Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11345

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثٌ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11345

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11379

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ فَيْحِ الْمِسْكِ قَالَ صَامَ هَذَا مِنْ أَجْلِي وَتَرَكَ شَهْوَتَهُ عَنْ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِنْ أَجْلِي فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے میری خاطر روزہ رکھا ، میری خاطر اپنے کھانے پینے کی خواہش کو ترک کیا ، گویا روزہ میری خاطر ہوا اس لئے اس کا بدلہ میں خود ہی دونگا۔

الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِنْ أَجْلِي فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ← صَامَ هَذَا مِنْ أَجْلِي وَتَرَكَ شَهْوَتَهُ ← لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ فَيْحِ الْمِسْكِ ← نَبِيِّ اللَّهِ أَنَّهُ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← فِرَاسٍ، ← شَيْبَانَ ← مُعَاوِيَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11379

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11432

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا بَعْلًا فِيهِ يَبْسٌ فَقَالَ أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ فَقَالُوا هَذَا تَمْرٌ ابْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ ذَلِكَ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَكَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11432

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11438

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَمَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالُوا إِنَّهُ نَشْوَانُ فَقَالَ إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ قَالَ فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا

ابن دواک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا ہے کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے اور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا ہے۔

الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا ← فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَنَهَى ← إِنَّهُ نَشْوَانُ فَقَالَ إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ ← جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَمَا ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11438

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11454

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَمَرَرْنَا فِي بَنِي سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ ابْنِ عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَةً وَلَمْ يُمْنِ عَلَيْهَا مَاذَا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ پیر کے دن قباء کی طرف گئے، ہمارا گذر بنو سالم پر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن عتان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے اور ان کا نام لے کر انہیں آواز دی، اس وقت ابن عتان اپنی بیوی سے اپنی خواہش کی تکمیل کر رہے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں دیکھ کر فرمایا شاید ہم نے انہیں جلدی فراغت پر مجبور کر دیا، ابن عتان رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوبِ غسل منی کے خروج پر ہوتا ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← زُهَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11454

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11458

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَمَا قَضَى اللَّهُ فَهُوَ كَائِنٌ فَلَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کر لو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔

الْعَزْل ← أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← يُونُسَ بْنِ عَمْرِو ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11458

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11482

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَجَعَلْنَا نَعْزِلُ عَنْهُمْ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْفِدَاءَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔

بَعْضُنَا لِبَعْضٍ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَجَعَلْنَا نَعْزِلُ عَنْهُمْ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْفِدَاءَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11482

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11484

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

خليط البسر والتمر والزبيب والتمر ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11484

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11486

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔

لَا وَاللَّهِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ ← لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ النَّبِيِّ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ ← النَّبِيِّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ ← سليمان بن علي ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11486

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11529

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَفَّانُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالُوا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

الشُّرْبِ قَائِمًا. ← زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← وَكِيعٌ وَعَفَّانُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11529

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11562

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى يَقُولُ سَمِعْتُ مَرْوَانَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ إِنِّي أَرَى الْقَذَى فِيهِ قَالَ فَأَهْرِقْهُ

ابوالمثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو۔ اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔

فَقَالَ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى ← النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ ← مَرْوَانَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ يَنْهَى ← أَبَا الْمُثَنَّى ← أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11562

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11576

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ فَأَنْكَرَهَا فَقَالَ أَنَّى لَكَ هَذَا قَالَ اشْتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔

رَسُولُ اللَّهِ أَرْبَيْتُمْ ← اشْتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا ← أَنَّى لَكَ هَذَا ← أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللهِ بِتَمْرَةٍ فَأَنْكَرَهَا، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11576

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11580

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي أَرْطَاةَ ← حَبِيبٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11580

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11587

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا، اور اللہ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کر لے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔

الْعَزْل ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11587

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11598

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرَةِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَالْمُحَاقَلَةُ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11598

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11601

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَكَانَ صَدِيقًا لِي فَقُلْتُ اخْرُجْ بِنَا إِلَى النَّخْلِ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ فَقُلْتُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَالَ نَعَمْ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ فَقَالَ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوَتْرِ فَإِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا: ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا ، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑ گئے ہیں۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11601

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11620

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَمُعَاوِيَةُ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَعَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور ، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔

نَعَمْ ← التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَعَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ وَمُعَاوِيَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11620

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11638

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11638

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14289

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرٌ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُنْبَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کی کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُنْبَذَا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14289

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14295

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي قَالَ فَقَالَ آتِيكُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ قَالَ فَأَتَانَا فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا فَقَالَ يَا جَابِرُ كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا اللَّحْمَ قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ قَالَتْ تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلَا يَدْعُو لَنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے والد صاحب کے قرض کے سلسلے میں تعاون کی درخواست لے کر گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے پاس آؤں گا میں نے واپس جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوالے سے کوئی بات کرنا اور نہ ہی سوال کرنا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے اپنی ایک بکری ذبح کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت کے ساتھ ہمارے تعلق خاطر کا پتہ لگ گیا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس جانے لگے تو میری بیوی نے کہا یا رسول اللہ میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے دعا فرما دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کیا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا اس نے کہا کہ دیکھو تو سہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہمارے لئے دعا بھی نہ فرمائیں۔

فَقُلْتُ لَهَا أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ ← «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ» ← لَهُ الْمَرْأَةُ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا ← فَلَمَّا خَرَجَ ← يَا جَابِرُ كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا اللَّحْمَ ← فَأَتَانَا فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا ← فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ وَلَا تَسْأَلِيهِ ← آتِيكُمْ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي ← جَابِرٍ ← نُبَيْحٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14295

chevron_left Previous
1…616263…2,030
Next chevron_right