Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

السفر

Travel

19064 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14107

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَقَالَ اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَأُتِيَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ قَالَ أَنَسٌ قَدْ كُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14107

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14132

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَقَالَ بَهْزٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّا قَدْ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ فَعَظُمَتْ بُطُونُنَا وَانْتَهَشَتْ أَعْضَاؤُنَا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا قَالَ فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَلُحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَلْوَانُهُمْ ثُمَّ قَتَلُوا الرَّاعِي وَسَاقُوا الْإِبِلَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ قَالَ قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بَهْزٌ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14132

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14162

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ قُلْنَا أَيُّ الْحِلِّ قَالَ الْحِلُّ كُلُّهُ قَالَ فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَقَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَوْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ قَالَ لَا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ فَسَمِعْتُ مَنْ سَمِعَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ قَالَ حَسَنٌ قَالَ زُهَيْرٌ فَسَأَلْتُ يَاسِينَ مَا قَالَ قَالَ ثُمَّ لَمْ أَفْهَمْ كَلَامًا تَكَلَّمَ بِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ فَسَأَلْتُ رَجُلًا فَقُلْتُ كَيْفَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ فَقَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفا مروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے ہم نے پوچھا اس صورت میں کیا چیزیں حلال ہو جائیں گی ؟ فرمایا سب چیزیں (جو احرام کی وجہ سے ممنوع ہو گئیں تھیں ) حلال ہو جائیں گی چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی۔ آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اس مرتبہ پہلے ہم نے طواف کیا اور سعی کافی ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ایک ایک اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو جائیں اسی دوران حضرت سراقہ بن مالک بھی آگئے اور کہنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں کیا عمرہ کاصرف حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے ہے پھر انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں آج کا عمل کس مقصد کے لئے ہے کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہوچکے اور تقدیر کا حکم نافذ ہوگیا انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنهما ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14162

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14242

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمًا فِي سَفَرٍ قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا قَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ قَالُوا هَذَا رَجُلٌ صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْبِرُّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہاہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14242

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1245

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ

It was narrated thatShuraih bin Hani' said: I came to 'A'ishah (RA) to ask her about the khujfain (leather slippers). She said: Go to Ibn Abi Talib, for he used to travel with the Messenger of Allah (PBUH). So I went to him and asked him, and he said: The Messenger of Allah (PBUH) set three days and nights for the traveller and one day and night for one who is not travelling.

الخُفينِ، ← أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَكَمِ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1245

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1277

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَلِيًّا فَهُوَ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي هُوَ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ

It was narrated that Shuraih bin Hani' said: I asked 'A'ishah (RA) about wiping over the khuffain. She said: Ask 'Ali, for he knows more about that than me; he used to travel with the Messenger of Allah (PBUH) - So I asked 'Ali (RA) and he said: The Messenger of Allah (PBUH) said: "For one who is not travelling, one day and night; and for the traveller, three days and nights."

الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَكَمِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1277

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1298

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ قِيلَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَكُمْ كَانَ يَخُصُّكُمْ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ عَامَّةً قَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَخُصَّ بِهِ النَّاسَ إِلَّا بِشَيْءٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ أَسْنَانِ الْإِبِلِ وَفِيهَا أَنَّ الْمَدِينَةَ حَرَمٌ مِنْ بَيْنِ ثَوْرٍ إِلَى عَائِرٍ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّى مَوْلًى بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ

It was narrated that al- Harith bin Suwaid said: It was said to 'Ali (RA): Did your Messenger say anything to you only that was not for the people in general? He said: The Messenger of Allah (PBUH) did not say anything to us only that he did not say to the people, except something in the sheath of this sword of mine. He took out a document on which there was something about the ages of camels [for zakah] and in it was said: "Madinah is sacred, the area between Thawr and 'A'ir. Whoever commits an offence or gives refuge to an offender, upon him will be the curse of Allah, the angels and all the people, and on the Day of Resurrection Allah will not accept any nafl or obligatory act of worship from him. Protection given by any Muslim is binding upon all of them. Whoever transgresses protection given by a Muslim, upon him be the curse of Allah, the angels and all the people, and on the Day of Resurrection Allah will not accept any nafl or obligatory act of worship from him. Whoever takes people as mawla [1] without the permission of the ones who set him free, upon him be the curse of Allah, the angels and all the people, and on the Day of Resurrection Allah will not accept any nafl or obligatory act of worship from him."

الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1298

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1348

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ وَدَفَعَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ فَأَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهَا الصَّلَاتَيْنِ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ بَاتَ بِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ قَالَ ثُمَّ سَارَ فَلَمَّا أَتَى مُحَسِّرًا قَرَعَهَا فَخَبَّتْ حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ ثُمَّ حَبَسَهَا وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ فَقَالَ هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ ثُمَّ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ قَدْ أَفْنَدَ وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ فَأَدِّي عَنْ أَبِيكِ قَالَ وَلَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ قَالَ رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَخِفْتُ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا قَالَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ قَالَ فَاحْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ وَأَتَى زَمْزَمَ فَقَالَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سِقَايَتَكُمْ لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ

It was narrated that 'Ali (RA) said: The Messenger of Allah stood at 'Arafah and said: "This is the place of standing and all of 'Arafah is a place of standing.” Then he put Usamah behind him (on his mount) and moved on at a measured pace on his camel, and the people were urging their camels on, right and left. He did not turn to them, but he said: "Calmly, O people." Then he came to Jam' and offered two prayers there - i.e., Maghrib and 'Isha'. Then he stayed there all night, and when morning came he stood at Quzah, and said: "This is Quzah. This is the place of standing and all of Jam' is a place of standing." Then he moved on and when he came to Muhassir, he struck his she-camel and she trotted until he crossed the valley, then he reined her in and put al-Fadl behind him (on his mount). He carried on until he came to the Jamrah. He stoned it, then he came to the place of sacrifice and said: "This is the place of sacrifice and all of Mina is a place of sacrifice." Then a young woman of Khath'am came to him and said: My father is an old man and has become senile; he has lived until Allah made Hajj obligatory. Will it be acceptable if I perform Hajj on his behalf? He said: "Yes; perform Hajj on behalf of your father." And he turned al-Fadl's neck. A!-' Abbas said to him: O Messenger of Allah, why did you turn the neck of your cousin? He said: "I saw a young man and a young woman and I was afraid that the Shaitan [might tempt] them." A man came to him and said: O Messenger of Allah, I did tazvaful-ifadah before shaving my head. He said: "Go ahead and shave your head or cut your hair, there is no problem." And he came to Zamzam and said: "O Banu 'Abdul-Muttalib, it is your right to draw water for pilgrims. Were it not that the people would overwhelm you, I would have drawn water myself."

وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ بِعَرَفَةَ، ← عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1348

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1379

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَشُغِلَ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ثُمَّ عَادَ فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَقَالَ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ فِيهِمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ

It was narrated from 'Asim bin Kulaib, that his father said: I was sitting with 'Ali (RA) and he said: i entered upon the Messenger of Allah (PBUH) and there was no one with him except 'A'ishah (RA), and he said: "O son of Abu Talib, how would you be with people of such and such a type?" i said: Allah and His Messenger know best. He said: "Some people will emerge from the East who recite the Qur'an but it will go no further than their collarbones. They will pass out of the faith as the arrow passes out of the prey. Among them will be a man with a deformed arm, as if his arm is the breast of an Abyssinian woman."

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1379

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1388

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ عَلَيْهِ وَقَالَ عُمَرُ مَرَّةً بَيْنَ يَدَيْهِ

It was narrated from Moosa bin Talha that his father said: We used to pray with animals passing in front of us. We mentioned that to the Prophet (PBUH) and he said: "If you put something the height of the back of a saddle in front of you, then it will not matter what passes beyond it."

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1388

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6743

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى قَالَ حُسَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ بَنَاتُ مَخَاضٍ وَثَلَاثُونَ بَنَاتُ لَبُونٍ وَثَلَاثُونَ حِقَّةٌ وَعَشْرٌ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے کہ جو شخص خطاء ماراجائے اس کی دیت سو اونٹ ہو گی جن میں تیس بنت مخاض تیس بنت لبون، تیس حقے اور دس ابن لبون مذکر ہوں گے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6743

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6746

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ فَمَنْ أَخَذَهَا مِنْ مَرْتَعِهَا قَالَ عُوقِبَ وَغُرِّمَ مِثْلَ ثَمَنِهَا وَمَنْ اسْتَطْلَقَهَا مِنْ عِقَالٍ أَوْ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ حِفْشٍ وَهِيَ الْمَظَالُّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالثَّمَرُ يُصَابُ فِي أَكْمَامِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى آكِلٍ سَبِيلٌ فَمَنْ اتَّخَذَ خُبْنَةً غُرِّمَ مِثْلَ ثَمَنِهَا وَعُوقِبَ وَمَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنْهَا بَعْدَ أَنْ أَوَى إِلَى مِرْبَدٍ أَوْ كَسَرَ عَنْهَا بَابًا فَبَلَغَ مَا يَأْخُذُ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْكَنْزُ نَجِدُهُ فِي الْخَرِبِ وَفِي الْآرَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ میں آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیاہوں کہ گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ساتھ اس کا" سم " اور اس کا " مشکیزہ " ہوتا ہے اس نے پوچھا کہ گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا تم اسے لے جاؤ گے یاتمہارا کوئی بھائی لے جائے گا یا کوئی بھیڑیا لے جائے گا۔ اس نے پوچھا وہ محفوظ بکری جو اپنی چراگاہ میں ہو اسے چوری کرنے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی دوگنی قیمت اور سزا اور جسے باڑے سے چرایا گیا ہو تو اس میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اس نے پوچھا یا رسول اللہ اگر کوئی شخص خوشوں سے توڑ کر پھل چوری کر لے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے جو پھل کھا لئے چھپا کر ان پر تو کوئی چیز واجب نہیں ہوگی لیکن جو پھل وہ اٹھا کر لے جائے تو اس کی دوگنی قیمت اور پٹائی اور سزا واجب ہو گی اور اگر وہ پھلوں کو خشک کرنے کی جگہ سے چوری کئے گئے اور ان کی مقدار کم از کم ایک ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ! اس خزانے کا کیا حکم ہے جو ہمیں کسی ویران یا آباد علاقے میں ملے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں اور رکاز میں خمس واجب ہے۔

رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَقُولُ ← جَدِّهِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← الحسين

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6746

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1696

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو حِسْبَةَ مُسْلِمُ بْنُ أُكَيْسٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ ذَكَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَقَالَ نَبْكِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمًا مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَيُفِيءُ عَلَيْهِمْ حَتَّى ذَكَرَ الشَّامَ فَقَالَ إِنْ يُنْسَأْ فِي أَجَلِكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَحَسْبُكَ مِنْ الْخَدَمِ ثَلَاثَةٌ خَادِمٌ يَخْدُمُكَ وَخَادِمٌ يُسَافِرُ مَعَكَ وَخَادِمٌ يَخْدُمُ أَهْلَكَ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ وَحَسْبُكَ مِنْ الدَّوَابِّ ثَلَاثَةٌ دَابَّةٌ لِرَحْلِكَ وَدَابَّةٌ لِثَقَلِكَ وَدَابَّةٌ لِغُلَامِكَ ثُمَّ هَذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى بَيْتِي قَدْ امْتَلَأَ رَقِيقًا وَأَنْظُرُ إِلَى مِرْبَطِي قَدْ امْتَلَأَ دَوَابَّ وَخَيْلًا فَكَيْفَ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا وَقَدْ أَوْصَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَنْ لَقِيَنِي عَلَى مِثْلِ الْحَالِ الَّذِي فَارَقَنِي عَلَيْهَا

Abu Hisbah Muslim bin Ukyas, the freed slave of 'Abdullah bin 'Amir, narrated from Abu 'Ubaidah bin al-Jarrah: a man entered upon him [Abu 'Ubaidah] and found him weeping. He said: Why are you weeping, O Abu 'Ubaidah? He said: We are weeping because the Messenger of Allah (PBUH) mentioned one day the victories that Allah would grant to the Muslims and how much booty He would grant them,, and he even mentioned Syria. He said: "If you live long, O Abu 'Ubaidah, three servants will be enough for you: a servant to serve you, a servant to travel with you and a servant to serve your family and take care of them. And three mounts will be sufficient for you: a mount to carry you, a mount to carry your luggage and a mount to carry your slave." And now here I am, look at my house, it is filled with slaves, and look at my stable, it is filled with mounts and horses. How can I meet the Messenger of Allah (PBUH)after this? The Messenger of Allah (PBUH) advised us: "The dearest of you to me and the closest of you to me is the one who meets me in the same state as he was when he left me."

نَبْكِي ← مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ← مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ← أَبُو حِسْبَةَ مُسْلِمُ بْنُ أُكَيْسٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1696

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6783

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَنَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ وَيَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَيُصَلِّي حَافِيًا وَنَاعِلًا وَيَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ دائیں بائیں جانب سے واپس چلے جاتے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھاہے اور سفر میں روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

یَّمِیْنِہٖ ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ يَنْفَتِلُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حجاج، ← إسماعيل بن محمد بن جحادة

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6783

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6891

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ فَذَرْهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا قَالَ وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ اجْمَعْهَا إِلَيْكَ حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا وَسَأَلَهُ عَنْ الْحَرِيسَةِ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا قَالَ فَقَالَ فِيهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ قَالَ فَمَا أُخِذَ مِنْ أَعْطَانِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا فِي السَّبِيلِ الْعَامِرِ قَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُوجَدُ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ قَالَ فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ میں آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ساتھ اس کا" سم " اور اس کا " مشکیزہ " ہوتا ہے وہ خود ہی درختوں کے پتے کھاتا اور وادیوں کا پانی پیتا اپنے مالک کے پاس پہنچ جائے گا اس لئے تم اسے چھوڑ دو تاکہ وہ اپنی منزل پر خود ہی پہنچ جائے اس نے پوچھا کہ گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاتم اسے لے جاؤ گے یاتمہارا کوئی بھائی لے جائے گا یا کوئی بھیڑیا لے جائے گا تم اسے اپنی بکریوں میں شامل کرو تاکہ وہ اپنے مقصود پر پہنچ جائے اس نے پوچھا وہ محفوظ بکری جو اپنی ، چراگاہ میں ہو اسے چوری کرنے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی دوگنی قیمت اور سزا اور جسے باڑے سے چرایا گیا ہو تو اس میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا جبکہ وہ ایک ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے ۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ! اس گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے جو ہمیں کسی آبادعلاقے کے راستے میں ملے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ایک سال تک اس کی تشہیر کراؤ اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کے حوالے کردو ورنہ وہ تمہاری ہے اس نے کہا کہ اگر یہی چیز کسی ویرانے میں ملے تو؟ فرمایا اس میں اور رکاز میں خمس واجب ہے۔

فِيهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ ← الْحَرِيسَةِ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا ← لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ اجْمَعْهَا إِلَيْكَ حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا وَسَأَلَهُ ← ضالة الغنم ← وسأله ← مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ فَذَرْهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا ← ضَالَّةِ الإِبِلِ ← رَسُولَ اللَّهِ وَرَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُهُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6891

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6928

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں بائیں جانب سے واپس جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ وَيَزِيدُ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6928

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7013

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ كُلُّهُنَّ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں سر کے زخم میں پانچ پانچ اونٹ ہیں اور سب انگلیاں برابر ہیں ۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مَطَرٍ، ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7013

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7021

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ قَالَ يَعْنِي عَبْدَ الْوَهَّابِ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ يَعْنِي حُسَيْنًا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا وَرَأَيْتُهُ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَاعِدًا وَقَائِمًا

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں بائیں جانب سے واپس جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

یَّمِیْنِہٖ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَنْفَتِلُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مِنْهُ يَعْنِي حُسَيْنًا ← يَعْنِي عَبْدَ الْوَهَّابِ وَقَدْ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7021

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7025

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ الْحَرَشِيُّ وَكَانَ ثِقَةً فِيمَا ذَكَرَ أَهْلُ بِلَادِهِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْلَى ثَقِيفٍ وَكَانَ مُسْلِمٌ رَجُلًا يُؤْخَذُ عَنْهُ وَقَدْ أَدْرَكَ وَسَمِعَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْشٍ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا بِأَرْضٍ لَسْنَا نَجِدُ بِهَا الدِّينَارَ وَالدِّرْهَمَ وَإِنَّمَا أَمْوَالُنَا الْمَوَاشِي فَنَحْنُ نَتَبَايَعُهَا بَيْنَنَا فَنَبْتَاعُ الْبَقَرَةَ بِالشَّاةِ نَظِرَةً إِلَى أَجَلٍ وَالْبَعِيرَ بِالْبَقَرَاتِ وَالْفَرَسَ بِالْأَبَاعِرِ كُلُّ ذَلِكَ إِلَى أَجَلٍ فَهَلْ عَلَيْنَا فِي ذَلِكَ مِنْ بَأْسٍ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبْعَثَ جَيْشًا عَلَى إِبِلٍ كَانَتْ عِنْدِي قَالَ فَحَمَلْتُ النَّاسَ عَلَيْهَا حَتَّى نَفِدَتْ الْإِبِلُ وَبَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْإِبِلُ قَدْ نَفِدَتْ وَقَدْ بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ النَّاسِ لَا ظَهْرَ لَهُمْ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَعْ عَلَيْنَا إِبِلًا بِقَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِلَى مَحِلِّهَا حَتَّى نُنَفِّذَ هَذَا الْبَعْثَ قَالَ فَكُنْتُ أَبْتَاعُ الْبَعِيرَ بِالْقَلُوصَيْنِ وَالثَّلَاثِ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِلَى مَحِلِّهَا حَتَّى نَفَّذْتُ ذَلِكَ الْبَعْثَ قَالَ فَلَمَّا حَلَّتْ الصَّدَقَةُ أَدَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو بن حریش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم لوگ ایسے علاقے میں ہوتے ہیں جہاں دینار یا درہم نہیں چلتے ہم ایک وقت مقررہ تک کے لئے اونٹ اور بکری کے بدلے خرید و فروخت کر لیتے ہیں آپ کی اس بارے کیا رائے ہے؟ کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ انہوں نے فرمایا تم نے ایک باخبر آدمی سے دریافت کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا اس امید پر کہ صدقہ کے اونٹ آ جائیں گے اونٹ ختم ہو گئے اور کچھ لوگ باقی بچ گئے (جنہیں سواری نہ مل سکی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہمارے لئے اس شرط پر اونٹ خرید کر لاؤ کہ صدقہ کے اونٹ پہنچنے پر وہ دے دیئے جائیں گے چنانچہ میں نے دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ خریدا بعض اوقات تین کے بدلے بھی خریدا یہاں تک کہ میں فارغ ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے اس کی ادائیگی فرما دی۔

قلت يا أبا محمد ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عمرو بن حريش الزبيدي ← مسلم بن جبير مولى ثقيف وكان مسلم رجلا يؤخذ عنه وقد أدرك ← أهل بلاده ← أبو سفيان الحرشي وكان ثقة فيما ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7025

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7033

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَذَكَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ يُدْفَعُ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً فَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ شَدِيدُ الْعَقْلِ وَعَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ وَذَلِكَ أَنْ يَنْزِغَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونَ دِمَاءٌ فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْنِي مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا وَلَا رَصَدَ بِطَرِيقٍ فَمَنْ قُتِلَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ شِبْهُ الْعَمْدِ وَعَقْلُهُ مُغَلَّظَةٌ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ وَهُوَ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَلِلْحُرْمَةِ وَلِلْجَارِ وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَثَلَاثُونَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَثَلَاثُونَ حِقَّةٌ وَعَشْرُ بَكَارَةٍ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنْ الْوَرِقِ وَكَانَ يُقِيمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا عَلَى عَهْدِ الزَّمَانِ مَا كَانَ فَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ وَعِدْلُهَا مِنْ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ وَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ فِي الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ وَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ فَأَلْفَيْ شَاةٍ وَقَضَى فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ كُلُّهُ بِالْعَقْلِ كَامِلًا وَإِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُهُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ وَقَضَى فِي الْعَيْنِ نِصْفَ الْعَقْلِ خَمْسِينَ مِنْ الْإِبِلِ أَوْ عِدْلَهَا ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا أَوْ مِائَةَ بَقَرَةٍ أَوْ أَلْفَ شَاةٍ وَالرِّجْلُ نِصْفُ الْعَقْلِ وَالْيَدُ نِصْفُ الْعَقْلِ وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ مِنْ الْإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا مِنْ الذَّهَبِ أَوْ الْوَرِقِ أَوْ الْبَقَرِ أَوْ الشَّاءِ وَالْجَائِفَةُ ثُلُثُ الْعَقْلِ وَالْمُنَقِّلَةُ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنْ الْإِبِلِ وَالْمُوضِحَةُ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ وَالْأَسْنَانُ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان کو عمداً قتل کردے اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا جائے گا وہ چاہیں تو اسے قصاصاً قتل کردیں اور چاہیں تو دیت لے لیں جو کہ ٣٠حقے،٣٠جذعے اور٤٠حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہو گی یہ قتل عمد کی دیت ہے اور جس چیز پر ان سے صلح ہو جائے وہ اس کے حقدار ہوں گے اور یہ سخت دیت ہے ۔ قتل شبہ عمد کی دیت بھی قتل عمد کی دیت کی طرح ملغظ ہی ہے لیکن اس صورت میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا اس کی صورت یوں ہوتی ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دیتا ہے اور بغیر کسی کہنے کے یا اسلحہ کے خونریزی ہوجاتی ہے ۔ اس کی علاوہ جس صورت میں بھی قتل ہو گا وہ شبہ عمد ہو گا اس کی دیت مغلظ ہو گی اور قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا یہ اشہر حرم میں حرمت کی وجہ سے اور پڑوس کی وجہ سے ہو گا ۔ خطاء قتل ہونے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں ٣٠ بنت مخاض ٣٠ بنت لبون٣٠حقے اور دس ابن لبون مذکر اونٹ شامل ہوں گے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہر والوں پر اس کی قیمت چار سو دینار یا اس کے برابر چاندی مقرر فرماتے تھے اور قیمت کا تعین اونٹوں کی قیمت کے اعتبار سے کرتے تھے جب اونٹوں کی قیمت بڑھ جاتی تو دیت کی مقدار مذکور میں اضافہ فرما دیتے اور جب کم ہوجاتی تو اس میں بھی کمی فرمادیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینارتک بھی پہنچی ہے اور اس کے برابر چاندی کی قیمت آٹھ ہزار درہم تک پہنچی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ جس کی دیت گائے والوں پر واجب ہوتی ہو تو وہ دو سو گائے دے دیں اور جس کی بکری والوں پر واجب ہوتی ہو وہ دوہزار بکریاں دے دیں ناک کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اسے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو پوری دیت واجب ہو گی اور اگر صرف نرم حصہ کاٹا ہو تو نصف دیت واجب ہو گی ایک آنکھ کی دیت نصف قرار دی ہے یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا چاندی یا سو گائے یا ہزار بکریاں ، نیز ایک پاؤں کی دیت بھی نصف اور ایک ہاتھ کی دیت بھی نصف قرار دی ہے ۔ دماغی زخم کی دیت تہائی مقرر فرمائی ہے یعنی ٣٣ اونٹ یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، یا گائے بکری گہرے زخم کی دیت بھی تہائی مقرر فرمائی ہے ہڈی اپنی جگہ سے ہلا دینے کی دیت ١٥ اونٹ مقرر فرمائی ہے اور کھال چیر کر گوشت نظر آنے والے زخم کی دیت پانچ اونٹ مقرر فرمائی ہے اور ہر دانٹ کی دیت پانچ اونٹ مقرر فرمائی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← حَدِيثًا ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7033

chevron_left Previous
1…414243…954
Next chevron_right