Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الصحابة وآل البيت

Sahabah & Ahl al-Bayt

25488 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15092

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ قَالَ فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَيْ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابھی بنوہوازن کا وہ آدمی جو علمبردار تھا اپنے اونٹ پر ہی سوار تھا اور وہ سب کچھ کرتاجارہا تھا جو کر رہا تھا کہ اچانک اس کا سامنا حضرت علی اور ایک انصاری سے ہو گیا وہ دونوں اس کے پیچھے لگ گئے چنانچہ حضرت علی نے پیچھے سے آکر اس کے اونٹ کی ایڑیوں پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ اس کی دم کے بل گر پڑا ادھر سے انصاری نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس پر ایسا وار کیا کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی تک چر گیا وہ اپنی سواری سے گر گیا اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے واللہ لوگ اپنی شکست سے جان بچا کر جہاں بھی بھاگے بالا آخر وہ قیدی بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے۔

أبيه جابر بن عبد الله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15092

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15130

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى نَزَلْنَا السُّقْيَا فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَنْ يَسْقِينَا فِي أَسْقِيَتِنَا قَالَ جَابِرٌ فَخَرَجْتُ فِي فِئَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَاءَ الَّذِي بِالْأُثَايَةِ وَبَيْنَهُمَا قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِيلًا فَسَقَيْنَا فِي أَسْقِيَتِنَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ إِذَا رَجُلٌ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ إِلَى الْحَوْضِ فَقَالَ أَوْرِدْ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْرَدَ ثُمَّ أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَأَنَخْتُهَا فَقَامَ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ وَجَابِرٌ فِيمَا ذَكَرَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے ہم نے پانی کی جگہ پر پڑاؤ کیا حضرت معاذ بن جبل کہنے لگے کہ ہمارے مشکیزوں کو کون پانی سے بھر کرلائے گا یہ سن کر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم لوگ مقام اثایہ میں پانی تک پہنچے ان دونوں جگہوں کے درمیان تقریبا ٦٣ میل کا فاصلہ تھا ہم نے اپنے مشکیزوں میں پانی بھرا اور جب نماز عشاء ہوچکی تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنے اونٹ کو ہانکتا ہوا حوض کی طرف لے جارہا ہے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹ پر پہنچے میں نے اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور اسے بٹھادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز عشاء پڑھنے لگے حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہوگیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15130

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15131

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ أَوْ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يُرِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ أَوْ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ شَابٌّ يُرِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا قَالَ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔

فَجَاءَ عَلِيٌّ ← يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا ← فَجَاءَ عُمَرُ ثُمَّ ← يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ أَوْ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ شَابٌّ يُرِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ← يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يُرِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ أَوْ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← شريك بن عبد الله ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15131

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8324

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي بْنَ الْمُسَيَّبِ حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا قَالُوا فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ السِّنَّوْرَ سَبُعٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے ان کے پیچھے بھی ایک گھر تھا ان لوگوں پر یہ بات گراں گذری اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ فلاں کے گھر تو تشریف لاتے ہیں ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے وہ کہنے لگے کہ ان لوگوں کے گھر میں بھی تو بلی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلی (ایسا) درندہ ہے (جو رحمت کے فرشتوں کو آنے سے نہیں روکتا)

فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا ← كَانَ النَّبِيُّ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← عِيسَى يَعْنِي بْنَ الْمُسَيَّبِ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8324

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20946

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ الدِّيلِيُّ عَنْ عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا فِي مَنْزِلِهِ فَمَرِضَ فَأَفَاقَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَصْرَةِ فَأَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِهِ فَسَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّيْخُ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ قَالَ بِخَيْرٍ فَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَخْرُجُ مَعِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَتُعِينَنِي قَالَ بَلَى إِنْ رَضِيتَ بِمَا أُعْطِيكَ قَالَ عَلِيٌّ وَمَا هُوَ فَقَالَ الشَّيْخُ يَا جَارِيَةُ هَاتِ سَيْفِي فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ غِمْدًا فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ طَائِفَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَلَيْهِ السَّلَام وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا كَانَتْ فِتْنَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ اتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَهَذَا سَيْفِي فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ وَلَا فِي سَيْفِكَ فَرَجَعَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ وَلَمْ يَدْخُلْ

عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ان کے گھر میں تھے کہ وہ بیمار ہوگئے جب انہیں اپنے مرض سے افاقہ ہوا تو کچھ ہی عرصے بعد حضرت علی بصرہ میں تشریف لائے اور ان کے گھر بھی آئے اور گھر کے دروازے پر کھڑے ہوکر سلام کیا والد صاحب نے انہیں جواب دیا حضرت علی نے ان سے پوچھا ابومسلم! آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ خیریت سے ہوں حضرت علی نے فرمایا آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد نہیں کرتے انہوں نے کہا کیوں نہیں بشرطیکہ آپ اس چیز پر راضی ہوجائیں جو میں آپ کو دوں گا حضرت علی نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا لڑکی میری تلوار لاؤ میں نے نیام سمیت ان کی تلوار نکالی اور ان کی گود میں رکھ دی انہوں اس کا کچھ حصہ سے نیام سے باہر نکلا پھر سر اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں فتنے رونماہونے لگے تو میں لکڑی کی تلواربنا لوں یہ میری تلوار حاضر ہے اگر آپ چاہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلنے کو تیارہوں حضرت علی نے فرمایا فی الحال ہمیں آپ کی یا آپ کی تلوار کی فوری ضرورت نہیں ہے پھر وہ کمرے کے دروازے سے باہر تشریف لے گئے اور دوبارہ اس حوالے سے نہیں آئے۔

عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ الدِّيلِيُّ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20946

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15196

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ دَعُوا الْكَسْعَةَ فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک مہاجر کا دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں۔

الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15196

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15229

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ فَقَالَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَاجْعَلْهُ عَلِيًّا فَدَخَلَ عَلِيٌّ ثُمَّ أُتِينَا بِطَعَامٍ فَأَكَلْنَا فَقُمْنَا إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَحَدٌ مِنَّا ثُمَّ أُتِينَا بِبَقِيَّةِ الطَّعَامِ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الْعَصْرِ وَمَا مَسَّ أَحَدٌ مِنَّا مَاءً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں دعوت کھانے میں شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے پھر کھانالایا گیا جو ہم نے کھا لیا پھر ہم نماز ظہر کے لئے اٹھے اور ہم میں سے کسی نے بھی وضو نہیں کیا نماز کے بعد باقی ماندہ کھانا لایا گیا پھر نماز عصر کے لئے اٹھے تو ہم میں سے کسی نے پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔

لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ← لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ ← رَسُولُ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ← مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15229

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15260

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ قَالَ فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَحْقِرَهُ قَوْمُهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ آتِيهِمْ فَأُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ قَالَ نَعَمْ فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی اور عرفات کے میدانوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش فرماتے اور ان سے فرماتے کہ کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے اس بات سے روک رکھاہے کہ میں اپنے رب کا کلام اور پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں اس دوران ہمدان کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا کہ تمہاراتعلق کس قبیلے سے ہے اس نے کہا ہمدان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنی قوم میں کوئی اہمیت ومرتبہ حاصل ہے اس نے کہا جی ہاں پھر اس کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا کہ کہیں اس کی قوم اسے ذلیل ہی نہ کردے اس لئے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا پہلے میں اپنی قوم میں جا کر انہیں مطلع کرتا ہوں پھر آئندہ سال میں آپ کے پاس آؤں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا اس پر وہ چلا گیا اور اگلے سال سے پہلے رجب ہی میں انصار کا وفد پہنچ گیا۔

كَانَ النَّبِيُّ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15260

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15264

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ دُورَنَا وَنَتَحَوَّلَ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الصَّلَاةِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فُلَانُ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ دِيَارَكُمْ فَإِنَّهَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ اپنا گھربیچ کر مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا بھی ثواب لکھاجائے گا۔

جابر بن عبد الله أردنا ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15264

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15279

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَجْلَحَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ أَهَدَيْتُمْ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهُمْ مَنْ يُغَنِّيهِمْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيَّاكُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پوچھا کہ کیا تم نے باندی کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کردیا انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ان کے ساتھ کسی گانے والے کو کیوں نہیں بھیجا جو یہ گاناسناتا کہ ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے سو تم ہمیں خوش آمدید کہو ہم تمہیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ انصار میں اس چیز کا رواج ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَجْلَحَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21049

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي إِلَيْهِ فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ أَطْعِمْنَا بُسْرًا فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَئِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ أَوْ حَجَرٍ يَتَدَخَّلُ فِيهِ مِنْ الْحَرِّ وَالْقُرِّ

حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو میرے پاس سے گذرتے ہوئے مجھے بھی بلا لیا میں ہمراہ ہولیا پھر حضرت ابوبکر کی طر ف گذرے تو انہیں بھی بلالیا وہ بھی ساتھ ہولیے پھر حضرت عمر کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی بلالیا وہ بھی ساتھ ہولیے چلتے چلتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکرم ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا ہمیں کچی پکی کھجوریں کھلاؤ وہ ایک خوشہ لے کر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھیوں نے اسے تناول فرمایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوا کر وہ نوش فرمایا اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق بھی سوال ہوگا یہ سن کر حضرت عمر نے وہ خوشہ پکڑا اور زمین پر دے مارا جس سے کھجوروں کے دانے بکھر گئے اور ان سے کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی چلے گئے پھر وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ قیامت کے دن ہم اس کے متعلق بھی پوچھا جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سوائے تین چیزوں کے ایک وہ کپڑا جس سے آدمی اپنی شرمگاہ کو چھپائے روٹی کا وہ ٹکڑا جس سے اپنی بھوک مٹائے یا وہ سوراخ جس میں گرمی، سردی سے بچاؤ کے وہ داخل ہوجائے۔

أبي عسيب ← أَبِي نُصَيْرَةَ ← حَشْرَجٌ ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21049

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15293

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَالَ يَرَوْنَ أَنَّهَا غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَقِيلَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ جَابِرٌ وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ أَقَلَّ مِنْ الْأَنْصَارِ ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ كَثُرُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَقَالَ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عُمَرُ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں غالباً بنو مصطلق میں تھے کہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک مہاجر کا دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ مہاجرین جب مدینہ منورہ آئے تھے تو ان کی تعداد انصار سے کم تھی لیکن بعد میں ان کی تعداد بڑھ گئی۔ عبداللہ بن ابی کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ ایسا ہوگیا ہے واللہ ہم جب مدینہ منورہ پہنچیں گے جو زیادہ معزز ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا حضرت عمر نے یہ بات سن لی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑادوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر رہنے دو کہیں لوگ یہ باتیں نہ کرنے لگیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔

يَرَوْنَ ← کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي غَزْوَةٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← سفيان -يعني ابن عيينة- ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15293

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21078

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ أَبُو يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ قُلْنَا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ وَقَالَ تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَزْنِينَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ وَلَا تَعْصِينَهُ فِي مَعْرُوفٍ قُلْنَا نَعَمْ فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ وَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ الْعُتَّقَ وَالْحُيَّضَ وَنَهَى عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا وَسَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِهِ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَتْ نُهِينَا عَنْ النِّيَاحَةِ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے خواتین انصار کو ایک گھر میں جمع فرمایا پھر حضرت عمر کو ان کی طرف بھیجا وہ آکر اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور سلام کیا خواتین نے جواب دیا حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیاہوں ہم نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے قاصد کو خوش آمدید انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر بیعت کرتی ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤگی بدکاری نہیں کروگی اپنے بچوں کو جان سے نہیں ماروگی کوئی بہتان نہیں گھڑوگی اور کسی نیکی کے کام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کروگی ہم نے اقرار کرلیا اور گھر کے اندر سے ہاتھ بڑھا دیئے حضرت عمر نے باہر سے ہاتھ بڑھایا اور کہنے لگے کہ اے اللہ تو گواہ رہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا کہ عیدین میں کنواری اور ایام والی عورتیں بھی نماز کے لئے نکلا کریں اور جنازے کے ساتھ جانے سے ہمیں منع فرمایا اور یہ کہ ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے کسی خاتون نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے ولایعصینک فی معروف کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں ہمیں نوحہ سے منع کیا گیا ہے۔

جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ أَبُو يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21078

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24633

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَبِيًّا لِلْأَنْصَارِ لَمْ يَبْلُغْ السِّنَّ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ قَالَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ (ایک انصاری بچہ فوت ہو گیا تو) میں عرض کیا یا رسول اللہ! انصار کا یہ نابالغ بچہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہیں کوئی اور بات کہنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور یہ اسی وقت ہو گیا تھا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24633

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17634

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ قَالَ فَدَخَلَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ الْيَرْبُوعِيُّونَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى مَرَّتَيْنِ

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے، اپنی والدہ، والد، بہن بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کو دیتے رہا کرو، اسی اثناء میں بنو ثعلبہ بن یربوع کے کچھ لوگ آگئے، جنہیں دیکھ کر ایک انصاری کہنے لگا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ وہی یربوعی لوگ ہیں جنہوں نے فلاں آدمی کو قتل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا یاد رکھو! کسی شخص کے جرم کا ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔

رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← فَدَخَلَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ ← يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَهُوَ يَخْطُبُ ← أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17634

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21402

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ شَيْئًا وَإِنَّ أُبَيًّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ وَأُبَيٌّ يَقُولُ لَا أَدَعُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ بَعْدَ أُبَيٍّ كِتَابٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برسر منبرخطبہ دیتے ہوئے فرمایا علی ہم میں سب سے بڑے قاضی ہیں اور ابی ہم میں سب سے بڑے قاری ہیں اور ہم ابی کے لہجے میں بہت سی چیزیں چھوڑ دیتے ہیں اور ابی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے لہذا میں اسے نہیں چھوڑ سکتا حالانکہ اس کے بعد بھی قرآن نازل ہوتا رہا ہے۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَقَدْ نَزَلَ بَعْدَ أُبَيٍّ كِتَابٌ ← لَا أَدَعُ مَا ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أَشْيَاءَ وَأُبَيٌّ ← لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ شَيْئًا وَإِنَّ أُبَيًّا ← عَلِيٌّ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ أَقْرَؤُنَا ← خَطَبَنَا عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21402

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17645

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ السَّلُولِيُّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ لَا يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ (جو شرکاء حجۃ الوداع میں سے ہیں ) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم نے ارشاد فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، اور میرے حوالے سے یہ پیغام (جو مشرکین کے نام تھا) میں خود پہنچا سکتا ہوں یا پھر علی پہنچا سکتے ہیں ۔

يَحْيَى بْنُ آدَمَ السَّلُولِيُّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ← حُبْشِي بْنِ جُنَادَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17645

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17658

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ أَتَى نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْ قَوْمِكَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ مِنْهُمْ إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَةٍ نَبَتَتْ فِي كِبَاءٍ قَالَ حُسَيْنٌ الْكِبَاءُ الْكُنَاسَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَنَا قَالُوا أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ فَمَا سَمِعْنَاهُ قَطُّ يَنْتَمِي قَبْلَهَا أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ خَلْقِهِ ثُمَّ فَرَّقَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ الْفِرْقَتَيْنِ ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ بَيْتًا وَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ انصاری لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کی قوم سے بہت سی باتیں سنتے ہیں ، وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال تو اس درخت کی سی ہے جو کوڑا کرکٹ میں اگ آیا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں کون ہوں؟ انہوں نے کہا کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نسبی طور پر میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے قبل اس طرح نسبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو جب پیدا کیا تو مجھے سب سے بہترین مخلوق میں رکھا، پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے ان میں سے بہترین حصے میں رکھا، پھر انہیں قبیلوں میں تقسی کیا اور مجھے سب سے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر انہیں خانوادوں میں تقسیم کیا اور مجھے سب سے بہترین گھرانے میں رکھا، اور میں گھرانے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← يَزِيدُ: ← يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17658

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17690

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا يَرَاهَا أَحَدٌ بَعْدِي لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا صَبِيٌّ أَصَابَهُ بَلَاءٌ وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلَاءٌ يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ مَا أَدْرِي كَمْ مَرَّةً قَالَ نَاوِلِينِيهِ فَرَفَعَتْهُ إِلَيْهِ فَجَعَلتْهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثًا وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ الْقَيْنَا فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَأَخْبِرِينَا مَا فَعَلَ قَالَ فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلَاثٌ فَقَالَ مَا فَعَلَ صَبِيُّكِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا حَسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ فَاجْتَرِرْ هَذِهِ الْغَنَمَ قَالَ انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ قَالَ وَخَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْجَبَّانَةِ حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا قَالَ انْظُرْ وَيْحَكَ هَلْ تَرَى مِنْ شَيْءٍ يُوَارِينِي قُلْتُ مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيكَ إِلَّا شَجَرَةً مَا أُرَاهَا تُوَارِيكَ قَالَ فَمَا بِقُرْبِهَا قُلْتُ شَجَرَةٌ مِثْلُهَا أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا قَالَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللَّهِ قَالَ فَاجْتَمَعَتَا فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا فَرَجَعَتْ قَالَ وَكُنْتُ عِنْدَهُ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَهُ جَمَلٌ يُخَبِّبُ حَتَّى صَوَّبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ وَيْحَكَ انْظُرْ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا قَالَ فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا فَقَالَ وَمَا شَأْنُهُ قَالَ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا شَأْنُهُ عَمِلْنَا عَلَيْهِ وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ حَتَّى عَجَزَ عَنْ السِّقَايَةِ فَأْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ هَبْهُ لِي أَوْ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَوَسَمَهُ بِسِمَةِ الصَّدَقَةِ ثُمَّ بَعَثَ بِهِ

حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ایسے معجزے دیکھے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے اور نہ بعد میں کوئی دیکھ سکے گا، چنانچہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر نکلا، دوران سفر ہمارا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں ، دن میں نجانے کتنی مرتبہ اس پر اثر ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مجھے پکڑا دو، اس نے پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنے اور کجاوے کے درمیان بٹھا لیا، پھر اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں ، اے دشمن خدا! دور ہو، یہ کہہ کر وہ بچہ اس کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا جب ہم اس جگہ سے واپس گذریں تو ہمارے پاس اسے دوبارہ لانا اور بتانا کہ اب اس کی حالت کیسے رہی؟ پھر ہم آگے چل پڑے، واپسی پر جب ہم دوبارہ وہاں پہنچے تو ہمیں اس جگہ پر اس عورت کے ساتھ تین بکریاں بھی نظر آئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارا بچہ کیسا رہا؟ اس نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تک ہمیں اس کی بیماری محسوس نہیں ہوئی ہے ( اور یہ صحیح ہے) یہ بکریاں آپ لے جائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیچے اتر کر اس میں سے صرف ایک بکری لے لو اور باقی اسے واپس لوٹا دو۔ اسی طرح ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحراء کی طرف نکلا، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، تمہیں کوئی جگہ نہیں دکھائی دے رہی اور بظاہر یہ درخت بھی آڑ نہیں بن سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کے قریب کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اسی جیسا یا اس کے قریب قریب ہی ایک اور درخت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے اکٹھے ہو جاؤ، چنانچہ وہ دونوں اکٹھے ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت فرمائی، پھر واپس آکر فرمایا ان سے جا کر کہہ دو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی اپنی جگہ چلے جاؤ، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، یہ اونٹ کس کا ہے؟ اس کا معاملہ عجیب محسوس ہوتا ہے، چنانچہ میں اس کے مالک کی تلاش میں نکلا، مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک انصاری آدمی کا ہے، میں نے اسے بلایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ واللہ مجھے اور تو کچھ معلوم نہیں ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم اس پر کام کرتے تھے اور اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، لیکن اب یہ پانی لانے سے عاجز آگیا تھا، اس لئے ہم نے آج رات یہ مشورہ کیا کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کر دیتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کرو، یہ ہدیۃ مجھے دے دو، یا قیمۃ دے دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ آپ کا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کی علامت لگائی اور اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔

يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17690

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24821

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيَّ خَطِيبًا وَمَا عَلِمْتُ بِهِ فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي نَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي سُوءًا قَطُّ وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْ رَهْطِ ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَ كَذَبْتَ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كَانُوا مِنْ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ حَتَّى كَادُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ فِي الْمَسْجِدِ شَرٌّ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ فَعَثَرَتْ فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ فَسَكَتَتْ فَعَثَرَتْ الثَّانِيَةَ فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ثُمَّ عَثَرَتْ الثَّالِثَةَ فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَانْتَهَرْتُهَا فَقُلْتُ عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَسُبُّهُ إِلَّا فِيكِ فَقُلْتُ فِي أَيِّ شَأْنِي فَذَكَرَتْ لِي الْحَدِيثَ فَقُلْتُ وَقَدْ كَانَ هَذَا قَالَتْ نَعَمْ وَاللَّهِ فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَكَانَ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ لَمْ أَخْرُجْ لَهُ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا وَوَعَكْتُ فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلْنِي إِلَى بَيْتِ أَبِي فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ فَدَخَلْتُ الدَّارَ فَإِذَا أَنَا بِأُمِّ رُومَانَ فَقَالَتْ مَا جَاءَ بِكِ يَا ابْنَتَهْ فَأَخْبَرْتُهَا فَقَالَتْ خَفِّضِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتْ امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ تَكُونُ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا حَسَدْنَهَا وَقُلْنَ فِيهَا قُلْتُ وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي قَالَتْ نَعَمْ قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْبَرْتُ فَبَكَيْتُ فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَنَزَلَ فَقَالَ لِأُمِّي مَا شَأْنُهَا قَالَتْ بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ أَمْرِهَا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ يَا ابْنَتَهْ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى بَيْتِكِ فَرَجَعْتُ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي فَلَمْ يَزَالَا عِنْدِي حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَدْ اكْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَتَشَهَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ سُوءًا وَظَلَمْتِ تُوبِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَقَدْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَهِيَ جَالِسَةٌ بِالْبَابِ فَقُلْتُ أَلَا تَسْتَحْيِي مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَقُولَ شَيْئًا فَقُلْتُ لِأَبِي أَجِبْهُ فَقَالَ أَقُولُ مَاذَا فَقُلْتُ لِأُمِّي أَجِيبِيهِ فَقَالَتْ أَقُولُ مَاذَا فَلَمَّا لَمْ يُجِيبَاهُ تَشَهَّدْتُ فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قُلْتُ أَمَّا بَعْدُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ وَاللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ يَشْهَدُ إِنِّي لَصَادِقَةٌ مَا ذَاكَ بِنَافِعِي عِنْدَكُمْ لَقَدْ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُكُمْ وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْ لَتَقُولُنَّ قَدْ بَاءَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ وَمَا أَحْفَظُ اسْمَهُ صَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ فَأُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَتَئِذٍ فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَسْتَبِينُ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَقُولُ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ فَكُنْتُ أَشَدَّ مَا كُنْتُ غَضَبًا فَقَالَ لِي أَبَوَايَ قُومِي إِلَيْهِ قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا أَحْمَدُكُمَا لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي فَسَأَلَ الْجَارِيَةَ عَنِّي فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَنَامُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ خَمِيرَتَهَا أَوْ عَجِينَتَهَا شَكَّ هِشَامٌ فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَالَ اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ قَالَ عُرْوَةُ فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَى مَنْ قَالَهُ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ وَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَى قَطُّ فَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَمَّا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَعَصَمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِدِينِهَا فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا فِيهِ الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ كَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ ومِسْطَحٌ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَ مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ يَعْنِي مِسْطَحًا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى وَاللَّهِ إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ يُغْفَرَ لَنَا وَعَادَ أَبُو بَكْرٍ لمِسْطَحٍ بِمَا كَانَ يَصْنَعُ بِهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب میرے متعلق لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے اور جن کا مجھے علم نہیں تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے، شہادتین کا اقرار کیا، اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کی جو اس کے شایان شان ہو ، اور امابعد کہہ کر فرمایا کہ مجھے ان لوگوں کے متعلق مشورہ دو جنہوں نے میرے گھر والوں پر الزام لگایا ہے، واللہ میں اپنے گھر والوں پر اور جس شخص کے ساتھ لوگوں نے انہیں متہم کیا ہے، کوئی برائی نہیں جانتا واللہ وہ جب بھی میرے گھر آیا ہے، میری موجودگی میں ہی آیا ہے اور میں جب بھی سفر پر گیا ہوں وہ میرے ساتھ رہا ہے، یہ سن کر حضرت سعد بن معا ذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ہماری رائے یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گردنیں اڑا دیں پھر قبیلہ خزرج کا ایک آدمی کھڑا ہوا، ام حسان بن ثابت اسی شخص کے گروہ میں تھی، اور کہنے لگا کہ آپ غلط کہتے ہیں، اگر ان لوگوں کا تعلق قبیلہ اوس سے ہو تا تو آپ ان کی گردنیں اڑائے جانے کو کبھی اچھا نہ سمجھتے، قریب تھا کہ مسجد میں ان دونوں گروہوں کے درمیان لڑائی ہوجاتی۔ بہر حال! اسی دن کی شام کو میں قضاءِ حاجت کے لئے نکلی ، میرے ساتھ ام مسطح تھیں، راستے میں ان کا پاؤں چادر میں الجھا اور وہ گر پڑیں، ان کے منہ سے نکلا مسطح ہلاک ہو، میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو کیوں برا بھلا کہہ رہی ہیں؟ وہ خاموش ہوگئیں، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآ خر انہوں نے کہا کہ میں تو اسے تمہاری وجہ سے ہی برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے ان سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے مجھے ساری بات بتائی، میں نے ان سے پوچھا کیا واقعی اس طرح ہوچکا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! جب میں اپنے گھر آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سلام کرکے حال دریافت کیا تو میں نے کہا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں وہاں جانے سے میری غرض یہ تھی کہ والدین سے یقینی خبر مجھے معلوم ہوجائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ سے جاکر پوچھا اماں لوگ کیا چرچا کررہے ہیں۔ والدہ نے کہا بیٹی تم کو گھبرانا نہ چاہیے اللہ کی قسم اکثر ایسا ہو تا ہے کہ جو عورت خوبصورت ہوتی ہے اور اپنے شوہر کی چہیتی ہو تی ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو سوکنیں ہمیشہ اس میں عیب نکالتی رہتی ہیں۔ سبحان اللہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا والد صاحب کو اس کا علم ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے پوچھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی؟ انہوں نے کہا ہاں! اس پر میرے آنسو نکل آئے اور میں رونے لگی، والد صاحب جو گھر کے اوپر تلاوت کر رہے تھے، انہوں نے میری آواز سنی تو نیچے آکر والدہ سے پوچھا اسے کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ اسے بھی وہ واقعہ معلوم ہو گیا ہے اس لئے رو رہی ہے، انہوں نے فرمایا بیٹا! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اپنے گھر واپس چلی جاؤ، چنانچہ میں چلی گئی، تھوڑی دیر بعد وہ دونوں میرے یہاں آگئے، اور میرے پاس ہی رہے یہاں تک کہ عصر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عصر کے بعد تشریف لے آئے، میرے دائیں بائیں میرے والدین تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر کلمہ شہادت پڑھا اور حمدوثناء کے بعد فرمایا: عائشہ !میں نے تیرے حق میں اس قسم کی باتیں سنی ہیں اگر تو گناہ سے پاک ہے تو عنقریب اللہ تعالیٰ تیری پاک دامنی بیان کردے گا اور اگر تو گناہ میں آلودہ ہوچکی ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی کی طالب ہو اور اسی سے توبہ کر کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کر کے توبہ کر تا ہے تو خداتعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہ معاف کر دیتا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ کلام کرچکے تو میرے آنسو بالکل تھم گئے اور ایک قطرہ بھی نہ نکلا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے حضرت کو جواب دیجئے۔ والد نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ کیا جواب دوں۔ میں نے والدہ سے کہا تم جواب دو انہوں نے بھی یہی کہا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتی کیا جواب دوں۔ میں اگرچہ کم عمر لڑکی تھی اور بہت قرآن بھی پڑھی نہ تھی لیکن میں نے کہا اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ یہ بات آپ نے سنی ہے اور یہ آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے۔ اس لئے اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آسکتا اور اگر میں ناکردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کروں (اور اللہ گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں) تو آپ مجھ کو سچا جان لیں گے اللہ کی قسم مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب علیہ السلام کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا فَصَبرُ جَمِیلُ وَاللَہُ المُستَعَا نُ عَلَی ماَ تَصِفُونَ۔ اسی وقت آپ پر اپنی کیفیت کے ساتھ وحی نازل ہوئی یہاں تک کہ چہرہ مبارک سے موتیوں کی طرح پسینہ ٹپکنے لگا حالانکہ یہ واقعہ موسم سرما کا تھا جب وحی کی حالت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے سب سے پہلے یہ الفاظ فرمائے عائشہ اللہ تعالیٰ نے تیری پاک دامنی بیان فرما دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تعظیم دے اور آپ کا شکریہ ادا کر کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ تیری پاک دامنی کا اظہار کیا۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں اٹھوں گی اور نہ کسی کا شکریہ یا تعریف سوائے اللہ کے کروں گی کیونکہ اسی نے میری پاک دامنی کا اظہار کیا ہے۔ قبل ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر بھی آئے تھے اور باندی سے میرے متعلق دریافت فرمایا: اس نے کہا کہ میں اس میں کوئی عیب نہیں جانتی ، صرف اتنی بات ضرور ہے کہ وہ سوتی ہے تو پیچھے سے بکری آکر اس کا گوندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے، کسی آدمی نے اسے ڈانٹ کر کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ بیان کرو، اس نے کہا واللہ میں اس کے متعلق اسی طرح جانتی ہوں جیسے سنار سرخ سونے کے ٹکڑے کے متعلق جانتا ہے، اور جس آدمی کے متعلق یہ بات کہی گئی تھی جب اسے یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے کہا سبحان اللہ! واللہ میں نے تو کسی عورت کا پردہ اٹھا کر کبھی دیکھا ہی نہیں، پھر وہ اللہ کے راستہ میں شہید ہو گیا تھا، البتہ زینب بنت جحش کو اللہ نے ان کے دین کی وجہ سے بچا لیا اور انہوں نے اچھی بات ہی کہی، لیکن ان کی بہن حمنہ ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہو گئی، اس مسئلے میں منافق عبداللہ بن ابی"جو سب سے آگے تھا مسطح اور حسان بن ثابت ملوث تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مسطح بن اثاث کو رشتہ داری اور اس کی غربت کی وجہ سے مصارف دیا کرتے تھے لیکن آیت مذکورہ کو سن کر کہنے لگے اللہ کی قسم اب میں کبھی اس کو کوئی چیز نہ دوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی "وَ لاَ یَاتَلِ اُولوُالفَضلِ مِنُکم الی قولہ غَفُور رَحیِم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگے اللہ کی قسم میں دل سے چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرما دے۔ یہ کہہ کر پھر مسطح کو وہی خرچ دینے لگے جو پہلے دیا کر تے تھے اور فرمایا اللہ کی قسم اب میں کبھی خرچ بند نہیں کروں گا۔ ی

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24821

chevron_left Previous
1…535455…1,275
Next chevron_right