Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16652

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى فَزَارَةَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ الْمَاءِ عَرَّسَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَوَرَدْنَا الْمَاءَ فَقَتَلَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ قَتَلَ وَنَحْنُ مَعَهُ قَالَ سَلَمَةُ فَرَأَيْتُ عُنُقًا مِنْ النَّاسِ فِيهِمْ الذَّرَارِيُّ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَأَدْرَكْتُهُمْ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا رَأَوْا السَّهْمَ قَامُوا فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ مَعَهَا ابْنَةٌ مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَجِئْتُ أَسُوقُهُنَّ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بَاتَتْ عِنْدِي فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا أُسَرَاءَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر کے ساتھ نکلے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو حضرت صدیق اکبر نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے اور اس ندی کے قریب بے شمار لوگوں کو قتل کردیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہوگیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا۔ پھر میں انہیں ہانکتا ہوا حضرت صدیق اکبر کے پہاس لے آیا، اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین وجمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی حضرت صدیق اکبر نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا ہے، لیکن یا رسول اللہ! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان سے قیدیوں کو چھڑا لیا۔

بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ أَبَا بَكْرٍ إِلَى فَزَارَةَ ← أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةَ، ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16652

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16654

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا أَنَا وَرَبَاحٌ غُلَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْتُ بِفَرَسٍ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أُبْدِيَهُ مَعَ الْإِبِلِ فَلَمَّا كَانَ بِغَلَسٍ غَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتَلَ رَاعِيَهَا وَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ اقْعُدْ عَلَى هَذَا الْفَرَسِ فَأَلْحِقْهُ بِطَلْحَةَ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ أُغِيرَ عَلَى سَرْحِهِ قَالَ وَقُمْتُ عَلَى تَلٍّ فَجَعَلْتُ وَجْهِي مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ مَعِي سَيْفِي وَنَبْلِي فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ وَذَلِكَ حِينَ يَكْثُرُ الشَّجَرُ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَهُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَمَيْتُ فَلَا يُقْبِلُ عَلَيَّ فَارِسٌ إِلَّا عَقَرْتُ بِهِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَنَا أَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ فَأَرْمِيهِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَيَقَعُ سَهْمِي فِي الرَّحْلِ حَتَّى انْتَظَمْتُ كَتِفَهُ فَقُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَإِذَا كُنْتُ فِي الشَّجَرِ أَحْرَقْتُهُمْ بِالنَّبْلِ فَإِذَا تَضَايَقَتْ الثَّنَايَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَرَدَيْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ فَمَا زَالَ ذَاكَ شَأْنِي وَشَأْنَهُمْ أَتْبَعُهُمْ فَأَرْتَجِزُ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي فَاسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا وَلَا يُلْقُونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ حِجَارَةً وَجَمَعْتُ عَلَى طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا امْتَدَّ الضُّحَى أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ مَدَدًا لَهُمْ وَهُمْ فِي ثَنِيَّةٍ ضَيِّقَةٍ ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَأَنَا فَوْقَهُمْ فَقَالَ عُيَيْنَةُ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ مَا فَارَقَنَا بِسَحَرٍ حَتَّى الْآنَ وَأَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ فِي أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ قَالَ عُيَيْنَةُ لَوْلَا أَنَّ هَذَا يَرَى أَنَّ وَرَاءَهُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَكَكُمْ لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ فَقَامَ إِلَيْهِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ الصَّوْتَ قُلْتُ أَتَعْرِفُونِي قَالُوا وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْلُبُنِي مِنْكُمْ رَجُلٌ فَيُدْرِكُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِنْ أَظُنُّ قَالَ فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِي ذَلِكَ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ وَإِذَا أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ وَعَلَى أَثَرِهِ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَثَرِ أَبِي قَتَادَةَ الْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ فَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ مُدْبِرِينَ وَأَنْزِلُ مِنْ الْجَبَلِ فَأَعْرِضُ لِلْأَخْرَمِ فَآخُذُ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فَقُلْتُ يَا أَخْرَمُ ائْذَنْ الْقَوْمَ يَعْنِي احْذَرْهُمْ فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَقْطَعُوكَ فَاتَّئِدْ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ قَالَ فَخَلَّيْتُ عِنَانَ فَرَسِهِ فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ فَرَسِ الْأَخْرَمِ فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ ثُمَّ إِنِّي خَرَجْتُ أَعْدُو فِي أَثَرِ الْقَوْمِ حَتَّى مَا أَرَى مِنْ غُبَارِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُعْرِضُونَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ ذُو قَرَدٍ فَأَرَادُوا أَنْ يَشْرَبُوا مِنْهُ فَأَبْصَرُونِي أَعْدُو وَرَاءَهُمْ فَعَطَفُوا عَنْهُ وَاشْتَدُّوا فِي الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ ذِي بِئْرٍ وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَأَلْحَقُ رَجُلًا فَأَرْمِيهِ فَقُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَقَالَ يَا ثُكْلَ أُمِّ أَكْوَعَ بَكْرَةً قُلْتُ نَعَمْ أَيْ عَدُوَّ نَفْسِهِ وَكَانَ الَّذِي رَمَيْتُهُ بَكْرَةً فَأَتْبَعْتُهُ سَهْمًا آخَرَ فَعَلِقَ بِهِ سَهْمَانِ وَيَخْلُفُونَ فَرَسَيْنِ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُوْ قَرَدٍ فَإِذَا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسِ مِائَةٍ وَإِذَا بِلَالٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ فَهُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِي فَأَنْتَخِبَ مِنْ أَصْحَابِكَ مِائَةً فَآخُذَ عَلَى الْكُفَّارِ عَشْوَةً فَلَا يَبْقَى مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ أَكُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ يَا سَلَمَةُ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ فِي ضُوءِ النَّارِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمْ يُقْرَوْنَ الْآنَ بِأَرْضِ غَطَفَانَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ مَرُّوا عَلَى فُلَانٍ الْغَطَفَانِيِّ فَنَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا قَالَ فَلَمَّا أَخَذُوا يَكْشِطُونَ جِلْدَهَا رَأَوْا غَبَرَةً فَتَرَكُوهَا وَخَرَجُوا هَرَبًا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا قَرِيبًا مِنْ ضَحْوَةٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ لَا يُسْبَقُ جَعَلَ يُنَادِي هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ أَلَا رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَعَادَ ذَلِكَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْدِفِي قُلْتُ لَهُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي خَلِّنِي فَلَأُسَابِقُ الرَّجُلَ قَالَ إِنْ شِئْتَ قُلْتُ أَذْهَبُ إِلَيْكَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ عَنْ النَّاقَةِ ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ يَعْنِي اسْتَبْقَيْتُ نَفْسِي ثُمَّ إِنِّي عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ فَأَصُكَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدَيَّ قُلْتُ سَبَقْتُكَ وَاللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَضَحِكَ وَقَالَ إِنْ أَظُنُّ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے، میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہوئے، میں حضرت طلحۃ بن عبیداللہ کا گھوڑا لے کر نکلا، ارادہ یہ تھا کہ اسے اونٹ کے ساتھ شامل کر دوں گا، لیکن منہ اندھیرے عبدالرحمن بن عیینہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کیا اور چرواہے کو قتل کردیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو کر ان اونٹوں کو بھگا کر لے گیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں میں نے کہا اے رباح! یہ گھوڑا پکڑ اور اسے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو پہنچا دے اور رسول اللہ کو خبر دے کہ مشرکوں نے آپ کے اونٹوں کو لوٹ لیا ہے، پھر میں ایک ٹیلے پر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا، 'یا صباحاہ' پھر (اس کے بعد) میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا : میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آکر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کردیئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ کوئی اونٹ جو اللہ نے پیدا کیا اور وہ رسول اللہ کی سواری کا ہو ایسا نہیں ہوا کہ جسے میں نے اپنی پشت کے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر ان کے پیچھے تیر پھینکے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہلکا ہونے کی خاطر تیس چادریں اور تیس نیزوں سے زیادہ پھینک دیئے، سوائے اس کے کہ وہ لوگ جو چیز بھی پھینکتے میں پتھروں سے میل کی طرح اس پر نشان ڈال دیتا کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ پہچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی پر آگئے اور عیینہ بن بدر فزاری بھی ان کے پاس آگیا، سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ گیا، فزاری کہنے لگا کہ یہ کون آدمی ہمیں دیکھ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا : اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے، اللہ کی قسم! اندھیری رات سے ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے۔ فزاری کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف کھڑے ہوں اور اسے ماردیں ، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ (یہ سنتے ہیں ) ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں ، تو میں نے ان سے کہا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے کہا تم کون ہو؟ میں نے جواب میں کہا : میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں تم میں سے جسے چاہوں ماردو اور تم میں سے کوئی مجھے مار نہیں سکتا، ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے، (پھر وہ سب وہاں سے لوٹ پڑے اور) میں ابھی تک اپنی جگہ سے چلا نہیں تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھ لیا جو کہ درختوں میں گھس گئے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتاد تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسود کندی تھے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جا کر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی (یہ دیکھتے ہی) وہ لٹیرے بھاگ پڑے، میں نے کہا اے اخرم ان سے ذرا بچ کے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں مار ڈالیں جب تک کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ نہ آجائیں ، اخرم کہنے لگے اے ابوسلمہ! اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالو، میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فزاری سے ہوا، اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ اسی دوران رسول اللہ کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آگئے (جب انہوں نے یہ منظر دیکھا) تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فزاری کو بھی برچھی مار کر قتل کردیا میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گردو غبار، یہاں تک کہ وہ لٹیرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی کی طرف آئے جس میں پانی تھا، اس گھاٹی کو ذی قرد کہا جاتا تھا تاکہ وہ لوگ اس گھاٹی سے پانی پئیں کیوکہ وہ پیاسے تھے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا ہو اچلا آرہا تھا، بالآخر میں نے ان کو پانی سے ہٹایا، وہ اس سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے، پر وہ کسی اور گھاٹی کی طرف نکلے، میں بھی ان کے پیچھے بھاگا اور ان میں سے ایک آدمی کو پا کر میں نے اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر مارا، میں نے کہا پکڑ اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے، وہ کہنے لگا اس کی ماں اس پر روئے کیا یہ وہی اکوع تو نہیں جو صبح کو میرے ساتھ تھا، میں نے کہا : ہاں ! اے اپنی جان کے دشمن جو صبح کے وقت تیرے ساتھ تھا، اور اسے ایک تیرے دے مارا ، پھر انہوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دیئے تو میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکا کر رسول اللہ کی طرف لے آیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی، ان کے پاس ایک چھاگل (چمڑے کا توشہ دان) تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشکیزے میں پان تھا، پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور آپ اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگادیا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ نے وہ اونٹ اور وہ تمام چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ کے لئے بھونا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نےعرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں لشکر میں سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لٹیروں کا مقابلہ کروں اور جب تک میں ان کو قتل نہ کر ڈالوں اس وقت تک نہ چھوڑوں کہ وہ جا کر اپنی قوم کو خبر دیں ، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ ہنس پڑے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں ، آپ نے فرمایا : اے سلمہ! کیا تو یہ کر سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بزرگی عطا فرمائی، آپ نے فرمایا: اب تو وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آگئے وہ لوگ وہاں (غطفان) سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا کہ آج کے دن ہمارے بہترین سواروں میں سے بہتر سوار حضرت قتادہ ہیں پیادوں میں سے بہتر حضرت سلمہ ہیں ۔ پھر رسول اللہ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے عطا فرمائے پھر رسول اللہ نے عضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے۔ دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا، وہ کہنے لگا، کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے؟ وہ بار بار یہی کہتا رہا، جب میں نے اس کا چیلنج سنا تو میں نے کہا، کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں ؟ اس انصاری شخص نے کہا، نہیں سوائے رسول اللہ کے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، مجھے اجازت عطا فرمائی تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں ، آپ نے فرمایا : (اچھا) اگر تو چاہتا ہے، تو حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا اور پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو میں نے سانس لیا پھر میں اس کے پیچھے دوڑا پھر جب ایک یا دو چڑھا باقی رہ گئی تو پھر میں نے سانس لیا پھر میں دوڑا یہاں تک کہ اس انصاری سے جا کر مل گیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک گھونسا مارا اور میں نے کہا، اللہ کی قسم! میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا، اس پر وہ ہنس پڑا کہنے لگا کہ میں بھی یہی سمجھتا ہوں ، حتی کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16654

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16693

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَخَدَمْتُهُ مَا خَدَمْتُهُ ثُمَّ قَالَ لِي الثَّانِيَةَ يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ فَقُلْتُ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ فَأَعْرَضَ عَنِّي ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُصْلِحُنِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ أَعْلَمُ مِنِّي وَاللَّهِ لَئِنْ قَالَ تَزَوَّجْ لَأَقُولَنَّ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ فَقُلْتُ بَلَى مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى آلِ فُلَانٍ حَيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكَانَ فِيهِمْ تَرَاخٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةَ لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ فَذَهَبْتُ فَقُلْتُ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةَ فَقَالُوا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا يَرْجِعُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِحَاجَتِهِ فَزَوَّجُونِي وَأَلْطَفُونِي وَمَا سَأَلُونِي الْبَيِّنَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِينًا فَقَالَ لِي مَا لَكَ يَا رَبِيعَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْتُ قَوْمًا كِرَامًا فَزَوَّجُونِي وَأَكْرَمُونِي وَأَلْطَفُونِي وَمَا سَأَلُونِي بَيِّنَةً وَلَيْسَ عِنْدِي صَدَاقٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَجَمَعُوا لِي وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوا لِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ هَذَا صَدَاقُهَا فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ هَذَا صَدَاقُهَا فَرَضُوهُ وَقَبِلُوهُ وَقَالُوا كَثِيرٌ طَيِّبٌ قَالَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِينًا فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ حَزِينٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ قَوْمًا أَكْرَمَ مِنْهُمْ رَضُوا بِمَا آتَيْتُهُمْ وَأَحْسَنُوا وَقَالُوا كَثِيرًا طَيِّبًا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُولِمُ قَالَ يَا بُرَيْدَةُ اجْمَعُوا لَهُ شَاةً قَالَ فَجَمَعُوا لِي كَبْشًا عَظِيمًا سَمِينًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْ لَهَا فَلْتَبْعَثْ بِالْمِكْتَلِ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَقُلْتُ لَهَا مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَذَا الْمِكْتَلُ فِيهِ تِسْعُ آصُعِ شَعِيرٍ لَا وَاللَّهِ إِنْ أَصْبَحَ لَنَا طَعَامٌ غَيْرُهُ خُذْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمْ وَذَهَبْتُ بِالْكَبْشِ وَمَعِي أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالَ لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا وَهَذَا طَبِيخًا فَقَالُوا أَمَّا الْخُبْزُ فَسَنَكْفِيكُمُوهُ وَأَمَّا الْكَبْشُ فَاكْفُونَا أَنْتُمْ فَأَخَذْنَا الْكَبْشَ أَنَا وَأُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَذَبَحْنَاهُ وَسَلَخْنَاهُ وَطَبَخْنَاهُ فَأَصْبَحَ عِنْدَنَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَوْلَمْتُ وَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَانِي أَبُو بَكْرٍ أَرْضًا وَجَاءَتْ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ فَقُلْتُ أَنَا هِيَ فِي حَدِّي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هِيَ فِي حَدِّي فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهَهَا وَنَدِمَ فَقَالَ لِي يَا رَبِيعَةُ رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا قَالَ قُلْتُ لَا أَفْعَلُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ قَالَ وَرَفَضَ الْأَرْضَ وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا لِي رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَالَ لَكَ مَا قَالَ فَقُلْتُ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذَا ثَانِيَ اثْنَيْنِ وَهَذَا ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ إِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ فَيَغْضَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِغَضَبِهِمَا فَيُهْلِكَ رَبِيعَةَ قَالُوا مَا تَأْمُرُنَا قَالَ ارْجِعُوا قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبِعْتُهُ وَحْدِي حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهَهَا فَقَالَ لِي قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا فَأَبَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ وَلَكِنْ قُلْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ قَالَ الْحَسَنُ فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَبْكِي

حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کرلیتے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! واللہ میں تو شادی نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایک تو میرے پاس اتنا نہیں ہے کہ عورت کی ضروریات پوری ہوسکیں اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی چیز مجھے آپ سے دور کردے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھ سے اعراض فرما لیا اور میں آپ کی خدمت کرتا رہا۔ کچھ عرصہ بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ مجھ سے یہی فرمایا کہ ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ میں نے حسب سابق وہی جواب دے دیا لیکن پھر میں اپنے دل میں سوچنے لگا کہ مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں میرے لئے کیا چیز بہتر ہے، اس لئے اب اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا تو میں کہہ دوں گا ٹھیک ہے یا رسول اللہ! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں۔ چنانچہ جب تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ربیعہ تم شادی کیوں نہیں کرلیتے؟ تو میں نے عرض کیا کیوں نہیں ! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک قبیلے کا نام لے کر جن کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق تھا، فرمایا ان کے پاس چلے جاؤ اور جا کر کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آپ لوگوں کے پاس بھیجا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ آپ لوگ فلاں عورت کے ساتھ میرا نکاح کردیں ۔ چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنا دیا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد اپنا کام مکمل کئے بغیر نہیں جائے گا، چنانچہ انہوں نے اس عورت کے ساتھ میرا نکاح کردیا اور میرے ساتھ خوب مہربانی کے ساتھ پیش آئے اور مجھ سے گواہوں کا بھی مطالبہ نہ کیا، وہاں سے لوٹ کر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غمگین ہو کر حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ربیعہ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں ایک شریف قوم کے پاس پہنچا، انہوں نے میرا نکاح کرادیا میرا اکرام کیا اور مہربانی سے پیش آئے اور مجھ سے گواہوں کا بھی مطالبہ نہیں کیا (ایسے شریف لوگوں کی عورت کو دینے کے لئے) میرے پاس مہر بھی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریدہ سے فرمایا اے بریدہ اسلمی! اس کے لئے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا جمع کرو، انہوں نے اسے جمع کیا اور میں وہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سونا ان لوگوں کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ یہ اس لڑکی کا مہر ہے، چنانچہ میں نے ان کے پاس پہنچ کر یہی کہہ دیا کہ یہ اس کا مہر ہے ، انہوں نے رضامندی سے اسے قبول کر لیا اور کہنے لگے کہ بہت ہے، اور پاکیزہ (حلال) ہے۔ تھوڑی دیر بعد میں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غمگین ہو کر واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ربیعہ! اب کیوں غمگین ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے ان لوگوں سے زیادہ شریف لوگ کہیں نہیں دیکھے، میں نے انہیں جو دے دیا، وہ اسی پر راضی ہوگئے اور تحسین کرتے ہوئے کہنے لگے کہ بہت ہے اور پاکیزہ (حلال) ہے، ایسے لوگوں کو دعوت ولیمہ کھلانے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت بریدہ سے فرمایا کہ اس کے لئے ایک بکری لاؤ، چنانچہ وہ ایک نہایت صحت مند اور بہت بڑا مینڈھا لے کر آئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ عائشہ کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ وہ تھیلی دے دیں جس میں غلہ رکھا ہوا ہے، چنانچہ میں نے ان کے پاس جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا دیا، انہوں نے فرمایا کہ یہ تھیلی ہے، اس میں نو صاع جَو ہے، اور بخدا! اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، یہی لے جاؤ، چنانچہ میں وہ تھیلی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حضرت عائشہ کا پیغام پہنچا دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں چیزیں ان لوگوں کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ اس کی روٹیاں بنا لیں ، چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا اور وہ مینڈھا بھی ساتھ لے گیا، میرے ساتھ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ تھے وہاں پہنچ کر ان لوگوں سے کہا کہ اس آٹے کی روٹیاں پکالیں اور اس مینڈھے کا گوشت پکا لیں ، وہ کہنے لگے کہ روٹیوں کےمعاملے میں ہم آپ کی کفایت کریں گے اور مینڈھے کے معاملے میں آپ ہماری کفایت کرو، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے مل کر مینڈھے کو پکڑا، اسے ذبح کیا، اس کی کھال اتاری اور اسے پکانے لگے، اس طرح روٹی اور گوشت تیار ہوگیا، اور میں نے اپنا ولیمہ کر دیا اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دی۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زمین کا ایک ٹکڑا مرحمت فرمادیا، اور اس کے ساتھ ہی حضرت صدیق اکبر کو بھی ایک ٹکڑا دے دیا، جب دنیا آئی تو ایک مرتبہ ہم دونوں کے درمیان کھجور کے ایک درخت کے متعلق اختلاف رائے ہو گیا میں کہتا تھا کہ یہ درخت میری حدود میں ہے اور حضرت صدیق اکبر کا کہنا تھا کہ یہ میری حدود میں ہے میرے اور ان کے درمیان اس بات پر تکرار ہونے لگی تو حضرت ابوبکر نے مجھے ایک ایسا لفظ کہہ دیا جس پر بعد میں وہ خود پشیمان ہونے لگے اور فرمانے لگے ربیعہ! تم بھی مجھے اسی طرح کا لفظ کہہ دو تاکہ معاملہ برابر ہوجائے، میں نے کہا کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا، حضرت صدیق اکبر نے فرمایا یا تم یہ لفظ کہہ دو، ورنہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارے خلاف استغاثہ کروں گا، میں نے پھر کہا کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا۔ اس پر حضرت صدیق اکبر زمین چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہو گئے، میں بھی ان کے پیچھے روانہ ہونے لگا تو قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے، وہ کس بناء پر تمہارے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے استغاثہ کر رہے ہیں جبکہ خود ہی انہوں نے ایسی بات کہی ہے؟ میں نے انہیں جواب دیا کہ تم جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ یہ ابوبکر صدیق ہیں ، یہ ثانی اثنین ہیں ، یہ ذو شیبۃ المسلمین ہیں ، تم لوگ واپس چلے جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں دیکھ لیں کہ تم میری مدد کے لئے آئے ہو اور وہ غضب ناک ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں ، انہیں غصے میں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آجائے گا اور ان کے غصے کی وجہ سے اللہ کو غصہ آجائے گا اور ربیعہ ہلاک ہوجائے گا، انہوں نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ، پھر میں اکیلا ہی حضرت صدیق اکبر کے پیچھے روانہ ہوگیا، حضرت صدیق اکبر نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بعینہ بتا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا ربیعہ! صدیق کے ساتھ تمہارا کیا جھگڑا ہے؟ میں عرض کیا یا رسول اللہ! ایسی ایسی بات ہوئی تھی اور انہوں نے ایک ایسا لفظ کہہ دیا تھا جس پر بعد میں خود انہیں ناپسندیدگی ہوئی، اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم بھی میری طرح یہ جملہ مجھے کہہ دو تاکہ معاملہ برابر ہوجائے، لیکن میں نے انکار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، تم وہی جملہ نہ دہراؤ، یہ کہہ دو کہ اے ابوبکر! اللہ آپ کو معاف فرمائے، چنانچہ میں نے یہی الفاظ کہہ دیئے اور حضرت صدیق اکبر روتے ہوئے واپس چلے گئے۔

قُلْتُ وَاللَّهِ ← كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ ← رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16693

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16702

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي فَنَّجُ قَالَ كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَبَاذِ وَأُعَالِجُ فِيهِ فَقَدِمَ يَعْلَي بْنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنْ الْمَاءِ وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ وَيَأْكُلُ ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ هَلُمَّ قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ أَتَضْمَنُ لِي غَرْسَ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ فَقَالَ الرَّجُلُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ مَنْ نَصَبَ شَجَرَةً فَصَبَرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَابُ مِنْ ثَمَرَتِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ فَنَّجُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَّجُ فَأَنَا أَضْمَنُهَا قَالَ فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَبَاذِ

فنج کہتے ہیں کہ میں 'دینباذ' (علاقے کا نام) میں کام کاج کرتا تھا اس دوران یعلی بن امیہ یمن کے گورنر بن کر آگئے، ان کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی آئے تھے، ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا، میں اس وقت اپنے کھیت میں پانی لگا رہا تھا، اس آدمی کی جیب میں اخروٹ تھے، وہ پانی کی نالی پر بیٹھ گیا، اور اخروٹ توڑ توڑ کر کھانے لگا، پھر اس شخص نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا کہ اے فارسی! ادھر آؤ میں قریب چلا گیا تو وہ کہنے لگا کہ کیا تم مجھے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہو کہ اس پانی کے قریب اخروٹ کے درخت لگائے جاسکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اس ضمانت سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے اور اس کی نگہداشت اور ضروریات کا خیال رکھتا رہے تا آنکہ اس پر پھل آجائے تو جس چیز کو بھی اس کا پھل ملے گا، وہ اللہ کے نزدیک اس کے لئے صدقہ بن جائے گا۔ فنج نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا جی ہاں ! اس پر فنج نے انہیں ضمانت دے دی اور اب تک وہاں کے اخروٹ مشہور ہیں۔

فَنَّجُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← داود بن قيس الصنعاني ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16702

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16708

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ صُهَيْبًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ قَالَ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا آكُلُ مِنْ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى قَالَ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبدالحمید بن صیفی کے دادا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت صہیب رومی حاضر ہوئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب سے فرمایا کہ قریب آجاؤ اور کھاؤ، چنانچہ وہ کھجوریں کھانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تو آشوب چشم ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔

فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ ← إِنَّ صُهَيْبًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيِّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16708

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16718

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزہ رکھتے رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید میں پہنچ کر پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَبُو نُوحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16718

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16719

قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ وَقَالَ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوًّا لَكُمْ فَتَقَوَّوْا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو، لیکن خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا، اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر روزہ افطار کر لیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ← سُمَيٍّ ← مالک بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16719

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16720

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا قَالَ وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ وَتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى قَالَ وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْهِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ

بنومالک بن کنانہ کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز نامی بازار میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے لوگو! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلو تم کامیاب ہوجاؤ گے، اور ابوجہل مٹی اچھالتے ہوئے کہتا جاتا تھا لوگو! یہ تمہیں تمہارے دین سے بہکا نہ دے، یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو اور لات وعزی کو چھوڑ دو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے، ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سرخ چادریں زیب تن فرما رکھی تھیں ، درمیانہ قد تھا، جسم گوشت سے بھرپور تھا، چہرہ نہایت حسین وجمیل تھا، بال انتہائی کالے سیاہ تھے، انتہائی اجلی سفید رنگت تھی، اور گھنے بال تھے۔

قلنا انعت لنا رسول الله ← وما يلتفت إليه رسول الله ← دينكم فإنما يريد لتتركوا آلهتكم وتتركوا اللات والعزى ← يا أيها الناس لا يغرنكم هذا ← وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا ← شيخ من بني مالك بن كنانة ← أَشْعَثَ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16720

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16738

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدَاةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُسْفِرُ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقُ الْوَجْهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنْ الْمُوقِنِينَ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ قَالَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَمِنْ الدَّرَجَاتِ طِيبُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي النَّاسِ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے تو بڑا خوشگوار موڈ تھا اور چہرے پر بشاشت کھیل رہی تھی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کیفیت کا تذکرہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہو؟ جبکہ آج رات میرے پاس میرا رب انتہائی حسین صورت میں آیا، اور فرمایا اے محمد، میں نے عرض کیا لبیک ربی وسعدیک ، فرمایا ملا اعلی کے فرشتے کس وجہ سے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا پروردگار! میں نہیں جانتا (دو تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوا) پھر پروردگار نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں کے درمیان رکھ دیں جن کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے اور چھاتی میں محسوس کی، حتی کہ میرے سامنے آسمان و زمین کی ساری چیزیں نمایاں ہوگئیں ، پھر آپ نے وکذلک نری ابراہیم والی آیت تلاوت فرمائی، اس کے بعد اللہ نے پھر پوچھا کہ اے محمد، ملا اعلی کے فرشتے کس چیز کے بارے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کفارات کے بارے میں ، فرمایا کفارات سے کیا مراد ہے، میں نے عرض کیا جمعہ کے لئے اپنے پاؤں سے چل کر جانا، نماز کے بعد بھی مسجد میں بیٹھے رہنا، مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، ارشاد ہوا کہ جو شخص یہ کام کر لے وہ خیر کی زندگی گزارے گا اور خیر کی موت مرے گا اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجائے گا جیسے اپنی پیدائش کے دن تھا، اور جو چیزیں بلند درجات کا سبب بنتی ہیں ، وہ بہترین کلام، سلام کی اشاعت، کھانا کھلانا، اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھنا ہے، پھر فرمایا اے محمد! جب نماز پڑھا کرو تو یہ دعاء کر لیا کرو، کہ اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کا سوال کرتا ہوں ، منکرات سے بچنے کا، مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ تو میری طرف خصوصی توجہ فرما اور جب لوگوں میں کسی آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت عطا فرما دے۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16738

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16811

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ فَائِدٍ مَوْلَى عَبَادِلَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ فَأَرْسَلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى ابْنِ سَعْدٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ أَتَى ابْنُ سَعْدٍ وَسَعْدٌ هُوَ الَّذِي دَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرِيقِ رَكُوبِهِ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ أَخْبِرْنِي مَا حَدَّثَكَ أَبُوكَ قَالَ ابْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ عِنْدَنَا بِنْتٌ مُسْتَرْضَعَةٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ الِاخْتِصَارَ فِي الطَّرِيقِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ هَذَا الْغَائِرُ مِنْ رَكُوبَةٍ وَبِهِ لِصَّانِ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُمَا الْمُهَانَانِ فَإِنْ شِئْتَ أَخَذْنَا عَلَيْهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ بِنَا عَلَيْهِمَا قَالَ سَعْدٌ فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا إِذَا أَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ هَذَا الْيَمَانِي فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَ عَلَيْهِمَا الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمَا ثُمَّ سَأَلَهُمَا عَنْ أَسْمَائِهِمَا فَقَالَا نَحْنُ الْمُهَانَانِ فَقَالَ بَلْ أَنْتُمَا الْمُكْرَمَانِ وَأَمَرَهُمَا أَنْ يَقْدَمَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا ظَاهِرَ قُبَاءَ فَتَلَقَّى بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَبُو أُمَامَةَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ إِنَّهُ أَصَابَ قَبْلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُهُ لَكَ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا طَلَعَ عَلَى النَّخْلِ فَإِذَا الشَّرْبُ مَمْلُوءٌ فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ هَذَا الْمَنْزِلُ رَأَيْتُنِي أَنْزِلُ عَلَى حِيَاضٍ كَحِيَاضِ بَنِي مُدْلِجٍ

فائد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابراہیم بن عبدالرحمن کے ساتھ نکلا، انہوں نے ابن سعد کے پاس پیغام بھیج کر انہیں بلایا، ابھی ہم مقام عرج میں تھے کہ ابن سعد ہمارے پاس آپہنچے، یاد رہے کہ یہ حضرت سعد کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب ہجرت راستہ بتایا تھا، ابراہیم ان سے کہنے لگے کہ مجھے وہ حدیث بتایئے جو آپ کے والد نے آپ سے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، آپ کے ہمراہ حضرت صدیق اکبر بھی تھے، جن کی ایک بیٹی ہمارے یہاں دودھ بھی پیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچنے کے لئے کوئی مختصر راستہ معلوم کرنا چاہتے تھے، سعد نے عرض کیا یہ ایک چلتا ہوا پہاڑی راستہ ہے لیکن قبیلہ اسلم کے دو ڈاکو رہتے ہیں جنہیں ' مہانان' کہا جاتا ہے، اگر آپ چاہیں تو ہم اسی راستے پر چل پڑتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں ان دونوں کے پاس سے ہی لے چلو، چنانچہ ہم روانہ ہوگئے، جب ہم وہاں پہنچے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا یہ یمانی آدمی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، اور اسلام قبول کرنے کی پیشکش کی، انہوں نے اسلام قبول کرلیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم مہانان ہیں ، (جس کا لفظی معنی ذلیل لوگ ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، تم دونوں مکرمان ہو (جس کا معنی معزز لوگ ہے) پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی مدینہ منورہ پہنچنے کا حکم دیا۔ ہم لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ قباء کے قریب پہنچ گئے، وہاں ہمیں بنوعمرو بن عوف مل گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ابوامامہ اسعد بن زرارہ کہاں ہیں ؟ تو سعد بن خیثمہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ! وہ مجھ سے پہلے گئے ہیں ، میں انہیں مطلع نہ کردوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ جب کھجوروں کے درخت نظر آنے لگے تو معلوم ہوا کہ راستہ میں لوگوں کا جم غفیر بھرا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ابوبکر! ہماری منزل یہی ہے، میں نے خواب دیکھا تھا کہ میں بنو مدلج کے حوضوں کی طرح کچھ حوضوں پر اتر رہا ہوں ۔

فَائِدٌ مَوْلَى عَبَادِلَ ← أَبِي ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الزُّبَيْرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16811

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16814

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ إِمْلَاءً عَلَىَّ قَالَ أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ قَيْصَرَ جَارًا لِي زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَيْصَرَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ وَكَتَبَ مَعَهُ إِلَيْهِ كِتَابًا فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ وَأَحْسَنُ اقْتِصَاصًا لِلْحَدِيثِ وَزَادَ قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ رَسُولُ قَوْمٍ وَإِنَّ لَكَ حَقًّا وَلَكِنْ جِئْتَنَا وَنَحْنُ مُرْمِلُونَ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَنَا أَكْسُوهُ حُلَّةً صَفُورِيَّةً وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَيَّ ضِيَافَتُه

سعید بن ابوراشد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہرقل کے ایلچی بن کر آئے تھے، وہ میرے پڑوسی تھے، انتہائی بوڑھے ہوچکے تھے اور سٹھیا جانے کی عمر تک پہنچ چکے تھے، میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہرقل کے خط اور ہرقل کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے بارے کچھ بتاتے کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تشریف لائے ہوئے تھے، آپ نے حضرت دحیہ کلبی کو ہرقل کے پاس بھیجا، جب ہرقل کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط پہنچا تو اس نے رومی پادریوں اور سرداروں کو جمع کیا اور کمرے کا دروازہ بند کرلیا، اور ان سے کہنے لگا کہ یہ آدمی میرے پاس آیا ہے جیسا کہ تم نے دیکھ ہی لیا ہے، مجھے جو خط بھیجا گیا ہے، اس میں مجھے تین میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے، یا تو میں ان کے دین کی پیروی کر لوں یا انہیں زمین پر مال کی صورت میں ٹیکس دوں اور زمین ہمارے پاس ہی رہے، یا پھر ان سے جنگ کروں ، اللہ کی قسم! آپ لوگ جو کتابیں پڑھتے ہو، ان کی روشنی میں آپ جانتے ہو کہ وہ میرے ان قدموں کے نیچے کی جگہ بھی حاصل کر لیں گے، تو کیوں نہ ہم ان کے دین کی پیروی کرلیں یا اپنی زمین کا مال کی صورت میں ٹیکس دے دیا کریں ۔ یہ سن کر ان سب کے نرخروں سے ایک جیسی آواز نکلنے لگی، حتی کہ انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتاردیں اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں عیسائیت چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہیں یا یہ کہ ہم کسی دیہاتی کے جو حجاز سے آیا ہے، غلام بن جائیں ، جب ہرقل نے دیکھا کہ اگر یہ لوگ اس کے پاس سے اسی حال میں چلے گئے تو وہ پورے روم میں اس کے خلاف فساد برپا کردیں گے تو اس نے فورا پینترا بدل کر کہا کہ میں نے تو یہ بات محض اس لئے کہی تھی کہ اپنے دین پر تمہارا جماؤ اور مضبوطی دیکھ سکوں ۔ پھر اس نے عرب تجیب کے ایک آدمی کو جو نصار عرب پر امیر مقرر تھا، بلایا اور کہا کہ میرے پاس ایسے آدمی کو بلا کر لاؤ جو حافظہ کا قوی ہو اور عربی زبان جانتاہو، تاکہ میں اسے اس شخص کی طرف اس کے خط کا جواب دے کر بھیجوں ، وہ مجھے بلا لایا، ہرقل نے اپنا خط میرے حوالے کردیا اور کہنے لگا کہ میرا یہ خط اس شخص کے پاس لے جاؤ، اگر اس کی ساری باتیں تم یاد نہ رکھ سکو تو کم از کم تین چیزیں ضرور یاد رکھ لینا، یہ دیکھنا کہ وہ میری طرف بھیجے ہوئے اپنے خط کا کوئی ذکر کرتے ہیں یا نہیں ؟ یہ دیکھنا کہ جب وہ میرا خط پڑھتے ہیں تورات کا ذکر کرتے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کی پشت پر دیکھنا، تمہیں کوئی عجیب چیز دکھائی دیتی ہے یا نہیں؟ میں ہرقل کا خط لے کر روانہ ہو اور تبوک پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان پانی کے قریبی علاقے میں اپنی ٹانگوں کے گرد ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں ؟ انہوں نے مجھے اشارہ سے بتادیا، میں چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، انہیں خط پکڑایا جسے انہوں نے اپنی گود میں رکھ لیاور اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے کہا کہ میں ایک تنوخی آدمی ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں ملت حنیفیہ اسلام جو تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے میں کوئی رغبت محسوس ہوتی ہے؟ میں نے کہا میں ایک قوم کا قاصد ہوں اور ایک قوم کے دین پر ہوں ، میں جب تک ان کے پاس لوٹ نہ جاؤں اس دین سے برگشتہ نہیں ہوسکتا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر یہ آیت پڑھنے لگے کہ ، جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ اللہ جسے چاہتا ہے، ہدایت دے دیتا ہے، اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو زیادہ جانتا ہے۔ اے تنوخی بھائی! میں نے ایک خط کسری کی طرف لکھا تھا، اس نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کردے گا، میں نے نجاشی کی طرف بھی خط لکھا تھا، اس نے اسے پھاڑ دیا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو توڑ پھوڑ دے گا، میں نے تمہارے بادشاہ کو بھی خط لکھا لیکن اس نے اسے محفوظ کرلیا، لہذا جب تک زندگی میں کوئی خیر رہے گی، لوگوں پر اس کا رعب ودبدبہ باقی رہے گا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ تین میں سے پہلی بات ہے جس کی مجھے بادشاہ نے وصیت کی تھی، چنانچہ میں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات لکھ لی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خط اپنی بائیں جانب بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو دے دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خط پڑھنے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں ، بہرحال! ہمارے بادشاہ کے خط میں لکھا ہوا تھا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دیتے ہیں جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے جو متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے، تو جہنم کہاں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! جب دن آتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے؟ میں نے اپنے ترکش سے تیر نکال کر اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات بھی لکھ لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خط پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا ہم پر حق بنتا ہے کیونکہ تم قاصد ہو، اگر ہمارے پاس کوئی انعام ہوتا تو تمہیں ضرور دیتے لیکن ابھی ہم سفر میں پراگندہ ہیں ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک آدمی نے پکار کر کہا کہ میں اسے انعام دوں گا، چنانچہ اس نے اپنا خیمہ کھولا اور ایک صفوری حلہ لے آیا اور لا کر میری گود میں ڈال دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ انعام دینے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اسے اپنا مہمان بنائے گا؟ اس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا کہ میں بناؤں گا، پھر وہ انصاری کھڑا ہوا اور میں بھی کھڑا ہوگیا، جب میں مجلس سے نکل گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اے تنوخی بھائی! ادھر آؤ میں دوڑتا ہوا گیا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں میں پہلے بیٹھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا یہاں دیکھو، اور تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو، چنانچہ میں گھوم کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کی طرف آیا، میں نے کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی جو پھولے ہوئے غدود کی مانند تھی۔

كتاب رسول الله إلى قيصر فقال ← كان رسول قيصر جارا لي زمن يزيد بن معاوية فقلت له ← سعيد بن أبي راشد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو عَامِرٍ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ إِمْلَاءً عَلَىَّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16814

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16918

قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنِ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ فَتَذَاكَرْنَا الشَّرَابَ فَقَالَ الْخَمْرُ حَرَامٌ قُلْتُ لَهُ الْخَمْرُ حَرَامٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِيشْ تُرِيدُ تُرِيدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ قُلْتُ مَا الْحَنْتَمُ قَالَ كُلُّ خَضْرَاءَ وَبَيْضَاءَ قَالَ قُلْتُ مَا الْمُزَفَّتُ قَالَ كُلُّ مُقَيَّرٍ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ

فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکرہ شروع ہوگیا، اور حضرت عبداللہ بن مغفل کہنے لگے کہ شراب حرام ہے، میں نے پوچھا کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے؟ انہوں فرمایا تمہارا مقصد کیا ہے؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں؟ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے حنتم کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا، میں مزفت کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا برتن۔

كُلُّ مُقَيَّرٍ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ ← قُلْتُ مَا الْمُزَفَّتُ ← كُلُّ خَضْرَاءَ وَبَيْضَاءَ ← قُلْتُ مَا الْحَنْتَمُ ← الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← إِيشْ تُرِيدُ تُرِيدُ مَا ← الْخَمْرُ حَرَامٌ قُلْتُ لَهُ الْخَمْرُ حَرَامٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← فَتَذَاكَرْنَا الشَّرَابَ ← كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16918

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16930

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ وَقَدْ غَزَا سَبْعَ غَزَوَاتٍ فِي إِمْرَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ هَذَا الشَّرَابِ فَقَالَ الْخَمْرَ قَالَ هَذَا فِي الْقُرْآنِ أَفَلَا أُحَدِّثُكَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالِاسْمِ أَوْ بِالرِّسَالَةِ قَالَ شَرْعِي أَنِّي اكْتَفَيْتُ قَالَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ قَالَ مَا الْحَنْتَمُ قَالَ الْأَخْضَرُ وَالْأَبْيَضُ قَالَ مَا الْمُقَيَّرُ قَالَ مَا لُطِخَ بِالْقَارِ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ فَاشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً فَمَا زَالَتْ مُعَلَّقَةً فِي بَيْتِي

فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکرہ شروع ہوگیا، اور حضرت عبداللہ بن مغفل کہنے لگے کہ شراب حرام ہے، میں نے پوچھا کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا تمہارا مقصد کیا ہے؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے حنتم کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا، میں نے مزفت کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا ہر برتن چنانچہ میں بازار گیا اور چمڑے کا بڑا ڈول خرید لیا اور وہی میرے گھر میں لٹکا رہا۔

عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16930

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16940

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ يَعْنِي الْأَبْرَشَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَقَرِمَ أَصْحَابُنَا إِلَى اللَّحْمِ فَسَأَلُونِي فَقَالُوا أَتَأْذَنُ لَنَا أَنْ نَذْبَحَ رَمْكَةً لَهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمْ فَحَبَلُوهَا ثُمَّ قُلْتُ مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَ خَالِدًا فَأَسْأَلَهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُنَادِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُسْلِمٌ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَسْرَعْتُمْ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ لُحُومُ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَخَيْلِهَا وَبِغَالِهَا وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ گرمی کے موسم میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے، راستے میں ہمارے ساتھیوں کو گوشت کھانے کا تقاضا ہوا تو انہوں نے مجھ سے میری گھوڑی (ذبح کرنے کے لئے) مانگی، میں نے انہیں وہ گھوڑی دے دی، انہوں نے اسے رسیوں سے باندھ دیا، پھر میں نے ان سے کہا کہ ذرا رکو، میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھ آؤں ، چنانچہ میں نے جا کر ان سے یہ مسئلہ پوچھا توا انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں حصہ لیا، لوگ جلدی سے یہودیوں کے ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ الصلاۃ جامعہ کی منادی کر دوں نیز یہ کہ جنت میں صرف مسلمان آدمی ہی داخل ہوگا، لوگو! تم بہت جلدی یہودیوں کے ممنوعات میں داخل ہوگئے ہو، یاد رکھو! ذمیوں کا مال ناحق لینا جائز نہیں ہے، اور تم پر پالتو گدھوں ، گھوڑوں اور خچروں کا گوشت حرام ہے اسی طرح کچلی سے شکار کرنے والا ہر درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ بھی تم پر حرام ہے۔

أَتَأْذَنُ لَنَا ← غَزَوْنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَقَرِمَ أَصْحَابُنَا إِلَى اللَّحْمِ فَسَأَلُونِي ← جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ ← صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمِ أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ يَعْنِي الْأَبْرَشَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16940

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16942

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ عَنِ ابْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَقَرِمَ أَصْحَابِي إِلَى اللَّحْمِ فَقَالُوا أَتَأْذَنُ لَنَا أَنْ نَذْبَحَ رَمْكَةً لَهُ قَالَ فَحَبَلُوهَا فَقُلْتُ مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَأَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَ أَصْحَابِي فَقَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ فَقَالَ يَا خَالِدُ نَادِ فِي النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُسْلِمٌ فَفَعَلْتُ فَقَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا بَالُكُمْ أَسْرَعْتُمْ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَهْلِيَّةِ وَالْإِنْسِيَّةِ وَخَيْلُهَا وَبِغَالُهَا وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ گرمی کے موسم میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے، راستے میں ہمارے ساتھیوں کو گوشت کھانے کا تقاضا ہوا تو انہوں نے مجھ سے میری گھوڑی (ذبح کرنے کے لئے) مانگی، میں نے انہیں وہ گھوڑی دے دی، انہوں نے اسے رسیوں سے باندھ دیا، پھر میں نے ان سے کہا کہ ذرا رکو، میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھ آؤں ، چنانچہ میں نے جا کر ان سے یہ مسئلہ پوچھا توا انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں حصہ لیا، لوگ جلدی سے یہودیوں کے ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ الصلاۃ جامعہ کی منادی کردوں نیز یہ کہ جنت میں صرف مسلمان آدمی ہی داخل ہوگا، لوگو! تم بہت جلدی یہودیوں کے ممنوعات میں داخل ہوگئے ہو، یاد رکھو! ذمیوں کا مال ناحق لینا جائز نہیں ہے، اور تم پر پالتو گدھوں ، گھوڑوں اور خچروں کا گوشت حرام ہے اسی طرح کچلی سے شکار کرنے والا ہر درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ بھی تم پر حرام ہے۔

فحبلوها فقلت مكانكم حتى آتى خالد بن الوليد فأسأله ← أتأذن لنا أن نذبح رمكة له ← غزوت مع خالد بن الوليد الصائفة فقرم أصحابي إلى اللحم ← جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ ← ابن المقدام ← صَالِحِ بْنِ يَحْيَی بْنِ الْمِقْدَامِ ← أبو سلمة الحمصي، ← مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16942

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16958

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ قَالُوا أَمَّا هَذَا فَلَا قَالَ أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ

ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتاہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ معمولی سا ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات بھی ثابت شدہ ہے اور پہلی باتوں کے ساتھ ہے۔

مُعَاوِيَةُ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ ← كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ← أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16958

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16979

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِغَرْفَةٍ مِنْ مَاءٍ حَتَّى يَقْطُرَ الْمَاءُ مِنْ رَأْسِهِ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ وَأَنَّهُ أَرَاهُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْمَكَانَ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے دکھایا، سر کا مسح کرتے ہوئے انہوں نے پانی کا ایک چلو لے کر مسح کیا یہاں تک کہ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے، انہوں نے اپنی ہتھیلیاں سر کے اگلے حصے میں رکھیں اور مسح کرتے ہوئے ان کو گدی تک کھینچ لائے، پھر واپس اسی جگہ پر لے گئے جہاں سے مسح کا آغاز کیا تھا۔

مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ ← أَبِي الأَزْهَرِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلاَءِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16979

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16989

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جُلُودِ النُّمُورِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ لِبَاسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْمُتْعَةِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ قَالُوا اللَّهُمَّ لَا

ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی کھال پر سواری سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! پھر پوچھا کیا آپ لوگ جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ معمولی سا ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! پھر پوچھا کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! پھر پوچھا کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے۔

لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَتَعْلَمُونَ ← أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16989

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17035

وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَهُوَ أَنْ يُبَارَكَ لِأَحَدِكُمْ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ شَرَهٍ وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ فَهُوَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کثرت کے ساتھ احادیث بیان کرنے سے بچو سوائے ان احادیث کے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں زبان زدعام تھیں ، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو اللہ کے معاملات میں ڈراتے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے ۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تو صرف خزانچی ہوں ، اصل دینے والا اللہ ہے اس لئے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ کوئی بخشش دوں تو اسے اس کے لئے مبارک کر دیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لئے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں ، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔

شَرَهٍ وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ فَهُوَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ ← طِيبِ نَفْسٍ فَهُوَ أَنْ يُبَارَكَ لِأَحَدِكُمْ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً ← خَازِنٌ وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً ← "إِنَّمَا ← وسمعته

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17035

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17134

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ جَمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ رَجُلٌ فَحَدَّثَنِي عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ سَرِيَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَشُوا أَهْلَ مَاءٍ صُبْحًا فَبَرَزَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَحَمَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَتَلَهُ فَلَمَّا قَدِمُوا أَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْمُسْلِمِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّمَا قَالَهَا مُتَعَوِّذًا فَصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ وَمَدَّ يَدَهُ الْيُمْنَى فَقَالَ أَبَى اللَّهُ عَلَيَّ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ایک دستے نے صبح کے وقت ایک علاقے کے لوگوں پر حملہ کیا وہ لوگ پانی کے قریب رہتے تھے، ان میں سے ایک آدمی باہر نکلا تو ایک مسلمان نے اس پر حملہ کر دیا، وہ کہنے لگا کہ میں تو مسلمان ہوں، لیکن اس کے باوجود اس نے اسے قتل کر دیا، واپسی پر جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتایا تو نبی صلی اللہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کی اور اما بعد کہہ کر فرمایا یہ کیا بات ہے کہ ایک مسلمان دوسرے آدمی کو اسلام کا اقرار کرنے کے باوجود قتل کر دیتا ہے؟ اس شخص نے کہا یا رسول اللہ! اس نے یہ کلمہ صرف اپنی جان بچانے کے لئے پڑھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور دائیں ہاتھ کو بلند کر کے تین مرتبہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کے حق میں میری بات ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

عقبة بن مالك ← جَمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ رَجُلٌ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17134

chevron_left Previous
1…585960…2,030
Next chevron_right