Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الصحابة وآل البيت

Sahabah & Ahl al-Bayt

25488 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14109

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَخْتَلِفُ إِلَى الشَّامِ وَكَانَ يُعْرَفُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُعْرَفُ فَكَانُوا يَقُولُونَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا هَذَا الْغُلَامُ بَيْنَ يَدَيْكَ قَالَ هَذَا يَهْدِينِي السَّبِيلَ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ نَزَلَا الْحَرَّةَ وَبَعَثَا إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا فَقَالُوا قُومَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ قَالَ فَشَهِدْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَاتَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا كَانَ أَقْبَحَ وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر آگے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو راستوں کا علم تھا کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے، جب بھی کسی جماعت پر ان کا گذر ہوتا اور وہ لوگ پوچھتے کہ ابوبکر! یہ آپ کے آگے کون بیٹھے ہوئے ہیں ؟ تو وہ فرماتے کہ یہ رہبر ہیں جو میری رہنمائی کر رہے ہیں ، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسلمان ہونے والے انصاری صحابہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پاس پیغام بھیجا، وہ لوگ ان دونوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دونوں امن و امان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوجائیے ، آپ کی اطاعت کی جائے گی، چنانچہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14109

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1139

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهَلَّ بِهِمَا فَقَالَ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ قَالَ لَمْ أَكُنْ أَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ

It was narrated from Marwan bin Al-Hakam that he said: I saw 'Ali and 'Uthman (RA) between Makkah and Madinah. 'Uthman was telling people not to do tamattu' or join them together (Hajj and 'Urn rah, i.e., qiran). When 'Ali (RA) saw that, he entered ihram for both of them together and said: Here I am for 'Umrah and Hajj together. ' Uthman (RA) said: You see me telling the people not to do that and you do it? He said: I will not give up a Sunnah of the Messenger of Allah (PBUH) for the opinion of anyone among the people.

عُثْمَانُ تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ ← «لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا» ← الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا ← شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَعُثْمَانُ يَنْهَى ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّهُ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1139

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1146

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهَا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنَا مِنْكَ

It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said: 'Ali and 'Uthman (RA) met in 'Usfan. 'Uthman was telling the people not to do tamattu' or 'Umrah. 'Ali (RA) said: Why do you want to forbid something that the Messenger of Allah (PBUH) did? 'Uthman (RA) said: Leave us alone.

عُثْمَانُ دَعْنَا مِنْکَ ← عَلِيٌّ مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ تَنْهَى عَنْهَا ← الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ ← اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ بِعُسْفَانَ فَکَانَ عُثْمَانُ يَنْهَی ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1146

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14111

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ مَاتَ لَهُ ابْنٌ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لَا تُخْبِرُوا أَبَا طَلْحَةَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُخْبِرُهُ فَسَجَّتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ وَضَعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامًا فَأَكَلَ ثُمَّ تَطَيَّبَتْ لَهُ فَأَصَابَ مِنْهَا فَعَلِقَتْ بِغُلَامٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ إِنَّ آلَ فُلَانٍ اسْتَعَارُوا مِنْ آلِ فُلَانٍ عَارِيَةً فَبَعَثُوا إِلَيْهِمْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِعَارِيَتِنَا فَأَبَوْا أَنْ يَرُدُّوهَا فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ لَيْسَ لَهُمْ ذَلِكَ إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ إِلَى أَهْلِهَا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ كَانَ عَارِيَةً مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَهُ فَاسْتَرْجَعَ قَالَ أَنَسٌ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَهُمَا فِي لَيْلَتِهِمَا قَالَ فَعَلِقَتْ بِغُلَامٍ فَوَلَدَتْ فَأَرْسَلَتْ بِهِ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلْتُ تَمْرًا فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ وَهُوَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَأَخَذَ التَّمَرَاتِ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ جَمَعَ لُعَابَهُ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُ إِيَّاهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّ الْأَنْصَارَ التَّمْرَ فَحَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ شَابٌّ أَفْضَلَ مِنْهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ فَذَكَرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا انہوں نے کھانا کھایا، اور پانی پیا، پھر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خوب اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے خلوت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سیراب ہوچکے ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہو، کیا وہ انکار کرسکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں ، انہوں نے کہا کہ پھر اپنے بیٹے پر صبر کیجئے۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں ، اور بالآخر ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس! تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجوریں منگوائیں ، ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا، اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، اور اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، انصار میں اس سے افضل کوئی جوان نہ تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14111

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14114

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَكَلُوا مِنْهَا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسی کو تناول فرما لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14114

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1154

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ مِنْ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ أَرْضَى لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي قَالَ فَأَمَرَنِي فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي خُمُرًا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَعَمَّتِهِ

It was narrated from 'Ali (RA) that the Prophet (PBUH) was given a (hullah) suit of silk, and he gave it to me ['Ali]. 'Ali (RA) said: I went out wearing it, and the Prophet (PBUH) said: "I do not like for you what I do not like for myself." And he told me to cut it up for my womenfolk, for head covers, between Fatimah and his paternal aunt.

عَلِيٍّ، ← هُبَيْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1154

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1163

حَدَّثَنَاه يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

Malik bin 'Umair said: Zaid bin Soohan came to 'Ali (RA) and said: Tell me what the Messenger of Allah (PBUH) forbade to you. He said: He forbade me to use green glazed pitchers, gourds and hollowed out stumps, and nabeedh made with barley, and gold rings, as well as silk, garments made from a blend of linen and silk, and red saddle cloths. He said: The Messenger of Allah (PBUH) was given a suit of silk and he gave it to me. I went out wearing it, then he took it and gave it to Fatimah or to his paternal aunt. Isma'eel said that.

جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1163

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1170

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْمُوَرِّعِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ مَنْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعُ قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا ثُمَّ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَجَلَسَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرْتُهُ قَالَ فَقَالَ مَنْ عَادَ فَصَنَعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ يَا عَلِيُّ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا أَوْ قَالَ مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ الْخَيْرِ فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمُسَوِّفُونَ فِي الْعَمَلِ

It was narrated that 'Ali (RA) said: We were with the Messenger of Allah (PBUH) at a funeral, and he said: "Who will go to Madinah and not leave any grave without levelling it, or any image without smearing it, or any idol without breaking it?" A man stood up and said: I will. Then he felt afraid of the people of Madinah, so he sat down. 'Ali (RA)said: So I went, then I came back and said: O Messenger of Allah, I did not leave any grave in Madinah but I levelled it, or any image but I smeared it, or any idol but I broke it. He said: "Whoever goes back to doing any of that has disbelieved in what Allah revealed to Muhammad. O 'Ali, do not be a cause of division - or he said: a show-off or a merchant, except a good merchant, for they are the ones who procrastinate in doing good deeds."

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْمُوَرِّعِ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1176

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ يُلَطِّخَ كُلَّ صَنَمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي قَالَ فَأَرْسَلَنِي فَلَمَّا جِئْتُ قَالَ يَا عَلِيُّ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ أَوْ مَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ

It was narrated from Abu Muhammad Al-Hudhali, from 'Ali bin Abi Talib (RA) that the Messenger of Allah (PBUH) sent a man of the Ansar to level every grave and spoil every idol. He said: O Messenger of Allah, I do not like to enter the houses of my people. So he sent me, and when I came back he said: " 'Ali, do not be a cause of division, or a show-off, or a merchant, except a good merchant, for they are the ones who procrastinate - or who are lagging behind - in doing good deeds."

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← حجاج بن أرطاة ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1176

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14147

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحُوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑا بھاری کم تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں بار بار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہیں پر نماز پڑھ لیا کروں گا، چنانچہ اس نے ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں ، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ فَقَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14147

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1184

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ عَنْ حُضَيْنٍ قَالَ شُهِدَ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ عِنْدَ عُثْمَانَ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ فَكَلَّمَ عَلِيٌّ عُثْمَانَ فِيهِ فَقَالَ دُونَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَاجْلِدْهُ فَقَالَ قُمْ يَا حَسَنُ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِهَذَا وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ فَقَالَ بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ وَضَعُفْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَجَلَدَهُ وَعَدَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا كَمَّلَ أَرْبَعِينَ قَالَ حَسْبُكَ أَوْ أَمْسِكْ جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ

It was narrated that Huzain said: Testimony was given against or Husain al-Waleed bin 'Uqbah before 'Uthman, that he drank alcohol. 'Ali spoke to 'Uthman about him and he said: Here is your cousin; flog him. He said: Get up, O Hasan (and flog him). He said: What do you have to do with this man? Let someone other than you do that. He said: Rather you felt incapable and weak. Get up, O 'Abdullah bin Ja'far, and flog him. 'Ali (RA) started counting, and when he reached forty he said: That's enough - or: Stop - The Messenger of Allah (PBUH) gave forty lashes, and Abu Bakr gave forty lashes, and 'Umar completed it, making it eighty. And all are Sunnah.

شُهِدَ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ عِنْدَ عُثْمَانَ ← حُضَيْنٍ ← عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1184

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1187

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ يَا فَرُّوخُ أَنْتَ الْقَائِلُ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ أَخْطَتْ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ حَيٌّ وَإِنَّمَا رَخَاءُ هَذِهِ وَفَرَجُهَا بَعْدَ الْمِائَةِ

It was narrated that Nu'aim bin Dijajah al-Asadi said: I was with 'Ali (RA), and Abu Mas'ood entered upon him and he said to him: O Farrookh, are you the one who says that in one hundred years time there will be on earth no eye that blinks? You are mistaken. Rather the Messenger of Allah (PBUH) said: "In one hundred years time, there will be no eye that blinks left on earth of those who are alive today” By Allah, the time of prosperity and ease for this ummah will be after one hundred years.

كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ ← نُعَيْمِ بْنِ دجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1187

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1189

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا بَلَغْنَا مَسِيرَةَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَاءَ شَذَّ مِنَّا نَاسٌ كَثِيرٌ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا يَهُولَنَّكُمْ أَمْرُهُمْ فَإِنَّهُمْ سَيَرْجِعُونَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي أَنَّ قَائِدَ هَؤُلَاءِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ كَأَنَّهُنَّ ذَنَبُ الْيَرْبُوعِ فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا إِنَّا لَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ فَالْتَمِسُوهُ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا فَقُلْنَا لَمْ نَجِدْهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَ يَقُولُ اقْلِبُوا ذَا اقْلِبُوا ذَا حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْكُوفَةِ فَقَالَ هُوَ ذَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَأْتِيكُمْ أَحَدٌ يُخْبِرُكُمْ مَنْ أَبُوهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ هَذَا مَلِكٌ هَذَا مَلِكٌ يَقُولُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنُ مَنْ هُوَ

Yazeed bin Abi Salih narrated that Abul-Wadi' 'Abbad told him: We were heading for Koofah with 'Ali bin Abi Talib (RA) and when we were two of three days away from Haroora', many people drifted away from us. We mentioned that to 'Ali (RA) and he said: Do not worry about them, for they will come back.... And he narrated the hadeeth at length. He said: 'Ali bin Abi Talib (RA) praised Allah and said: My close friend told me that the leader of these people would be a man with a deformed arm like a breast on which would be some hairs like the tail of a jerboa. They looked for him but they did not find him. We came to him and said: We did not find him. He said: Look for him, for by Allah I did not He and I was not told a lie three times. We said: We did not find him. Then 'Ali came himself and started saying: Turn this one over, turn this one over, until a man of Koofah came and said: Here he is. 'Ali (RA) said: Allahu Akbar Is there anyone who could tell you who his father was? The people started saying: This is Malik, this is Malik, And 'Ali (RA) said: Whose son is he?

يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حجاج بن يوسف الشاعر ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1189

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1200

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا نَاسٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا فَقَالُوا أَبُو مُوسَى قَالَ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَى

It was narrated that Abu Ma'mar said: We were with 'Ali (RA) when a funeral passed by him and some people stood up for it. 'Ali (RA) said: Who told you to do this? They said: Abu Moosa. He said: The Messenger of Allah (PBUH) only did that once, following the example of the People of the Book, but when he was forbidden to do it, he stopped.

أَبُو مُوسَى، ← عَلِيٌّ مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا ← كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا نَاسٌ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1200

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1201

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنْ السَّنَامِ قَالَ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ

It was narrated that 'Ali bin Abi Talib (RA) said: I got an old she- camel as booty on the day of Badr, and the Messenger of Allah (PBUH) gave me another she-camel. One day, I made them kneel at the door of a man from among the Ansar, intending to carry idhkhir [a kind of grass] on them to sell it - and there was a goldsmith of Banu Qainuqa' with me - so that I could use the money to give a wedding feast for my marriage to Fatimah. Hamzah bin 'Abdul-Muttalib was drinking in that house. Hamzah attacked them with his sword, cutting off their humps and cutting open their flanks, then he took out their livers. I said to Ibn Shihab: Did he take out anything from their humps? He said: He cut off their humps and took them away. 'Ali said; I looked at a sight that shocked me. I went to the Prophet (PBUH) and Zaid bin Harithah was with him, and I told him what had happened. He went out, accompanied by Zaid, and i went with him, He entered upon Hamzah and expressed his anger to him. Hamzah looked up and said: Are you anything more than the slaves of my father? The Messenger of Allah (PBUH) backed off until he departed from them. That was before the prohibition on alcohol.

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1201

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1202

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا تُحَدِّثُنَا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَالتَّطَوُّعِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تُطِيقُونَهَا فَقَالُوا لَهُ أَخْبِرْنَا بِهَا نَأْخُذْ مِنْهَا مَا أَطَقْنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ

It was narrated that 'Asim bin Damrah said: Some of the companions of 'Ali (RA) said: Why don't you tell us about the voluntary prayers that the Messenger of Allah (PBUH) offered during the day? 'Ali (RA) said: By Allah, you cannot do it. They said to him; Tell us about it and we will take whatever we are able to do.... then he quoted the hndeeth at length.

الحديث بطوله ← بِهَا نَأْخُذْ مِنْهَا مَا أَطَقْنَا ← لَهُ: ← عَلِيٌّ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تُطِيقُونَهَا ← نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ لِعَلِيٍّ أَلَا تُحَدِّثُنَا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بِالنَّهَارِ وَالتَّطَوُّعِ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1202

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1203

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا تُحَدِّثُنَا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَالتَّطَوُّعِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تُطِيقُونَهَا فَقَالُوا لَهُ أَخْبِرْنَا بِهَا نَأْخُذْ مِنْهَا مَا أَطَقْنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ

It was narrated that 'Asim bin Damrah said: Some of the companions of 'Ali (RA) said: Why don't you tell us about the voluntary prayers that the Messenger of Allah (PBUH) offered during the day? 'Ali (RA) said: By Allah, you cannot do it. They said to him; Tell us about it and we will take whatever we are able to do.... then he quoted the hndeeth at length.

كَانَ يُصَلِّي سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً ← صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ بِالنَّهَارِ ← عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← الحديث بطوله ← بِهَا نَأْخُذْ مِنْهَا مَا أَطَقْنَا ← لَهُ: ← عَلِيٌّ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تُطِيقُونَهَا ← نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ لِعَلِيٍّ أَلَا تُحَدِّثُنَا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بِالنَّهَارِ وَالتَّطَوُّعِ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1203

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1207

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا أَوْ أَشْرَفَ عَلَى أَكَمَةٍ أَوْ هَبَطَ وَادِيًا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ قُلْتَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهَلْ عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ شَيْئًا فِي ذَلِكَ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنَّا وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَتَلُوهُ فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا وَفِعْلًا مِنِّي ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا

It was narrated that Qais bin 'Ubad said: We were with 'Ali (RA) and when he saw any event or reached the top of a hill or went down in a valley, he said: Glory be to Allah; Allah and His Messenger spoke the truth. I said to a man of Banu Yashkur; Let us go to Ameer al-Mu'mineen and ask him why he says, Allah and His Messenger spoke the truth. So we went to him and we said; O Ameer al-Mu'mineen, when you see any event or reach the top of a hill or go down into a valley, you say: Allah and His Messenger spoke the truth. Did the Messenger of Allah (PBUH) instruct you exclusively to say that? He turned away from us but we persisted in asking. When he realised that, he said: By Allah, the Messenger of Allah (PBUH) did not tell me anything exclusively that he did not tell to other people, but the people attacked 'Uthman bin 'Affan and killed him, and there were people who were worse than me in action and attitude concerning him. Then I thought that I was most deserving of this position, so I accepted it. And Allah knows best whether we are right or wrong.

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← الْحَسَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1207

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1210

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ قَالَ حَمَلَتْ شُرَاحَةُ وَكَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا فَانْطَلَقَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَعَلَّ زَوْجَكِ جَاءَكِ أَوْ لَعَلَّ أَحَدًا اسْتَكْرَهَكِ عَلَى نَفْسِكِ قَالَتْ لَا وَأَقَرَّتْ بِالزِّنَا فَجَلَدَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ أَنَا شَاهِدُهُ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَنَا شَاهِدُهُ فَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَتْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ فَهَلَكَ مَنْ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَآيًا مِنْ الْقُرْآنِ بِالْيَمَامَةِ

It was narrated that 'Amir said: Shurahah became pregnant and her husband was absent. Her former master took her to 'Ali, and 'Ali (RA) said to her: Perhaps your husband came to you or perhaps someone forced you against your will? She said: No. And she admitted zina. So 'Ali (RA) flogged her on Thursday and I was present, and he stoned her on Friday and i was present. He ordered that a hole be dug for her up to her navel, then he said: Stoning is the way of the Messenger of Allah (PBUH). The verse of stoning was revealed but those who used to read it and other verses of the Qur'an died in al-Yamamah.

شَاهِدُهُ فَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ ثُمَّ ← شَاهِدُهُ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ← لَا وَأَقَرَّتْ بِالزِّنَا فَجَلَدَهَا عَلِيٌّ يَوْمَ الْخَمِيسِ ← لَهَا عَلِيٌّ لَعَلَّ زَوْجَكِ جَاءَكِ أَوْ لَعَلَّ أَحَدًا اسْتَكْرَهَكِ عَلَى نَفْسِكِ ← حَمَلَتْ شُرَاحَةُ وَكَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا فَانْطَلَقَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيٍّ ← عَامِرٍ، ← مجالد ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1210

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1216

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى حَنَشًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ يس أَوْ نَحْوَهَا ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّورَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْكَشَفَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ

It was narrated from 'Ali (RA) that the sun was eclipsed, and 'Ali (RA) led the people in prayer. He recited Ya-Seen or something similar, then he bowed for as long as a soorah, then he raised his head and said: Allah hears the one who praises Him. Then he stood for as long as the soorah, calling upon Allah and magnifying Him. Then he bowed again, for as long as his recitation. Then he said: Allah hears the one who praises Him, and he stood up again for as long as the soorah. Then he bowed for a similar length of time again, until he had bowed four times. Then he said: Allah hears the one who praises Him. Then he prostrated. Then he stood up for the second rak'ah, in which he did the same as he had done in the first rnk'ah. Then he sat, calling upon Allah and beseeching Him, until the eclipse ended, then he told them that this is what the Messenger of Allah (PBUH) did.

عَلِيٍّ، ← رجل يدعى حنشا ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1216

chevron_left Previous
1…464748…1,275
Next chevron_right