Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الصحابة وآل البيت

Sahabah & Ahl al-Bayt

25488 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11421

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ عَنْ هِلَالِ بْنِ حِصْنٍ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ قَالَ فَحَدَّثَ أَنَّهُ أَصْبَحَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنْ الْجُوعِ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَوْ أُمُّهُ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ فَقَالَ قُلْتُ حَتَّى أَلْتَمِسَ شَيْئًا قَالَ فَالْتَمَسْتُ فَأَتَيْتُهُ قَالَ حَجَّاجٌ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَخْطُبُ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ اسْتَعَفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَغْنَى يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَنَا إِمَّا أَنْ نَبْذُلَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِيَهُ أَبُو حَمْزَةَ الشَّاكُّ وَمَنْ يَسْتَعِفُّ عَنَّا أَوْ يَسْتَغْنِي أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّنْ يَسْأَلُنَا قَالَ فَرَجَعْتُ فَمَا سَأَلْتُهُ شَيْئًا فَمَا زَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْزُقُنَا حَتَّى مَا أَعْلَمُ فِي الْأَنْصَارِ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْثَرَ أَمْوَالًا مِنَّا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ حِصْنٍ أَخَا بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ دَارَ أَبِي سَعِيدٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

بلال بن حصن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا، ایک موقع پر ہم دونوں بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن جب صبح ہوئی تو انہوں نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا، ان کی بیوی یا والدہ نے ان سے کہا کہ فلاں فلاں آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر امداد کی درخواست کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دیا لہٰذا تم بھی جا کر ان سے درخواست کرو، میں نے کہا کہ میں پہلے تلاش کرلوں کہ میرے پاس جو کچھ ہے تو نہیں ، تلاش کے بعد جب مجھے کچھ نہ ملا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تے جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے، اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یا پھر اس سے غمخواری کریں گے، یہ سن کر آدمی واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا اس کے بعد اللہ نے ہمیں اتنا رزق عطاء فرمایا کہ اب میرے علم کے مطابق انصار میں ہم سے زیادہ مالدار گھرانہ کوئی نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

فَحَدَّثَ ← نَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ ← هِلَالِ بْنِ حِصْنٍ، ← أَبَا حَمْزَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11421

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11427

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَبْغُضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔

لاَ يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِر ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11427

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11568

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ خَطَبَهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُجِيبُونَنِي أَلَا تَقُولُونَ أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَأَتَيْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاكَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبُقْرَانِ يَعْنِي الْبَقَرَ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُدْخِلُونَهُ بُيُوتَكُمْ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً سَلَكْتُ وَادِيَكُمْ أَوْ شُعْبَتَكُمْ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ انصاری لوگ جمع ہو کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر دوسروں کو ترجیح دینے لگے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انصار کو جمع کیا اور ان کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے گروہِ انصار! کیا تم ذلت کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں عزت عطاء فرمائی؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟ کیا تم میرے متعلق یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس اس حال میں تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا ، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ؟ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اور تم لوگ میرے بعد بھی ترجیحات دیکھو گے، اس موقع پر صبر کرنا تاآنکہ تم مجھ سے حوضِ کوثر پر آملو۔

صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ ← أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ ← صدق الله ورسوله ← أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ ← صدق الله ورسوله ← يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمْ اللَّهُ ← آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ خَطَبَهُمْ ← اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11568

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11626

حَدَّثَنَا سَيَّارٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُزَنِيُّ وَكَانَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّ بَعْضَنَا لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنْ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَنَحْنُ نَسْمَعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدَ فِينَا لِيَعُدَّ نَفْسَهُ مَعَهُمْ فَكَفَّ الْقَارِئُ فَقَالَ مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَحَلَّقَ بِهَا يُومِئُ إِلَيْهِمْ أَنْ تَحَلَّقُوا فَاسْتَدَارَتْ الْحَلْقَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي قَالَ فَقَالَ أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ الصَّعَالِيكِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، ہم لوگ ایک دوسرے سے اپنی شرمگاہیں چھپا رہے تھے، اور ایک قاری صاحب ہمارے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے اور ہم اسے سن رہے تے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان آکر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ان کے ساتھ شمار کر سکیں ، قاری صاحب ایک دم رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے قاری صاحب ہمیں قرآن کریم کی تلاوت سنا رہے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنانے کا اشارہ کیا، وہ لوگ حلقے کی شکل میں گھوم گئے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا اور فرمایا اے غریبوں کے گروہ! خوش ہو جاؤ کہ تم لوگ مالداروں سے پانچ سو سال " جو قیامت کا نصف دن ہوگا" پہلے جنت میں داخل ہوگے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُزَنِيُّ وَكَانَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ بَكَّاءً عِنْدَ ال ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11626

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14294

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَوْعِيَةِ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ فَلَا بُدَّ لَنَا قَالَ فَلَا إِذًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا توانصار کہنے لگے کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر نہیں۔

«فَلَا إِذَا» ← الْأَوْعِيَةِ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ فَلَا بُدَّ لَنَا ← لَمَّا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14294

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14324

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مَنْ يَشْتَرِيهِ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ وَقَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور با سعادت میں جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی کا کوئی مال نہ تھا میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا نعیم بن عبداللہ نے اسے اٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیسے اس شخص کو دیدیئے اور فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کوئی تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کرے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کرے۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14324

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14362

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مُدَبَّرًا فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ دَبَّرَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام کو بیچا جسے ابن نحام نے خرید لیا وہ قبطی غلام تھا اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی خلافت کے پہلے سال ہی فوت ہو گیا تھا اسے ایک انصاری نے مدبر بنا لیا تھا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا۔

عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14362

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14415

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنَّ لِي خَادِمًا تَسْنَى وَقَالَ مَرَّةً تَسْنُو عَلَى نَاضِحٍ لِي وَإِنِّي كُنْتُ أَعْزِلُ عَنْهَا وَأُصِيبُ مِنْهَا فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّرَ اللَّهُ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھی بھر کر لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس جا کر " چکر " بھی لگاتا ہوں اور عزل بھی کرتا ہوں اس کے باوجود اس کے یہاں بچہ پیدا ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس نفس کو پید اکرنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ تو پیدا ہو کر رہے گا۔

إِنَّ لِي خَادِمًا تَسْنَى ← أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14415

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14460

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مر جائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14460

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14493

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي بَنِي سَلِمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ هَذَا الْعَامَ قَالَ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلَ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَشْرٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ أَهِلِّي فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَلَبَّى النَّاسُ وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ مِنْ الْكَلَامِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمْ شَيْئًا فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِهِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ جَابِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَاسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي جَعْفَرًا فَقَرَأَ فِيهَا بِالتَّوْحِيدِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَصَدَقَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلَامِ ثُمَّ نَزَلَ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا فَلَمَّا كَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ وَهُوَ فِي أَسْفَلِ الْمَرْوَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فَقَالَ لِلْأَبَدِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَدِمَ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِي هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ قُلْتُ إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ وَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ أَبِي قَالَ صَدَقَتْ صَدَقَتْ صَدَقَتْ أَنَا أَمَرْتُهَا بِهِ قَالَ جَابِرٌ وَقَالَ لِعَلِيٍّ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ وَمَعِي الْهَدْيُ قَالَ فَلَا تَحِلَّ قَالَ فَكَانَتْ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ وَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَ قَدْ وَقَفْتُ هَاهُنَا وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ

امام باقر فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ بنوسلمہ میں تھے ہم نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول نو برس مدینہ میں رہے حج نہیں کیا ہجرت کے بعد دسویں سال آپ نے لوگوں میں اعلان کروادیا کہ اللہ کے رسول حج کرنے والے ہیں تو مدینہ میں بہت لوگ آئے ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور تمام اعمال آپ کی مانند کریں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیس ذی قعدہ کو نکلے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی تو انہوں نے وہی سے کسی کو بھیج کر اللہ کے رسول سے دریافت کیا کہ کیا کروں فرمایا کہ نہا لو اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر احرام باندھ لو خیر آپ قصوی اونٹنی پر سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی مقام بیضاء میں سیدھی ہوئی آپ نے کلمہ تو حید پکارا اور یہ کہا لبیک اللھم لبیک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لوگوں نے بھی یہی تلبیہ کیا جو آپ نے کیا کچھ لوگوں نے اس میں ذی المعارج وغیرہ کا بھی اضافہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے سنتے بھی رہے لیکن انہیں کچھ نہیں کہا میں نے تاحد نگاہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں دائیں پیدل اور سوار دیکھے یہی حال پیچھے دائیں اور بائیں کا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے ان پر قرآن نازل ہوتا تھا وہ اس کا مطلب جانتے تھے لہذا وہ جو بھی کرتے ہم بھی اس طرح کرتے تھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہماری نیت صرف حج کی تھی جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے پھر مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعتیں پڑھ کر فرمایا " واتخذو من مقام ابراہیم مصلی' اور آپ نے ان دو رکعتوں میں " قل یا ایھا الکافرون " اور قل ھو اللہ احد پڑھی پھر بیت اللہ کے قریب واپس آئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور دروازے سے صفا کی طرف نکلے جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی" ان الصفا والمروۃ من شعائراللہ " ہم بھی اسی سے ابتداء کریں گے جسے اللہ نے پہلے ذکر فرمایا چنانچہ آپ نے صفاسے ابتداء کی صفا پر چڑھے جب بیت اللہ پر نظر پڑی توتکبیر کہہ کر فرمایا لا الہ اللہ وحدہ لاشریک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔ ۔ پھر اس کے درمیان یہ دعاکی اور یہی کلمات تین بار دہرائے پھر وہ مروہ کی طرف چلے جب آپ کے پاؤں وادی کے نشیب میں اترنے لگے تو آپ نے نشیب میں رمل کیا (کندھے ہلا کر تیز چلے) جب اوپر چڑھنے لگے تو پھر معمول کی رفتار سے چلنے لگے اور مروہ پر بھی وہی کیا جو صفاپر کیا جب آپ نے مروہ پر ساتواں چکرلگالیا تو فرمایا اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی اپنے ساتھ نہ لاتا اور حج کو عمرہ میں بدل دیتا تو تم میں سے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے اور اس حج کو عمرہ میں بدل لے توسب لوگ حلال ہو گئے پھر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کی یہ حکم ہمیں اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تو اللہ کے رسول نے انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر فرمایا عمرہ حج میں اس طرح داخل ہوگیا ہے پھر تین مرتبہ فرمایا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے اور حضرت علی یمن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں لے کرپہنچے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ حلال ہو کر رنگین کپڑے پہنے ہوئے سرمہ لگائے ہوئے ہیں تو انہیں اس پر تعجب ہوا حضرت فاطمہ نے کہا میرے والد نے مجھے یہی حکم دیا ہے حضرت علی کوفہ میں فرمایا کرتے تھے اس کے بعد میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا فاطمہ کے اس عمل پر غصہ کی حالت میں اور اللہ کے رسول سے وہ بات پوچھنے کے لئے جوفاطمہ نے ان کے حوالہ سے ذکر کی کہ ایام حج میں حلال ہو کر رنگین کپڑے اور سرمہ لگائیں تو آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا پھر فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا حضرت علی فرماتے ہیں میں نے کہا اے اللہ میں بھی وہی احرام باندھتا ہوں جو آپ کے رسول نے احرام باندھا تھا آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ تو ہدی ہے تو تم بھی حلال مت ہونا اور حضرت علی یمن سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے جو اونٹ لائے تھے سب ملا کر سو ہو گئے پھر آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے اور باقی علی کرم اللہ وجہہ کو دیدیئے جوانہوں نے نحر کیا اور ان کو آپ نے اپنی ہدی میں شریک کر لیا پھر آپ کے حکم کے مطابق ہر اونٹ سے گوشت کا ایک پارچہ لے کر ایک دیگ میں ڈال کر پکایا گیا پھر آپ اور حضرت علی نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر اللہ کے رسول نے فرمایا میں نے قربانی یہاں کی ہے اور منی پورا ہی قربان گاہ ہے اور عرفات میں وقوف کر کے فرمایا میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پوراعرفات ہی وقوف کی جگہ ہے اور مزدلفہ میں وقوف کر کے فرمایا میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔

حَجَّةِ النَّبِيِّ فَحَدَّثَنَا ← أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ فِي بَنِي سَلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14493

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14510

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بعُكَاظٍ وَمَجَنَّةَ وَفِي الْمَوَاسِمِ بِمِنًى يَقُولُ مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ كَذَا قَالَ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِجَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُكَ قَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمْ الْجَنَّةُ قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ فَقَالَ رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنَّ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جَبِينَةً فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ عُذْرٌ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ قَالُوا أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا وَشَرَطَ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ ضَاحِيَةً مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ فِي كَلَامِ أَسْعَدَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منی میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جا جا کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے انکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہو جاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایساباقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے ، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شر ط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں سے نکال کر لے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہاراجروثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذراسی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کر دو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو بخداہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پرہم سے بیعت لے لی۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14510

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14521

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرٌ قَالَ اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ كَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَقَالَ لَا بَأْسَ لِيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نُصْرَةٌ وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجرنے مہاجرین کو اور انصارنے انصارکو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں لوگوں نے بتایابخدا ایسی کوئی بات نہیں ہے البتہ دونوں غلاموں نے ایک دوسرے کو دھتکار دیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے انسان کوچاہے کہ اپنے بھائی کی مدد کرے خواہ ظالم ہو یا مظلوم ، اگر ظالم ہو تو اسے ظلم سے روکے یہی اس کی مدد ہے اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔

لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ كَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ← أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ← الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ← الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ← اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ← جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14521

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1745

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ فِي حَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ فَدَخَلَ يَوْمًا حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ قَدْ أَتَاهُ فَجَرْجَرَ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ قَالَ بَهْزٌ وَعَفَّانُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَاتَهُ وَذِفْرَاهُ فَسَكَنَ فَقَالَ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ فَجَاءَ فَتًى مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَمَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَهَا اللَّهُ إِنَّهُ شَكَا إِلَيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ

It was narrated that 'Abdullah bin Ja'far said: One day the Messenger of Allah (PBUH) seated me behind him on his mount, then he told me something in secret that I will never tell to anyone. When he relieved himself, what the Messenger of Allah (PBUH) liked best to conceal himself with was a small hill or a duster of date palms. One day he entered one of the gardens of the Ansar where he found a camel that came to him, groaning with tears in its eyes. - Bahz and 'Affan said: When it saw the Prophet (PBUH) it groaned with tears in its eyes. - The Messenger of Allah (PBUH) stroked its back and behind its ears and it calmed down. He said: "Who is the owner of this camel?" A young man of the Ansar came and said: It belongs to me, O Messenger of Allah. He said: "Do you not fear Allah with regard to this animal that Allah has put in your possession? It is complaining to me that you keep it hungry and overburden it with work."

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيٌّ، ← بهز وعفان ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1745

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1754

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَتَهُ وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ كَانَ أَحَبَّ مَا تَبَرَّزَ فِيهِ هَدَفٌ يَسْتَتِرُ بِهِ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَإِذَا فِيهِ نَاضِحٌ لَهُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ وَسَرَاتَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ فَجَاءَ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللَّهُ إِيَّاهَا فَإِنَّهُ شَكَاكَ إِلَيَّ وَزَعَمَ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ ثُمَّ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَائِطِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ لِحْيَتِهِ عَلَى صَدْرِهِ فَأَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا فَحَرَّجْنَا عَلَيْهِ أَنْ يُحَدِّثَنَا فَقَالَ لَا أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ

It was narrated that 'Abdullah bin Ja'far said: The Messenger of Allah (PBUH) rode on his mule, and he seated me behind him. When the Messenger of Allah (PBUH) relieved himself, what he liked best to conceal himself with was a small hill or a Hadeeth of 'Abdullah bin Ja'far (RA)cluster of date palms. He entered a garden belonging to a man of the Ansar where he found a camel. When it saw the Prophet (PBUH) it groaned with tears in its eyes. - The Messenger of Allah (PBUH) dismounted and stroked behind its ears and on its back and it calmed down. He said: "Who is the owner of this camel?” A young man of the Ansar came and said: Me. He said: "Do you not fear Allah with regard to this animal that Allah has put in your possession? It is complaining to me that you keep it hungry and overburden it with work." Then the Messenger of Allah (PBUH) went into the garden and relieved himself, then he did ivudoo' and came, with the water dripping from his beard onto his chest, and he told me something secret that I shall never tell to anyone. We insisted that he tell us, but he said: I shall not disclose the secret of the Messenger of Allah until I meet Allah.

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1754

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14573

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ الرَّجُلُ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ مَاءً فِي قَدَحٍ ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصار کے گھر تشریف لے گئے اور جا کر سلام کیا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے توٹھیک ہے ورنہ ہم لوگ منہ لگا کرپی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے با غ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے پی لیا۔

جَابِرٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14573

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1775

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نَعَامَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ الْعَبَّاسُ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا وَهُوَ لَا يَأْلُو مَا أَسْرَعَ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبَّاسُ نَادِ يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ قَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ وَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ فَاقْتَتَلُوا هُمْ وَالْكُفَّارُ فَنَادَتْ الْأَنْصَارُ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَصَّرَتْ الدَّاعُونَ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَادَوْا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا حَتَّى هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ

Katheer bin 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib narrated that his father al-'Abbas said: I was present with the Messenger of Allah (PBUH) on the day of Hunain. I saw the Messenger of Allah (PBUH)and there was no one with him except me and Abu Sufyan bin al- Harith bin 'Abdul-Muttalib. We stayed close to the Messenger of Allah (PBUH) and did not leave him. He was riding a grey mule of his and perhaps Ma'mar said: white - that had been given to him by Farwah bin Na'amah al-Judhami. When the Muslims and the kujfar met, the Muslims turned and fled, but the Messenger of Allah spurred his mule towards the kuffar. Al-'Abbas said: I was holding on to the reins of the mule of the Messenger of Allah (PBUH), trying to restrain it, but he was rushing towards the mushrikeen, and Abu Sufyan bin al-Harith was holding on to the stirrup of the Messenger of Allah (PBUH). The Messenger of Allah (PBUH) said: "O 'Abbas, call out: O people of as- Sainurah 111 I was a man with a loud voice, so I said at the top of my voice: Where are the people of as-Samurah? He said: By Allah, when they heard my voice, they came back like cows coming back to their calves, saying: "Here we are, here we are, here we are!" The Muslims came and fought with the kujfar, then the call went out to the Ansar: O Ansar! And the last to be called were Banul-Harith bin al- Khazraj. They said: O Banul-Harith bin al-Khazraj! The Messenger of Allah(PBUH), seated on his mule. As-Siunurah : this was the tree beneath which they swore the bai'ah (oath of allegiance) of ar-Ridwan. craned his neck to watch the fighting, and the Messenger of Allah (PBUH) said: "Now the battle is raging." Then the Messenger of Allah (PBUH) took some pebbles and flung them at the faces of the kuffar, then he said: "They are defeated, by the Lord of the Ka'bah, they are defeated by the Lord of the Ka'bah!" Then I went and looked, and saw that the fighting was as it had been before, as far as I could see. He said: By Allah, as soon as the Messenger of Allah (PBUH) threw the pebbles at them, their force was spent and they began to etreat, until Allah defeated them. He said: It is as if I can see the Prophet (PBUH), pursuing them on his mule. ,

أبيه العباس ← كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1775

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1782

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ فَقَالَ لِعُمَرَ هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٍ وَالزُّبَيْرِ يَسْتَأْذِنُونَ قَالَ نَعَمْ ائْذَنْ لَهُمْ قَالَ فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا قَالَ ثُمَّ لَبِثَ يَرْفَأُ قَلِيلًا فَقَالَ لِعُمَرَ هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَلَمَّا دَخَلَا عَلَيْهِ جَلَسَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اتَّئِدُوا فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ قَالَ الرَّهْطُ قَدْ قَالَ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ قَالَا قَدْ قَالَ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ الْآيَةَ فَكَانَتْ هَذِهِ الْآيَةُ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ مِنْهُ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَعَمِلَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَأَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالَا نَعَمْ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهَا كَذَا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهَا لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ

Malik bin Aws bin al- Hadathan an-Nasri narrated... and he mentioned the same hadeeth. He said: Whilst we were sitting with him, his doorkeeper Yarfa' came to him and said to 'Umar: Will you give permission to 'Usman, ' Abdul Rahman, Saad and az- Zubair to come in? He said: Yes, let them in. So they came in and greeted him and sat down. Then after a while Yarfa' said to 'Umar: Will you give permission to 'Ali and 'Abbas to enter? He said: Yes, let them in. When they came in, they sat down and Abbas said: O Ameer al-Mu'mineen, judge between me and 'Ali (RA) . The people, 'Usman and his companions, said: Judge between them and let them settle the matter. 'Umar (PBUH) said: Wait a minute. I adjure you by Allah, by Whose leave heaven and earth exist, do you now that the Prophet (PBUH) said: "We are not to be inherited from; what we leave behind is charity," referring to himself? They said: He did say that. Then 'Umar turned to 'Ali and al-' bbas and said: I adjure you by Allah, do you know that the Prophet (PBUH) said that? They said: He did say that. 'Umar said: I shall tell you about this mtter: Allah, may He be glorified and exalted, bestowed this fai' exclusively upon His messenger. And Allah, may He be exalted, said: "And what Allah gave as booty to His Messenger (Muhammad (PBUH)) from them - for this you made no expedition with either cavalry or camelry. But Allah gives power to His Messengers over whomsoever He wills. And Allah is Able to do all things" [al-Hashr 59:6]. This verse was only for the Messenger of Allah (PBUH). Moreover, by Allah, he did not keep it for himself and he did not prefer himself over you with regard to it. He gave it to you and distributed it among you until there was left of it this property. The Messenger of Allah (PBUH) used to take the annual expenditure of his family from this property, then he would take whatever was left and regard it as wealth belonging to Allah. The Messenger of Allah (PBUH) did that during his lifetime. I adjure you by Allah, do you know this? They said: Yes. He said to 'Ali and 'Abbas: I adjure you by Allah, do you know this? they said: Yes. Then the Messenger of Allah (PBUH) died, and Abu Bakr said: I am the successor of the Messenger of Allah (PBUH), so Abu Bakr took control of it and did the same with it as the Messenger of Allah (PBUH) had done. And now you - and he turned to 'Ali and 'Abbas - are claiming that Abu Bakr did such and such, but Allah knows best that he was sincere, righteous and guided to the truth in the way he dealt with it.

الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ ← عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَلِيٍّ ← نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَلَمَّا دَخَلَا عَلَيْهِ جَلَسَا ← لِعُمَرَ هَلْ لَکَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ ← ثُمَّ لَبِثَ يَرْفَأُ قَلِيلًا ← فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا ← نَعَمْ ائْذَنْ لَهُمْ ← لِعُمَرَ هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٍ وَالزُّبَيْرِ يَسْتَأْذِنُونَ ← جَالِسٌ عِنْدَهُ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ ← فَبَيْنَا ← الْحَدِيثَ. ← مالك بن أوس بن الحدثان النصري ← عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1782

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14604

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ ثُمَّ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ ثُمَّ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں کھانے کی دعوت میں شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اس وقت میں نے دیکھا کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کے پودوں کے نیچے سے سر نکال کر دیکھنے لگے کہ اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔

اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا فَدَخَلَ عَلِيٌّ فَهَنَّيْنَاهْ ← «يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ، ← يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ فَهَنَّيْنَاهْ ثُمَّ ← النَّبِيُّ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَهَنَّيْنَاهْ ثُمَّ ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا. ← جَابِرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14604

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14638

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ أَفِي الْعَقْرَبِ رُقْيَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ کیا میں بچھو کے ڈنگ کا جھا ڑ پھونک کے ذریعے علاج کرسکتاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتاہو اسے ایساہی کرنا چاہئے۔

أفي العقرب رقية؟ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حُجَيْنٌ وَيُونُسُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14638

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14686

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَاجْتَمَعَ قَوْمُ ذَا وَقَوْمُ ذَا وَقَالَ هَؤُلَاءِ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ هَؤُلَاءِ يَا لَلْأَنْصَارِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑپرے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آوازیں سن کا باہر تشریف لائے اور فرمایا ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں ؟۔

ثُمَّ ← دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ← هَؤُلَاءِ يَا لَلْأَنْصَارِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ← هؤلاء يا للمهاجرين ← كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَاجْتَمَعَ قَوْمُ ذَا وَقَوْمُ ذَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14686

chevron_left Previous
1…515253…1,275
Next chevron_right