Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المجتمع

Society

31473 hadiths

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 407

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: شكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قحوط المطر فامر بمنبر فوضع له بالمصلى ووعد الناس يوما يخرجون فيه قالت عائشة: فخرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين بدا حاجب الشمس فقعد على المنبر فكبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وحمد الله عز وجل ثم قال: «إنكم شكوتم جدب دياركم وقد امركم الله ان تدعوه ووعدكم ان يستجيب لكم» ثم قال: «‏‏‏‏الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم انت الله لا إله إلا انت انت الغني ونحن الفقراء انزل علينا الغيث واجعل ما انزلت علينا قوة وبلاغا إلى حين» ثم رفع يديه فلم يزل حتى رئي بياض إبطيه ثم حول إلى الناس ظهره وقلب رداءه وهو رافع يديه ثم اقبل على الناس ونزل فصلى ركعتين فانشا الله سحابة فرعدت وبرقت ثم امطرت. رواه ابو داود وقال غريب وإسناده جيد. وقصة التحويل في الصحيح من حديث عبد الله بن زيد وفيه: فتوجه إلى القبلة يدعو ثم صلى ركعتين جهر فيهما بالقراءة. وللدارقطني من مرسل ابي جعفر الباقر: وحول رداءه ليتحول القحط.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں منبر لے جانے کا حکم دیا، چنانچہ منبر عید گاہ میں لا کر رکھ دیا گیا۔ لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ سارے باہر نکلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا۔ تشریف لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ گئے اور «الله اكبر» کہا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا ”تم لوگوں نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کا شکوہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ تو تمہیں یہ حکم دے چکا ہے کہ اس سے دعا کرو وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر فرمایا ”تعریف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے جو کائنات کا پروردگار ہے۔ لوگوں کے حق میں بڑا مہربان اور ہمیشہ مہربان ہے۔ روز جزا کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں۔ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ الٰہی! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ تو غنی ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں۔ ہم پر باران رحمت کا نزول فرما۔ جو کچھ تو ہمارے اوپر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے روزی اور مدت دراز تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دست مبارک اوپر اٹھائے کہ وہ بتدریج آہستہ آہستہ اوپر اٹھتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ پھر لوگوں کی جانب اپنی پشت کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پھیر کر پلٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھے پھر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ اسی لمحہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بادل پیدا کیا۔ وہ بدلی گرجی اور چمکی اور بارش ہونے لگی۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اسے غریب کہا ہے اور اس کی سند نہایت عمدہ و جید ہے۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما کی روایت میں (تبدیلی چادر) کا قصہ اس طرح ہے ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور دعا فرماتے رہے، پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ ان میں قرآت بلند آواز سے کی۔“ اور دارقطنی میں ابو جعفر باقر کی مرسل روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اس لیے پھیر کر بدلی کہ قحط سالی بھی اسی طرح پھر جائے۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 407

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 487

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ليس على المسلم في عبده ولا في فرسه صدقة» .‏‏‏‏ رواه البخاري. ولمسلم: «‏‏‏‏ليس في العبد صدقة إلا صدقة الفطر» .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں۔“ (بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ”غلام میں زکوٰۃ نہیں مگر صدقہ فطر ہے۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Zakat › Chapter · Hadith 487

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 505

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والانثى والصغير والكبير من المسلمين وامر بها ان تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة. متفق عليه. ولابن عدي من وجه آخر والدارقطني بإسناد ضعيف: «‏‏‏‏اغنوهم عن الطواف في هذا اليوم» .

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے غلام، آزاد، مرد، عورت، بچے، بوڑھے سب پر صدقہ فطر واجب کیا ہے۔ ایک صاع (ٹوپا) کھجوروں سے یا ایک صاع جو سے اور اس کے متعلق حکم دیا ہے کہ یہ فطرانہ نماز کیلئے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ (بخاری و مسلم) ابن عدی اور دارقطنی میں ضعیف سند سے ہے کہ اس روز غرباء کو در بدر پھرنے سے بے نیاز کر دو۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Zakat › Chapter · Hadith 505

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 507

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين فمن اداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن اداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات. رواه ابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر (فطرانہ) روزہ دار کی لغویات اور فحش گوئی سے روزہ کو پاک کرنے کیلئے اور مساکین کو کھانا کھلانے کیلئے مقرر کیا ہے۔ جو اسے نماز ادا کرنے سے پہلے ادا کر دے وہ مقبول ہے اور جو ادائیگی نماز کے بعد دیا جائے تو یہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Zakat › Chapter · Hadith 507

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 687

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه،‏‏‏‏ ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن شراء ما في بطون الانعام حتى تضع،‏‏‏‏ وعن بيع ما في ضروعها،‏‏‏‏ وعن شراء العبد وهو آبق،‏‏‏‏ وعن شراء المغانم حتى تقسم،‏‏‏‏ وعن شراء الصدقات حتى تقبض،‏‏‏‏ وعن ضربة الغائص. رواه ابن ماجه والبزار والدارقطني بإسناد ضعيف.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوپایوں کے پیٹ میں (پرورش پانے والے) بچے کو اس کی پیدائش سے پہلے خریدنے سے اور تھنوں میں (جمع شدہ) دودھ کو دوہنے سے پہلے فروخت کرنے سے اور بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے اور اموال غنیمت کو ان کی تقسیم سے پہلے خریدنے سے اور غوطہ لگانے والے کو اس کے ایک غوطہ کا معاوضہ لینے سے منع فرمایا ہے۔ اسے ابن ماجہ، بزار اور دارقطنی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 687

بلوغ المرام · كتاب العتق ‹ باب · حديث 1222

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من اعتق شركا له في عبد فكان له مال يبلغ ثمن العبد قوم عليه قيمة عدل فاعطي شركاؤه حصصهم وعتق عليه العبد وإلا فقد عتق منه ما عتق» ‏‏‏‏ متفق عليه. ولهما: عن ابي هريرة رضي الله عنه"وإلا قوم عليه واستسعي غير مشقوق عليه". وقيل: إن السعاية مدرجة في الخبر.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس کے پاس مزید اتنا مال بھی ہو کہ غلام خرید کر آزاد کر سکے تو انصاف سے اس کی قیمت مقرر کر کے دوسرے شرکاء کو ان کے حصہ کی قیمت ادا کر دے تو یہ غلام اس کی طرف سے آزاد ہو گا۔ ورنہ جتنا کچھ آزاد ہوا سو ہو چکا۔“ (بخاری و مسلم) دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ” ورنہ اس کی قیمت لگائی جائے گی اور اس پر مشقت ڈالے بغیر اسے آزادی حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔“

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Manumission Book › Chapter · Hadith 1222

بلوغ المرام · كتاب العتق ‹ باب · حديث 1232

وعن ابن عباس رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏يودى المكاتب بقدر ما عتق منه دية الحر وبقدر ما رق منه دية العبد» ‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود والنسائي.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مکاتب جتنا آزاد ہے اس قدر آزاد کی دیت ادا کرے گا اور جتنا غلام ہے اس قدر غلام کی۔ “ اسے احمد، نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Manumission Book › Chapter · Hadith 1232

بلوغ المرام · كتاب العتق ‹ باب · حديث 1234

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ايما امة ولدت من سيدها فهي حرة بعد موته» .‏‏‏‏ اخرجه ابن ماجه والحاكم بإسناد ضعيف ورجح جماعة وقفه على عمر رضي الله عنه.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس لونڈی نے اپنے آقا و مالک کے نطفہ سے بچہ جنا تو وہ مالک کی وفات کے بعد آزاد ہے۔ “ اس کی روایت ابن ماجہ اور حاکم نے ضعیف سند سے کی ہے اور ایک جماعت نے اس کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Manumission Book › Chapter · Hadith 1234

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1243

وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «يجزىء عن الجماعة إذا مروا ان يسلم احدهم ويجزىء عن الجماعة ان يرد احدهم» . رواه احمد والبيهقي.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب ایک جماعت کسی کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک آدمی کا سلام کہہ دینا کافی ہے اور جماعت میں سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے۔ (مسند احمد، سنن بیہقی)

عَلِيٍّ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1243

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1263

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من نفس عن مسلم كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والآخرة ومن ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه» ‏‏‏‏ اخرجه مسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جو کوئی دنیا کی مصیبتوں اور سختیوں میں سے کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز، قیامت کی سختیوں میں سے اس کی کوئی سختی دور فرما دے گا اور جو کوئی کسی تنگ دست کیلئے دنیا میں آسانی پیدا کرے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کیلئے آسانی پیدا فرمائے گا اور جو کوئی کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے گا۔“ (مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1263

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1272

وعن سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏إن الله يحب العبد التقي الغني الخفي» ‏‏‏‏اخرجه مسلم.

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ” اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو دوست و محبوب رکھتا ہے جو پرہیزگار، بے نیاز اور گمنام ہو۔“ (مسلم)

«‏‏‏‏إن الله يحب العبد التقي الغني الخفي» ‏‏‏‏اخرجه مسلم. ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن سعد بن ابي وقاص

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1272

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1347

وعن شداد بن اوس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏سيد الاستغفار ان يقول العبد: اللهم انت ربي لا إله إلا انت خلقتني وانا عبدك وانا على عهدك ووعدك ما استطعت اعوذ بك من شر ما صنعت ابوء لك بنعمتك علي وابوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا انت» ‏‏‏‏ اخرجه البخاري.

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سیدالاستغفار یہ ہے کہ بندہ یوں کہے «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علي وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ” اے اللہ! تو میرا مالک و مربی ہے۔ تیرے سوا اور کوئی الہٰ نہیں، تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا بندہ ہوں اور اپنی بساط بھر تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ جس برائی کا میں ارتکاب کر چکا ہوں اس سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ تیرے جو مجھ پر احسان ہیں ان کا میں اعتراف کرتا ہوں اور تیرے روبرو اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔ پس مجھے معاف فرما دے کہ تیرے سوا گناہوں کو معاف کرنے والا اور کوئی بھی نہیں ہے۔ “ (بخاری)

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1347

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 152

وعن ابن عمر رضي الله عنهما ان بلالا اذن قبل الفجر فامره النبي صلى الله عليه وآله وسلم ان يرجع فينادي:«‏‏‏‏الا إن العبد نام» .‏‏‏‏ رواه ابو داود وضعفه.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک روز) بلال رضی اللہ عنہ نے طلوع فجر سے پہلے ہی اذان کہہ دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں دوبارہ اذان کہنے کا حکم دیا (تو بلال رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہ کر منادی کی) ”خبردار! سنو بندہ کو نیند آ گئی تھی۔“ ابوداؤد نے اسے روایت کیا اور ضعیف قرار دیا ہے۔

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 152

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 190

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: سالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الالتفات في الصلاة؟ فقال:«هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد» .‏‏‏‏ رواه البخاري. وللترمذي وصححه: «‏‏‏‏إياك والالتفات في الصلاة،‏‏‏‏ فإنه هلكة،‏‏‏‏ فإن كان لا بد ففي التطوع» .‏‏‏‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنکھوں کے گوشوں سے نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں دریافت کیا۔ ارشاد فرمایا ” یہ تو شیطان کا جھپٹا ہے جس کے ذریعہ شیطان انسان کی نماز کو جھپٹ لیتا ہے۔“ (بخاری) ترمذی کی حدیث، جسے انہوں نے صحیح قرار دیا ہے میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز میں التفات (ادھر ادھر نظر دوڑانے) سے بچنے کی کوشش کرو یہ موجب ہلاکت ہے۔ اگر شدید اور ناگزیر مجبوری لاحق ہو تو نوافل میں ایسا کیا جا سکتا ہے۔ “

سالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 190

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 233

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا رفع راسه من الركوع قال:«‏‏‏‏اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والارض وملء ما شئت من شيء بعد اهل الثناء والمجد احق ما قال العبد وكلنا لك عبد اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اوپر اٹھاتے تو «اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» کہتے تھے۔ (یعنی) اے اللہ! ہمارے آقا و پروردگار تعریف صرف تیرے ہی لئے ہے اتنی تعریف جس سے آسمان و زمین بھر جائے اور اس کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جسے تو چاہے۔ اے بزرگی اور تعریف کے مالک! تو اس کا زیادہ مستحق ہے جو کچھ بندہ کہے اور سبھی تیرے بندے ہیں۔ اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو ہی نہ دے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں اور کسی کو اس کی بزرگی اور بخت آپ (عذاب) کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ (مسلم)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 233

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 761

وعن ابي رافع رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الجار احق بصقبه» .‏‏‏‏ اخرجه البخاري وفيه قصة.

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہمسایہ اپنے قریبی ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس بارے میں لمبا قصہ ہے۔

أَبِي رَافِعٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 761

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 763

وعن جابر رضى الله عنه قال: رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «الجار احق بشفعة جاره ينتظر بها وإن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا» .‏‏‏‏رواه احمد والاربعة ورجاله ثقات.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہمسایہ اپنے ہمسایہ کا شفعہ میں زیادہ حقدار ہے۔ اس کا انتظار بسبب شفعہ کیا جائے گا۔ اگرچہ وہ غائب ہو جب کہ دونوں کا راستہ ایک ہو۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔

جَابِرٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 763

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 786

وعن ابن عمر قال: اصاب عمر رضي الله عنه ارضا بخيبر فاتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يستامره فيها فقال: يا رسول الله إني اصبت ارضا بخيبر لم اصب مالا قط هو انفس عندي منه فقال: «‏‏‏‏إن شئت حبست اصلها وتصدقت بها» ‏‏‏‏ قال: فتصدق بها عمر: انه لا يباع اصلها ولا يورث ولا يوهب فتصدق بها في الفقراء وفي القربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف ويطعم صديقا غير متمول مالا.متفق عليه واللفظ لمسلم. وفي رواية للبخاري: تصدق باصلها لا يباع ولا يوهب ولكن ينفق ثمره.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر کے علاقہ میں زمین ملی تھی۔ (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورہ طلب کرنے کیلئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں کچھ زمین حاصل ہوئی ہے ایسی نفیس و قیمتی کہ اس سے پہلے کبھی بھی ایسی زمین مجھے نہیں ملی۔ میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر چاہو تو اصل کو اپنے پاس روک لو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔“ راوی کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو فقیروں، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے میں اور راہ خدا میں، راہ چلتے مسافروں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے وقف کر دیا اور وصیت بھی کر دی کہ اس کا منتظم و نگہبان معروف طریقہ کے مطابق خود بھی کھا سکتا ہے اور احباب و رفقاء کو بھی کھلا سکتا ہے۔ مگر مال کو ذخیرہ بنا کر نہ رکھے۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اس کے اصل کو صدقہ کر دیا (یعنی وقف کر دیا) جو نہ فروخت کیا جائے گا اور نہ ھبہ کیا جائے گا لیکن اس کی پیداوار، راہ خدا میں خرچ کی جائے گی۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 786

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 885

وعن علقمة عن ابن مسعود: انه سئل عن رجل تزوج امراة ولم يفرض لها صداقا،‏‏‏‏ ولم يدخل بها،‏‏‏‏ حتى مات؟ فقال ابن مسعود: لها مثل صداق نسائها،‏‏‏‏ لا وكس،‏‏‏‏ ولا شطط،‏‏‏‏ وعليها العدة،‏‏‏‏ ولها الميراث،‏‏‏‏ فقام معقل بن سنان الاشجعي،‏‏‏‏ فقال: قضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في بروع بنت واشق امراة منا مثل ما قضيت،‏‏‏‏ ففرح بها ابن مسعود. رواه احمد والاربعة،‏‏‏‏ وصححه الترمذي،‏‏‏‏ وحسنه جماعة.

سیدنا علقمہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہا سے ایسے شخص کے متعلق مسئلہ پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے لئے مہر مقرر نہیں کیا تھا اس سے دخول بھی نہیں کیا اور وہ فوت ہو گیا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ اس عورت کو مہر اس کے خاندان کی عورتوں کے برابر ملے گا۔ اس میں نہ کمی ہو گی اور نہ زیادتی۔ اس پر عدت گزارنا بھی لازمی ہے اور اس کے لئے میراث بھی ہے۔ یہ سن کر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ اٹھے اور فرمایا کہ ہماری ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہما بہت خوش ہوئے۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور ایک جماعت نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 885

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 913

وعن عبد الله بن زمعة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يجلد احدكم امراته جلد العبد» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی بھی اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے۔“ (بخاری)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 913

chevron_left Previous
1…373839…1,574
Next chevron_right