Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطهارة

Taharah / Purification

36985 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17619

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَاهُ فِي أَوَّلِ مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ الْوُضُوءِ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَ بِهَا فَرْجَهُ

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام جب پہلی وحی لے کر آئے تو انہیں وضو اور نماز کا طریقہ بھی سکھایا اور وضو سے فارغ ہو کر ایک چلو پانی لیا اور اپنی شرمگاہ پر چھڑک لیا۔

أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17619

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17623

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي فِي يَوْمِي هَذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي حَلَالٌ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمْ الشَّيَاطِينُ فَأَضَلَّتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَجَمِيَّهُمْ وَعَرَبِيَّهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ يَا رَبِّ إِذَنْ يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً فَقَالَ اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ فَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ عَلَيْهِمْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ وَابْعَثْ جُنْدًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ وَرَجُلٌ فَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا أَوْ تُبَعَاءَ شَكَّ يَحْيَى لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى عَلَيْهِ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرَ الْفَاحِشَ

حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے آج جو باتیں مجھے سکھائی ہیں ، اور تم ان سے ناواقف ہو، میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، (چنانچہ میرے رب نے فرمایا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو ہبہ کر دیا ہے، وہ حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (سب سے یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونے والا) بنایا ہے، لیکن پھر شیاطین ان کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکا دیتے ہیں ، اور میں نے جو چیزیں ان کے لئے حلال کی ہیں انہوں نے وہ چیزیں ان پر حرام کی ہیں اور انہوں نے انہیں یہ حکم دیا ہے کہ میرے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل زمین پر نظر فرمائی تو سوائے اہل کتاب کے چند باقی ماندہ لوگوں کے وہ سب ہی عرب وعجم سے ناراض ہوا، اور فرمایا (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے آپ کو بھیجا تاکہ آپ کو آزماؤں اور آپ کے ذریعے دوسروں کو آزماؤں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل فرمائی جسے پانی نہیں دھو سکتا اور جسے آپ خواب اور بیدار دونوں میں تلاوت کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ قریش کو جلا دوں ، میں نے عرض کیا کہ پروردگار وہ تو میرے سر کو کھائی ہوئی روٹی بنا دیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم انہیں میدان میں آنے کی دعوت دینا جیسے وہ تمہیں دعوت دیں گے، پھر تم ان سے جہاد کرنا، ہم تمہارے ساتھ ہوں گے، تم اپنے مجاہدین پر خرچ کرنا، تم پر خرچ کیا جائے گا اور اپنا لشکر روانہ کرنا، ہم اس کے ساتھ پانچ گنا لشکر مزید روانہ کر دیں گے، اور اپنے مطیعین کو لے کر نافرمانوں سے قتال کرنا۔ اور اہل جنت تین طرح کے ہوں گے، ایک وہ منصف بادشاہ جو صدقہ وخیرات کرتا ہو اور نیکی کے کاموں کی توفیق اسے ملی ہوئی ہو، دوسرا وہ مہربان آدمی جو ہر قریبی رشتہ دار اور مسلمان کے لئے نرم دل ہو، اور تیسرا وہ فقیر جو سوال کرنے سے بچے اور خود صدقہ کرے، اور اہل جہنم پانچ طرح کے لوگ ہوں گے، وہ کمزور آدمی جس کے پاس مال ودولت نہ ہو اور وہ تم میں تابع شمار ہوتا ہو، جو اہل خانہ اور مال کے حصول کے لئے محنت بھی نہ کرتا ہو، وہ خائن جس کی خیانت کسی سے ڈھکی چھپی نہ ہو، اور وہ معمولی چیزوں میں بھی خیانت کرے، وہ آدمی جو صبح وشام صرف تمہیں تمہارے اہل خانہ اور مال کے متعلق دھوکہ دیتا رہتا ہو، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل، کذب اور بیہودہ گوئی کا بھی تذکرہ فرمایا۔17624۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17623

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24696

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانَ فَيَدْعُو لَهُمْ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبًّا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اپنے بچوں کو لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی بہا دو۔

رَسُولُ اللَّهِ صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبًّا ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانَ فَيَدْعُو لَهُمْ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24696

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24702

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ تُبَالَةَ بِنْتِ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ فَنَطْرَحُهَا فِي السِّقَاءِ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا أَوْ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنایا کر تے تھے اور وہ اس طرح کہ ہم لوگ ایک مٹھی کشمش یا کھجور لے کر اسے مشکیزے میں ڈال دیتے اور اوپر سے پانی ڈالتے تھے، رات بھر وہ یوں ہی پڑا رہتا اور صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرمالیتے ، اگر دن کے وقت ایسا کیا جا تا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اسے نوش فرمالیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← تباله بنت يزيد العبشمية ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24702

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24706

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ قَالَتْ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ قَالَتْ رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ يُخَافِتُ بِهِ قَالَتْ رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَافَتَ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً

غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں غسل فرمالیتے تھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں، اس پر میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے، اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے یا آخر میں؟ انہوں نے فر مایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں ، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔

غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← بُرْدِ بْنِ سِنَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24706

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24707

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24707

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24710

قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ بَيْنَ الشُّعَبِ الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24710

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21413

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ النَّاسَ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ فَقَالَ أَعْجِلْ بِهِ فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَوَقَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْيِكَ قَالَ مَا فَعَلْتُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّ عُمُومَتِكَ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ فَالْتَفَتُّ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا الْفَتَى وَقَالَ زُهَيْرٌ مَا يَقُولُ هَذَا الْغُلَامُ فَقُلْتُ كُنَّا نَفْعَلُهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ قَالَ فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنْ الْمَاءِ إِلَّا رَجُلَيْنِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ لَا عِلْمَ لِي فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ فَتَحَطَّمَ عُمَرُ يَعْنِي تَغَيَّظَ ثُمَّ قَالَ لَا يَبْلُغُنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ وَلَا يَغْسِلُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً

حضرت رفاعہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کسی نے ان سے کہا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھ کر اس شخص کے متعلق جو اپنی بیوی سے مجامعت کرے لیکن اسے انزال نہ ہو، اپنی رائے سے لوگوں کو فتویٰ دے رہے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جلدی سے جا کر انہیں میرے پاس بلا کر لاؤ، جب وہ آگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے دشمن جان! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم مسجد نبوی میں بیٹھ کر اپنی رائے سے لوگوں کو فتویٰ دے رہے ہو؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تو ایسا نہیں کیا بلکہ یہ بات تو میرے چچاؤں نے مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کون سا چچا؟ انہوں نے بتایا حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ ( اور حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ) حضرت عمر رضی عنہ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہ نوجوان کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ایسا ہی کرتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایسا ہی کرتے تھے (اس کا رواج عام تھا) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا اور دو آدمیوں یعنی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ وجوب غسل انزال کی صورت میں ہی ہوگا مذکورہ دونوں حضرات کا کہنا تھا کہ جب ایک شرمگاہ دوسری شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا امیرالمؤمنین اس مسئلے کا سب سے زیادہ علم ازواج مطہرات کے پاس ہو سکتا ہے لہٰذا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کروا لیجئے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ مجھے اس کے متعلق کچھ علم نہیں پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس قاصد کو بھیجا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب ایک شرمگاہ دوسری شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فرمایا اگر مجھے پتہ چلا کہ کسی نے ایسا کیا ہے اور غسل نہیں کیا تو اسے سخت سزا دوں گا۔

زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21413

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24732

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحُمَّى أَوْ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار یا اس کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔

النَّبِيِّ إِنَّ الْحُمَّى أَوْ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ ← عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24732

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24733

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحُمَّى أَوْ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار یا اس کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہو تی ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24733

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24736

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقِدُونَ فِيهِ نَارًا لَيْسَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنْ نُؤْتَى بِاللَّحْمِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مہینہ مہینہ ایسا گذر جاتا تھا جس میں وہ آگ تک نہیں جلاتے تھے، اور ان کے پاس کھجور اور پانی کے علاوہ کچھ نہیں ہو تا تھا، الاّ یہ کہیں سے گوشت آجائے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24736

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21417

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ سَهْلٌ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فِي زَمَانِهِ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يَقُولُونَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ رُخْصَةٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ بِهَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِالِاغْتِسَالِ بَعْدَهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں پندرہ سال کے تھے سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ لوگ جس فتوے کا ذکر کرتے ہیں کہ انزال پر غسل واجب ہوتا ہے وہ ایک رخصت تھی جو ابتداء اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غسل کا حکم دے دیا تھا ۔

سَهْلٌ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فِي زَمَانِهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21417

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21418

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً قَالَ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتُونَ بِهَا فِي قَوْلِهِمْ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ رُخْصَةٌ كَانَ أُرْخِصَ بِهَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أُمِرْنَا بِالِاغْتِسَالِ بَعْدَهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں پندرہ سال کے تھے سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ لوگ جس فتوے کا ذکر کرتے ہیں کہ انزال پر غسل واجب ہوتا ہے وہ ایک رخصت تھی جو ابتداء اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غسل کا حکم دے دیا تھا ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21418

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21422

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ أُبَيًّا حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَهَا رُخْصَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لِقِلَّةِ ثِيَابِهِمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا بَعْدُ يَعْنِي قَوْلَهُمْ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں پندرہ سال کے تھے سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ لوگ جس فتوے کا ذکر کرتے ہیں کہ انزال پر غسل واجب ہوتا ہے وہ ایک رخصت تھی جو ابتداء اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غسل کا حکم دے دیا تھا ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ أُبَيًّا ← بَعْضُ مَنْ أَرْضَى ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← رشدين ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21422

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24761

حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ قَالَتْ كَانَ يَبْدَأُ بِيَدَيْهِ فَيَغْسِلُهُمَا قَالَ وَكِيعٌ يَغْسِلُ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُخَلِّلُ أُصُولَ شَعَرِ رَأْسِهِ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ اغْتَرَفَ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ فَصَبَّهُنَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ غَرَفَ بِيَدَيْهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے، اور جب یقین ہو جاتا کہ کھال تک ہاتھ پہنچ گیا ہے، تو تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔

كَانَ يَبْدَأُ بِيَدَيْهِ فَيَغْسِلُهُمَا ← غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ الْجَنَابَةِ ← أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ← أَبِي ← يَحْيَى ← هِشَامٍ الْمَعْنَی ← يَحْيَى وَوَكِيعٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24761

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21431

حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعُمُ أَوْ يَقُولُ لَيْسَ مُوسَى صَاحِبَ خَضِرٍ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ كَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا فَقَالُوا لَهُ مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ قَالَ أَنَا فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ أَنَّ لِي عَبْدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ رَبِّ فَأَرِنِيهِ قَالَ قِيلَ تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ قَالَ فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ وَجَعَلَ هُوَ وَصَاحِبُهُ يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ رَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ فَحَبَسَ اللَّهُ عَلَيْهِ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ الْمَاءُ فَاسْتَيْقَظَ مُوسَى فَقَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا وَلَمْ يُصِبْ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ قَالَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قَالَ أَمْسَكَ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّاقِ فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَكَانَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَجَبًا حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ ثَوْبٌ فَسَلَّمَ مُوسَى عَلَيْهِ فَقَالَ وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ قَالَ أَنَا مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا قَالَ يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحُمِلَ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمْ يُعْجِبْهُ وَنَظَرَ فِي السَّفِينَةِ فَأَخَذَ الْقَدُومَ يُرِيدُ أَنْ يَكْسِرَ مِنْهَا لَوْحًا فَقَالَ حُمِلْنَا بِغَيْرِ نَوْلٍ وَتُرِيدُ أَنْ تَخْرُقَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ إِنِّي نَسِيتُ وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ قَالَ الْخَضِرُ مَا يُنْقِصُ عِلْمِي وَلَا عِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَرَأَى غُلَامًا فَأَخَذَ رَأْسَهُ فَانْتَزَعَهُ فَقَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَى قَالَ فَانْطَلَقَا فَإِذَا جِدَارٌ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ وَأَرَانَا سُفْيَانُ بِيَدَيْهِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ هَكَذَا رَفْعًا فَوَضَعَ رَاحَتَيْهِ فَرَفَعَهُمَا بِبَطْنِ كَفَّيْهِ رَفْعًا فَقَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَتْ الْأُولَى نِسْيَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِ

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں خداتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو ( اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سو گئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھر کے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا ( اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے ۔ پتھر تک پہنچے ہی تھے کہ ایک آدمی کپڑے سے سر لپیٹے ہوئے نظر آیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا خضر بولے تمہارے ملک میں سلام کا رواج کہاں ہے (یہ تم نے سلام کیسے کیا؟) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں موسیٰ ہوں خضر بولے کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ میں نے کہا جی ہاں اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ہمراہ اس شرط پر چل سکتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ حصہ کی مجھے بھی تعلیم دیجئے حضرت خضر علیہ السلام بولے آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکیں گے (درمیان میں بول اٹھیں گے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص کا مجھے وہ حصہ عطا فرمایا ہے جو آپ کو نہیں دیا اور آپ کو وہ علم دیا جس سے میں ناواقف ہوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا) آخرکار دونوں دریا کے کنارے کنارے چل دیئے کہ کشتی موجود نہ تھی اتنے میں ادھر سے ایک کشتی کا گزر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے سوار ہونے کے متعلق کچھ بات چیت کی حضرت خضر علیہ السلام کو لوگوں نے پہچان لیا اس لئے کشتی والوں نے دونوں کو بغیر کرایہ کے سوار کر لیا اس کے بعدخضر علیہ السلام نے کشتی کو اچھی طرح دیکھ کر بسولا نکال کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے تو بغیر کرایہ کے ہم کو سوار کر لیا اور تم نے ان کی کشتی توڑ کر سب کو ڈبونا چاہا تم نے یہ عجیب بات کی ؟خضر علیہ السلام بولے میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکو گے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کیجئے اور مجھ پر میرے کام میں دشواری نہ ڈالیے اسی دوران ایک چڑیا نے آکر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میرا اور تمہارا علم اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں کر سکتاجتنی کمی اس چڑیا نے اس سمندر کے پانی میں کی ہے۔ پھر یہ دونوں حضرات کشتی سے نکل کر چل دیئے راستہ میں ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر علیہ السلام نے اس کا سرپکڑ کر اپنے ہاتھ سے گردن اکھاڑ دی حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے تم نے جو ایک معصوم جان کو بلا قصور مار ڈالا یہ تم نے بہت برا کام کیا خضر علیہ السلام بولے کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ضبط نہ کر سکو گے موسیٰ نے کہا اچھا اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ دریافت کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھنا آپ نے میرا عذر بہت مان لیا آخر کار پھر دونوں چل دیئے چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کر دیا ان کو وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اس کو سیدھا کر دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ہم ان لوگوں کے پاس آئے اور انہوں نے ہم کو نہ کھانا دیا نہ مہمانی کی لیکن آپ نے ان کی دیوار ٹھیک کر دی اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت لے سکتے تھے حضرت خضر علیہ السلام بولے بس یہی میرے تمہارے درمیان جدائی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کا سوال بھولے سے ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے اگر وہ ضبط کر لیتے تو خداتعالیٰ ہمارے سامنے ان کا واقعہ کچھ اور بھی بیان فرماتا۔

قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21431

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21434

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِمْلَاءً عَلَيَّ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبِي كَتَبْتُهُ عَنْ بَهْزٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ حَتَّى أَنَّ نَوْفًا يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى لَيْسَ بِصَاحِبِ الْخَضِرِ قَالَ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ قَالَ أَنَا فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ قَالَ بَلْ عَبْدٌ لِي عِنْدَ مَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ أَيْ رَبِّ فَكَيْفَ لِي بِهِ قَالَ خُذْ حُوتًا فَاجْعَلْهُ فِي مِكْتَلٍ ثُمَّ انْطَلِقْ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ فَانْطَلَقَ مُوسَى وَمَعَهُ فَتَاهُ يَمْشِيَانِ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَرَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَخَرَجَ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ مِثْلَ الطَّاقِ وَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَقَالَ سُفْيَانُ فَعَقَدَ الْإِبْهَامَ وَالسَّبَّابَةَ وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا قَالَ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ الْغَدِ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا قَالَ وَلَمْ يَجِدْ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ حَيْثُ أُمِرَ قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا قَالَ وَكَانَ لِمُوسَى أَثَرُ الْحُوتِ عَجَبًا وَلِلْحُوتِ سَرَبًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں خداتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو ( اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سوگئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھر کے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا ( اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تعجب ہوا اور مچھلی سرنگ بنا کر چلی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

بَهْزٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ حَتَّى ← أَبِي كَتَبْتُهُ ← قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِمْلَاءً عَلَيَّ ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21434

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24773

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ ثُمَّ يُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَأَشْهَدَهُمْ عَلَى رَجْعَتِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ائْتِ عَائِشَةَ فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ حَكِيمٌ وَعَرَفَتْهُ قَالَ نَعَمْ أَوْ بَلَى قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِيضَتِهِ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي وَتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِي رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُخِذَ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقْتَ أَمَا لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً

حضرت زرارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کا ارادہ کیا تو وہ مدینہ منورہ آگئے اور اپنی زمین وغیرہ بیچنے کا ارادہ کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ خرید سکیں اور مرتے دم تک روم والوں سے جہاد کریں تو جب وہ مدینہ منورہ میں آگئے اور مدینہ والوں میں سے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے سے منع کیا اور ان کو بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاۃ طیبہ میں چھ آدمیوں نے بھی اسی طرح کا ارادہ کیا تھا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اس طرح کرنے سے روک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں ہے؟ جب مدینہ والوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنی اس بیوی سے رجوع کیا جس کو وہ طلاق دے چکے تھے اور اپنے اس رجوع کرنے پر لوگوں کو گواہ بنا لیا۔ پھر وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف آئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ کیا میں تجھے وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں جانتا ہے؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ کون ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تو ان کی طرف جا اور ان سے پو چھ پھر اس کے بعد میرے پاس آ اور وہ جو جواب دیں مجھے بھی اس سے باخبر کرنا۔ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا) کہ میں پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف چلا (اور پہلے میں) حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف لے کر چلو۔ وہ کہنے لگے کہ میں تجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف لے کر نہیں جاسکتا کیونکہ میں نے انہیں اس بات سے روکا تھا کہ وہ ان دو گروہوں(علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے درمیان کچھ نہ کہیں تو انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان پر قسم ڈالی تو وہ ہمارے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف آنے کے لئے چل پڑے اور ہم نے اجازت طلب کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمیں اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہو ئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکیم بن افلح کو پہچان لیا اور فرمایا کیا یہ حکیم ہیں؟ حکیم کہنے لگے کہ جی ہاں! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: تیرے ساتھ کون ہے؟ حکیم نے کہا کہ سعد بن ہشام ہیں، آپ(عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا : ہشام کون ہے؟ حکیم نے کہا کہ عامر کا بیٹا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عامر پر رحم کی دعا فرمائی اور اچھے کلمات کہے۔ میں نے عرض کیا اے ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتایئے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا پڑھتا ہوں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تو تھا، حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اٹھ کھڑا ہو کر جاؤں اور مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی نماز) کے قیام کے بارے میں بتائیے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے یاایھا المزمل نہیں پڑھی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء ہی میں رات کا قیام فرض کردیا تھا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک سال رات کو قیام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ مہینوں تک آسمان میں روک دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی تو پھر رات کا قیام (تہجد) فرض ہونے کے بعد نفل ہو گیا۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم آپ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ کو رات کو جب چاہتا بیدار کردیتا تو آپ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور نو رکعات نماز پڑھتے۔ ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کر تے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہوکر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کر تے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے۔ پھر آپ سلام پھیرتے اور سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے۔ پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔ اے میرے بیٹے! پھر جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح پہلے بیان کیا تو یہ نور رکعتیں ہوئی۔ اے میرے بیٹے! اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند فرماتے کہ اس پر دوام (ہمیشگی) کی جائے اور جب آپ پر نیند کا غلبہ ہو تا یا کوئی درد وغیرہ ہوتی کہ جس کی وجہ سے رات کا قیام (تہجد) نہ ہو سکتا ہو تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھتے اور مجھے نہیں معلوم کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رات میں سارا قرآن مجید پڑھا ہو اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ نے صبح تک ساری رات نماز پڑھی ہو اور نہ ہی یہ کہ آپ نے پورا مہینہ روزے رکھے ہوں، سوائے رمضان کے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور ان سے اس ساری حدیث کو بیان کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ فرمایا اور اگر میں ان کے پاس ہو تا یا ان کی خدمت میں حاضری دیتا تو میں یہ حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بالمشافہ (براہ راست) سنتا۔

سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24773

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24803

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا فِي طَلَبِهَا فَوَجَدُوهَا فَأَدْرَكَتْهُمْ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عاریۃً ایک ہار لیا تھا، دوران سفر وہ کہیں گر کر گم ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وہ ہار تلاش کرنے کے لئے بھیجا، ہار تو انہیں مل گیا لیکن نماز کا وقت ہو گیا تھا اور لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے کا ارادہ کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرما دیا، اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، واللہ آپ پر جب بھی کوئی مشکل پیش آئی ہے جسے آپ ناگوار سمجھتی ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے اسی میں آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے خیر رکھ دیا۔

أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24803

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17708

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ إِذْ مَرَرْنَا بِبَعِيرٍ يُسْنَى عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ وَوَضَعَ جِرَانَهُ فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ فَجَاءَ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَقَالَ لَا بَلْ أَهَبُهُ لَكَ فَقَالَ لَا بِعْنِيهِ قَالَ لَا بَلْ أَهَبُهُ لَكَ وَإِنَّهُ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهُ قَالَ أَمَا إِذْ ذَكَرْتَ هَذَا مِنْ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ الْعَلَفِ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهِ جِنَّةٌ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْخَرِهِ فَقَالَ اخْرُجْ إِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ سَفَرِنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءِ فَأَتَتْهُ الْمَرْأَةُ بِجَزُورٍ وَلَبَنٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرُدَّ الْجَزُورَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَشَرِبَ مِنْ اللَّبَنِ فَسَأَلَهَا عَنْ الصَّبِيِّ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْنَا مِنْهُ رَيْبًا بَعْدَكَ

حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ایسے معجزے دیکھے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے اور نہ بعد میں کوئی دیکھ سکے گا، ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، یہ اونٹ کس کا ہے؟ اس کا معاملہ عجیب محسوس ہوتا ہے، چنانچہ میں اس کے مالک کی تلاش میں نکلا، مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک انصاری آدمی ہے، میں نے اسے بلایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ واللہ مجھے اور تو کچھ معلوم نہیں ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم اس پر کام کرتے تھے اور اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، لیکن اب یہ پانی لانے سے عاجز آگیا تھا، اس لئے ہم نے آج رات یہ مشورہ کیا کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کر دیتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کرو، یہ ہدیۃ مجھے دے دو، یا قیمۃ دے دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ آپ کا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کی علامت لگائی اور اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔ پھر ہم روانہ ہوئے ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کر لیا، تھوڑی دیر بعد واپس چلا گیا ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے اس کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس درخت نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ جو اللہ نے اسے دے دی۔ دوران سفر ہمارا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں ، دن میں نجانے کتنی مرتبہ اس پر اثر ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مجھے پکڑا دو، اس نے پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنے اور کجاوے کے درمیان بٹھا لیا، پھر اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں ، اے دشمن خدا! دور ہو، یہ کہہ کر وہ بچہ اس کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا جب ہم اس جگہ سے واپس گذریں تو ہمارے پاس اسے دوبارہ لانا اور بتانا کہ اب اس کی حالت کیسے رہی؟ پھر ہم آگے چل پڑے، واپسی پر جب ہم دوبارہ وہاں پہنچے تو ہمیں اس جگہ پر اس عورت کے ساتھ تین بکریاں بھی نظر آئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارا بچہ کیسا رہا؟ اس نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تک ہمیں اس کی بیماری محسوس نہیں ہوئی ہے ( اور یہ صحیح ہے) ۔

يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17708

chevron_left Previous
1…474849…1,850
Next chevron_right