Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

السفر

Travel

19064 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8927

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُنْضِي شَيَاطِينَهُ كَمَا يُنْضِي أَحَدُكُمْ بَعِيرَهُ فِي السَّفَرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن اپنے پیچھے لگنے والے شیاطین کو اس طرح دبلا کردیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص دوران سفر اپنے اونٹ کو دبلا کردیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8927

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8929

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ فَهُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے اور کفر مشرقی جانب ہے غرور تکبر گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8929

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9095

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنْ الْإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ فَطَلَبُوا لَهُ فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ فَقَالَ أَعْطُوهُ فَقَالَ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ لَكَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو وہ دیہاتی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے پورا پورا ادا کیا اللہ آپ کو پورا پورا عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9095

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9102

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9102

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9189

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ لَكُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اے لوگو! اللہ نے تم پر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر میں نماز کی چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض قرار دی ہیں۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الْمُفَضَّلُ ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9189

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9194

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُلَانٍ الْخَثْعَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ سَفَرًا فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ قَالَ وَأُرَاهُ قَالَ وَالْحَامِلُ عَلَى الظَّهْرِ اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا بِنُصْحٍ وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ أَعُوذُ بِكَ مِنْ مِلْحِ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر کے ارادے سے نکلتے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ تو ہی سفر میں میرا ساتھی اور اہل و عیال میں میرا جانشین ہے اور سواری کی پیٹھ پر بٹھانے والا ہے اے اللہ خیرخواہی کے ساتھ ہماری رفاقت فرما اور اپنی ذمہ داری میں واپس پہنچا ہم سفر کی مشکلات واپسی کی پریشانی سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا زُرْعَةَ، ← فُلَانٍ الْخَثْعَمِيِّ أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ وَعَتَّابٌ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9194

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9259

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلًا مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْأُسُودُ مَعَ الْإِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء کرام علیہم السلام علاتی بھائیوں (جن کا باپ ایک ہو مائیں مختلف ہوں) کی طرح ہیں ان سب کی مائیں مختلف اور دین ایک ہے اور میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں اور عنقریب وہ زمین پر نزول بھی فرمائیں گے اس لئے تم جب انہیں دیکھنا تو مندرجہ ذیل علامات سے انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے آدمی ہوں گے سرخ و سفید رنگ ہوگا گیروے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے گو کہ انہیں پانی کی تری بھی نہ پہنچی ہو پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے ان کے زمانے میں اللہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان کو مٹا دے گا اور ان ہی کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کروائے گا اور روئے زمین پر امن و امان قائم ہوجائے گا حتی کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ ایک گھاٹ سے سیراب ہوں گے اور بچے سانپوں سے کھیلتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین پر رہ کر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9259

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9299

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنْ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا فَإِنَّ مَالَهَا مَا كُتِبَ لَهَا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَلَقَّوْا الْأَجْلَابَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کا تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کر دے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے وہ سمیٹ لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہے اور ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْمُغِيرَةِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9299

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9401

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ

اور فرمایا کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے، فخروتکبر اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں میں ہوتا ہے سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9401

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9437

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنْ ابْتَاعَ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کا تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ اور تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو۔ اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے اور ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور ایک دوسرے کی بیع پر بیع مت کرو اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9437

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9447

حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَرْمَلَ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ وَاحْتَاجُوا إِلَى الطَّعَامِ فَاسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْإِبِلِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِبِلُهُمْ تَحْمِلُهُمْ وَتُبَلِّغُهُمْ عَدُوَّهُمْ يَنْحَرُونَهَا بَلْ ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ قَالَ أَجَلْ قَالَ فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا بَقِيَ مَعَهُمْ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ وَدَعَا بِأَوْعِيَتِهِمْ فَمَلَأَهَا وَفَضَلَ فَضْلٌ كَثِيرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا غَيْرَ شَاكٍّ دَخَلَ الْجَنَّةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تشریف لے گئے وہاں مسلمانوں کو بھوک نے ستایا اور انہیں کھانے کی شدید حاجت نے آ گھیرا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس اونٹ پر یہ سواری کرتے ہیں اور دشمن کے قریب پہنچتے ہیں کیا یہ اسی کو ذبح کردیں گے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان سے ان کے پاس متفرق طور پر جو چیزیں موجود ہیں وہ منگوا لیجئے اور اللہ سے اس میں برکت کی دعاء فرما لیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا اور متفرق چیزیں جوت وشہ میں موجود تھیں، منگوا لیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے پاس بچا کھچا کھانے کا سامان لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکٹھا کیا اور اللہ سے اس میں برکت کی دعاء کی اور فرمایا کہ اپنے اپنے برتن لے کر آؤ سب کے برتن بھر گئے اور بہت سی مقدار بچ بھی گئی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اور جو شخص ان دونوں گواہیوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اسے ان میں کوئی شک نہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← فُلَيْحٌ، ← فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9447

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9597

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَافَرَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر پر جاتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی مشکلات واپسی کی پریشانیوں اور اپنے اہل خانہ اور مال میں برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ آپ سفر میں میرے ساتھی اور اہل خانہ میں میرے جانشین ہیں، اے اللہ ہمارے لئے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر کو آسان فرما۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَافَرَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9597

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9604

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَالْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعا مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعا۔

ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَالْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9604

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9630

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ دِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطٌ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُعَطِّلُ الْمِلَلَ حَتَّى يُهْلِكَ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا غَيْرَ الْإِسْلَامِ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْإِبِلُ مَعَ الْأُسْدِ جَمِيعًا وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ وَيَدْفِنُونَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء کرام علیہم السلام علاتی بھائیوں (جن کا باپ ایک ہو مائیں مختلف ہوں ) کی طرح ہیں ان سب کی مائیں مختلف اور دین ایک ہے اور میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں' اور عنقریب وہ زمین پر نزول بھی فرمائیں گے اس لئے تم جب انہیں دیکھنا تو مندرجہ ذیل علامات سے انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے آدمی ہوں گے سرخ و سفید رنگ ہوگا گیروے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے گوکہ انہیں پانی کی تری بھی نہ پہنچی ہو پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کر دیں گے جزیہ موقوف کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے ان کے زمانے میں اللہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان کو مٹا دے گا اور ان ہی کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کروائے گا اور روئے زمین پر امن و امان قائم ہو جائے گا حتی کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ ایک گھاٹ سے سیراب ہوں گے اور بچے سانپوں سے کھیلتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین پر رہ کر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے

الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ دِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، ← قَتَادَةَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9630

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9678

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمْ بَعْدُ نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ عَلَى رُءُوسِهِنَّ أَمْثَالُ أَسْنِمَةِ الْإِبِلِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَرِجَالٌ مَعَهُمْ أَسْيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے اب تک نہیں دیکھا ایک تو وہ عورتیں جو کپڑے پہنیں گی لیکن پھر بھی برہنہ ہوں گی خود بھی مردوں کی طرف مائل ہوں گی اور انہیں اپنی طرف مائل کریں گی ان کے سروں پر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح چیزیں ہوں گی یہ عورتیں جنت میں دیکھ سکیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکیں گی اور دوسرے وہ آدمی جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح لمبے ڈنڈے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو مارتے ہوں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← شَرِيکٍ ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9678

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9722

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فَلَمَّا مَضَى قَالَ اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9722

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9738

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مالک بن أنس ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9738

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9765

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُحْمَلُ عَلَى نَجِيبِهَا وَتُعِيرُ أَدَاتَهَا وَتُمْنَحُ غَزِيرَتُهَا وَيُجْبِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فِي أَعْطَانِهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین اونٹ (تعداد کے اعتبار سے) تیس ہوتے ہیں جن میں سے عمدہ اونٹ پر آدمی سامان لادتا ہے کم درجے والے کو عاریت پر دے دیتا ہے دودھ سے لبریز کو ہدیہ کردیتا ہے اور جب وہ باڑے میں آتے ہیں تو انہیں دوہ لیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9765

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9796

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مُحَمَّدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9796

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9824

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ وَمَعَاطِنَ الْإِبِلِ فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں نماز پڑھنے کے لئے بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملے تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لینا اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھنا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9824

chevron_left Previous
1…394041…954
Next chevron_right