Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13514

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَخَاهُ أَخْبَرَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْكَوْثَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ فِيهِ طُيُورٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلُوهَا أَنْعَمُ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ ← أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكَوْثَرُ؟ ← ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَخَاهُ أَخْبَرَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ ← أَبُو أُوَيْسٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13514

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13536

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ فَدَعَا رِجَالًا عَلَى الطَّعَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون سے نکاح کیا اور لوگوں کو کھانے کی دعوت پر بلا لیا۔

بَنَى رَسُولُ اللَّهِ بِامْرَأَةٍ فَدَعَا رِجَالًا عَلَى الطَّعَامِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بَيَانٍ ← زُهَيْرٍ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13536

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13610

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتْ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُونِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصْلِحُهَا وَتُهَيِّئُهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ ابْنَةُ حُيَيٍّ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ قَالَ فُحِصَتْ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ قَالَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا ثُمَّ جِيءَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ قَالَ وَقَالَ النَّاسُ مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمْ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ فَقَالُوا إِنْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ دَفَعَ وَدَفَعْنَا قَالَ فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ قَالَ فَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ قَالَ فَقَامَ فَسَتَرَهَا قَالَ وَقَدْ أَشْرَفَتْ النِّسَاءُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ وَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ بِنِسَائِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدْ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ الْحِجَابَ هَذِهِ الْآيَاتِ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا، وہ مزید کہتے ہیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو بہت خوبصورت تھیں ، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات افراد کے عوض انہیں خرید لیا، اور خرید کر انہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے کے لئے کھجوریں ، پنیر اور گھی جمع کیا، اس کا حلوہ تیار کیا گیا اور دستر خوان بچھا کر اسے دستر خوان پر رکھا گیا، لوگوں نے سیراب ہو کر اسے کھایا، اس دوران لوگ یہ سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح فرمائیں گے یا انہیں باندی بنائیں گے؟ لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا تو لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرما لیا ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر گئے، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی گر گئیں ، دیگر ازواج مطہرات دیکھ رہی تھیں ، وہ کہنے لگیں کہ اللہ اس یہودیہ کو دو کرے اور اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا، میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم گر گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اللہ کی قسم! گر گئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ولیمے میں بھی موجود تھا، اور اس نکاح کے ولیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، باقی تو سب کھاپی کر چلے گئے، لیکن دو آدمی کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی گھر سے باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے میں بھی نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وقت گذارنے کے لئے باری باری اپنی ازواج مطہرات کے حجروں میں جاتے اور انہیں سلام کرتے، وہ پوچھتیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بیوی کو کیسا پایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بہت اچھا، پھر جب اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو وہ بیٹھے ہوئے اسی طرح باتیں کر رہے تھے، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور چلے گئے۔ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر دی یا کسی اور نے بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوگئے، میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13610

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13616

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک پیالے کے متعلق مروی ہے کہ میں نے اس پیالے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے، شہد بھی، پانی بھی اور دودھ بھی۔

لَقَدْ سَقَيْتُ النَّبِيَّ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13653

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ فَقُلْتُ فَالْأَكْلُ قَالَ أَشَرُّ وَأَخْبَثُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

أَشَرُّ وَأَخْبَثُ ← فَقُلْتُ فَالْأَكْلُ ← الشُّرْبِ قَائِمًا. ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ زَجَرَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13653

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13662

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13662

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13670

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو عِصَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَقُولُ إِنَّهُ أَرْوَى وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔

أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا ← أَنَسٍ، ← إِنَّهُ أَرْوَى وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو عِصَامٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13670

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13733

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَرُبَّمَا قَالَ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا فَإِذَا رَأَى الرُّؤْيَا الرَّجُلُ الَّذِي لَا يَعْرِفُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ فَجَاءَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا فَقِيلَ اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْدَخِ أَوْ الْبَيْدَحِ فَغُمِسُوا فِيهِ فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ فَقَعَدُوا عَلَيْهَا وَأُتُوا بِصَحْفَةٍ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَمَا يَقْلِبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا فَاكِهَةً مَا أَرَادُوا وَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا الَّذِينَ عَدَّتْ الْمَرْأَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ فَقَصَّتْ فَقَالَ هُوَ كَمَا قَالَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے، اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تعبیر دریافت کر لیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں ، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جارہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں ، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں ، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں ، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا، اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دیئے جو عورت نے بتائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَرُبَّمَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَیْمَانَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13733

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13800

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ حَتَّى يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ فِي الْمَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام جب نہر کے پانی میں غوطہ لگانے کا ارادہ کرتے تو اس وقت تک کپڑے نہ اتارتے تھے جب تک پانی میں اپنا ستر چھپا نہ لیتے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عبد الله بن محمد التيمي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13800

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13808

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتْ الْقَصْعَةُ فَانْفَلَقَتْ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّ الْكَسْرَيْنِ وَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ غَارَتْ أُمُّكُمْ غَارَتْ أُمُّكُمْ وَيَقُولُ لِلْقَوْمِ كُلُوا وَحَبَسَ الرَّسُولَ حَتَّى جَاءَتْ الْأُخْرَى بِقَصْعَتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ قَصْعَتُهَا وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةُ لِلَّتِي كَسَرَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ ( غالباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے پاس تھے، دوسری اہلیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھجوایا جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس خادم کے ہاتھ پر مارا، جس سے اس کے ہاتھ سے پیالہ نیچے گر کر ٹوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ماں نے اسے برباد کر دیا، پھر برتن کے دونوں ٹکڑے لے کر انہیں جوڑا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانا اس میں سمیٹا اور فرمایا اسے کھاؤ، اور فارغ ہونے تک اس خادم کو روکے رکھا، اس کے بعد خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسی گھر میں چھوڑ دیا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13808

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13821

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیگر عورتوں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13821

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13822

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يَبْنِي عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ أَمَرَنَا بِالْأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنْ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین دن قیام فرمایا اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی، میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی، اس میں کوئی روٹی اور گوشت نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دستر خوان بچھانے کا حکم دیا، اور اس پر کھجوریں ، پنیر اور گھی لا کر رکھ دیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، مسلمان آپس میں باتیں کرنے لگے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی امہات المومنین میں سے ہوں گی یا باندیوں میں سے؟ پھر آپس میں خود ہی کہنے لگے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا تو یہ امہات المومنین میں سے ہوں گی، اور اگر پردہ نہ گرایا تو یہ باندیوں میں سے ہوں گی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوچ فرمایا تو پیچھے سے ان کے لئے سواری پر چڑھنے میں مدد کی اور لوگوں اور ان کے درمیان پردہ کھینچ دیا۔

«أَقَامَ النَّبِيُّ بَيْنَ خَيْبَرَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13822

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 970

حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا قَالَ فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ

It was narrated from 'Ali (RA) that he called for a jug of water, then he said: Where are those who say that they dislike drinking whilst standing? He took it and drank whilst standing, then he did a light wudoo' and wiped over his shoes, then he said: This is the wudoo' of the Messenger of Allah (PBUH) for one who is pure and has not broken his wudoo'.

هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ ← فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ثُمَّ ← أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا ← عَلِيٍّ، أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ ← عبد خير ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 970

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13890

حَدَّثَنَا عَفَّانٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أُنَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَهُ بِاللَّيْلِ وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَالْفُقَرَاءِ فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَفَرَّقُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ فَقَالُوا اللَّهُمَّ أَبْلِغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحِهِ حَتَّى أَنْفَذَهُ فَقَالَ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ إِخْوَانَكُمْ الَّذِينَ قُتِلُوا قَالُوا لِرَبِّهِمْ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیجئے جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ کو بھیج دیا جنہیں قراء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے، یہ لوگ رات کو قرآن پڑھتے تھے اور دن کو پانی لا کر مسجد میں رکھتے تھے اور لکڑیاں کاٹ کر بیچتے اور ان سے اہل صفہ اور فقراء کے لئے کھانا خرید کر لاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیج دیا، لے جانے والوں نے انہیں متفرق کر کے اپنے علاقے میں پہنچنے سے پہلے ہی شہید کر دیا، وہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا، اسی اثناء میں ایک آدمی حضرت حرام رضی اللہ عنہ " میرے ماموں " کے پاس پیچھے سے آیا اور ایسا نیزہ مارا کہ آر پار کر دیا، وہ کہنے لگے رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے بھائی جو شہید ہوگئے ہیں ، انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا کہ ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا۔

جاء أناس إلى النبي ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13890

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1011

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي الْحَاجَةَ فَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجِزُهُ أَوْ يَحْجُبُهُ إِلَّا الْجَنَابَةُ

It was narrated that 'Ali (RA) said: The Messenger of Allah (PBUH) would relieve himself, then eat meat with us and recite Qur'an, and nothing stopped him or prevented him (from reciting Qur'an) except janabah.

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1011

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1028

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ فَذَكَرْتُهُ لِسُفْيَانَ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رُكَيْنٍ

It was narrated that 'Ali (RA) said: I was a man who emitted a great deal of madhi, so I asked the Prophet (PBUH) and he said: "If you see madhi then do wudoo' and wash your private part, and if you see water gushing then do ghusl." I [the narrator] mentioned that to Sufyan and he said: I heard that from Rukain.

عَلِيٍّ، ← حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← زَائِدَۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1028

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1029

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيُّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَا فَضْخَ الْمَاءِ وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ وَقَالَ فَضْخَ أَيْضًا

It was narrated that 'Ali (RA) said: I was a man who emitted a great deal of madhi, so I asked the Prophet (PBUH) and he said: "If you see madhi then do wudoo' and wash your private part, and if you see water gushing then do ghusl." I [the narrator] mentioned that to Sufyan and he said: I heard that from Rukain.

فَضْخَ أَيْضًا ← زَائِدَۃَ، ← ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ← فَضْخَ الْمَاءِ ← مِثْلَہُ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1029

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13985

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نُهِيَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ قُلْتُ فَالْأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13985

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1121

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ عِمْرَانَ الْوَاسِطِيُّ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَهَذَا لَفْظُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنْ النَّارِ قَالَ عَلِيٌّ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي كَمَا تَرَوْنَ

It was narrated that 'Ali (RA) said: I heard the Messenger of Allah (PBUH) say: Whoever leaves a space the size of a hair when [doing ghusl for janabah] and does not pour water on it, such and such will be done to him in the Fire. 'Ali said: From that time I hated my hair, as you can see.

عَلِيٍّ، ← زَاذَانَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حماد بن سلمة وهذا لفظ محمد بن أبان ← محمد بن أبان بن عمران الواسطي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1121

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14091

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا آكُلُ اللَّحْمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا وَلَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انفرادی اعمال کے متعلق پوچھا پھر ان میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا، اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں ، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔

سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي". ← كَذَا وَكَذَا وَلَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ ← مَا بَالُ أَقْوَامٍ ← بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← بَعْضُهُمْ لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ ← بَعْضُھُمْ لَا اکُلُ اللَّحْمَ ← بعضهم لا أتزوج النساء ← عَمَلِہٖ فِی السِّرِّ ← أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14091

chevron_left Previous
1…545556…2,030
Next chevron_right