Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الصحابة وآل البيت

Sahabah & Ahl al-Bayt

25488 hadiths

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 285

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا بَيَانٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ شَيَّعَ الْأَنْصَارَ حِينَ خَرَجُوا مِنْ الْمَدِينَةِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ شَيَّعْتُكُمْ قُلْنَا لِحَقِّ الْأَنْصَارِ قَالَ إِنَّكُمْ تَأْتُونَ قَوْمًا تَهْتَزُّ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ اهْتِزَازَ النَّخْلِ فَلَا تَصُدُّوهُمْ بِالْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ قَالَ فَمَا حَدَّثْتُ بِشَيْءٍ وَقَدْ سَمِعْتُ كَمَا سَمِعَ أَصْحَابِي

قرظہ بن کعب بیان کرتے ہیں جب بعض انصار مدینہ سے نکل کر جانے لگے تو حضرت عمر ان کے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور بولے کیا تم جانتے ہو میں تمہارے ساتھ کیوں آیاہوں ہم نے جواب دیا انصار کے حق کی وجہ سے۔ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا تم ایسے لوگوں کے پاس جارہے ہو جو اتنی تیزی کے ساتھ قرآن پڑھتے ہیں جیسے کھجور کا درخت ہلتا ہے لہذا تم انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کے حوالے سے قرآن سے روکنے کی کوشش نہ کرنا میں تمہارے راوی بیان کرتے ہیں اس کے بعد میں نے کوءی ایسی حدیث بیان نہیں کی حالانکہ میں نے بھی اسی طرح احادیث سنی ہوئی ہیں جیسے میرے ساتھیوں نے سنی ہوئی ہیں۔

أَصْحَابِي ← كَمَا ← بِشَيْءٍ وَقَدْ ← فَمَا ← شَرِيكُكُمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← إِنَّكُمْ تَأْتُونَ قَوْمًا تَهْتَزُّ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ اهْتِزَازَ النَّخْلِ فَلَا تَصُدُّوهُمْ بِالْحَدِيثِ ← أَتَدْرُونَ لِمَ شَيَّعْتُكُمْ قُلْنَا لِحَقِّ الْأَنْصَارِ ← قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ شَيَّعَ الْأَنْصَارَ حِينَ خَرَجُوا مِنْ الْمَدِينَةِ ← الشَّعْبِيِّ، ← بَيَانٍ ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 285

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 286

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى الْكُوفَةِ فَبَعَثَنِي مَعَهُمْ فَجَعَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى أَتَى صِرَارَ وَصِرَارُ مَاءٌ فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يَنْفُضُ الْغُبَارَ عَنْ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ تَأْتُونَ الْكُوفَةَ فَتَأْتُونَ قَوْمًا لَهُمْ أَزِيزٌ بِالْقُرْآنِ فَيَأْتُونَكُمْ فَيَقُولُونَ قَدِمَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ قَدِمَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ فَيَأْتُونَكُمْ فَيَسْأَلُونَكُمْ عَنْ الْحَدِيثِ فَاعْلَمُوا أَنَّ أَسْبَغَ الْوُضُوءِ ثَلَاثٌ وَثِنْتَانِ تُجْزِيَانِ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ تَأْتُونَ الْكُوفَةَ فَتَأْتُونَ قَوْمًا لَهُمْ أَزِيزٌ بِالْقُرْآنِ فَيَقُولُونَ قَدِمَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ قَدِمَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ فَيَأْتُونَكُمْ فَيَسْأَلُونَكُمْ عَنْ الْحَدِيثِ فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ فِيهِ قَالَ قَرَظَةُ وَإِنْ كُنْتُ لَأَجْلِسُ فِي الْقَوْمِ فَيَذْكُرُونَ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمِنْ أَحْفَظِهِمْ لَهُ فَإِذَا ذَكَرْتُ وَصِيَّةَ عُمَرَ سَكَتُّ قَالَ أَبُو مُحَمَّد مَعْنَاهُ عِنْدِي الْحَدِيثُ عَنْ أَيَّامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ السُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ

قرظہ بن کعب بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب نے چند انصاری صحابہ کرام کو کوفہ بھیجا اور مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا حضرت عمر ہمارے ساتھ چلتے ہوئے صرار تک آئے۔ صرار مدینے کے راستے میں ایک چشمہ ہے وہاں حضرت عمر نے اپنے پاؤں سے مٹی صاف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تم لوگ کوفہ جارہے ہو تم ایک ایسی قوم کے پاس جاؤ گے جو لوگ بڑے شوق سے قرآن پڑھتے ہیں وہ لوگ تمہارے پاس آئیںگے اور یہ کہیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے ہیں وہ تمہارے پاس آئیں گے اور حدیث کے بارے میں سوال کریں گے تم یہ بات یاد رکھنا کہ کامل وضو میں تین مرتبہ اعضاء کودھویا جاتا ہے ویسے دو مرتبہ دھونا بھی کافی ہے۔ پھر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا تم لوگ کوفہ جارہے ہوتم ایسے لوگوں کے پاس جارہے ہو جو بڑے ذوق اور شوق سے قرآن پڑھتے ہیں وہ یہ کہیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تشریف لے کر آئے ہیں وہ تمہارے پاس آئیں گے اور تم سے احادیث کے بارے میں سوال کریں گے تو تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کم احادیث بیان کرنا میں اس بارے میں تمہارے ساتھ ہوں۔قرظہ فرماتے ہیں میں کچھ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہوتا ہوں وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث ذکر کرتے ہیں حالانکہ مجھے ان سے زیادہ احادیث یاد ہیں لیکن جب مجھے حضرت عمر کی نصیحت یاد آتی ہے تو میں خاموشی اختیار کر لیتا ہوں۔ امام محمد عبداللہ دارمی ارشاد فرماتے ہیں اس حدیث کا مفہوم میرے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے احادیث بیان نہ کی جائیں سنن اور فرائض سے اس حدیث کا تعلق نہیں ہے۔

قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 286

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 529

أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا حَتَّى بَانَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ فَقَالَ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً كَانَ لَهُ أَجْرُهُ وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ

حضرت جریر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے اس بارے میں سستی کا اظہار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے پھر انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک تھیلی لے کر آیا تو اس کے بعد لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار دکھائی دینے لگے تو آپ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی اچھے کام کا آغاز کرتا ہے اسے اس کا اجر ملتا ہے اور جتنے لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ان کے جتنا اجر ملتا ہے حالانکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اور جو شخص کسی برے کام کا آغاز کرتا ہے اسے ان سب لوگوں کے گناہوں جتنا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے جو اس پر عمل کرتے ہیں حالانکہ ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ← مسلم يعني ابن صبيح ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 529

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 583

أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ طَلَبْتُ الْعِلْمَ فَلَمْ أَجِدْهُ أَكْثَرَ مِنْهُ فِي الْأَنْصَارِ فَكُنْتُ آتِي الرَّجُلَ فَأَسْأَلُ عَنْهُ فَيُقَالُ لِي نَائِمٌ فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي ثُمَّ أَضْطَجِعُ حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الظُّهْرِ فَيَقُولُ مَتَى كُنْتَ هَا هُنَا يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ فَأَقُولُ مُنْذُ زَمَنٍ طَوِيلٍ فَيَقُولُ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ هَلَّا أَعْلَمْتَنِي فَأَقُولُ أَرَدْتُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيَّ وَقَدْ قَضَيْتَ حَاجَتَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے علم حاصل کیا اور سب سے زیادہ اسے انصار سے حاصل کیا میں کسی صاحب کے ہاں آتا تھا ان کے بارے میں دریافت کرتا تو مجھے بتایا جاتا کہ وہ سو رہے ہیں تو میں اپنی چادر سرکے نیچے رکھ کر لیٹ جاتا یہاں تک کہ دوپہر کے وقت وہ صاحب تشریف لاتے تو دریافت کیا اللہ کے رسول کے چچا زاد آپ کب سے یہاں ہیں ۔ میں جواب دیتا کافی دیر ہوگئی ہے تو وہ یہ کہتا آپ نے بہت برا کیا آپ نے مجھے بتا کیوں نہیں دیا تو میں یہ جواب دیتا کہ میری یہ خواہش تھی کہ آپ خود باہر تشریف لائیں پہلے اپنے کاموں سے فارغ ہوجائیں۔

حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← الْحَجَّاجِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 583

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 584

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وُجِدَ أَكْثَرُ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَآتِي الرَّجُلَ مِنْهُمْ فَيُقَالُ هُوَ نَائِمٌ فَلَوْ شِئْتُ أَنْ يُوقَظَ لِي فَأَدَعُهُ حَتَّى يَخْرُجَ لِأَسْتَطِيبَ بِذَلِكَ حَدِيثَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر احادیث مجھے انصار سے ملی اللہ کی قسم بعض اوقات میں کسی شخص کے ہاں جاتا تو مجھے بتایا جاتا کہ وہ سو رہے ہیں اگر میں چاہتا تو اسے بیدار کرسکتا تھا لیکن میں اسے ایسے ہی رہنے دیتا یہاں تک کہ وہ خود ہی باہر آجاتا ایسا اس لئے کرتا تھا کہ تاکہ مناسب طریقے سے حدیث کا علم حاصل کرسکوں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 584

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 587

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا فُلَانُ هَلُمَّ فَلْنَسْأَلْ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُمْ الْيَوْمَ كَثِيرٌ فَقَالَ وَا عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ وَفِي النَّاسِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَى فَتَرَكَ ذَلِكَ وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ فَإِنْ كَانَ لَيَبْلُغُنِي الْحَدِيثُ عَنْ الرَّجُلِ فَآتِيهِ وَهُوَ قَائِلٌ فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِهِ فَتَسْفِي الرِّيحُ عَلَى وَجْهِي التُّرَابَ فَيَخْرُجُ فَيَرَانِي فَيَقُولُ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ أَلَا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيَكَ فَأَقُولُ لَا أَنَا أَحَقُّ أَنْ آتِيَكَ فَأَسْأَلُهُ عَنْ الْحَدِيثِ قَالَ فَبَقِيَ الرَّجُلُ حَتَّى رَآنِي وَقَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيَّ فَقَالَ كَانَ هَذَا الْفَتَى أَعْقَلَ مِنِّي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تو میں نے ایک انصاری صاحب سے کہا اے فلاں۔ آؤ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے (احادیث کے بارے میں) دریافت کریں کیونکہ آج تو ان کی تعداد بہت زیادہ ہے وہ شخص بولا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ مجھے آپ پر حیرت ہوتی ہے کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس بارے میں لوگوں کو آپ کی ضرورت ہوگی حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے اتنے لوگ بھی موجود ہیں جو آپ بھی جانتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس شخص نے اس پر عمل نہیں کیا میں یہ علم حاصل کرنے کے لئے روانہ ہوگیا جب بھی مجھے کسی شخص کے بارے میں کسی حدیث کا پتا چلتا میں اس کے پاس آتا اگر وہ سو رہا ہوتا تو میں اس کے دروازے پر چادر سر کے نیچے رکھ کر لیٹ جاتا۔ ہوا چلتی تو مٹی میرے چہرے پر آجاتی۔ جب وہ شخص باہر آتا اور مجھے دیکھتا اور کہتا کہ اے اللہ کے رسول کے چچازاد۔ آپ کس لئے تشریف لائے ہیں آپ نے مجھے پیغام کیوں نہیں دیا۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا تو میں یہ کہتا کہ نہیں میں اس بات کا زیادہ حق دار ہوں کہ میں آپ کے پاس آؤں میں آپ سے ایک حدیث کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں پھر ایک وقت وہ آیا کہ اس شخص نے مجھے دیکھا کہ جب لوگ میرے اردگرد اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ شخص بولا یہ نوجوان مجھ سے زیادہ سمجھدار تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 587

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 794

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَيْضِ قَالَ خُذِي مَاءَكِ وَسِدْرَكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَأَنْقِي ثُمَّ صُبِّي عَلَى رَأْسِكِ حَتَّى تَبْلُغِي شُؤُونَ الرَّأْسِ ثُمَّ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً قَالَتْ كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَكَتَ قَالَتْ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَكَتَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَمَا أَنْكَرَ عَلَيْهَا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ایک انصاری خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا تم پانی اور بیری حاصل کرو پھر اسے دھو کر اچھی طرح صاف کرو پھر سر پر پانی بہاؤ یہاں تک کہ وہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر خوشبو میں بسا ہوا کپڑے کا ٹکڑا استعمال کرو اس خاتون نے دریافت کیا یا رسول اللہ میں اس کے ذریعے کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس خاتون نے پھر فرمایا یا رسول اللہ میں اس کا کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تم خوشبو میں بسا ہوا کپڑے کا ٹکڑا لے کر خون کے مخصوص مقام پر پھیرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی اور آپ نے اس پر کوئی انکار نہیں کیا۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 794

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1153

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ ابْنِ سَابِطٍ قَالَ سَأَلْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ قُلْتُ لَهَا إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْهُ قَالَتْ سَلْ يَا ابْنَ أَخِي عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ أَسْأَلُكِ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ فَقَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ الْأَنْصَارُ لَا تُجَبِّي وَكَانَتْ الْمُهَاجِرُونَ تُجَبِّي فَتَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَبَّاهَا فَأَبَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ فَأَتَتْ أُمَّ سَلَمَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحْيَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ وَخَرَجَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُوهَا لِي فَدُعِيَتْ لَهُ فَقَالَ لَهَا نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكَمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سِمَامًا وَاحِدًا وَالسِّمَامُ السَّبِيلُ الْوَاحِدُ

ابن سابط بیان کرتے ہیں میں نے حفصہ بنت عبدالرحمن یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں سے سوال کیا میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے وہ سوال کرتے ہوئے شرم آتی ہے سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن نے فرمایا اے بھتیجے تم نے جو سوال کرنا ہے کرو۔ ابن سابط نے کہا میں آپ سے عورتوں کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں تو سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن نے بتایا مجھے سیدہ ام سلمہ نے یہ بات بتائی ہے انصاری (اپنی بیویوں کو) الٹا نہیں لٹاتے تھے جبکہ مہاجرین ایسا کیا کرتے تھے۔ ایک مہاجر نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی اسے الٹا لٹایا تو اس نے انکار کردیا پھر وہ انصاری خاتون سیدہ ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس بات کا تذکرہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس انصاری خاتون کو حیاء آگئی اور وہ چلی گئی۔ سیدہ ام سلمہ نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس بلاؤ اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ "تمہاری عورتیں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آ سکتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحبت کرنے کا مقام ایک ہی ہے۔ (امام محمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ سمام سے مراد راستہ ہے۔

ابْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1153

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1331

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ فَجَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّى ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا يَنَالُ مِنْهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ فَاتِنًا فَاتِنًا فَاتِنًا أَوْ فَتَّانًا فَتَّانًا فَتَّانًا ثُمَّ أَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد نَأْخُذُ بِهَذَا

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت معاذ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کے بعد اپنے محلے میں آجاتے تھے اور وہاں کے لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے ایک رات وہ آئے اور عشاء کی نماز پڑھانا شروع کی۔ انہوں نے سورت بقرہ کی تلاوت شروع کردی۔ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اور تنہا نماز پڑھ کر چلا گیا بعد میں پتہ چلا کہ حضرت معاذ کو اس بات سے افسوس ہوا ہے اس شخص نے اس بات کی شکایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو انہوں نے حضرت معاذ کو فرمایا کہ (تم) فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو۔ فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو (راوی کو شک ہے اس حدیث میں فاتن کی بجائے فتان کے الفاظ ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو وسط مفصل سے تعلق رکھنے والی کوئی سی دو سورتیں تلاوت کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1331

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1392

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَأُتِيَ رَجُلٌ أَوْ أُرِيَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوا مَعَهَا التَّهْلِيلَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلُوهَا

حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں ہمیں ہدایت کی گئی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کریں پھر ایک شخص آیا انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں یہ بات بتائی گئی کہ اللہ کے رسول نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو اس نے جواب دیا جی ہاں تو خواب میں آنے والے شخص نے کہا تم اسے پچیس پچیس مرتبہ کرو اس کے ساتھ لاالہ اللہ بھی پڑھا کرو اس بات کی اطلاع نبی اکرم کو دی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا تم ایسا کرلو۔

أُمِرْنَا ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1392

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1474

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهِمَا قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَتْ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ أَنَا أَقُولُ بِحَدِيثِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت کریب جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور حضرت مسوربن مخرمہ نے انہیں کریب کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور یہ ہدایت کی ان کو ہم سب کی طرف سے سلام کہنا اور ان کے عصر کے بعد والی دو رکعت کے بارے میں سوال کرنا۔ اور یہ کہنا کہ ہمیں یہ پتہ چلا کہ آپ یہ دو رکعت ادا کرتی یہں جب کہ ہم تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعت کو پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر کے ساتھ مل کر ان دو رکعت ادا کرنے والوں کو مارا پیٹا تھا۔ کریب بیان کرتے ہیں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور جس سوال کے ہمراہ مجھے ان حضرات نے بھیجا تھا وہ انہیں بتایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہدایت کی تم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کرو، میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جواب کے بارے میں بتایا ان حضرات نے مجھے اسی سوال کے ہمراہ جو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھیجا تھا سیدہ ام سلمہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ ام سلمہ نے جواب دیا میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو رکعت ادا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن پھر ایک مرتبہ میں نے آپ کو دو رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دو رکعت اس وقت ادا کی تھیں جب آپ عصر کی نماز پڑھ لینے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے اس وقت انصار کے قبیلہ بنوحرام سے تعلق رکھنی والی چند خواتین میرے پاس موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعت ادا کی ۔ میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور یہ ہدایت کی تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہوجانا اور یہ کہنا ام سلمہ کہہ رہی ہیں یا رسول اللہ میں نے تو آپ کو ان دو رکعت کو اداکرنے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ خود یہ رکعت ادا کررہے ہیں ؟ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہو کر کھڑی ہوجانا۔ ام سلمہ بیان کرتی ہیں اس لڑکی نے ایساہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا۔ وہ لڑکی پیچھے ہٹ گئی جب آپ نے نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا اے ابوامیہ کی صاحبزادی تم نے عصر کے بعد دو رکعت کے بارے میں دریافت کیا ہے میرے پاس عبدالقیس قبیلے کے چند لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تھے ان کی وجہ سے میں ظہر کے بعد والی دو رکعت ادا نہ کرسکا یہ وہی والی دو رکعت تھی۔ امام ابومحمد دارمی سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا میں حضرت عمر کے حوالے سے منقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق فتوی دیتاہوں کہ عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہوجانے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جاسکتی اور فجر کے بعد سورج طلوع ہوجانے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جاسکتی ۔

أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا ← الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ ← اقْرَأ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا ← الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عبد الرحمن بن أزهر ← كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الله بْنَ عَبَّاسٍ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1474

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1514

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَأَتَى الْمَدِينَةَ لِبَيْعِ عَقَارِهِ فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا أَرَادَ ذَلِكَ سِتَّةٌ مِنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُمْ وَقَالَ أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ثُمَّ إِنَّهُ قَدِمَ الْبَصْرَةَ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوِتْرِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَحَدِّثْنِي بِمَا تُحَدِّثُكَ فَأَتَيْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَقُلْتُ لَهُ انْطَلِقْ مَعِي إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ إِنِّي لَا آتِيهَا إِنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذِهِ الشِّيعَتَيْنِ فَأَبَتْ إِلَّا مُضِيًّا قُلْتُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ فَانْطَلَقْنَا فَسَلَّمْنَا فَعَرَفَتْ صَوْتَ حَكِيمٍ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا قُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهُ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْقِيَامُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهَا كَانَتْ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ أُنْزِلَ أَوَّلُ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَحُبِسَ آخِرُهَا فِي السَّمَاءِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أُنْزِلَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْوِتْرُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ سِوَاكَهُ عِنْدِي فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ فَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي التَّاسِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ خُلُقًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ وَمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى يُصْبِحَ وَلَا قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ صَدَقَتْكَ أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَشَافَهْتُهَا مُشَافَهَةً قَالَ فَقُلْتُ أَمَا إِنِّي لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ

زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں سعد بن ہشام نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لئے مدینہ منورہ آئے تاکہ اسے فروخت کر کے ہتھیار خرید سکیں ان کی ملاقات چند انصاری حضرات سے ہوئی تو ان حضرات نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چھ حضرات نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات سے منع کردیا تھا اور دریافت کیا تھا کہ کیا تم لوگوں کے لئے میرا اسوہ کافی نہیں ہے۔ زرارہ بیان کرتے ہیں یعنی سعد بن ہشام بصرہ آ گئے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز کے بارے میں جسے سب سے زیادہ علم ہے میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں میں نے جواب دیا ہاں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو۔ تم ان کی خدمت میں جاؤ ان سے یہ سوال کرنا اور پھر وہ جو جواب دیں واپس آ کر مجھے بھی بتا دینا۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ میرے ساتھ ام المومنین کی خدمت میں چلیں حکیم نے جواب دیا میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انہیں ان دونوں گروہوں (یعنی حضرت علی کے موافقین اور مخالفین) کے معاملے میں دخل دینے سے منع کیا تھا تو انہوں نے میری بات نہیں مانی سعد کہتے ہیں میں بولا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ چلیں پھر ہم دونوں چل پڑے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ہم نے سلام کیا انہوں نے حکیم کی آواز کو پہچان لیا اور دریافت کیا یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا میں سعد بن ہشام ہوں انہوں نے دریافت کیا کون ہشام۔ میں نے جواب دیا ہشام بن عامر انہوں نے جواب دیا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیا جی ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا وہی نبی اکرم کا اخلاق۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے یہ ارادہ کرلیا اب میں اٹھ جاتا ہوں اور مرتے دم تک کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کا خیال آگیا تو میں نے سوال کیا کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔ کیا تم نے سورت مزمل نہیں پڑھی میں نے جواب دیا جی ہاں پڑھی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اس سورت کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات کے نوافل کا حکم نازل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نوافل ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے ۔ چھ ماہ تک اس سورت کا آخری حصہ نازل نہیں ہوا پھر وہ حصہ نازل ہو تو رات کے نوافل کو نفل قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ پہلے فرض تھے۔ سعد بن ہشام نے کہا میں نے ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اور مرتے دم تک سوال نہیں کروں گا۔ لیکن مجھے وتر کا خیال آ گیا تو میں نے عرض کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی نماز کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو اپنی مسواک میرے پاس رکھ دیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ کسی وقت انہیں بیدار کردیتا تھا تو آپ ٩ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے آپ ٨ رکعات کے بعد بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے۔ اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے ۔ پھر نویں رکعات پڑھنے کے بعد بیٹھتے اور اللہ کی حمد بیان کرتے اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے اور پھر بلند آواز سے سلام پھیر دیتے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت نماز ادا کرتے یہ گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ ٧ رکعت ادا کیا کرتے تھے جن میں سے آپ ٦ رکعت نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے تھے اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے رب سے دعا مانگتے تھے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے تھے اور ساتویں رکعت ادا کرنے کے بعد پھر بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیر دیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے یہ نو رکعات ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند کا غلبہ ہوتا یا آپ بیمار ہوتے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی معمول اختیار کرتے تھے تو آپ کو یہ پسند تھا آپ اسے باقاعدگی کے ساتھ سر انجام دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رات بھر نوافل ادا نہیں کئے ۔ اور نہ ہی آپ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہے اور رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ٹھیک بیان کیا ہے اگر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوسکتا تو ان سے براہ راست یہ حدیث سن لیتا سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ ان کے ہاں نہیں آتے جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔

سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1514

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1604

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ بِالْمَدِينَةِ جَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ وَالْقَوْمُ يَجِيئُونَ فَلَا يَكَادُونَ أَنْ يَسْمَعُوا كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَرْجِعُوا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لَهُ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا وَإِنَّ الْجَائِيَ يَجِيءُ فَلَا يَكَادُ يَسْمَعُ كَلَامَكَ قَالَ فَمَا شِئْتُمْ فَأَرْسِلْ إِلَى غُلَامٍ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ نَجَّارٍ وَإِلَى طَرْفَاءِ الْغَابَةِ فَجَعَلُوا لَهُ مِرْقَاتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَيَخْطُبُ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ حَنَّتْ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں جب مدینہ منورہ میں لوگوں کی کثرت ہوگئی تو کبھی کوئی شخص آتا تو کبھی کچھ لوگ آجاتے وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سن سکتے تھے یہاں تک کہ وہ آپ کی بارگاہ سے واپس جاتے تو لوگ نے آپ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ آپ کی خدمت میں بکثرت لوگ آتے ہیں کوئی شخص آتا ہے اسے آپ کی آواز سنائی نہیں دیتی اس کا کوئی حل ہونا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم کیا چاہتے ہو تم انصار کی ایک خاتون کے غلام کے پاس پیغام بھیجو جو بڑھئی کا کام کرتا ہے جو جنگل میں جائے ان لوگوں نے اس شخص کے لئے دو یا تین تختیاں بنا دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر تشریف فرما ہونے لگے اور اس پر بیٹھ کر خطبہ دینے لگے جب آپ نے پہلی مرتبہ ایسا کیا تو پہلے آپ جس لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے وہ رونے لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو اسے سکون آگیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1604

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1684

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انصار سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا آپ نے انہیں عطا کردیا انہوں نے اور مانگا آپ نے انہیں عطا کردیا یہاں تک کہ آپ کے پاس سارا مال ختم ہوگیا تو آپ نے ارشاد فرمایا میرے پاس جو بہترین چیز موجود ہوگی وہ میں تم سے چھپا کر نہیں رکھوں گا اور جو شخص مانگنے سے بچے گا اللہ اسے بچا کر رکھے گا اور جو شخص بے نیازی اختیار کرے گا اللہ اسے بے نیاز کردے گا اور جو شخص صبر اختیار کرے اللہ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی بھی شخص کو ایسی چیز نہیں دی گئی جو صبر سے زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔

عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1684

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1692

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَوَافَقَتْ زَيْنَبَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَضَعُ صَدَقَتِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَوْ فِي قَرَابَتِي فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ

حضرت عبداللہ کی اہلیہ سیدہ زینب بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے خواتین صدقہ دیا کرو خواہ وہ تمہارے زیور کیوں نہ ہو۔ حضرت زینب بیان کرتی ہیں حضرت عبداللہ ان دنوں تنگ دست تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دریافت کرنے کے لے گئے تو زینب نامی ایک انصاری خاتون مجھے ملی اس نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کرنا تھا جو میں نے کرنا تھا میں نے حضرت بلال سے کہا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر بتائیں کہ میں اپنا صدقہ کہاں خرچ کرو کیا عبداللہ پر یا اپنے رشتہ داروں پر حضرت بلال نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے دریافت کیا کون سی والی زینب ہے، حضرت بلال نے عرض کی حضرت عبداللہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو دو طرح کا اجر ملے گا ایک رشتہ داری کا دوسرا صدقہ کرنے کا۔

زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1692

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2164

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُهُ وَجَدْوَلٌ يَجْرِي فَقَالَ إِنْ كَانَ عِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي الشَّنِّ وَإِلَّا كَرَعْنَا

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کی عیادت کے لئے تشریف لائے اس کے گھر کے پاس پانی کا نالہ بہہ رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تو تمہارے پاس ایسا پانی موجود ہے جو رات سے مشکیزہ میں ہو تو ٹھیک ہے ورنہ ہم اس صاف پانی والے نالہ میں سے پانی پی لیتے ہیں ۔

أَتَى النَّبِيُّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُهُ وَجَدْوَلٌ يَجْرِي ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2164

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2200

أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ وَرَأَيْتُ بَقَرًا يُنْحَرُ فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْمَدِينَةُ وَأَنَّ الْبَقَرَ نَفَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ وَلَوْ أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا دَخَلُوا عَلَيْنَا قَاتَلْنَاهُمْ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا دُخِلَتْ عَلَيْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَتُدْخَلُ عَلَيْنَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَشَأْنَكُمْ إِذًا وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ لِبَعْضٍ رَدَدْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ فَجَاءُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنُكَ فَقَالَ الْآنَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهُ حَتَّى يُقَاتِلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے دیکھا کہ ایک مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں اور پھر میں نے ایک بیل کو دیکھا کہ اسے قربان کیا گیا ہے تو میں نے اس کی تعبیر یہ کہ زرہ سے مراد مدینہ منورہ ہے اور بیل سے مراد مسلمانوں کی نفری ہے اور اللہ بہتری عطاکرنے والاہے اگر ہم مدینہ میں رہیں تو یہ مناسب ہے۔ اگر دشمن اس میں داخل ہوگیا تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے لوگوں نے عرض کیا اللہ کی قسم زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی دشمن ہمارے علاقے میں داخل نہیں ہوسکا تو کیا اسلام کی حالت میں داخل ہوگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر تمہاری مرضی ہے اس کے بعد انصار نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے تسلیم نہیں کی وہ لوگ آئے اور عرض کی یا رسول اللہ جو آپ مناسب سمجھیں ویسا ہی ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے مناسب نہیں کہ جب ہتھیار سجالے توجنگ کرنے سے پہلے اتارے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ

Sunan Darmi · From the Book of Roya › Door · Hadith 2200

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2213

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا

حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں انہوں نے ایک انصاری عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی تم جا کر اس عورت کو ایک نظر دیکھ لو کیونکہ یہ تمہارے درمیان محبت پیدا کرنے کے لئے مناسب ہے۔

الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2213

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2232

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّيْنِ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ بِنْتًا لَهُ فَكَرِهَتْ نِكَاحَ أَبِيهَا فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ عَنْهَا نِكَاحَ أَبِيهَا فَنَكَحَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَذَكَرَ يَحْيَى أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهَا كَانَتْ ثَيِّبًا

عبدالرحمن بن یزید اور مجمع بن یزید انصاری بیان کرتے ہیں انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جس کا نام خزام تھا اس نے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اس لڑکی کو اپنے باپ کا کیا ہوا نکاح پسند نہیں تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کے کئے ہوئے نکاح کو کالعدم قرار دیدیا پھر اس لڑکی نے حضرت ابولبابہ عبدالمنذر سے شادی کرلی۔ اس حدیث کے راوی نے یہ بات نقل کی ہے انہیں یہ بات پتہ چلی کہ وہ لڑکی بیوہ تھی۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ ← يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2232

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2281

حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَمَّى زِيَادًا قَالَ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْنَ كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ قَالَ نَعَمْ إِنَّمَا أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ ضَرْبًا مِنْ النِّسَاءِ وَوَصَفَ لَهُ صِفَةً فَقَالَ لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ مِنْ بَعْدِ هَذِهِ الصِّفَةِ

محمد بن ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص یہ بات بیان کرتا ہے میں نے حضرت ابی بن کعب سے دریافت کیا کہ آپ کے خیال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات فوت ہوجائیں تو کیا آپ کے لئے مزید شادی کرنا جائز ہوگا انہوں نے جواب دیا ہاں۔ کیونکہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خواتین کی مخصوص قسم کو حلال قرار دیاہے اور اس کی صفت بیان کی ہے اور یہ فرمایا ہے تمہارے لئے اس کے بعد عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے یعنی جن میں یہ صفات نہ پائی جاتی ہوں۔

مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2281

chevron_left Previous
1…343536…1,275
Next chevron_right