Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المجتمع

Society

31473 hadiths

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1311

أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً

حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ آدمی کا باجماعت نماز ادا کرنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1311

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1350

أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے اے ہمارے پروردگار آسمان جتنی اور زمین جتنی حمد تیرے لئے مخصوص ہے اور اس کے بعد جو چیز تو چا ہے اس جتنی حمد بھی تیرے لئے ہے تو تعریف و بزرگی کا مستحق ہے اور بندہ جو کچھ کہے اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے ہم سب تیرے بندے ہیں اے اللہ جسے تو عطا کرنا چا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے تو نہ دینا چا ہے اسے کوئی کچھ دے نہیں سکتا اور تیری مرضی کے آگے کسی کی کوششیں کام نہیں آتی۔

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَةَ ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1350

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1393

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ فَإِنْ وَجَدَ صَلَاتَهُ كَامِلَةً كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً وَإِنْ كَانَ فِيهَا نُقْصَانٌ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَأَكْمِلُوا لَهُ مَا نَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ ثُمَّ الزَّكَاةُ ثُمَّ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ حَمَّادٍ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ صَحَّ هَذَا قَالَ إِي

حضرت تمیم داری روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے انسان سے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا اگر اس کی نماز مکمل ہوئی تو مکمل لکھی جائے گی اور اگر کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا کہ اس بات کا جائز لو کہ میرے بندے کے کوئی نوافل ہیں اگر ہیں تو انہیں مکمل کردو جو اس کے فرض میں کمی ہے پھر زکوۃ کا جائزہ لیا جائے گا اور دیگر اعمال کا اسی طرح حساب لیا جائے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں حماد کے علاوہ کوئی اور راوی سے یہ حدیث میرے علم کے مطابق منقول نہیں ہے۔ امام ابومحمد دارمی سے سوال کیا گیا کیا یہ حدیث صحیح ہے انہوں نے جواب دیا ہاں۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1393

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1404

أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْجَمَاعَةَ

حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم گھر پر بھی نماز پڑھا کرو باجماعت نماز پڑھنے کے علاوہ انسان کی سب سے بہترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1404

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1434

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ أَوْ يَقُولُ هَكَذَا وَبَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کررہا ہوتا ہے اس کا پروردگار اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے اس لئے نماز کے دوران اگر کسی شخص نے تھوکنا ہو تو اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے یا اس طرح کرے راوی کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کپڑے کو مل دیا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1434

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1445

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ مَا لَمْ يَقُمْ أَوْ يُحْدِثْ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا انسان جس جگہ نماز پڑھتا ہے جب تک وہاں بیٹھا رہے اور جس وقت تک وہاں سے نہ اٹھے یا اس کا وضو نہ ٹوٹے تو فرشتے اس وقت اس کے لئے یہ دعا کرتے رہتے ہیں اے اللہ اس شخص کو بخش دے اور اے اللہ اس شخص پر رحم کر۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1445

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1461

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ اللَّهُ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ انْصَرَفَ عَنْهُ

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تک بندہ ( نماز کے دوران ) ادھرادھر نہیں دیکھتا اللہ تعالیٰ اس بندے کی طرف خاص رحمت نازل کرتا ہے لیکن بندہ جب منہ پھیر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے (اپنی رحمت کو) موڑ لیتا ہے۔

ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1461

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1697

أَخْبَرَنَا يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي قَالَ أَحْمَدُ فِي بَعْضِ الْمَعَادِنِ وَهُوَ الصَّوَابُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا مِنِّي صَدَقَةً فَوَاللَّهِ مَا لِي مَالٌ غَيْرَهَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ هَاتِهَا مُغْضَبًا فَحَذَفَهُ بِهَا حَذْفَةً لَوْ أَصَابَهُ لَأَوْجَعَهُ أَوْ عَقَرَهُ ثُمَّ قَالَ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَالِهِ لَا يَمْلِكُ غَيْرَهُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى خُذْ الَّذِي لَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَهُ وَذَهَبَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَانَ مَالِكٌ يَقُولُ إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ مَالَهُ فِي الْمَسَاكِينِ يَتَصَدَّقُ بِثُلُثِ مَالِهِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص انڈے کی طرح کا سونا لے کر آپ کے پاس آیا جو اسے کسی جنگ میں ملا تھا (ایک روایت میں ہے) کسی کان میں سے ملا تھا اور یہی زیادہ صحیح ہے اس نے عرض کی یا رسول اللہ یہ میری طرف سے صدقہ کے طور پر قبول کیجئے اللہ کی قسم میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا پھر وہ دوسری جانب سے آپ کے پاس آیا اور وہی بات عرض کی پھر وہ آپ کے سامنے کی جانب سے آیا اور وہی بات عرض کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کے عالم میں فرمایا لاؤ پھر آپ نے وہ اس کی طرف پھینکا اگر وہ اسے لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا (یا شاید مر ہی جاتا) پھر آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے مال کو صدقہ کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہوتا پھر وہ اسے صدقہ کردیتا ہے اور خود لوگوں سے مانگنے کے لئے بیٹھ جاتا ہے صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں ہو (پھر آپ نے اس سے فرمایا) اپنا یہ پکڑو ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ (راوی کہتے ہیں) اس شخص نے وہ مال پکڑا اور چلا گیا۔ امام دارمی فرماتے ہیں امام مالک فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنا مال غریبوں میں بانٹنا چا ہے تو وہ ایک تہائی مال صدقہ کرے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1697

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1888

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَ عَنْ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى زِرِّيَ الْأَعْلَى وَزِرِّيَ الْأَسْفَلِ ثُمَّ وَضَعَ فَمَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي سَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ رَجَعَ طَرَفُهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ فَصَلَّى فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا فَقَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ فَنَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَخَلْفَهُ مِثْلُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يُنْزَلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ فَلَمْ يَزِدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا وَلَبَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ قَالَ جَابِرٌ لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَكَانَ أَبِي يَقُولُ وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا فَلَمَّا أَتَى الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ يَعْنِي فَرَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا مَشَى حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرَ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ قَالَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحِلَّ وَيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِأَبَدِ أَبَدٍ فَشَبَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى فَقَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ لَا بَلْ لَأَبَدِ أَبَدٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ بِبُدْنٍ مِنْ الْيَمَنِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صَبِيغٍ وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ عَلِيٌّ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَبِي أَمَرَنِي فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحَرِّشُهُ عَلَى فَاطِمَةَ فِي الَّذِي صَنَعَتْ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرَتْ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَ صَدَقَتْ مَا فَعَلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحْلِلْ قَالَ فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَّهَ إِلَى مِنًى فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ لَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْمُزْدَلِفَةِ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتْ يَعْنِي الشَّمْسَ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا إِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَأَوَّلُ دَمٍ وُضِعَ دِمَاؤُنَا دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ فَرَفَعَهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِنِدَاءٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَةٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ لَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى وَقَفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصُّخَيْرَاتِ وَقَالَ إِسْمَعِيلُ إِلَى الشُّجَيْرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَذَهَبَتْ الصُّفْرَةُ حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ فَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ ثُمَّ دَفَعَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُصِيبُ رَأْسُهَا مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنْ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الْفَجْرَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَا اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا ثُمَّ دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا فَلَمَّا دَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالظُّعُنِ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ فَحَوَّلَ الْفَضْلُ رَأْسَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ حَتَّى إِذَا أَتَى مُحَسِّرَ حَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى إِذَا أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَهَا الشَّجَرَةُ فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ حَصَاةٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ ثُمَّ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي بُدْنِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لُحُومِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَأَتَى الْبَيْتَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمَكَّةَ وَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْتَقُونَ عَلَى زَمْزَمَ فَقَالَ انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا يَغْلِبُكُمْ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ

امام جعفر صادق اپنے والد امام محمد بن باقر کا یہ بیان نقل کرتے ہیں امام باقر فرماتے ہیں ہم حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے تمام حاضرین کا تعارف دریافت کیا جب میری باری آئی تو میں نے کہا میں علی بن حسین بن علی کا بیٹا "محمد" ہوں۔ تو حضرت جابر بن عبداللہ نے اپنا ہاتھ میرے اوپر والے اور نیچے والے بٹن کی طرف بڑھایا اور پھر اپنا منہ میرے سینے کے اوپر رکھ دیا میں ان دنوں نوجوان تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرمایا اے میرے بھتیجے تمہیں خوش آمدید ہو تم جو چاہو سوال کرسکتے ہو میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا وہ نابینا ہوچکے تھے اور نماز کا وقت ہوچکا تھا ۔ انہوں نے چھوٹی چادر لپیٹ کر نماز پڑھنا شروع کردی۔ وہ جب بھی اس چادر کو اپنے کندھوں کے او پر ڈالتے تو اس کے ایک طرف والا حصہ ڈھلک جاتا کیونکہ وہ چھوٹی چادر تھی حالانکہ ان کی بڑی چادر ایک طرف کھونٹی کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی جب انہوں نے نماز ادا کرلی تو میں نے دریافت کیا آپ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں انہوں نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نو برس تک کوئی حج نہ کیا پھر دسویں سال آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے کہ مدینہ منورہ سے بہت سے لوگ حج کے لئے روانہ ہوئے ان میں سے بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرح حج کریں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم لوگ بھی روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ پہنچ گئے وہاں حضرت اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنم دیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کو بھیجا کہ اب میں کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ تم غسل کرلو اور کپڑے کے ذریعے خون کے مقام کو باندھ لو اور احرام باندھ لو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی پھر اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی میں نے یہ دیکھا کہ حدنگاہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سوار اور پیدل لوگوں کا ہجوم ہے آپ کے دائیں طرف بھی اسی طرح لوگ تھے اور بائیں طرف بھی اتنے ہی لوگ تھے اور آپ کے پیچھے بھی اتنے ہی لوگوں کا ہجوم تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے آپ پر قرآن نازل ہورہا تھا آپ کو اس کے مفہوم کا بخوبی علم تھا آپ نے کلمہ تو حید کے ذریعے تلبیہ پڑھا اور کہا میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے ہے اور بادشاہی بھی تیرا کوئی شریک نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تلبیہ پڑھا تھا لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھنا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم آپ کی ہمراہی میں بیت اللہ تک پہنچ گئے۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی ہمیں عمرے کا کوئی خیال نہیں تھا جب ہم بیت اللہ ان کے ہمراہ پہنچ گئے آپ نے رک کر ان کا استلام کیا تین مرتبہ رمل کیا اور چار مرتبہ چل کر گزرے پھر آپ مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے وہاں نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی ۔ " مقام ابراہیم کو مصلی (جائے نماز) بنا لو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا تھا میرے والد صاحب نے یہ بات بتائی تھی کہ میرا خیال ہے انہوں نے حضرت جابر کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طور پر نقل کی ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات میں سورت اخلاص اور سورت کافرون کی تلاوت کی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکن کے پاس واپس تشریف لائے آپ نے اس کا استلام کیا پھر آپ دروازے سے ہو کر صفا کی طرف تشریف لے گئے صفا تشریف لا کر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔ " بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا میں اس سے آغاز کروں گا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے آغاز کیا آپ اس پر چڑھ گئے جب آپ نے بیت اللہ کی طرف نظر کی تو اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور یہ پڑھا۔ " اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی ہے حمد و نعمت اسی کے لئے مخصوص ہے وہ زندہ کرتا ہے۔ وہ موت دیتا ہے وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے صرف ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے خاص بندوں کی مدد کی اور دشمنوں کے گروہوں کو تنہا اس نے پسپا کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان دعا کی اور یہی کلمات تین مرتبہ پڑھے پھر آپ اتر کر مروہ کے پاس آگئے جب آپ بطن وادی میں پہنچے امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی فرماتے ہیں یعنی وہاں پہنچ کر آپ دوڑ کر گزرے یہاں تک کہ آپ بلندی کی طرف چڑھنے لگے تو آپ پھر چلنے لگے۔ ہم لوگ جب مروہ پر آئے تو آپ نے مروہ پر بھی وہی عمل کیا جو صفا پر کیا تھا یہاں تک کہ جب آپ نے مروہ کا آخری چکر لگایا تو یہ فرمایا جو بات بعد میں میرے ذہن میں آئی اگر مجھے پہلے خیال آجاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا اور اس عمل کو عمرہ بنا لیتا تم میں سے جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کردے۔ حضرت سراقہ بن مالک نے دریافت کیا یا رسول اللہ کیا یہ اسی سال کے لئے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے ارشاد فرمایا عمرہ حج میں داخل ہوگیا یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے قربانی کے کچھ جانور لے کر آئے تو انہوں نے سیدہ فاطمہ کو دیکھا کہ وہ احرام کھول چکی ہیں انہوں نے رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بات پر ان کا انکار کیا کہ حضرت فاطمہ نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ ہدایت کی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تاکہ حضرت فاطمہ کی شکایت کروں جو انہوں نے عمل کیا ہے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں اور جو بات بتائی ہے اس کے بارے میں بھی دریافت کروں اور میں نے جو انکار کیا ہے اس کا بھی ذکر کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا نیت کی تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی نیت کرتا ہوں جو تیرے رسول نے کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ساتھ تو قربانی کا جانور بھی ہے تو تم احرام نہ کھولو۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک سو قربانی کے اونٹ لے کر۔ سب لوگوں نے احرام کھول لئے اور بال کٹوا لئے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان لوگوں کے جن کے ہمراہ قربانی کے جانور موجود تھے۔ ترویہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کا رخ کیا تو ہم لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے منی پہنچ کر آپ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور صبح کی نماز ادا کی پھر آپ نے وہاں کچھ دیر قیام کیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا تو آپ نے نمرہ میں ایک خیمہ لگانے کا حکم دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر روانہ ہوئے قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ مشعر حرام کے نزدیک قیام کریں گے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں قریش مزدلفہ کے نزدیک قیام کیا کرتے تھے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزر کر عرفہ آگئے وہاں آپ کے لئے نمرہ میں خیمہ لگایا جا چکا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے جب سورج ڈھل گیا تو آپ کے حکم کے ذریعے قصواء پر پالان رکھا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر بطن وادی میں تشریف لائے آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ "بے شک تمہارے خون اموال اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر قابل احترام ہے خبردار زمانہ جاہلیت کے تمام تر معاملات میں اپنے قدموں کے نیچے روندتا ہوں زمانہ جاہلیت کے تمام خون معاف ہیں اور سب سے پہلے میں اپنا خون معاف کرتا ہوں جو ربیعہ بنت حارث کے صاحبزادے کا تھا۔ جو بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا اسے ہذیل قبیلے کے لوگوں نے قتل کردیا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا تمام سود معاف ہے میں سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطلب کے وصول کرنے والے سود کو معاف کرتا ہوں وہ سب معاف ہیں۔ خواتین کے بارے میں اللہ سے ڈرو تم نے اللہ کی امانت کے ذریعے انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو تم ان کی پٹائی کرو لیکن زیادتی کئے بغیر اور ان کا تم پر حق ہے کہ تم ان کے کھانے پینے اور لباس کا مناسب طور پر انتظام کرو اگر تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے تو تم کیا جواب دو گے لوگوں نے عرض کی ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تصدیق کردی ہے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اور خیر خواہی کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی اے اللہ تو گواہ ہوجا اے اللہ تو گواہ ہوجا اے اللہ تو گواہ ہوجا۔ پھر حضرت بلال نے ایک ہی اذان کہی پھر امامت کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی نماز ادا نہیں کی۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور کھڑے ہوگئے آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ "مخیرات" اور ایک روایت میں ہے "شجیرات" کی طرف کیا جبل مشات آپ کے سامنے تھا آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور وہاں کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب رہ گیا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اس کی زردی رخصت ہوگئی جب سورج کی ٹکیہ غروب ہوگئی آپ نے حضرت اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور روانہ ہوگئے آپ نے قصواء اونٹنی کی لگام کھینچی ہوئی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے ساتھ مل رہا تھا آپ اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے یہ فرما رہے تھے آرام سے چلو، آرام سے چلو، جب آپ کسی ٹیلے کے پاس آتے تو اس کی لگام ڈھیلی کردیتے تاکہ وہ اوپر چڑھ جائے یہاں تک کہ آپ مزدلفہ تشریف لے آئے وہاں آپ نے ایک اذان اور دو اقامت کے ذریعے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ جب صبح صادق کا وقت ہوا تو آپ نے فجر کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ ادا کی پھر آپ قصوا اونٹنی پر سوار ہوئے اور مشعرح رام کے قریب آکر آپ نے قیام کیا۔ آپ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اس کی کبریائی بیان کی اس کی معبودیت کا ذکر کیا اس کی وحدانیت کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ جب اچھی طرح سے روشنی پھیل گئی تو سورج طلوع ہونے کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے آپ نے حضرت فضل بن عباس کو پیچھے بٹھا لیا وہ خوبصورت آدمی تھے ان کے بال بھی بہت خوبصورت تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو کچھ خواتین آپ کے پاس سے گزریں جو جارہی تھیں۔ حضرت فضل نے ان کی طرف دیکھنا شروع کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے چہرے پر رکھا اور حضرت فضل کا منہ دوسری طرف پھیر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محسر پہنچے تو آپ نے اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کردی اور اس کے درمیانی راستے پر ہو لئے جس سے تم لوگ جمرہ کبری کی طرف جاتے ہو جب آپ اس جمرہ کے پاس سے تشریف لائے جس کے پاس درخت ہیں تو وہاں آپ نے چھوٹی چھوٹی سات کنکریوں کے ذریعے رمی کی۔ پھر آپ نے بطن وادی سے رمی کی پھر آپ واپس قربان گاہ کی طرف لائے وہاں آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے اور پھر بقیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیئے جو انہوں نے قربان کئے آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی قربانی میں شریک کرلیا۔ پھر آپ کے حکم کے تحت ہر قربانی کے اونٹ کے کچھ حصہ لے کر ایک ہنڈیا میں پکایا گیا ان دونوں حضرات نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر آپ سوار ہوئے۔ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ بیت اللہ تشریف لائے تو آپ نے مکہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ بنوعبدالمطلب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ زم زم میں سے پانی نکال رہے تھے آپ نے فرمایا بنو عبدالمطلب پانی نکالتے رہو اگر لوگ تمہارے پلانے کے کام پر غالب نہ آگئے ہوتے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا ان لوگوں نے پانی کا ڈول آپ کی طرف بڑھایا تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1888

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2077

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَإِنَّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرَهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ

حضرت مقدام بن معدیکرب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنے اور صبح کے وقت وہ بھوکا ہو تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس کی مدد کرے یہاں تک کہ وہ اپنی زراعت اور اپنے مال میں سے اسے ایک رات تک کا کھانا فراہم کرے۔

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ← أَبِي الْجَوْدِيِّ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2077

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2106

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سب سے بدترین ولیمہ وہ کھانا ہے جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نہ بلایا جائے جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← الْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2106

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2261

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمَعَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمًا فَوَعَظَهُمْ فِي النِّسَاءِ فَقَالَ مَا بَالُ الرَّجُلِ يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا فِي آخِرِ يَوْمِهِ

عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خواتین کے بارے میں وعظ ونصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا مرد اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کیوں مارتا ہے حالانکہ اسی دن کے آخری حصے میں تم نے اسی کے ساتھ ہم بستری کرنا ہوتی ہے ۔

خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ النَّاسَ يَوْمًا فَوَعَظَهُمْ فِي النِّسَاءِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2261

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2295

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ قَالَ الْغُرَّةُ الْعَبْدُ أَوْ الْأَمَةُ

حجاج بن حجاج اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ میں دودھ پلانے کا معاوضہ کیسے ادا کرسکتاہوں آپ نے فرمایا پیشانی (یعنی غلام) کے ذریعے خواہ وہ کوئی غلام ہو یا کنیز ہو۔

أَبِيهِ أَنَّهُ ← حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← عَبْدَةُ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2295

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2339

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا أَحَدَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اس کا خون تین میں سے کسی ایک وجہ سے بہایا جائے گا۔ جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی، اور اپنے دین ترک کرکے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص۔ (ان تین کو قتل کیا جائےگا)۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book Alhoudod › Door · Hadith 2339

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2358

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشِبْلٍ قَالُوا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى أَهْلِ هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ وَإِنِّي سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَيَا أُنَيْسُ اغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَسَلْهَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد اور حضرت شبل بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کردیں اس کے مقابل فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا یہ کہا کہ یہ ٹھیک کہہ رہاہے آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمادیں لیکن یا رسول اللہ آپ مجھے اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بولو۔ وہ بولا میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا اس نے اس شخص کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا میں نے بیٹے کی طرف سے فدیئے کے طوپر ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیاہے میں نے اہل علم حضرات سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کیا جائے گا جبکہ اس کی بیوی کو سنگسار کردیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا ایک سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس مل جائیں گے اور تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کیا جائے گا اے انیس کل تم اس عورت کے پاس جانا اور اگر وہ اعتراف کرلے تو اسے رجم کردینا۔ راوی کہتے ہیں اس عورت نے اعتراف کرلیا تو اسے رجم کردیا گیا ۔

أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشِبْلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Alhoudod › Door · Hadith 2358

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2488

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا إِحْدَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اس بات کی گواہی دیتاہو کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اس کا خون بہانا جائز نہیں ہے البتہ ان تین میں سے کسی ایک صورت میں اسے بہایا جاسکتا ہے جان کے بدلے میں جان یا شادی شدہ زانی شخص یا اپنے دین (اسلام) کو چھوڑ کر (مسلمانوں) کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والے شخص (کاخون بہاناجائز ہے)

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2488

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2559

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اس پر صبر کرے کیونکہ جو بھی شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے بالشت بھر الگ ہوگا اور مرتے وقت زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ ← أبو رجاء العطاردي ← الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2559

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2823

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ صَلَابَةً وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ وَلَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى الْأَرْضِ مَا لَهُ خَطِيئَةٌ

حضرت سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کس شخص کو سب سے زیادہ آزمائش میں مبتلا کیا گیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا انبیاء اور پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ اور پھر ہر شخص کو اس کے دین کے مطابق آزمائش میں مبتلا کیا گیا اگر وہ دین میں پختہ تھا تو اس کی پختگی میں اضافہ کردیا گیا اگر وہ دین میں کمزور تھا تو اسے کمی کردی گئی انسان آزمائش میں مبتلا ہوتا رہتا ہے جب تک وہ زمین پر چلتا ہے اور یہاں تک کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔

سُئِلَ النَّبِيُّ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ← سَعْدٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2823

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2931

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ قَالَ لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ فَسَمِعَ قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ قَالَ أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ قَالَ زَيْدٌ فِيهَا قَالَ شَرَّكَ بَيْنَهُمْ

مسروق بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ سگی بہنوں باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہیں سگی بہنوں کو دوتہائی حصہ ملے گا اور جو باقی بچ جائے گا وہ بھائیوں کو ملے گا بہنوں کو نہیں ملے گا جو صرف باپ کی طرف سے بہن بھائی ہوں گے۔ مسروق مدینہ آئے انہوں نے اس بارے میں حضرت زید کا فرمان سنا تو وہ انہیں بہت پسند آیا ان کے ساتھیوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ حضرت عبداللہ کے قول کو ترک کر دیں انہوں نے جواب دیا جب میں مدینہ آیا تو میں نے حضرت زید بن ثابت کو علم وراثت کے ماہرین میں ایک پایا۔ امام احمد ارشاد فرماتے ہیں میں نے ابوشہاب سے دریافت کیا حضرت زید نے اس بارے میں کیا فتوی دیا ہے تو انہوں نے جواب دیا ان بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کا حصہ قرار دیا ہے۔

شَرَّكَ بَيْنَهُمْ ← زَيْدٌ فِيهَا ← أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ ← إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ ← لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ ← لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ ← فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2931

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2932

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ أَنَّهُ كَانَ يُعْطِي لِلْأَخَوَاتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَالَ حَكِيمٌ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَرِثَ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ إِنَّ إِخْوَتَهُنَّ قَدْ رُدُّوا عَلَيْهِنَّ

اسماعیل بیان کرتے ہیں ہم نے حکیم بن جابر کے پاس یہ بات ذکر کی کہ حضرت ابن مسعود سگی بہنوں اور باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ فتوی دیتے ہیں کہ سگی بہنوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال باپ کی طرف سے بھائیوں کو ملے گا باپ کو کچھ نہیں ملے گا تو حکیم نے جواب دیا حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کا کام ہے کہ مردوں کو وارث قرار دیا جائے۔ اور عورتوں کو نہ دیا جائے وہ بہنیں دوسری بہنوں کو وراثت میں شریک کریں گی۔

ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ← إِسْمَعِيلُ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2932

chevron_left Previous
1…242526…1,574
Next chevron_right