Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الصحابة وآل البيت

Sahabah & Ahl al-Bayt

25488 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11861

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْإِثْمَانَ فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكُمْ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَوْزاعِيِّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعَيْبٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں قیدی ملے، ہم چاہتے ہیں کہ انہیں فدیہ دے کر چھوڑ دیں تو عزل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسے کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اللہ نے جس روح کو وجود عطا کرنے کا فیصلہ فرمالیا ہے وہ آکر رہے گی۔

أَنَّهُ، بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الجُمَحِيُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11861

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11864

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ لَوْ قَدْ اسْتَقَامَتْ الْأُمُورُ قَدْ آثَرَ عَلَيْكُمْ قَالَ فَرَدُّوا عَلَيْهِ رَدًّا عَنِيفًا قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ أَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَكُنْتُمْ لَا تَرْكَبُونَ الْخَيْلَ قَالَ فَكُلَّمَا قَالَ لَهُمْ شَيْئًا قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَمَّا رَآهُمْ لَا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ أَفَلَا تَقُولُونَ قَاتَلَكَ قَوْمُكَ فَنَصَرْنَاكَ وَأَخْرَجَكَ قَوْمُكَ فَآوَيْنَاكَ قَالُوا نَحْنُ لَا نَقُولُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ تَقُولُهُ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّ النَّاسَ لَوْ سَلَكُوا وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ كَرِشِي وَأَهْلُ بَيْتِي وَعَيْبَتِي الَّتِي آوِي إِلَيْهَا فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّنَا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً قَالَ مُعَاوِيَةُ فَمَا أَمَرَكُمْ قُلْتُ أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ قَالَ فَاصْبِرُوا إِذًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں تم سے اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ معاملات اسی طرح سیدھے سیدھے چلتے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے، انہوں نے اسے اس کا سخت جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اور ان سے کچھ باتیں کیں جو مجھے اب یاد نہیں ہیں ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان سے کچھ فرماتے وہ اس کا یہی جواب دیتے " کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! " جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کسی بات کا جواب نہیں دے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ کی قوم آپ سے لڑی اور ہم نے آپ کی مدد کی اور آپ کی قوم نے آپ کو نکالا اور ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بات جو آپ فرما رہے ہیں یہ ہم نے نہیں کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر فرمایا اے گروہ انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے کو اختیار کر لوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، انصار میرا پردہ، میرے اہل خانہ اور میرا ٹھکانہ ہیں ، تم ان کے گناہگار سے درگذر کرو اور ان کے نیکوکاروں کو قبول کرو۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترجیحات دیکھیں گے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبر کا حکم دیا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ صبر کا دامن تھامے رہیں ۔

أَبُو سَعِيدٍ ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11864

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11907

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَهَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَ هَاشِمٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← سُفْيَانُ وَهَاشِمٌ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11907

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11912

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ قَالَ فَجَعَلَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُمْ حِينَ أَنْفَقَ كُلَّ شَيْءٍ بِيَدِهِ وَمَا يَكُونُ عِنْدَنَا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ نَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا أَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَاهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تعاون کی درخواست کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ عطاء فرمادیا، اور جو شخص مانگتاجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیتے جاتے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دے چکے تو ہاتھ جھاڑ کر فرمایا ہمارے پاس جو دولت آئے گی ہم اسے تم سے چھپا کر ذخیرہ نہیں کریں گے، البتہ جو بچنا چاہے، اللہ اسے بچا لیتا ہے، اللہ سے جو شخص غناء طلب کرلے، اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو صبر کا دامن تھام لے، اللہ اسے صبر دے دیتا ہے اور تمہیں جو چیزیں دی گئی ہیں ، ان میں صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11912

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11985

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر کھڑے ہوں۔

أَنَسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ ← حُمَيْدٍ ← مُعْتَمِرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11985

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12022

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ فَقُلْنَا لَهُ أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي قَالَ الْعَصْرَ قَالَ قُلْنَا إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

علاء ابن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک انصاری آدمی کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کچھ ہی دیر بعد انہوں نے باندی سے وضو کا پانی منگوایا، ہم نے ان سے پوچھا کہ اس وقت کون سی نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نمازِ عصر، ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں (عصر کی نماز اتنی جلدی؟) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔

الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12022

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12044

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِي أَلَمْ آتِكُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي أَلَمْ آتِكُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا تَقُولُونَ جِئْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاكَ وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ فَقَالُوا بَلْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمَنُّ بِهِ عَلَيْنَا وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہِ انصار! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بے راہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا، اور آپ بے یارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12044

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12045

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَكَتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں ، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں ، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12045

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12048

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے؟ بنو نجار کا گھر، پھر بنو عبدالاشہل کا گھر، پھر بنو حارث بن خزرج کا اور پھر بنی ساعدہ کو اور یوں بھی انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12048

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12051

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ اشْتَكَى ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتُوُفِّيَ الْغُلَامُ فَهَيَّأَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ الْمَيِّتَ وَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا يُخْبِرَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَبَا طَلْحَةَ بِوَفَاةِ ابْنِهِ فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ مَا فَعَلَ الْغُلَامُ قَالَتْ خَيْرٌ مِمَّا كَانَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِمْ عَشَاءَهُمْ فَتَعَشَّوْا وَخَرَجَ الْقَوْمُ وَقَامَتْ الْمَرْأَةُ إِلَى مَا تَقُومُ إِلَيْهِ الْمَرْأَةُ فَلَمَّا كَانَ آخِرُ اللَّيْلِ قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَلَمْ تَرَ إِلَى آلِ فُلَانٍ اسْتَعَارُوا عَارِيَةً فَتَمَتَّعُوا بِهَا فَلَمَّا طُلِبَتْ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَاكَ قَالَ مَا أَنْصَفُوا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ كَانَ عَارِيَةً مِنْ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنَّ اللَّهَ قَبَضَهُ فَاسْتَرْجَعَ وَحَمِدَ اللَّهَ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ فَوَلَدَتْهُ لَيْلًا وَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمَلْتُهُ غُدْوَةً وَمَعِي تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ فَوَجَدْتُهُ يَهْنَأُ أَبَاعِرَ لَهُ أَوْ يَسِمُهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ اللَّيْلَةَ فَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَعَكَ شَيْءٌ قُلْتُ تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ فَأَخَذَ بَعْضَهُنَّ فَمَضَغَهُنَّ ثُمَّ جَمَعَ بُزَاقَهُ فَأَوْجَرَهُ إِيَّاهُ فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِ قَالَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ وَهُوَ فِي الْحَائِطِ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فَقَالَ رُوَيْدَكَ أَفْرُغُ لَكَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِىٍّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِتُّمَا عَرُوسَيْنِ قَالَ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي عُرْسِكُمَا وَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ كَيْفَ ذَاكَ الْغُلَامُ قَالَتْ هُوَ أَهْدَأُ مِمَّا كَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ فَوَلَدَتْ لَهُ وَلَدًا وَكَانَ يُحِبُّهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا فَقَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مسجد کے لئے نکلے تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسے کپڑا اوڑھا دیا اور گھر والوں سے کہا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے ساتھ مسجد سے ان کے کچھ دوست بھی آئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا سب نے کھانا کھایا، لوگ چلے گئے تو وہ ان کاموں میں لگ گئیں جو عورتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں ۔ جب رات کا آخری پہر ہوا تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہوا تو وہ اس پر ناگواری ظاہر کرنے لگے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ لوگ انصاف نہیں کر رہے، ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ پھر تمہارا بیٹا بھی اللہ کی طرف سے عاریت تھا، جسے اللہ نے واپس لے لیا ہے اس پر انہوں نے "انا للہ وانا الیہ راجعون" کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں ، جب ان کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ رات کا وقت تھا۔ انہوں نے اس وقت بچے کو گھٹی دینا اچھا نہ سمجھا اور یہ چاہا کہ اسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھٹی دیں ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر اپنے ساتھ کچھ عجوہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج رات ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا، انہوں نے خود اسے گھٹی دینا مناسب نہ سمجھا اور چاہا کہ اسے آپ گھٹی دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا، اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا نام رکھ دیجئے، فرمایا اس کا نام عبداللہ ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12051

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12076

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ أَعِيدُوا تَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ وَسَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَلِأَهْلِهَا بِخَيْرٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ وَمَا هِيَ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ قَالَ فَمَا مِنْ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَكْثَرُ مِنِّي مَالًا وَذَكَرَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً غَيْرَ خَاتَمِهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّ ابْنَتَهُ الْكُبْرَى أُمَيْنَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَيِّفًا عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ چھوڑی جو میرے لئے نہ مانگی ہو، اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، چنانچہ اس کے بعد انصار میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ مالدار نہ تھا، حالانکہ قبل ازیں وہ اپنی انگوٹھی کے علاوہ کسی سونا چاندی کے مالک نہ تھے، اور خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بڑی بیٹی امینہ نے بتایا ہے کہ حجاج بن یوسف کے آنے تک میری نسل میں سے ایک سو بیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12076

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12087

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لِحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا فَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ فَأَمَدَّهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَوْمَئِذٍ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ فِي زَمَانِهِمْ الْقُرَّاءَ كَانُوا يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ فَقَتَلُوهُمْ فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لِحْيَانَ قَالَ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ أَوْ رُفِعَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ رعل ، ذکوان ، عصبہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم تعاون کے لئے بھیج دیئے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں " قراء " کہا کرتے تھے ، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے ، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے ، راستے میں جب وہ " بیر معونہ " کے پاس پہنچے انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کر دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل ، ذکوان ، عصبہ اور بنولحیان کے قبائل پر بد دعا کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہ کے یہ جملے کہ " ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے ، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کر دیا " ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے ، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ الْمَعْنَى ← سَعِيدٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12087

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12109

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى قِيلَ لِسُفْيَانَ يَعْنِي سَمِعَ مِنْ أَنَسٍ يَقُولُ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ الْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لَا حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَنَا فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ انہیں تقسیم کر دیں ، لیکن وہ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کو ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تم صبر کرنا تاکہ آنکہ مجھ سے آملو۔

إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي. ← لَا حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَنَا ← دَعَا النَّبِيُّ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ الْبَحْرَيْنِ ← مِنْ أَنَسٍ؟ ← يَحْيَى قِيلَ لِسُفْيَانَ يَعْنِي ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12109

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12113

قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَاصِمًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا قَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ يَقُولُ آخَى

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔

أَخِي ← سُفْيَانُ كَأَنَّهُ ← حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا. ← أَنَسٍ، ← عاصما ← قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12113

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12158

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَشْتَرِي هَذَا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ قَالَ مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ قَالَ هُمَا لَكَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ ذِي دَمٍ مُوجِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تنگدستی کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ وہ ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں ایک درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دے گا؟ لوگ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعلان دہرایا، اس پر ایک آدمی کہنے لگا کہ میں دو درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں چیزیں تمہاری ہوئیں ، پھر فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر جو خاک نشین کر دے۔

هُمَا لَكَ ثُمَّ ← آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، ← رَجُلٌ: ← مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ ← مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ ← آخذُهما بدرهم. ← رَجُلٌ: ← النَّبِيُّ مَنْ يَشْتَرِي هَذَا ← لَهُ النَّبِيُّ مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12158

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12202

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلُ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَامِنُونِي بِهِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ يَقُولُ أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ دراصل بنونجار کی تھی، یہاں ایک درخت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، مسجد نبوی کی تعمیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شریک تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں پکڑا تے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اصل زندگی تو آخرت کی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہیں نماز پڑھ لیتے۔

أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ← لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا وَكَانَ النَّبِيُّ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ ← لَهُمْ النَّبِيُّ ثَامِنُونِي بِهِ ← كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلُ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12202

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12259

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ وَأَبُو بَكْرٍ رَدِيفُهُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْرَفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ إِلَى الشَّامِ وَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ هَادٍ يَهْدِينِي فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا فَقَالُوا ادْخُلَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَدَخَلَا قَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ وَلَا أَحْسَنَ مِنْ يَوْمِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الْمَدِينَةَ وَشَهِدْتُ وَفَاتَهُ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ وَلَا أَقْبَحَ مِنْ الْيَوْمِ الَّذِي تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر آگے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو راستوں کا علم تھا کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے، جب بھی کسی جماعت پر ان کا گذر ہوتا اور وہ لوگ پوچھتے کہ ابوبکر! یہ آپ کے آگے کون بیٹھے ہوئے ہیں ؟ تو وہ فرماتے کہ یہ رہبر ہیں جو میری رہنمائی کر ر ہے ہیں ، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسلمان ہونے والے انصاری صحابہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پاس پیغام بھیجا، وہ لوگ ان دونوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دونوں امن و امان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہو جائیے ، آپ کی اطاعت کی جائے گی، چنانچہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12259

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12330

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَّانُ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت (اپنے بچے کے ساتھ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تخلیہ میں فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔

فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنُ جَعْفَرٍ ← وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ← عَفَّانُ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا ← جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ← عَفَّانُ، ← هِشَامٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12330

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12331

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ إِنَّكُمْ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے متعلق فرمایا تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12331

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12341

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے۔

أَنَسًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12341

chevron_left Previous
1…555657…1,275
Next chevron_right