Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15244

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالرُّطَبِ وَالْبُسْرِ يَعْنِي أَنَّ يُنْبَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالرُّطَبِ وَالْبُسْرِ يَعْنِي أَنَّ يُنْبَذَا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15244

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21014

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَوَجَدَ قُتَارًا فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ هَذَا يَوْمٌ الطَّعَامُ فِيهِ كَرِيهٌ فَذَبَحْتُ لِآكُلَ وَأُطْعِمَ جِيرَانِي قَالَ فَأَعِدْ قَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ مِنْ الضَّأْنِ أَوْ حَمَلٌ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَاذْبَحْهَا وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ

حضرت ابوزید انصاری سے مروی ہے کہ عیدالاضحی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں کے درمیان سے گذر رہے تھے کہ آپ کو گوشت بھونے جانے کی خوشبو محسوس ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس نے جانور ذبح کیا ہے ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور عرض کیا یا رسول اللہ اس دن کھانا ایک مجبوری ہوتا ہے سو میں نے بھی اپنا جانور ذبح کرلیا تاکہ خود بھی کھاؤں اور اپنے ہمسایوں کو بھی کھلاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی دوبارہ کرو اس نے کہا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں میرے پاس تو بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے یا حمل ہے۔ اس نے یہ جملہ تین مرتبہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کو ذبح کرلو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کی طرف سے کفایت نہیں کرسکے گا۔

فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا ← مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ ← مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَوَجَدَ قُتَارًا ← أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21014

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15254

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بَشِيرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ إِدَامٍ فَقَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ فَقَالَ هَلُمُّوا فَجَعَلَ يَصْطَبِغُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کے لئے کہا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس توسرکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے۔

نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ← هَلُمُّوا فَجَعَلَ يَصْطَبِغُ بِهِ ← لا إلا شيء من خل ← هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ إِدَامٍ ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← أَبِي بَشِيرٍ ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15254

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15259

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْإِدَامَ قَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا الْخَلُّ قَالَ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کے لئے کہا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس توسرکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15259

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15268

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونُوا حُمَمًا فِيهَا ثُمَّ تُدْرِكُهُمْ الرَّحْمَةُ فَيَخْرُجُونَ فَيُلْقَوْنَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَاءَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حِمَالَةِ السَّيْلِ ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل توحید میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دیئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے تورحمت الٰہی ان کی دستگیری کرے گی اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت کے دروازے پر ڈال دیا جائے گا اور ان پر اہل جنت پانی چھڑکے گے جس سے وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں جھاڑ جھنکار اگ آتے ہیں پھر وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15268

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8408

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَبِيعُ الْخَمْرَ فِي سَفِينَةٍ وَكَانَ يَشُوبُهُ بِالْمَاءِ وَكَانَ مَعَهُ فِي السَّفِينَةِ قِرْدٌ قَالَ فَأَخَذَ الْكِيسَ وَفِيهِ الدَّنَانِيرُ قَالَ فَصَعِدَ الذَّرْوَ يَعْنِي الدَّقَلَ فَفَتَحَ الْكِيسَ فَجَعَلَ يُلْقِي فِي الْبَحْرِ دِينَارًا وَفِي السَّفِينَةِ دِينَارًا حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِيهِ شَيْءٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا)

فَأَخَذَ الْكِيسَ وَفِيهِ الدَّنَانِيرُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8408

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21056

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ قَالُوا لِقَتَادَةَ مَا يُكْرَهُ مِنْ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ قَالَ يُقَالُ إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے اور جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو کیونکہ بعض اوقات چوہا اس کا دھاگہ پکڑتا ہے تو سارے گھروالوں کو جلا دیتا ہے مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کردیا کرو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21056

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15310

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ الْخَرْصِ وَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ هَلَكَ التَّمْرُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ أَخِيهِ بِالْبَاطِلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواندازے سے کھجوریں بیچنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے آپ فرما رہے تھے یہ بتاؤ اگر کھجوریں ضائع ہو جائیں تو کیا کرو گے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے بھائی کا مال باطل طریقے سے کھاؤ۔

الْخَرْصِ ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15310

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15330

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ لِي جَابِرٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي تَرَكَ دَيْنًا لِيَهُودَ فَقَالَ سَآتِيكَ يَوْمَ السَّبْتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَذَلِكَ فِي زَمَنِ التَّمْرِ مَعَ اسْتِجْدَادِ النَّخْلِ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ يَوْمِ السَّبْتِ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ فِي مَاءٍ لِي دَنَا إِلَى الرَّبِيعِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَنَوْتُ بِهِ إِلَى خَيْمَةٍ لِي فَبَسَطْتُ لَهُ بِجَادًا مِنْ شَعْرٍ وَطَرَحْتُ خُدَيَّةً مِنْ قَتَبٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا مِنْ لِيفٍ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَكَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى مَا عَمِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى صَاحِبَيْهِ فَدَخَلَا فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رَأْسِهِ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ میرے والد صاحب یہودیوں کا کچھ قرض چھوڑ کر گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں انشاء اللہ ہفتہ کے دن تمہارے پاس آؤں گا یہ کھجوریں کٹنے کا زمانہ تھا ہفتہ کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لے آئے باغ میں پانی کھڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے اور نالی کے قریب کھڑے ہو کر وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے خیمے میں آیا اور بالوں کا بنا ہوا بستر بچھایا اور پیچھے بالوں کا بنا ہوا ایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ٹیک لگائی تھوڑی دیر بعد صدیق اکبر بھی تشریف لائے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جب ہی انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعتیں پڑھیں ابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ حضرت عمر بھی آگئے اور انہوں نے بھی وضو کرکے دو رکعتیں پڑھیں گویا انہوں نے اپنے سے پہلے دونوں کو دیکھ لیا تھا پھر وہ دونوں بھی خیمے میں تشریف لائے اور حضرت صدیق اکبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی جانب بیٹھ گئے اور حضرت عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی جانب بیٹھ گئے۔

لِي جَابِرٌ قُلْتُ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15330

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21073

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ وَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأَقُومُ عَلَى مَرْضَاهُمْ وَأُدَاوِي جَرْحَاهُمْ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزاوت میں حصہ لیا ہے اور میں خیموں میں رہ کر مجاہدین کے لئے کھانا تیار کرتی تھی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21073

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15355

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ وَقَالَ لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِتَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ فَرَجَعْنَا بِهِمَا فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا فَبَيْنَمَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عَمَلُ مُعَاوِيَةَ فَبَدَا فَخَرَجَ طَائِفَةٌ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتُهُ لَمْ يَتَغَيَّرْ إِلَّا مَا لَمْ يَدَعْ الْقَتْلُ أَوْ الْقَتِيلُ فَوَارَيْتُهُ قَالَ وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ دَيْنًا مِنْ التَّمْرِ فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَتَرَكَ عَلَيَّ دَيْنًا مِنْ التَّمْرِ وَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ لَعَلَّه أَنْ يُنَظِّرَنِي طَائِفَةً مِنْ تَمْرِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ فَقَالَ نَعَمْ آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ وَدَخَلَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنِي الْيَوْمَ وَسَطَ النَّهَارِ فَلَا أَرَيْتُكِ وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي بِشَيْءٍ وَلَا تُكَلِّمِيهِ فَدَخَلَ فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ قَالَ وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِيَ اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ وَالْوَحَا وَالْعَجَلَ افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَكَ فَلَمْ نَزَلْ فِيهَا حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهَا وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ حَتَّى تَضَعَ الْعَنَاقَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ يَا جَابِرُ ائْتِنِي بِطَهُورٍ فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طُهُورِهِ حَتَّى وَضَعْتُ الْعَنَاقَ عِنْدَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا لِلَّحْمِ ادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ قَالَ ثُمَّ دَعَا حَوَارِيَّيْهِ اللَّذَيْنِ مَعَهُ فَدَخَلُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ لَحْمٌ مِنْهَا كَثِيرٌ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلِمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرُبُهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ وَكَانَ يَقُولُ خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ وَأَخْرَجَتْ امْرَأَتِي صَدْرَهَا وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَقِيفٍ فِي الْبَيْتِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي فُلَانًا لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ قَالَ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ وَاعْتَلَّ وَقَالَ إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى فَقَالَ أَيْنَ جَابِرٌ فَقَالَ أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ كِلْ لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ قَالَ الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ فَكِلْتُ لَهُ مِنْ الْعَجْوَةِ فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ كَأَنِّي شَرَارَةٌ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ فَوَفَّاهُ اللَّهُ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجَاءَ يُهَرْوِلُ فَقَالَ سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَنَا بِسَائِلِهِ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ إِذْ أَخْبَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ فَكَرَّرَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ مَا أَنَا بِسَائِلِهِ وَكَانَ لَا يُرَاجِعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ فَقَالَ يَا جَابِرُ مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ قَالَ قُلْتُ وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَكُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ثُمَّ يَخْرُجُ وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے قتال کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے مجھ سے میرے والد صاحب عبداللہ نے کہہ دیا تھا کہ جابر رضی اللہ عنہ تم اس وقت تک نہ نکلنا جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا واللہ اگر میں نے اپنے پیچھے بیٹیاں نہ چھوڑی ہوتیں تو میری خواہش ہوتی کہ تمہیں میرے سامنے شہادت نصیب ہو چنانچہ میں اپنے باغ میں ہی رہا کہ اچانک میری پھوپھی میرے والد اور میرے ماموں کو اونٹ پر لاد کرلے آئیں وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کردیں اچانک ایک آدمی منادی کرتا ہوا آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے مقتولین کو واپس لے جا کر اس جگہ دفن کرو جہاں وہ شہید ہوئے تھے چنانچہ ہم ان دونوں کو لے کر واپس لوٹے اور مقام شہادت میں انہیں دفن کر دیا۔ حضرت امیر معاویہ کے دور خلافت میں ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے جابر رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ کے گورنروں نے آپ کے والد کی قبر کھودی ہے اور وہ اپنی قبر میں نظر آرہے ہیں میں وہاں پہنچا تو اسی حال میں پایا جس حال میں میں نے انہیں دفن کیا تھا ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی سوائے اس معمولی چیز کے جو قتل کی وجہ سے ہو ہی جاتی ہے پھر میں نے ان کی مکمل تدفین کی۔ میرے والد صاحب نے اپنے اوپر کھجوروں کا کچھ قرض بھی چھوڑا تھا قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی سے کرنا شروع کردیا مجبو رہو کر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد صاحب فلاں موقع پر شہید ہو گئے اور مجھ پر کھجور کا قرض چھوڑ گئے قرض خواہوں نے اس کاتقاضا مجھ سے سختی کے ساتھ کرنا شروع کردیا میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کچھ تعاون کریں کہ وہ مجھے ایک سال کی مہلت دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میں تمہارے پاس نصف النہار کے وقت ان شاء اللہ آؤں گا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ آگئے اور اجازت لے کر گھر میں داخل ہوئے میں نے اپنی بیوی سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نصف النہار کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے لیکن تم مجھے نظر نہ آنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچانا اور نہ ہی ان سے کوئی فرمائش کرنا بہرحال اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بستر بچھا دیا اور تکیہ رکھا جس پر سر رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ میں نے اپنے ایک غلام سے کہا کہ جلدی سے یہ بکری ذبح کرو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے اس سے فارغ ہو جاؤ میں بھی تمہارا ساتھ دیتا ہوں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے ہی ہم اس سے فارغ ہوگئے میں نے اس سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوں تو وضو کے لئے پانی منگوائیں گے جب وہ وضو سے فارغ ہوں توفورا ہی ان کے سامنے کھانا پیش کردیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نیند سے بیدار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور ابھی وضو فرما کر فارغ بھی نہ ہونے پائے تھے کہ کھانا سامنے رکھ دیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا شاید تمہیں بھی گوشت کی طرف ہماری رغبت کا اندازہ ہوگیا ہے ابوبکر کو بلاؤ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والے دیگر صحابہ کو بھی بلا لیا وہ آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیا اور فرمایا بسم اللہ کھاؤ ان سب نے خوب سیراب ہو کر کھایا پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا واللہ بنوسلمہ کے لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے یہ منظر ان کے لئے بڑا محبوب تھا لیکن وہ صرف اس بناء پر قریب نہ آتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کھڑے ہوگئے صحابہ آگے آگے چل رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری پشت کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو میری بیوی نے ایک ستون کی آڑ سے کہا یا رسول اللہ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعا کردیجیے اللہ آپ پر درود بھیجے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم اور تمہارے شوہر پر اپنی رحمتیں نازل کرے پھر میرے قرض خواہ کا نام لے کر فرمایا اسے بلا کر لاؤ یہ وہی شخص تھا جو بڑی سختی سے قرض کا مطالبہ کر رہا تھا وہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ پر اگلے سال تک کے لئے تھوڑی دیر آسانی کردو اس نے کہا میں تو ایسا نہیں کروں گا وہ مزید بدک گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو یتمیوں کا مال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کہاں ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں یہاں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناپ کر دینا شروع کردو اللہ پورا کردے گا میں نے آسمان کی طرف نگاہ ڈالی توسورج ڈھل چکا تھا میں نے عرض کیا اے ابوبکر نماز کا وقت ہو گیا ہے چنانچہ وہ لوگ مسجد میں چلے گئے اور میں نے قرض خواہ سے کہا کہ اپنا برتن لاؤ اور میں نے اس کو ناپ کر عجوہ کھجور دیدی اللہ نے اسے پورا کر دیا اور اتنی مقدار بچ گئی میں ڈورتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دیکھیے تو سہی کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجور ناپ کردی تو اللہ نے اسے پورا کردیا اور اتنی مقدار بچ بھی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر بن خطاب کہاں ہیں وہ دوڑتے ہوئے آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے قرض خواہ اور کھجوروں کے متعلق پوچھو انہوں نے عرض کیا میں نہیں پوچھوں گا اس لئے کہ جب آپ نے یہ فرما دیا کہ اللہ پورا کر دے گا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اللہ پورا کر دے گا تین مرتبہ اسی طرح تکرار ہوا تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرنامناسب نہیں سمجھا اور پوچھ لیا کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے قرض خواہ اور کھجور کا کیا معاملہ بنا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اللہ نے پورا کر دیا بلکہ اتنی کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں نے گھر آکر اپنی بیوی سے کہا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہ کرنا اس نے کہا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے گھر لے کر آئے اور وہ جانے لگیں تو میں ان سے اپنے لئے اور اپنے شوہر کے لئے دعاکی درخواست بھی نہ کروں گی؟۔

لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ ← خرج رسول الله من المدينة إلى المشركين ليقاتلهم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15355

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15358

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ قَالَ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُمَرَاءٌ سَيَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِحَدِيثِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَمْ يَرِدُوا عَلَيَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِحَدِيثِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَأُولَئِكَ يَرِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَغَادٍ بَائِعٌ نَفْسَهُ وَمُوبِقٌ رَقَبَتَهُ وَغَادٍ مُبْتَاعٌ نَفْسَهُ وَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت کعب بن عجرہ سے فرمایا کہ اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے انہوں نے پوچھا کہ بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو میرے بعد آئے گے جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں گے ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آسکیں گے لیکن جو لوگ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق نہ کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں نہ کریں تو وہی لوگ مجھ سے ہوں گے اور میں ان سے ہوں گا اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔ اے کعب بن عجرہ۔ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو مٹادیتا ہے نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اے کعب بن عجرہ جنت میں کوئی ایساوجود داخل نہیں ہوسکے گا جس کی پرورش حرام سے ہوئی اور جہنم اس کی زیادہ حقدار ہو گی اے کعب بن عجرہ لوگ دوحصوں میں تقسیم ہوں گے کچھ تو اپنے نفس کو خرید کر اسے آزاد کردیں گے اور کچھ اسے خرید کرہلاک کردیں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15358

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15367

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى قَالَ مَا مِنْ غَدَاءٍ أَوْ عَشَاءٍ شَكَّ طَلْحَةُ قَالَ فَأَخْرَجُوا فَلْقًا مِنْ خُبْزٍ قَالَ مَا مِنْ أُدْمٍ قَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ أَدْنِيهِ فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدْمُ هُوَ قَالَ جَابِرٌ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ طَلْحَةُ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں چلتے چلتے کسی حجرے پر پہنچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کچھ روٹیاں لا کر دسترخوان پر رکھ دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی سالن ہے انہوں نے عرض کیا البتہ تھوڑا ساسرکہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی لے آؤ سرکہ تو بہترین سالن ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت سے سرکہ کو پسند کرتا ہوں جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ← مُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15367

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15374

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ فَدَعَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ أَوْ أَشْهَى وَأَمْرَأُ قَالَ سُفْيَانُ الشَّكُّ مِنِّي أَوْ مِنْهُ

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی کے دور خلافت میں میرے والد صاحب نے میری شادی کی اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کو بھی دعوت دی ان میں حضرت صفوان بن امیہ بھی تھے جو انتہائی بوڑھے ہوچکے تھے وہ آئے توکہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گوشت کو اونٹوں سے نوچ کر کھایا کرو یہ زیادہ خوشگوار اور زود ہضم ہوتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15374

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15383

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آخُذُ اللَّحْمَ عَنْ الْعَظْمِ بِيَدِي فَقَالَ يَا صَفْوَانُ قُلْتُ لَبَّيْكَ قَالَ قَرِّبْ اللَّحْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے ہاتھ سے ہڈی سے گوشت اتار کر کھارہا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوان میں نے عرض کیا لبیک فرمایا گوشت کو اپنے منہ کے قریب لے کر جاؤ ( اور منہ سے نوچ کر کھاؤ) کیونکہ یہ زیادہ خوشگوار اور زود ہضم ہے۔

قَرِّبْ اللَّحْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ ← الْعَظْمِ بِيَدِي فَقَالَ يَا صَفْوَانُ قُلْتُ لَبَّيْكَ ← صفوان بن أمية رآني رسول الله وأنا آخذ اللحم ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عبد الرحمن بن معاوية ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15383

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8539

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8539

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15403

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ مَوْهَبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يَأْتِنِي أَوَلَمْ يَبْلُغْنِي أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّكَ تَبِيعُ الطَّعَامَ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَبِعْ طَعَامًا حَتَّى تَشْتَرِيَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا ایسا نہیں ہے کہ جیسے مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم غلے کی خرید و فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب غلہ خریدا کرو تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کرو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلو۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15403

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8573

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ بِمَكَّةَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا فَقَالَ مَرْوَانُ مَا فَعَلْتُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصُّكُوكِ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ قَالَ فَخَطَبَ النَّاسَ مَرْوَانُ فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا قَالَ سُلَيْمَانُ فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسِ مَرْوَانَ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ

سلیمان بن یسار رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تجار کے درمیان چیک کا رواج پڑگیا تاجروں نے مروان سے ان کے ذریعے خرید و فروخت کی اجازت مانگی اس نے انہیں اجازت دے دی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ تم نے سودی تجارت کی اجازت دے دی جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ سے قبل غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا ہے؟چنانچہ مروان نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس سے منع کردیا۔ سلیمان کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ مروان نے محافظوں کا ایک دستہ بھیجا جو غیرمزاحم لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننے لگے۔

بيعها ← فَخَطَبَ النَّاسَ مَرْوَانُ فَنَهَى ← بيع الطعام حتى يستوفى ← أَبُو هُرَيْرَةَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصُّكُوكِ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← مَرْوَانُ مَا فَعَلْتُ ← لِمَرْوَانَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ بِمَكَّةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8573

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21180

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُهْدِيَ لَهُ طَعَامٌ أَصَابَ مِنْهُ ثُمَّ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأُهْدِيَ لَهُ طَعَامٌ فِيهِ ثُومٌ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَنَلْ مِنْهُ شَيْئًا فَلَمْ يَرَ أَبُو أَيُّوبَ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّعَامِ فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنِّي إِنَّمَا تَرَكْتُهُ مِنْ أَجَلِ رِيحِهِ قَالَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اسی طرح حضرت ابوایوب کو بھجوادیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیاجب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ اچھا نہیں سمجھتے میں بھی اچھا نہیں سمجھتا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21180

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8611

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّا نَكُونُ بِهَذَا الرَّمْلِ فَلَا نَجِدُ الْمَاءَ وَيَكُونُ فِينَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَاءُ فَيَأْتِي عَلَيْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لَا تَجِدُ الْمَاءَ قَالَ عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ يَعْنِي التَّيَمُّمَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں چار پانچ مہینے تک مسلسل صحرائی علاقوں میں رہتا ہوں ہم میں حیض و نفاس والی عورتیں اور جنبی مرد بھی ہوتے ہیں (پانی نہیں ملتا) تو آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا مٹی کو اپنے اوپر لازم کرلو (یعنی تیمم کرلیا کرو )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8611

chevron_left Previous
1…666768…2,030
Next chevron_right