Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المجتمع

Society

15736 hadiths

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1474

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهِمَا قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَتْ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ أَنَا أَقُولُ بِحَدِيثِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت کریب جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور حضرت مسوربن مخرمہ نے انہیں کریب کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور یہ ہدایت کی ان کو ہم سب کی طرف سے سلام کہنا اور ان کے عصر کے بعد والی دو رکعت کے بارے میں سوال کرنا۔ اور یہ کہنا کہ ہمیں یہ پتہ چلا کہ آپ یہ دو رکعت ادا کرتی یہں جب کہ ہم تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعت کو پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر کے ساتھ مل کر ان دو رکعت ادا کرنے والوں کو مارا پیٹا تھا۔ کریب بیان کرتے ہیں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور جس سوال کے ہمراہ مجھے ان حضرات نے بھیجا تھا وہ انہیں بتایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہدایت کی تم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کرو، میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جواب کے بارے میں بتایا ان حضرات نے مجھے اسی سوال کے ہمراہ جو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھیجا تھا سیدہ ام سلمہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ ام سلمہ نے جواب دیا میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو رکعت ادا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن پھر ایک مرتبہ میں نے آپ کو دو رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دو رکعت اس وقت ادا کی تھیں جب آپ عصر کی نماز پڑھ لینے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے اس وقت انصار کے قبیلہ بنوحرام سے تعلق رکھنی والی چند خواتین میرے پاس موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعت ادا کی ۔ میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور یہ ہدایت کی تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہوجانا اور یہ کہنا ام سلمہ کہہ رہی ہیں یا رسول اللہ میں نے تو آپ کو ان دو رکعت کو اداکرنے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ خود یہ رکعت ادا کررہے ہیں ؟ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہو کر کھڑی ہوجانا۔ ام سلمہ بیان کرتی ہیں اس لڑکی نے ایساہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا۔ وہ لڑکی پیچھے ہٹ گئی جب آپ نے نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا اے ابوامیہ کی صاحبزادی تم نے عصر کے بعد دو رکعت کے بارے میں دریافت کیا ہے میرے پاس عبدالقیس قبیلے کے چند لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تھے ان کی وجہ سے میں ظہر کے بعد والی دو رکعت ادا نہ کرسکا یہ وہی والی دو رکعت تھی۔ امام ابومحمد دارمی سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا میں حضرت عمر کے حوالے سے منقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق فتوی دیتاہوں کہ عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہوجانے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جاسکتی اور فجر کے بعد سورج طلوع ہوجانے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جاسکتی ۔

أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا ← الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ ← اقْرَأ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا ← الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عبد الرحمن بن أزهر ← كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الله بْنَ عَبَّاسٍ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1474

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1697

أَخْبَرَنَا يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي قَالَ أَحْمَدُ فِي بَعْضِ الْمَعَادِنِ وَهُوَ الصَّوَابُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا مِنِّي صَدَقَةً فَوَاللَّهِ مَا لِي مَالٌ غَيْرَهَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ هَاتِهَا مُغْضَبًا فَحَذَفَهُ بِهَا حَذْفَةً لَوْ أَصَابَهُ لَأَوْجَعَهُ أَوْ عَقَرَهُ ثُمَّ قَالَ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَالِهِ لَا يَمْلِكُ غَيْرَهُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى خُذْ الَّذِي لَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَهُ وَذَهَبَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَانَ مَالِكٌ يَقُولُ إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ مَالَهُ فِي الْمَسَاكِينِ يَتَصَدَّقُ بِثُلُثِ مَالِهِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص انڈے کی طرح کا سونا لے کر آپ کے پاس آیا جو اسے کسی جنگ میں ملا تھا (ایک روایت میں ہے) کسی کان میں سے ملا تھا اور یہی زیادہ صحیح ہے اس نے عرض کی یا رسول اللہ یہ میری طرف سے صدقہ کے طور پر قبول کیجئے اللہ کی قسم میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا پھر وہ دوسری جانب سے آپ کے پاس آیا اور وہی بات عرض کی پھر وہ آپ کے سامنے کی جانب سے آیا اور وہی بات عرض کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کے عالم میں فرمایا لاؤ پھر آپ نے وہ اس کی طرف پھینکا اگر وہ اسے لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا (یا شاید مر ہی جاتا) پھر آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے مال کو صدقہ کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہوتا پھر وہ اسے صدقہ کردیتا ہے اور خود لوگوں سے مانگنے کے لئے بیٹھ جاتا ہے صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں ہو (پھر آپ نے اس سے فرمایا) اپنا یہ پکڑو ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ (راوی کہتے ہیں) اس شخص نے وہ مال پکڑا اور چلا گیا۔ امام دارمی فرماتے ہیں امام مالک فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنا مال غریبوں میں بانٹنا چا ہے تو وہ ایک تہائی مال صدقہ کرے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1697

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2006

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْعَقِيقَةِ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ

ام کرز بیان کرتی ہیں عقیقہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ← فِي الْعَقِيقَةِ: ← النَّبِيِّ ← أُمِّ کُرْزٍ ← حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 2006

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2008

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ

ام کرز بیان کرتی ہیں عقیقہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے۔

أُمِّ کُرْزٍ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 2008

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2077

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَإِنَّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرَهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ

حضرت مقدام بن معدیکرب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنے اور صبح کے وقت وہ بھوکا ہو تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس کی مدد کرے یہاں تک کہ وہ اپنی زراعت اور اپنے مال میں سے اسے ایک رات تک کا کھانا فراہم کرے۔

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ← أَبِي الْجَوْدِيِّ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2077

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2106

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سب سے بدترین ولیمہ وہ کھانا ہے جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نہ بلایا جائے جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← الْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2106

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2265

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ يَرُدُّ الْحَدِيثَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ أَفَيَعْزِلُ عَنْهَا وَتَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَيَعْزِلُ عَنْهَا قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرًا وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ایک شخص کی کنیز ہے وہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اسے یہ پسند نہیں کہ وہ حاملہ ہوجائے وہ اس کے ساتھ عزل کرتا ہے اسی طرح ایک شخص کی بیوی ہے جو بچے کو دودھ پلاتی ہے وہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور یہ بات اسے پسند نہیں کہ وہ حاملہ ہوجائے کیا وہ اس کے ساتھ عزل کرسکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم ایسا نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ توطے شدہ ہے۔ ابن عون بیان کرتے ہیں میں نے اس بات کا ذکر حضرت حسن بصری سے کیا تو وہ بولے اللہ کی قسم یہ زجر (ناپسندیدگی ظاہر کر کے روکنے) کی مانند ہے۔

قُلْنَا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ يَرُدُّ الْحَدِيثَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2265

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2559

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اس پر صبر کرے کیونکہ جو بھی شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے بالشت بھر الگ ہوگا اور مرتے وقت زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ ← أبو رجاء العطاردي ← الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2559

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2641

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ الْجَارُودِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ

جارود بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی دوسرے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کاشعلہ ہے۔

الْجَارُودِ، ← اَبِیْ مُسْلِمٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2641

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2642

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ عَنْ الْجَارُودِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ لَا تَقْرَبَنَّهَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا قَالَ أَنْشِدْهَا وَلَا تَكْتُمْ وَلَا تُغَيِّبْ فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ

حضرت جارود بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کاشعلہ ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کاشعلہ ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کاشعلہ ہے تم ہرگز اس کے قریب نہ جانا۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ اگر کوئی گری ہوئی چیز ہمیں مل جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کا اعلان کرو تم اسے چھپاؤ نہیں تم اسے پوشیدہ نہیں رکھو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو وہ چیز اس کے سپرد کردو ورنہ اللہ کا مال ہے جسے چاہے عطاکرے۔

الْجَارُودِ، ← أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2642

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2942

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُرَادٍ سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَقَحَّمَ جَرَاثِيمَ جَهَنَّمَ فَلْيَقْضِ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ

سعید بن جبیر قبیلہ مراد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص جہنم میں جانا پسند کرتا ہو اسے چاہیے کہ وہ دادا اور بھائیوں کی وراثت کے بارے میں فیصلہ دے۔

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَقَحَّمَ جَرَاثِيمَ جَهَنَّمَ فَلْيَقْضِ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ ← عَلِيًّا ← رَجُلٍ مِنْ مُرَادٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2942

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2961

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى السُّدُسِ

حضرت حسن بصری ارشاد فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ داد کو بھائیوں کے ہمراہ چھٹے حصے تک وراثت میں شریک قرار دیتے ہیں۔

الْحَسَنِ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى السُّدُسِ ← يُونُسَ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2961

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2962

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو وراثت میں بھائیوں کا شریک قرار دیتے ہیں جبکہ ان کامشترکہ حصہ کل مال کا چھٹا حصہ بنتا ہے۔

كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2962

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2963

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ الْجَدَّ إِلَى سِتَّةٍ مَعَ الْإِخْوَةِ يُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ مَعَ جَدٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ وَلَا يَزِيدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَى السُّدُسِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَيْرُهُ وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ مَعَ أَخٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ أَعْطَى الْأُخْتَ النِّصْفَ وَالنِّصْفَ الْآخَرَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ نِصْفَيْنِ وَإِذَا كَانُوا إِخْوَةً وَأَخَوَاتٍ شَرَّكَهُمْ مَعَ الْجَدِّ إِلَى السُّدُسِ

ابراہیم نخعی ارشاد فرماتے ہیں چھٹے حصے تک حضرت علی رضی اللہ عنہ داداکوبھائیوں کو حصے دار قرار دیتے ہیں وہ ہر ایک صاحب کو اس کے مخصوص حصے کے مطابق دیتے ہیں البتہ وہ ماں کی طرف سے شریک بھائی کو دادا کے ہمراہ وارث قرار نہیں دیتے اسی طرح ماں کی طرف سے شریک بہن کو بھی نہیں قرار دیتے بیٹے کی موجودگی میں وہ دادا کو چھٹے حصے سے زیادہ نہیں دیتے البتہ اس کے علاوہ کوئی اور ہو تو حکم مختلف ہے۔ باپ کی طرف سے شریک بھائی یا ماں اور باپ کی طرف سے بھائی کی موجودگی میں وہ حصہ تقسیم نہیں کرتے اگر سگی بہن موجود ہو یا باپ کی طرف سے بھائی موجود ہو۔ اگر سگی بہن اور باپ کی طرف سے بھائی موجود ہو تو بہن کو نصف حصہ دیتے ہیں جبکہ دوسرا نصف حصہ دادا اور بھائی کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں اگر بہنیں اور بھائی زیادہ ہوں تو وہ انہیں دادا کے ہمراہ چھٹے حصے تک کا شریک قرار دیتے ہیں۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2963

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2968

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ زَيْدًا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں حضرت زید ایک تہائی مال تک دادا کو بھائیوں کے ہمراہ شریک قرار دیتے تھے۔

الْحَسَنِ أَنَّ زَيْدًا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ ← يُونُسَ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2968

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2969

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يُقَاسِمُ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ ثُمَّ لَا يُنْقِصُهُ

حضرت زید بن ثابت کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک تہائی مال تک دادا کو بھائیوں کے ہمراہ حصہ دیا کرتے تھے پھر اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2969

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2987

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أُتِيَ فِي إِخْوَةٍ لِأُمٍّ وَأُمٍّ فَأَعْطَى الْإِخْوَةَ مِنْ الْأُمِّ الثُّلُثَ وَالْأُمَّ سَائِرَ الْمَالِ وَقَالَ الْأُمُّ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ان کی خدمت میں ماں کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور ماں کا مسئلہ پیش کیا گیا تو انہوں نے ماں کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائیوں کو ایک تہائی حصہ دیا جبکہ ماں کو بقیہ سارا مال دے دیا۔ اور یہ ارشاد فرمایا جس شخص کا کوئی عصبہ نہ ہو ماں اس کی عصبہ بن جاتی ہے۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2987

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3008

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ النُّعْمَانِ عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ لِمَنْ هُوَ قَالَ جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهِ فِي سَبَبِهِ لِمَا لَقِيَتْ مِنْ الْبَلَاءِ وَلِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ و قَالَ مَكْحُولٌ فَإِنْ مَاتَتْ الْأُمُّ وَتَرَكَتْ ابْنَهَا ثُمَّ تُوُفِّيَ ابْنُهَا الَّذِي جُعِلَ لَهَا كَانَ مِيرَاثُهُ لِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ كُلُّهُ لِأَنَّهُ كَانَ لِأُمِّهِمْ وَجَدِّهِمْ وَكَانَ لِأَبِيهَا السُّدُسُ مِنْ ابْنِ ابْنَتِهِ وَلَيْسَ يَرِثُ الْجَدُّ إِلَّا فِي هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ لِأَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ أَبُ الْأُمِّ وَإِنَّمَا وَرِثَ الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ أُمَّهُمْ وَوَرِثَ الْجَدُّ ابْنَتَهُ لِأَنَّهُ جُعِلَ لَهَا فَالْمَالُ الَّذِي لِلْوَلَدِ لِوَرَثَةِ الْأُمِّ وَهُوَ يُحْرِزُهُ الْجَدُّ وَحْدَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ

مکحول کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے لعان کرنے والی عورت کے بچے کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ وہ کسے ملے گی تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت کا حقدار اس کی ماں کو قرار دیا ہے کیونکہ اس کی ماں کو اس مشکل صورت کا سامنا کرنا پڑا تھا پھر اس کی ماں کی طرف سے شریک بھائیوں کو ملے گا۔ مکحول فرماتے ہیں اگر اس کی ماں فوت ہوجائے اور اپنے اسی ایک بیٹے کو چھوڑے پھر اس عورت کا وہ بیٹابھی فوت ہوجائے جو اس حوالے سے تھا تو اس بیٹے کی وراثت اس کی ماں کی طرف سے شریک بہن بھائیوں کو ملے گی۔ کیونکہ یہ وراثت اس کی ماں یا اس کے نانا کو ملنی تھی اس عورت کے باپ کو اپنے نواسے کی طرف سے چھٹا حصہ ملے گا۔ نانا صرف اسی صورت میں وارث بن سکتا ہے کیونکہ وہ اس کی ماں کا باپ ہے اس کی ماں کی طرف سے شریک بہن بھائی اپنی ماں کے وارث بنیں گے اور اس کا نانا اپنی بیٹی کا وراث بنے گا کیونکہ اسے اسی کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ مال جو اس لڑکے کاہے وہ اس کی ماں کے ورثاء کو ملے گا اور وہ صرف اپنے نانا کے حصے میں ہوگا جبکہ اس کے علاوہ کوئی اور موجود نہ ہو۔

مَكْحُولٌ ← النُّعْمَانِ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3008

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3025

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں علاتی بھائیوں کی بجائے ماں کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں آدمی اپنے سگے بھائی کا وراث بنتا ہے البتہ باپ کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائی کا وارث نہیں بنتا۔

النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3025

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3040

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ وَجَبَتْ الْحُقُوقُ لِأَهْلِهَا وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ أَسْلَمَ أَوْ أُعْتِقَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ شَيْئًا

ابراہیم بیان کرتے ہیں جب میت فوت ہوجائے تو حق حقداروں کے لے واجب ہوتا ہے اور جو شخص وراثت کی تقسیم سے پہلے اسلام قبول کرلے یا آزاد ہوجائے تو اسے کچھ نہیں ملتا۔

إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← سَعِيدٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3040

chevron_left Previous
1…121314…787
Next chevron_right