے کا سایہ پیدا ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کو دہکایا جاتا ہے، البتہ جب سایہ ڈھل جائے تو تم نماز پڑھ سکتے ہو، کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو، نماز عصر پڑھنے کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اسے اس وقت کفار سجدہ کرتے ہیں ۔ انسان جب وضو کرتا ہے اور ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، جب چہرہ دھوتا ہے تو چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، جب بازو دھوتا اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بازو اور سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، اور جب دل اور چہرے کی مکمل توجہ کے ساتھ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس طرح واپس لوٹتا ہے کہ اس کی ماں نے اسے ابھی جنم دیا ہو، کسی نے ان سے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دو نہیں ، بیس مرتبہ یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو کبھی بیان نہ کرتا۔

أتيت رسول الله قلت ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17151

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17168

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ وَشَبْلًا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ ابْنَ مَعْبَدٍ وَالَّذِي حَفِظْتُ شِبْلًا قَالُوا كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ قَالَ قُلْ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَعَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا اور کہنے لگا یہ صحیح کہتا ہے، ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو، وہ کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، میں نے اس کے فدیئے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کر دیں ، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں ، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے، اور اس شخص کی بیوی کو رجم کیا جائے، (اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے) ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، بکریاں اور وہ لونڈی تمہیں واپس دے دی جائے گی، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی انیس سے فرمایا انیس! اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دو چنانچہ وہ اس کے پاس پہنچے تو اس نے اعتراف جرم کر لیا اور انہوں نے اسے رجم کر دیا۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17168

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17240

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِالنِّعْمَةِ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ إِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا ثُمَّ مَاتَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا ثُمَّ مَاتَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سیدالاستغفار یہ ہے کہ انسان یوں کہے اے الہ! آپ میرے رب ہیں ، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، آپ نے مجھے پیدا کیا ہے، میں آپ کا بندہ ہوں اور اپنے عہد اور وعدے پر حسب امکان قائم ہوں ، میں آپ کے احسانات کا اقرار کرتا ہوں ، اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں ، مجھے بخش دیجئے کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی شخص صبح کے وقت یہ کلمات دلی یقین کے ساتھ کہہ لے اور اسی دن فوت ہوجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا، اور اگر کوئی شخص شام کے وقت یہ کلمات دلی یقین کے ساتھ کہہ لے اور اسی شام فوت ہوجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔

((سَیَٔد الِاسْتِغْفَارِ ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17240

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17302

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو خَلَفٍ مُوسَى بْنُ خَلَفٍ كَانَ يُعَدُّ فِي الْبُدَلَاءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَام بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ يَعْمَلَ بِهِنَّ وَأَنْ يَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ وَكَادَ أَنْ يُبْطِئَ فَقَالَ لَهُ عِيسَى إِنَّكَ قَدْ أُمِرْتَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ تَعْمَلَ بِهِنَّ وَتَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ فَإِمَّا أَنْ تُبَلِّغَهُنَّ وَإِمَّا أَنْ أُبَلِّغَهُنَّ فَقَالَ يَا أَخِي إِنِّي أَخْشَى إِنْ سَبَقْتَنِي أَنْ أُعَذَّبَ أَوْ يُخْسَفَ بِي قَالَ فَجَمَعَ يَحْيَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ فَقُعِدَ عَلَى الشُّرَفِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِهِنَّ وَآمُرَكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ أَوَّلُهُنَّ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِوَرِقٍ أَوْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي غَلَّتَهُ إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ فَأَيُّكُمْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ كَذَلِكَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ فَاعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَآمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِوَجْهِ عَبْدِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ مِنْ مِسْكٍ فِي عِصَابَةٍ كُلُّهُمْ يَجِدُ رِيحَ الْمِسْكِ وَإِنَّ خُلُوفَ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوا يَدَيْهِ إِلَى عُنُقِهِ وَقَدَّمُوهُ لِيَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَقَالَ هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْتَدِيَ نَفْسِي مِنْكُمْ فَجَعَلَ يَفْتَدِي نَفْسَهُ مِنْهُمْ بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ حَتَّى فَكَّ نَفْسَهُ وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَثِيرًا وَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ فَأَتَى حِصْنًا حَصِينًا فَتَحَصَّنَ فِيهِ وَإِنَّ الْعَبْدَ أَحْصَنُ مَا يَكُونُ مِنْ الشَّيْطَانِ إِذَا كَانَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ بِالْجَمَاعَةِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنْ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَاءِ جَهَنَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ صَامَ وَإِنْ صَلَّى قَالَ وَإِنْ صَامَ وَإِنْ صَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَادْعُوا الْمُسْلِمِينَ بِأَسْمَائِهِمْ بِمَا سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیی بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کے متعلق حکم دیا کہ ان پر خود بھی عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں ، قریب تھا کہ حضرت یحیی علیہ السلام سے اس معاملے میں تاخیر ہو جاتی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کہنے لگے آپ کو پانچ باتوں کے متعلق حکم ہوا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں ، اب یا تو یہ پیغام آپ خود پہنچا دیں ، ورنہ میں پہنچائے دیتا ہوں ، حضرت یحیی علیہ السلام نے فرمایا بھائی! مجھے اندیشہ ہے کہ اگر آپ مجھ پر سبقت لے گئے تو میں عزاب میں مبتلا ہو جاؤں گا یا زمین میں دھنسا دیا جاؤں گا۔ چنانچہ اس کے بعد حضرت یحیی علیہ السلام نے بیت المقدس میں بنی اسرائیل کو جمع کیا، جب مسجد بھر گئی تو وہ ایک ٹیلے پر بیٹھ گئے، اللہ کی حمدوثناء کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کے متعلق حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تمہیں بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں ، ان میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے اپنے خالص مال یعنی سونے چاندی سے ایک غلام خریدا، وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے مزدوری کرنا اور اسے اپنی تنخواہ دینا شروع کر دے تو تم میں سے کون چاہے گا کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ نیز میں تمہیں نماز کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام تر توجہات اپنے بندے پر مرکوز فرما دیتا ہے بشرطیکہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے، اس لئے جب تم نماز پڑھا کرو تو دائیں بائیں نہ دیکھا کرو، نیز میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو بھری محفل میں مشک کی ایک شیشی لے کر آئے اور سب کو اس کی مہک کا احساس ہو، اور اللہ کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی بھبک مشک کی مہک سے بھی زیادہ عمدہ ہوتی ہے۔ نیز میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھ گردن سے باندھ دیئے ہوں اور پھر اسے قتل کرنے کے لئے لے چلیں اور وہ ان سے کہے کہ کیا تم میری جان کا فدیہ وصول کرنے کے لئے تیار ہو؟ پھر وہ تھوڑے اور زیادہ کے ذریعے جس طرح بھی بن پڑے اپنی جان کا فدیہ پیش کرنے لگے یہاں تک کہ اپنے آپ کو چھڑا لے، اور میں تمہیں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے دشمن جس کا بہت تیزی سے پیچھا کر رہا ہو، اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں گھس کر پناہ گزین ہوجائے، اس طرح بندہ بھی جب تک اللہ کے ذکر میں مصروف رہتا ہے، شیطان کے حملوں سے محفوظ ایک مضبوط قلعے میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جنہیں اختیار کرنے کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے (١) اجتماعیت کا (٢) حکمران کی بات سننے کا (٣) بات ماننے کا (٤) ہجرت کا () اور جہاد فی سبیل اللہ کا، کیونکہ جو شخص بھی ایک بالشت کے برابر جماعت مسلمین سے خروج کرتا ہے، وہ اپنی گردن سے اسلام کا قلادہ اتار پھینکتا ہے، الاّ یہ کہ واپس جماعت کی طرف لوٹ آئے، اور جو شخص زمانہ جاہلیت کے نعرے لگاتا ہے، وہ جہنم کا ایندھن ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگرچہ وہ نماز روزہ کرتا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ وہ نماز روزہ کرتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو، سو تم مسلمانوں کو ان ناموں سے پکارو جن ناموں سے اللہ نے اپنے مسلمان بندوں کو پکارا ہے۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلَفٍ مُوسَى بْنُ خَلَفٍ كَانَ يُعَدُّ فِي الْبُدَلَاءِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17302

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17304

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبر گیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہوگیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ أَنَّهُ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17304

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17305

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبرگیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہوگیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔

أَبِي كَرِيمَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَامِرٍ، ← مَنْصُورٌ، ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17305

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17310

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْجُودِيِّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ الْمُهَاجِرِ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَإِنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرَهُ حَتَّى يَأْخُذَ بِقِرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کسی قوم کے یہاں مہمان بنے لیکن وہ اپنے اس حق سے محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد کرنا واجب ہے، تاآنکہ اس رات کی مہمان نوازی کی مد میں میزبانوں کی فصل سے اور مال سے وصول کر لیا جائے۔

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ← ابْنِ الْمُهَاجِرِ ← أَبَا الْجُودِيِّ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17310

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17327

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمِقْدَامُ أَبُو كَرِيمَةَ الشَّامِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَيْلَةُ الضَّيْفِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ حَقٌّ وَاجِبَةٌ فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ فَإِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبر گیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہوگیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔

أَبُو نُعَيْمٍ الْمِقْدَامُ أَبُو كَرِيمَةَ الشَّامِيُّ ← الْمِقْدَامِ أَبِي کَرِيمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17327

chevron_left Previous
1…474849…1,574
Next chevron_right