Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزهد والورع

Zuhd & Taqwa

46810 hadiths

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 94

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ مَنْ مَضَى مِنْ عُلَمَائِنَا يَقُولُونَ الِاعْتِصَامُ بِالسُّنَّةِ نَجَاةٌ وَالْعِلْمُ يُقْبَضُ قَبْضًا سَرِيعًا فَنَعْشُ الْعِلْمِ ثَبَاتُ الدِّينِ وَالدُّنْيَا وَفِي ذَهَابِ الْعِلْمِ ذَهَابُ ذَلِكَ كُلِّهِ

حضرت عرباض بن ساریہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اس کے بعد آپ نے ہمیں ایک بلیغ وعظ کہا جس کے نتیجے میں لوگوں کی آنکھوں آنسوں جاری ہو گئے اور ان کے دل تڑپ اٹھے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ یہ الوداعی وعظ محسوس ہو رہا ہے آپ ہمیں کوئی نصیحت کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور (حاکم وقت) کی اطاعت اور فرمانبرداری کی وصیت کرتا ہوں خواہ کوئی حبشی غلام ہو میرے بعد جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا تم پر لازم ہے کہ میری سنت اختیار کرو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت اختیار کرو اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھو اور نت نئے پیدا ہونے والے امور سے اجتناب کرو کیونکہ ہر نئی پیدا ہونے والی چیزبدعت ہے ۔ ابو اصم نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ روایت کئے ہیں اور نئے پیدا ہونے والے امور سے بچتے رہنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 94

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 126

أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ الْكِنْدِيَّ وَسُئِلَ عَنْ امْرَأَةٍ مَاتَتْ مَعَ قَوْمٍ لَيْسَ لَهَا وَلِيٌّ فَقَالَ أَدْرَكْتُ أَقْوَامًا مَا كَانُوا يُشَدِّدُونَ تَشْدِيدَكُمْ وَلَا يَسْأَلُونَ مَسَائِلَكُمْ

عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے اصحاب کو پایا ہے ان کی تعداد اس سے زیادہ ہے جو اصحاب مجھ سے پہلے گزر چکے تھے میں نے کسی بھی قوم کو سیرت کے اعتبار سے ان سے زیادہ نرم نہیں پایا اور شدت پسندی میں کم ہونے کے اعتبار سے ان سے زیادہ بہتر نہیں پایا۔

امْرَأَةٍ مَاتَتْ مَعَ قَوْمٍ لَيْسَ لَهَا وَلِيٌّ ← عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ الْكِنْدِيَّ وَسُئِلَ ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 126

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 147

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ صَبِيغًا الْعِرَاقِيَّ جَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْقُرْآنِ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى قَدِمَ مِصْرَ فَبَعَثَ بِهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا أَتَاهُ الرَّسُولُ بِالْكِتَابِ فَقَرَأَهُ فَقَالَ أَيْنَ الرَّجُلُ قَالَ فِي الرَّحْلِ قَالَ عُمَرُ أَبْصِرْ أَيَكُونُ ذَهَبَ فَتُصِيبَكَ مِنْهُ الْعُقُوبَةُ الْمُوجِعَةُ فَأَتَاهُ بِهِ فَقَالَ عُمَرُ تَسْأَلُ مُحْدَثَةً وَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى رَطَائِبَ مِنْ جَرِيدٍ فَضَرَبَهُ بِهَا حَتَّى تَرَكَ ظَهْرَهُ دَبِرَةً ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى بَرَأَ ثُمَّ عَادَ لَهُ ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى بَرَأَ فَدَعَا بِهِ لِيَعُودَ لَهُ قَالَ فَقَالَ صَبِيغٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ قَتْلِي فَاقْتُلْنِي قَتْلًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُدَاوِيَنِي فَقَدْ وَاللَّهِ بَرَأْتُ فَأَذِنَ لَهُ إِلَى أَرْضِهِ وَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنْ لَا يُجَالِسَهُ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الرَّجُلِ فَكَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ أَنْ قَدْ حَسُنَتْ تَوْبَتُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ ائْذَنْ لِلنَّاسِ بِمُجَالَسَتِهِ

حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کسی سوال کا جواب دینے سے عاجز ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے سوال کو واپس کرنا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں جس چیز کا علم نہیں رکھتا اس کے بارے میں اپنی طرف سے ایجاد کرکے کوئی جواب دوں۔

نافع مولى عبد الله ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 147

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 188

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَبِسَتْكُمْ فِتْنَةٌ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَيَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ وَيَتَّخِذُهَا النَّاسُ سُنَّةً فَإِذَا غُيِّرَتْ قَالُوا غُيِّرَتْ السُّنَّةُ قَالُوا وَمَتَى ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ إِذَا كَثُرَتْ قُرَّاؤُكُمْ وَقَلَّتْ فُقَهَاؤُكُمْ وَكَثُرَتْ أُمَرَاؤُكُمْ وَقَلَّتْ أُمَنَاؤُكُمْ وَالْتُمِسَتْ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ

اعمش بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو کبھی بھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ یہ حلال ہے یاحرام ہے وہ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے علماء اسے مکروہ قرار دیتے ہیں علماء اسے مستحب قرار دیتے ہیں۔

شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 188

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 189

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَبِسَتْكُمْ فِتْنَةٌ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَيَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ إِذَا تُرِكَ مِنْهَا شَيْءٌ قِيلَ تُرِكَتْ السُّنَّةُ قَالُوا وَمَتَى ذَاكَ قَالَ إِذَا ذَهَبَتْ عُلَمَاؤُكُمْ وَكَثُرَتْ جُهَلَاؤُكُمْ وَكَثُرَتْ قُرَّاؤُكُمْ وَقَلَّتْ فُقَهَاؤُكُمْ وَكَثُرَتْ أُمَرَاؤُكُمْ وَقَلَّتْ أُمَنَاؤُكُمْ وَالْتُمِسَتْ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ وَتُفُقِّهَ لِغَيْرِ الدِّينِ

حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا جب تمہارے درمیان ایسا فتنہ پیدا ہوگا جس کی وجہ سے بڑی عمر کے لوگ بوڑھے ہوجائیں گے اور چھوٹی عمر کے لوگ بڑے ہوجائیں گے۔ لوگ اس فتنے کو سنت بنالیں گے اور جب وہ تبدیل ہوجائے گا تو لوگ یہ کہیں گے سنت تبدیل ہوگئی ۔ لوگوں نے دریافت کیا اے ابوعبدالرحمن یہ کب ہوگا۔ حضرت عبداللہ نے جواب دیا جب تمہارے ہاں قرآن کا علم کہلانے والوں کی تعداد زیادہ ہوجائے گی اور دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی تعداد کم ہوجائے گی تمہارے امراء زیادہ ہوجائیں گے اور امین لوگ کم ہوجائیں گے اور آخرت کے عمل کے عوض میں دنیا کو تلاش کیا جائے گا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 189

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 190

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ أُنْبِئْتُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ وَيْلٌ لِلْمُتَفَقِّهِينَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ وَالْمُسْتَحِلِّينَ لِلْحُرُمَاتِ بِالشُّبُهَاتِ

حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا جب تمہارے سامنے ایسا فتنہ آئے گا جو بڑی عمر کے لوگوں کو بوڑھا کردے گا اور کم عمر لوگوں کو جوان کردے گا جب اس فتنے میں سے کسی چیز کو ترک کیا جائے گا تو یہ کہا جائے گا سنت ترک ہوگئی ہے لوگوں نے دریافت کیا ایسا کب ہوگا۔ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا تمہارے علماء رخصت ہوجائیں گے۔ تمہارے ہاں جہلاء کی کثرت ہوجائے گی قرآن کے عالم کہلانے والوں کی کثرت ہوجائے گی۔ دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی کمی ہوجائے گی امراء بکثرت ہوں گے اور امین لوگ کم ہوجائیں گے اور آخرت کے عمل کے نتیجے میں دنیا حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور دین کے بجائے دیگر معاملات میں سمجھ بوجھ اختیار کی جائے گی۔

أُنْبِئْتُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ وَيْلٌ لِلْمُتَفَقِّهِينَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ وَالْمُسْتَحِلِّينَ لِلْحُرُمَاتِ بِالشُّبُهَاتِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 190

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 232

أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ فَقُلْتُ مَا خَرَجَ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَعَمْ سَأَلَنِي عَنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ فَأَدَّاهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ لَا يَعْتَقِدُ قَلْبُ مُسْلِمٍ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَالنَّصِيحَةُ لِوُلَاةِ الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ وَمَنْ كَانَتْ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ الدُّنْيَا نِيَّتَهُ فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ شَمْلَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى قَالَ هِيَ الظُّهْرُ

محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی میں خیف کے مقام پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے گا جو ہماری بات سن کر اسے محفوظ کرلے اور اسے پھر دوسرے اس شخص تک پہنچادے جس نے اسے براہ راست نہیں سنا کیونکہ بعض علم والوں کو حقیقی علم نہیں ہوتا اور بعض اوقات ایک علم والا دوسرے ایسے شخص تک علم منتقل کرتا ہے جو زیادہ سمجھدار ہوتا ہے تین باتوں میں مسلمان کا دل دھوکا نہیں دیتا ایک عمل کا اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہونا، دوسرا حاکم وقت کی پیروی کرنا اور تیسرا مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا چونکہ ان کی غیر موجوگی میں ان کی دعا موجود لوگوں کے لئے بھی ہوتی ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 232

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 258

أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ مَنْ طَلَبَ شَيْئًا مِنْ هَذَا الْعِلْمِ فَأَرَادَ بِهِ مَا عِنْدَ اللَّهِ يُدْرِكْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَمَنْ أَرَادَ بِهِ الدُّنْيَا فَذَاكَ وَاللَّهِ حَظُّهُ مِنْهُ

حضرت حسن بیان کرتے ہیں جو شخص علم کی طلب میں اللہ کے پاس موجود اجر و ثواب کی نیت کرے گا اگر اللہ نے چاہا تو اسے پا لے گا اور جو شخص اس کے ذریعے دنیاحاصل کرنا چا ہے گا تو وہ اللہ کی قسم اسے اپنے حصے کے مطابق ہی ملے گا۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، ← مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 258

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 261

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْلُبُ هَذَا الْعِلْمَ أَحَدٌ لَا يُرِيدُ بِهِ إِلَّا الدُّنْيَا إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیاوی مقصد حاصل کرنے کے لئے علم کو حاصل کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی خوشبو کو حرام کردے گا۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 261

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 294

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبْيَرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنْ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ فَوَاللَّهِ لَنَقْرَأَنَّهُ وَلَنُقْرِئَنَّهُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ عِنْدَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَاذَا يُغْنِي عَنْهُمْ قَالَ جُبَيْرٌ فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ قُلْتُ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ قَالَ صَدَقَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِنْ شِئْتَ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِأَوَّلِ عِلْمٍ يُرْفَعُ مِنْ النَّاسِ الْخُشُوعُ يُوشِكُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَ الْجَمَاعَةِ فَلَا تَرَى فِيهِ رَجُلًا خَاشِعًا

حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف جمائی اور یہ ارشاد فرمایا یہی وہ گھڑی ہوگی جس میں لوگوں کے درمیان سے علم اٹھا لیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ذرا سے علم پر بھی قادر نہیں ہوں گے حضرت زیاد بن لبید انصاری نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے درمیان سے علم کیسے اٹھایا جائے گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم ہم اسے پڑھتے رہیں گے اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی یہ پڑھاتے رہیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے زیاد تمہاری ماں تمہیں روئے میں تو یہ سمجھتا تھا کہ تم مدینے کے سمجھدار لوگوں میں سے ایک ہو یہ تورات اور انجیل بھی تو یہود ونصاری کے پاس تھیں اس کا انہیں کیا فائدہ ہوا۔ جبیر نامی روای بیان کرتے ہیں میری ملاقات حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے انس رضی اللہ عنہ نے کہا آپ نے سنا کہ آپ کے بھائی حضرت ابودرداء کیا حدیث بیان کرتے ہیں پھر میں نے انہیں وہ حدیث سنائی جو حضرت ابودرداء نے بیان کی تھی تو حضرت عبادہ نے ارشاد فرمایا حضرت ابودرداء نے سچ کہا ہے اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ سب سے پہلے لوگوں میں سے کون ساعلم اٹھایا جائے گا وہ علم خشوع ہوگا یہاں تک کہ عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم جامع مسجد میں داخل ہوں گے تو تمہیں ایک بھی ایسا شخص نظر نہیں آئے گا جس میں خشوع پایا جاتا ہو۔

زياد بن لبيد الأنصاري ← «هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ» ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أبيه جبير بن نفير ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 294

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 300

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَخِيهِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عِمْرَانَ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَوْمًا فِي شَيْءٍ قَالَهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ لَيْسَ هَكَذَا يَقُولُ الْفُقَهَاءُ فَقَالَ وَيْحَكَ وَرَأَيْتَ أَنْتَ فَقِيهًا قَطُّ إِنَّمَا الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبُ فِي الْآخِرَةِ الْبَصِيرُ بِأَمْرِ دِينِهِ الْمُدَاوِمُ عَلَى عِبَادَةِ رَبِّهِ

عمران منقری بیان کرتے ہیں میں نے حضرت حسن بصری سے ایک دن کسی بات کے بارے میں جو انہوں نے بیان کی تھی یہ کہا اے ابوسعید فقہاء ایسے نہیں کہتے جو آپ نے بیان کیا ہے تو حضرت حسن بصری نے فرمایا تمہارا ستیا ناس ہو کیا تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا ہے فقیہ وہ شخص ہوتا ہے جو دنیا سے بے رغبت ہو۔ آخرت کی طرف متوجہ ہو اپنے دین کے معاملات کا نگران ہو اور ہمیشہ اپنے پروردگار کی عبادت میں مصروف رہے۔

الْفُقَهَاءُ ← قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَوْمًا فِي شَيْءٍ قَالَهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ لَيْسَ هَكَذَا ← عِمْرَانَ الْمُنْقِرِيِّ ← أَخِيهِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ← الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 300

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 303

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ إِنَّ الْفَقِيهَ حَقَّ الْفَقِيهِ مَنْ لَمْ يُقَنِّطْ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ وَلَمْ يُؤَمِّنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَدَعْ الْقُرْآنَ رَغْبَةً عَنْهُ إِلَى غَيْرِهِ إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا وَلَا عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ وَلَا قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حقیقی معنوں میں فقیہ وہ شخص ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور انہیں اللہ کی نافرمانی کی رخصت نہ دے اور انہیں اللہ کے آداب سے بے نیاز نہ کردے اور قرآن کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ نہ ہوجائے۔ ایسی عبادت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں علم نہ ہو اور ایسے علم میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں فہم نہ ہو اور ایسی قرأت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں غور و فکر نہ ہو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← يَحْيَى هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ ← ليث بن أبي سليم ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 303

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 304

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ الْفَقِيهُ حَقُّ الْفَقِيهِ الَّذِي لَا يُقَنِّطُ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ وَلَا يُؤَمِّنُهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَلَا يُرَخِّصُ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا وَلَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ وَلَا خَيْرَ فِي قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حقیقی معنوں میں فقیہ وہ شخص ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور انہیں اللہ کے آداب سے بے نیاز نہ کردے اور انہیں اللہ کی نافرمانی کی رخصت نہ دے بےشک ایسی عبادت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں علم نہ ہو اور ایسے علم میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں فہم نہ ہو اور ایسی قرأت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں غور و فکر نہ ہو۔

يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← لَيْثٌ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 304

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 305

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِي عَمِّي جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ تُبَيْعًا يُحَدِّثُ عَنْ كَعْبٍ قَالَ إِنِّي لَأَجِدُ نَعْتَ قَوْمٍ يَتَعَلَّمُونَ لِغَيْرِ الْعَمَلِ وَيَتَفَقَّهُونَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ وَيَطْلُبُونَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ وَيَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنْ الصَّبْرِ فَبِي يَغْتَرُّونَ أَوْ إِيَّايَ يُخَادِعُونَ فَحَلَفْتُ بِي لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَتْرُكُ الْحَلِيمَ فِيهَا حَيْرَانَ

کعب بیان کرتے ہیں میں نے اس قوم کی حالت ان الفاظ میں پائی ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) جو عمل کے بجائے ویسے ہی علم حاصل کرتے ہیں اور عبادت کرنے کی بجائے دوسرے مقاصد کے حصول کے لئے دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے ہیں وہ آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے دنیا طلب کرنا چاہتے ہیں اور وہ اونٹ کی کھال کے لباس پہنیں گے ان کے دل کڑوی چیز سے زیادہ کڑوے ہوں گے تو کیا وہ مجھے دھوکادیں گے یا میرے ساتھ فریب کریں گے میں یہ قسم اٹھاتاہیوں کہ میں ان لوگوں کو ایسے فتنے میں مبتلا کروں گا جس میں بردبار شخص بھی حیران رہ جاتا ہے۔

کَعْبٍ ← تُبَيْعًا ← عَمِّي جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 305

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 329

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ يَمَانٍ عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ كَعْبٍ قَالَ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا مُتَعَلِّمَ خَيْرٍ أَوْ مُعَلِّمَهُ

کعب ارشاد فرماتے ہیں دنیا ملعون ہے اور اس میں موجود ہر چیز ملعون ہے سوائے بھلائی کا علم حاصل کرنے والے شخص کے اور بھلائی کی تعلیم دینے والے شخص کے۔ (یہ دونوں ملعون نہیں ہیں)

الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا مُتَعَلِّمَ خَيْرٍ أَوْ مُعَلِّمَهُ ← کَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← ابْنُ يَمَانٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 329

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 341

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ لَا يَشْبَعُ مِنْهُ وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا لَا يَشْبَعُ مِنْهَا فَمَنْ تَكُنِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ وَبَثَّهُ وَسَدَمَهُ يَكْفِي اللَّهُ ضَيْعَتَهُ وَيَجْعَلُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَمَنْ تَكُنِ الدُّنْيَا هَمَّهُ وَبَثَّهُ وَسَدَمَهُ يُفْشِي اللَّهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَيَجْعَلُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ لَا يُصْبِحُ إِلَّا فَقِيرًا وَلَا يُمْسِي إِلَّا فَقِيرًا

حضرت حسن بصری ارشاد فرماتے ہیں دو طرح کے حریص کبھی بھی سیر نہیں ہوتے ایک علم کا حریص وہ علم سے کبھی سیر نہیں ہوتا اور دوسرا دنیا کا حریص کبھی سیر نہیں ہوتا جس شخص کا ارادہ طلب اور منظور نظر آخرت ہو اللہ اس کے معاملات پورے کردیتا ہے اور اس کے دل کو بے نیاز کردیتا ہے اور جس شخص کی طلب خواہش اور منظور نظر دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو پھیلا دیتا ہے اس کی غربت کو اس کے آگے کردیتا ہے اور پھر وہ شخص صبح بھی فقیر ہوتا ہے اور شام کو بھی فقیر ہوتا ہے ۔ (یعنی ہر حال میں غریب رہتا ہے۔)

الْحَسَنِ، ← سَيَّارٍ، ← زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 341

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 342

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ عَوْنٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ صَاحِبُ الْعِلْمِ وَصَاحِبُ الدُّنْيَا وَلَا يَسْتَوِيَانِ أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ فَيَزْدَادُ رِضًا لِلرَّحْمَنِ وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى قَالَ وَقَالَ الْآخَرُ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ

حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں دو طرح کے حریص کبھی سیر نہیں ہوتے ایک علم کا طلب گار اور دوسرادنیاکاطلب گار یہ دونوں برابر نہیں ہوتے کیونکہ علم کا طلب گار اللہ کی رضامندی میں اضافہ کرتا ہے اور دنیا کا طلب گار سرکشی میں ڈوبتا چلا جاتا ہے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی بے شک اللہ کے بندوں میں سے علماء اللہ سے ڈرتے ہیں۔

عَوْنٌ ← أَبُو عُمَيْسٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 342

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 378

أَخْبَرَنَا سَعدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ قَالَ قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ بَلَغَنِي أَنَّهُ مِنْ كَلَامِ عِيسَى تَعْمَلُونَ لِلدُّنْيَا وَأَنْتُمْ تُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ عَمَلٍ وَلَا تَعْمَلُونَ لِلْآخِرَةِ وَأَنْتُمْ لَا تُرْزَقُونَ فِيهَا إِلَّا بِالْعَمَلِ وَإِنَّكُمْ عُلَمَاءَ السَّوْءِ الْأَجْرَ تَأْخُذُونَ وَالْعَمَلَ تُضَيِّعُونَ يُوشِكُ رَبُّ الْعَمَلِ أَنْ يَطْلُبَ عَمَلَهُ وَتُوشِكُونَ أَنْ تَخْرُجُوا مِنْ الدُّنْيَا الْعَرِيضَةِ إِلَى ظُلْمَةِ الْقَبْرِ وَضِيقِهِ اللَّهُ نَهَاكُمْ عَنْ الْخَطَايَا كَمَا أَمَرَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ سَخِطَ رِزْقَهُ وَاحْتَقَرَ مَنْزِلَتَهُ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ اتَّهَمَ اللَّهَ فِيمَا قَضَى لَهُ فَلَيْسَ يَرْضَى شَيْئًا أَصَابَهُ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ دُنْيَاهُ آثَرُ عِنْدَهُ مِنْ آخِرَتِهِ وَهُوَ فِي الدُّنْيَا أَفْضَلُ رَغْبَةً كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ مَصِيرُهُ إِلَى آخِرَتِهِ وَهُوَ مُقْبِلٌ عَلَى دُنْيَاهُ وَمَا يَضُرُّهُ أَشْهَى إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِمَّا يَنْفَعُهُ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ يَطْلُبُ الْكَلَامَ لِيُخْبِرَ بِهِ وَلَا يَطْلُبُهُ لِيَعْمَلَ بِهِ

ہشام بن جو دستوائی کے ساتھی ہیں بیان کرتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں یہ بات پڑھی ہے حضرت عیسی کے فرامین میں یہ بات شامل ہے تم لوگ دنیا کے لئے عمل کرتے ہو حالانکہ تمہیں دنیا میں کسی عمل کے بغیر رزق دیا جاتا ہے۔ تم لوگ آخرت کے لئے عمل نہیں کرتے حالانکہ تمہیں آخرت میں عمل کے بغیر رزق نہیں ملے گا اے برے علماء تمہارے لئے بربادی ہے تم معاوضہ وصول کرلیتے ہو اور عمل کو ضائع کردیتے ہو عنقریب عمل کا پروردگار ان سے عمل کے بارے میں مطالبہ کرے گا اور عنقریب تم لوگ دنیا سے نکل کر قبر کی تاریکی اور تنگی میں چلے جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں گناہوں سے منع کیا ہے جیساکہ انہوں نے نماز اور روزوں کا حکم دیا ہے ایسا شخص کیسے عالم ہوسکتا ہے جو اپنے رزق سے ناراض ہو اور اپنی حثییت کو کم تر سمجھتا ہوں جبکہ وہ یہ بات جانتا ہو کہ یہ دونوں چیزیں اللہ کے علم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر کے مطابق ہیں۔ ایسا شخص کیسے عالم ہوسکتا ہے جو اللہ کے مقرر کردہ فیصلے پر الزام لگائے اور اس چیز سے راضی نہ ہو جو اسے نصیب ہوئی ہے۔ ایسا شخص کیسے عالم ہو سکتا ہے جس کے نزدیک دنیا آخرت کے مقابلے میں زیادہ قابل ترجیح ہو حالانکہ دنیا میں سب سے زیادہ توجہ آخرت کی طرف مبذول ہونی چاہیے۔ ایسا شخص کیسے عالم ہو سکتا ہے جس کا انجام آخرت ہو لیکن وہ دنیا کی طرف متوجہ ہو اور جس چیز کے مقابلے میں جو اسے نقصان دینے والی ہے اس کی اسے زیادہ خواہش ہو وہ اسے زیادہ محبوب ہو اس چیز کے مقابلے میں جو اسے نفع دے سکی ہے۔ ایسا شخص کیسے عالم ہوسکتا ہے جو علم اس لئے حاصل کرتا ہے لوگوں کو بتائے وہ اس لئے حاصل نہیں کرتا تاکہ اس پر عمل کرے۔

هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← سعد بن عامر

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 378

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 395

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُصِيبُ الْبَابَ مِنْ الْعِلْمِ فَيَعْمَلُ بِهِ فَيَكُونُ خَيْرًا لَهُ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا لَوْ كَانَتْ لَهُ فَجَعَلَهَا فِي الْآخِرَةِ

حضرت حسن بصری ارشاد فرماتے ہیں ایک شخص علم کے دروازے تک پہنچنا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو یہ اس کے لئے دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے کہ جو اسے مل جائے تو وہ انہیں آخرت کے لئے استعمال کرتا۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 395

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 398

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ مَا ازْدَادَ عَبْدٌ عِلْمًا فَازْدَادَ فِي الدُّنْيَا رَغْبَةً إِلَّا ازْدَادَ مِنْ اللَّهِ بُعْدًا

سفیان ارشاد فرماتے ہیں جس بندے کے علم میں اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے دنیا کی طرف اس کی توجہ بھی زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ماسوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ (دنیا سے) دور کردے۔

سُفْيَانَ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 398

chevron_left Previous
1…454647…2,341
Next chevron_right