Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطهارة

Taharah / Purification

36985 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7928

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ فَانْتَهَى إِلَى الْحَرَّةِ فَإِذَا هُوَ فِي أَذْنَابِ شِرَاجٍ وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدْ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ فَتَبِعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُكَ قَالَ فُلَانٌ بِالِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لِمَ تَسْأَلُنِي عَنْ اسْمِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ يَقُولُ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا قَالَ أَمَّا إِذَا قُلْتَ هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی جنگل میں چلا جا رہا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک آواز پڑی جو بادل سے آرہی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو۔ اس آواز پر وہ بادل ایک جانب چلا گیا اور اس کا پانی ایک پتھریلی جگہ پر جا کر برس گیا وہ آدمی اس جگہ پہنچا تو وہاں کچھ نالیوں کے سرے دکھائی دیئے ان میں سے ایک نالی ایسی تھی جس میں وہ سارا پانی جمع ہوگیا وہ آدمی پانی کے پیچھے چلتا گیا چلتے چلتے وہ ایک آدمی کے پاس پہنچا جو اپنے باغ میں کھڑا پانی آگے پیچھے لگا رہا تھا اس نے اس سے کہا کہ اے بندہ اللہ تمہارا کیا نام ہے؟ اس نے اپنا نام بتایا یہ وہی نام تھا جو اس نے بادل سے آنے والی آواز میں سنا تھا وہ آدمی کہنے لگا کہ اے اللہ کے بندے تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں نے ایک بادل میں سے ایک آواز سنی تھی جس کا یہ پانی ہے اور اس میں تمہارا نام لے کر کہا گیا تھا کہ فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کرو اب تم بتاؤ کہ تم اس میں کون سا ایسا عمل کرتے ہو (جس کی یہ برکت ہے؟) اس نے کہا کہ اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو بات یہ ہے کہ میں اس باغ کی پیداوار پر غور کرتا ہوں پھر ایک تہائی حصہ صدقہ کرتا ہوں ایک تہائی خود اور اپنے اہل خانہ کو کھلاتا ہوں اور ایک تہائی اسی میں واپس لگا دیتا ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7928

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7946

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلًى لِأَبِي رُهْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ إِعْصَارٍ طَيِّبَةً فَقَالَ لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ فَيَقْبَلُ اللَّهُ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْهُ اغْتِسَالَهَا مِنْ الْجَنَابَةِ فَاذْهَبِي فَاغْتَسِلِي

ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبو لگا رکھی تھی؟ انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا مسجد کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے لہٰذا تم جا کر اسے دھو دو۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← نَعَمْ ← وله تطيبت ← نَعَمْ ← لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ إِعْصَارٍ طَيِّبَةً ← عُبَيْدٍ مَوْلًى لِأَبِي رُهْمٍ ← عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7946

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7949

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرَ وَالْمَاءَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں کھجور اور پانی کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔

«مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ: التَّمْرُ، وَالْمَاءُ» ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7949

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7980

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ ثُمَّ قَالَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ قَالَ بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ بَعْدُ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ أَلَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهَا قَالُوا بَلَى قَالَ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستاں تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قبرستان والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا اے جماعت مومنین کے مکینو تم پر سلام ہو ان شاء اللہ ہم بھی تم سے آ کر ملنے والے ہیں پھر فرمایا کہ میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ سکیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے اور جن کا میں حوض کوثر پر منتظر ہوں گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے جو امتی ابھی تک نہیں آئے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر کسی آدمی کا سفید روشن پیشانی والا گھوڑا کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچان سکے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ لوگ بھی قیامت کے دن وضو کے آثار کی برکت سے روشن سفید پیشانی کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض کوثر پر ان کا انتظار کروں گا۔ پھر فرمایا یاد رکھو تم میں سے کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ کو بھگایا جاتا ہے میں انہیں آواز دوں گا کہ ادھر آؤ لیکن کہا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل ڈالا تھا تو میں کہوں گا کہ دور ہوں دور ہوں۔

قد رأَينَا إِخْوَاننَا ← «وَدِدْتُ ← إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحقون، ثُمَّ ← «سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، ← النَّبِيِّ أَنَّهُ أَتَى إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْمَقْبَرَةِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7980

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7982

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ وَيَمْحُو بِهِ الْخَطَايَا كَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے؟ کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھنا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7982

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16498

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو هَاشِمٍ الْمَكِّيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَجِدْهُ فَأَطْعَمَتْنَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصَدَتْ لَنَا عَصِيدَةً إِذْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ فَقَالَ هَلْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ دَفَعَ رَاعِي الْغَنَمِ فِي الْمُرَاحِ عَلَى يَدِهِ سَخْلَةٌ قَالَ هَلْ وَلَدَتْ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاذْبَحْ لَنَا شَاةً ثُمَّ أَقْبِلْ عَلَيْنَا فَقَالَ لَا تَحْسَبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا يَحْسَبَنَّ إِنَّا ذَبَحْنَا الشَّاةَ مِنْ أَجْلِكُمَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ عَلَيْهَا فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً أَمَرْنَاهُ بِذَبْحِ شَاةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ الْوُضُوءِ قَالَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ وَخَلِّلْ الْأَصَابِعَ وَإِذَا اسْتَنْثَرْتَ فَأَبْلِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَإِيذَائِهَا فَقَالَ طَلِّقْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا ذَاتُ صُحْبَةٍ وَوَلَدٍ قَالَ فَأَمْسِكْهَا وَأْمُرْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ

حضرت لقیط بن صبرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ملے حضرت عائشہ نے ہمیں کھجوریں کھلائیں اور گھی آٹاملا کر ہمارے لئے کھانا تیار کیا اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جھک کر چلتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا کہ تم نے کچھ کھایا ہے ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ اسی دوران بکریوں کے باڑے میں سے ایک چرواہے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بکری کا ایک بچہ پیش کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا بکری نے بچہ دیا ہے اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک بکری کو ذبح کرو اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے صرف تمہاری وجہ سے ذبح کیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ہمارابکریوں کا ریوڑ ہے جب بکریوں کی تعداد سو تک پہنچ جاتی ہے تو ہم اس میں سے ایک ذبح کر لیتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد سو سے زیادہ ہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں آپ نے فرمایا جب وضو کیا کرو تو خوب اچھی طرح کیا کرو اور انگلیوں کا خلال بھی کیا کرو اور جب تم ناک میں پانی ڈالو تو خوب مبالغہ کرو الاّ یہ تم روزے سے ہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری بیوی بڑی زبان دراز اور بے ہودہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے طلاق دیدو میں نے کہا یا رسول اللہ وہ کافی عرصے سے میرے یہاں ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے اپنے پاس رکھ کرسمجھاتے رہو اگر اس میں کوئی خیر ہوئی تو وہ تمہاری بات مان لے گی لیکن اپنی بیوی کو اپنی باندی کی طرح نہ مارنا۔

انْطَلَقْتُ ← أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو هَاشِمٍ الْمَكِّيُّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16498

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16511

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ثَلَاثٌ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالسِّوَاكُ وَيَمَسُّ مِنْ طِيبٍ إِنْ وَجَدَ

ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر تین چیزوں کا حق ہے جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا بشرطیکہ اس کے پاس موجود بھی ہو۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16511

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16568

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَيَمْسَحُ بِالْمَاءِ عَلَى رِجْلَيْهِ

عباد بن تمیم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ پانی سے اپنے پاؤں پر مسح فرما رہے تھے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ وَيَمْسَحُ بِالْمَاءِ عَلَى رِجْلَيْهِ ← أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ أَنَّهُ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ الْمَازِنِيِّ، ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16568

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16616

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا قَالَ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا قَالَ سَلَمَةُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنْ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ نَحْوَ الْجَبَلِ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ عَلَى الْمَاءِ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ قَالَ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا قَالَ فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بِتُّ فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ أَعْجَبَتْنِي مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أُسَارَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے، اور اس ندی کے قریب بے شمار لوگوں کو قتل کر دیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا، اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہوگیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اوپر پہاڑ کے درمیان جاگرا۔پھر میں انہیں ہانکتا ہوا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین و جمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان قیدیوں کو چھڑا لیا۔

أَبِي ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16652

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى فَزَارَةَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ الْمَاءِ عَرَّسَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَوَرَدْنَا الْمَاءَ فَقَتَلَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ قَتَلَ وَنَحْنُ مَعَهُ قَالَ سَلَمَةُ فَرَأَيْتُ عُنُقًا مِنْ النَّاسِ فِيهِمْ الذَّرَارِيُّ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَأَدْرَكْتُهُمْ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا رَأَوْا السَّهْمَ قَامُوا فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ مَعَهَا ابْنَةٌ مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَجِئْتُ أَسُوقُهُنَّ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بَاتَتْ عِنْدِي فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا أُسَرَاءَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر کے ساتھ نکلے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو حضرت صدیق اکبر نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے اور اس ندی کے قریب بے شمار لوگوں کو قتل کردیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہوگیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا۔ پھر میں انہیں ہانکتا ہوا حضرت صدیق اکبر کے پہاس لے آیا، اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین وجمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی حضرت صدیق اکبر نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا ہے، لیکن یا رسول اللہ! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان سے قیدیوں کو چھڑا لیا۔

بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ أَبَا بَكْرٍ إِلَى فَزَارَةَ ← أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةَ، ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16652

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16654

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا أَنَا وَرَبَاحٌ غُلَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْتُ بِفَرَسٍ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أُبْدِيَهُ مَعَ الْإِبِلِ فَلَمَّا كَانَ بِغَلَسٍ غَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتَلَ رَاعِيَهَا وَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ اقْعُدْ عَلَى هَذَا الْفَرَسِ فَأَلْحِقْهُ بِطَلْحَةَ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ أُغِيرَ عَلَى سَرْحِهِ قَالَ وَقُمْتُ عَلَى تَلٍّ فَجَعَلْتُ وَجْهِي مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ مَعِي سَيْفِي وَنَبْلِي فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ وَذَلِكَ حِينَ يَكْثُرُ الشَّجَرُ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَهُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَمَيْتُ فَلَا يُقْبِلُ عَلَيَّ فَارِسٌ إِلَّا عَقَرْتُ بِهِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَنَا أَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ فَأَرْمِيهِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَيَقَعُ سَهْمِي فِي الرَّحْلِ حَتَّى انْتَظَمْتُ كَتِفَهُ فَقُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَإِذَا كُنْتُ فِي الشَّجَرِ أَحْرَقْتُهُمْ بِالنَّبْلِ فَإِذَا تَضَايَقَتْ الثَّنَايَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَرَدَيْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ فَمَا زَالَ ذَاكَ شَأْنِي وَشَأْنَهُمْ أَتْبَعُهُمْ فَأَرْتَجِزُ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي فَاسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا وَلَا يُلْقُونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ حِجَارَةً وَجَمَعْتُ عَلَى طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا امْتَدَّ الضُّحَى أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ مَدَدًا لَهُمْ وَهُمْ فِي ثَنِيَّةٍ ضَيِّقَةٍ ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَأَنَا فَوْقَهُمْ فَقَالَ عُيَيْنَةُ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ مَا فَارَقَنَا بِسَحَرٍ حَتَّى الْآنَ وَأَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ فِي أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ قَالَ عُيَيْنَةُ لَوْلَا أَنَّ هَذَا يَرَى أَنَّ وَرَاءَهُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَكَكُمْ لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ فَقَامَ إِلَيْهِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ الصَّوْتَ قُلْتُ أَتَعْرِفُونِي قَالُوا وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْلُبُنِي مِنْكُمْ رَجُلٌ فَيُدْرِكُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِنْ أَظُنُّ قَالَ فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِي ذَلِكَ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ وَإِذَا أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ وَعَلَى أَثَرِهِ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَثَرِ أَبِي قَتَادَةَ الْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ فَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ مُدْبِرِينَ وَأَنْزِلُ مِنْ الْجَبَلِ فَأَعْرِضُ لِلْأَخْرَمِ فَآخُذُ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فَقُلْتُ يَا أَخْرَمُ ائْذَنْ الْقَوْمَ يَعْنِي احْذَرْهُمْ فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَقْطَعُوكَ فَاتَّئِدْ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ قَالَ فَخَلَّيْتُ عِنَانَ فَرَسِهِ فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ فَرَسِ الْأَخْرَمِ فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ ثُمَّ إِنِّي خَرَجْتُ أَعْدُو فِي أَثَرِ الْقَوْمِ حَتَّى مَا أَرَى مِنْ غُبَارِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُعْرِضُونَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ ذُو قَرَدٍ فَأَرَادُوا أَنْ يَشْرَبُوا مِنْهُ فَأَبْصَرُونِي أَعْدُو وَرَاءَهُمْ فَعَطَفُوا عَنْهُ وَاشْتَدُّوا فِي الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ ذِي بِئْرٍ وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَأَلْحَقُ رَجُلًا فَأَرْمِيهِ فَقُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَقَالَ يَا ثُكْلَ أُمِّ أَكْوَعَ بَكْرَةً قُلْتُ نَعَمْ أَيْ عَدُوَّ نَفْسِهِ وَكَانَ الَّذِي رَمَيْتُهُ بَكْرَةً فَأَتْبَعْتُهُ سَهْمًا آخَرَ فَعَلِقَ بِهِ سَهْمَانِ وَيَخْلُفُونَ فَرَسَيْنِ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُوْ قَرَدٍ فَإِذَا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسِ مِائَةٍ وَإِذَا بِلَالٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ فَهُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِي فَأَنْتَخِبَ مِنْ أَصْحَابِكَ مِائَةً فَآخُذَ عَلَى الْكُفَّارِ عَشْوَةً فَلَا يَبْقَى مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ أَكُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ يَا سَلَمَةُ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ فِي ضُوءِ النَّارِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمْ يُقْرَوْنَ الْآنَ بِأَرْضِ غَطَفَانَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ مَرُّوا عَلَى فُلَانٍ الْغَطَفَانِيِّ فَنَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا قَالَ فَلَمَّا أَخَذُوا يَكْشِطُونَ جِلْدَهَا رَأَوْا غَبَرَةً فَتَرَكُوهَا وَخَرَجُوا هَرَبًا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا قَرِيبًا مِنْ ضَحْوَةٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ لَا يُسْبَقُ جَعَلَ يُنَادِي هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ أَلَا رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَعَادَ ذَلِكَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْدِفِي قُلْتُ لَهُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي خَلِّنِي فَلَأُسَابِقُ الرَّجُلَ قَالَ إِنْ شِئْتَ قُلْتُ أَذْهَبُ إِلَيْكَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ عَنْ النَّاقَةِ ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ يَعْنِي اسْتَبْقَيْتُ نَفْسِي ثُمَّ إِنِّي عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ فَأَصُكَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدَيَّ قُلْتُ سَبَقْتُكَ وَاللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَضَحِكَ وَقَالَ إِنْ أَظُنُّ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے، میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہوئے، میں حضرت طلحۃ بن عبیداللہ کا گھوڑا لے کر نکلا، ارادہ یہ تھا کہ اسے اونٹ کے ساتھ شامل کر دوں گا، لیکن منہ اندھیرے عبدالرحمن بن عیینہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کیا اور چرواہے کو قتل کردیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو کر ان اونٹوں کو بھگا کر لے گیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں میں نے کہا اے رباح! یہ گھوڑا پکڑ اور اسے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو پہنچا دے اور رسول اللہ کو خبر دے کہ مشرکوں نے آپ کے اونٹوں کو لوٹ لیا ہے، پھر میں ایک ٹیلے پر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا، 'یا صباحاہ' پھر (اس کے بعد) میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا : میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آکر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کردیئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ کوئی اونٹ جو اللہ نے پیدا کیا اور وہ رسول اللہ کی سواری کا ہو ایسا نہیں ہوا کہ جسے میں نے اپنی پشت کے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر ان کے پیچھے تیر پھینکے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہلکا ہونے کی خاطر تیس چادریں اور تیس نیزوں سے زیادہ پھینک دیئے، سوائے اس کے کہ وہ لوگ جو چیز بھی پھینکتے میں پتھروں سے میل کی طرح اس پر نشان ڈال دیتا کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ پہچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی پر آگئے اور عیینہ بن بدر فزاری بھی ان کے پاس آگیا، سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ گیا، فزاری کہنے لگا کہ یہ کون آدمی ہمیں دیکھ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا : اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے، اللہ کی قسم! اندھیری رات سے ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے۔ فزاری کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف کھڑے ہوں اور اسے ماردیں ، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ (یہ سنتے ہیں ) ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں ، تو میں نے ان سے کہا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے کہا تم کون ہو؟ میں نے جواب میں کہا : میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں تم میں سے جسے چاہوں ماردو اور تم میں سے کوئی مجھے مار نہیں سکتا، ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے، (پھر وہ سب وہاں سے لوٹ پڑے اور) میں ابھی تک اپنی جگہ سے چلا نہیں تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھ لیا جو کہ درختوں میں گھس گئے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتاد تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسود کندی تھے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جا کر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی (یہ دیکھتے ہی) وہ لٹیرے بھاگ پڑے، میں نے کہا اے اخرم ان سے ذرا بچ کے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں مار ڈالیں جب تک کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ نہ آجائیں ، اخرم کہنے لگے اے ابوسلمہ! اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالو، میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فزاری سے ہوا، اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ اسی دوران رسول اللہ کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آگئے (جب انہوں نے یہ منظر دیکھا) تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فزاری کو بھی برچھی مار کر قتل کردیا میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گردو غبار، یہاں تک کہ وہ لٹیرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی کی طرف آئے جس میں پانی تھا، اس گھاٹی کو ذی قرد کہا جاتا تھا تاکہ وہ لوگ اس گھاٹی سے پانی پئیں کیوکہ وہ پیاسے تھے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا ہو اچلا آرہا تھا، بالآخر میں نے ان کو پانی سے ہٹایا، وہ اس سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے، پر وہ کسی اور گھاٹی کی طرف نکلے، میں بھی ان کے پیچھے بھاگا اور ان میں سے ایک آدمی کو پا کر میں نے اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر مارا، میں نے کہا پکڑ اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے، وہ کہنے لگا اس کی ماں اس پر روئے کیا یہ وہی اکوع تو نہیں جو صبح کو میرے ساتھ تھا، میں نے کہا : ہاں ! اے اپنی جان کے دشمن جو صبح کے وقت تیرے ساتھ تھا، اور اسے ایک تیرے دے مارا ، پھر انہوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دیئے تو میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکا کر رسول اللہ کی طرف لے آیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی، ان کے پاس ایک چھاگل (چمڑے کا توشہ دان) تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشکیزے میں پان تھا، پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور آپ اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگادیا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ نے وہ اونٹ اور وہ تمام چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ کے لئے بھونا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نےعرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں لشکر میں سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لٹیروں کا مقابلہ کروں اور جب تک میں ان کو قتل نہ کر ڈالوں اس وقت تک نہ چھوڑوں کہ وہ جا کر اپنی قوم کو خبر دیں ، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ ہنس پڑے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں ، آپ نے فرمایا : اے سلمہ! کیا تو یہ کر سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بزرگی عطا فرمائی، آپ نے فرمایا: اب تو وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آگئے وہ لوگ وہاں (غطفان) سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا کہ آج کے دن ہمارے بہترین سواروں میں سے بہتر سوار حضرت قتادہ ہیں پیادوں میں سے بہتر حضرت سلمہ ہیں ۔ پھر رسول اللہ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے عطا فرمائے پھر رسول اللہ نے عضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے۔ دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا، وہ کہنے لگا، کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے؟ وہ بار بار یہی کہتا رہا، جب میں نے اس کا چیلنج سنا تو میں نے کہا، کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں ؟ اس انصاری شخص نے کہا، نہیں سوائے رسول اللہ کے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، مجھے اجازت عطا فرمائی تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں ، آپ نے فرمایا : (اچھا) اگر تو چاہتا ہے، تو حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا اور پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو میں نے سانس لیا پھر میں اس کے پیچھے دوڑا پھر جب ایک یا دو چڑھا باقی رہ گئی تو پھر میں نے سانس لیا پھر میں دوڑا یہاں تک کہ اس انصاری سے جا کر مل گیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک گھونسا مارا اور میں نے کہا، اللہ کی قسم! میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا، اس پر وہ ہنس پڑا کہنے لگا کہ میں بھی یہی سمجھتا ہوں ، حتی کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16654

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16702

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي فَنَّجُ قَالَ كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَبَاذِ وَأُعَالِجُ فِيهِ فَقَدِمَ يَعْلَي بْنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنْ الْمَاءِ وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ وَيَأْكُلُ ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ هَلُمَّ قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ أَتَضْمَنُ لِي غَرْسَ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ فَقَالَ الرَّجُلُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ مَنْ نَصَبَ شَجَرَةً فَصَبَرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَابُ مِنْ ثَمَرَتِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ فَنَّجُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَّجُ فَأَنَا أَضْمَنُهَا قَالَ فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَبَاذِ

فنج کہتے ہیں کہ میں 'دینباذ' (علاقے کا نام) میں کام کاج کرتا تھا اس دوران یعلی بن امیہ یمن کے گورنر بن کر آگئے، ان کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی آئے تھے، ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا، میں اس وقت اپنے کھیت میں پانی لگا رہا تھا، اس آدمی کی جیب میں اخروٹ تھے، وہ پانی کی نالی پر بیٹھ گیا، اور اخروٹ توڑ توڑ کر کھانے لگا، پھر اس شخص نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا کہ اے فارسی! ادھر آؤ میں قریب چلا گیا تو وہ کہنے لگا کہ کیا تم مجھے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہو کہ اس پانی کے قریب اخروٹ کے درخت لگائے جاسکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اس ضمانت سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے اور اس کی نگہداشت اور ضروریات کا خیال رکھتا رہے تا آنکہ اس پر پھل آجائے تو جس چیز کو بھی اس کا پھل ملے گا، وہ اللہ کے نزدیک اس کے لئے صدقہ بن جائے گا۔ فنج نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا جی ہاں ! اس پر فنج نے انہیں ضمانت دے دی اور اب تک وہاں کے اخروٹ مشہور ہیں۔

فَنَّجُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← داود بن قيس الصنعاني ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16702

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16718

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزہ رکھتے رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید میں پہنچ کر پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَبُو نُوحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16718

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16719

قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ وَقَالَ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوًّا لَكُمْ فَتَقَوَّوْا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو، لیکن خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا، اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر روزہ افطار کر لیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ← سُمَيٍّ ← مالک بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16719

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16738

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدَاةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُسْفِرُ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقُ الْوَجْهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنْ الْمُوقِنِينَ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ قَالَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَمِنْ الدَّرَجَاتِ طِيبُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي النَّاسِ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے تو بڑا خوشگوار موڈ تھا اور چہرے پر بشاشت کھیل رہی تھی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کیفیت کا تذکرہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہو؟ جبکہ آج رات میرے پاس میرا رب انتہائی حسین صورت میں آیا، اور فرمایا اے محمد، میں نے عرض کیا لبیک ربی وسعدیک ، فرمایا ملا اعلی کے فرشتے کس وجہ سے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا پروردگار! میں نہیں جانتا (دو تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوا) پھر پروردگار نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں کے درمیان رکھ دیں جن کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے اور چھاتی میں محسوس کی، حتی کہ میرے سامنے آسمان و زمین کی ساری چیزیں نمایاں ہوگئیں ، پھر آپ نے وکذلک نری ابراہیم والی آیت تلاوت فرمائی، اس کے بعد اللہ نے پھر پوچھا کہ اے محمد، ملا اعلی کے فرشتے کس چیز کے بارے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کفارات کے بارے میں ، فرمایا کفارات سے کیا مراد ہے، میں نے عرض کیا جمعہ کے لئے اپنے پاؤں سے چل کر جانا، نماز کے بعد بھی مسجد میں بیٹھے رہنا، مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، ارشاد ہوا کہ جو شخص یہ کام کر لے وہ خیر کی زندگی گزارے گا اور خیر کی موت مرے گا اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجائے گا جیسے اپنی پیدائش کے دن تھا، اور جو چیزیں بلند درجات کا سبب بنتی ہیں ، وہ بہترین کلام، سلام کی اشاعت، کھانا کھلانا، اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھنا ہے، پھر فرمایا اے محمد! جب نماز پڑھا کرو تو یہ دعاء کر لیا کرو، کہ اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کا سوال کرتا ہوں ، منکرات سے بچنے کا، مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ تو میری طرف خصوصی توجہ فرما اور جب لوگوں میں کسی آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت عطا فرما دے۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16738

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16840

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ عَرَفَةَ وَيَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَالَ وَكَانَ الْفَاكِهُ بْنُ سَعْدٍ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالْغُسْلِ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ

حضرت فاکہ بن سعد سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن، عرفہ کے دن، عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن اہتمام کے ساتھ غسل فرماتے تھے، خود فاکہ بن سعد بھی اپنے اہل خانہ کو ان ایام میں غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔

جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← يوسف بن خالد ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16840

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16842

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَدَّتِي رَبِيعَةَ ابْنَةَ عِيَاضٍ عَنْ جَدِّهَا عَبِيدَةَ بْنِ عَمْرٍو الْكِلَابِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ قَالَ وَكَانَتْ رَبِيعَةُ إِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتْ الْوُضُوءَ

حضرت عبیدہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے خوب اچھی طرح مکمل وضو کیا، راوی کہتے ہیں کہ میری دادی ربیعہ بھی خوب کامل وضو کرتی تھیں۔

وَكَانَتْ رَبِيعَةُ إِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتْ الْوُضُوءَ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ← جَدِّهَا عَبِيدَةَ بْنِ عَمْرٍو الْكِلَابِيِّ ← جَدَّتِي رَبِيعَةَ ابْنَةَ عِيَاضٍ ← سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16842

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16870

قَالَ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ تَذَاكَرْنَا غُسْلَ الْجَنَابَةِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَآخُذُ مِلْءَ كَفِّي ثَلَاثًا فَأَصُبُّ عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أُفِيضُ بَعْدُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِي

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں غسل جنابت کا تذکرہ کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ میں تو دونوں ہتھیلیوں میں بھر کر پانی لیتا ہوں اور اپنے سر پر بہا لیتا ہوں ، اس کے بعد بقیہ جسم پر پانی ڈالتا ہوں۔

رَسُولُ اللَّهِ أَمَّا ← تَذَاكَرْنَا غُسْلَ الْجَنَابَةِ عِنْدَ النَّبِيِّ ← جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16870

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16902

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعُ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ تَذَاكَرْنَا الْغُسْلَ مِنْ الْجَنَابَةِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ذُكِرَتْ الْجَنَابَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَآخُذُ بِكَفِّي ثَلَاثًا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں غسل جنابت کا تذکرہ کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ میں تو دونوں ہتھیلیوں میں بھر کر پانی لیتا ہوں اور تین مرتبہ اپنے سر پر بہا لیتا ہوں۔

فَآخُذُ بِكَفِّي ثَلَاثًا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ← إِمَّا ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ ذُكِرَتْ الْجَنَابَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ ← فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا. ← إِمَّا ← تَذَاكَرْنَا الْغُسْلَ مِنْ الْجَنَابَةِ عِنْدَ النَّبِيِّ ← جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16902

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16908

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں غسل جنابت کا تذکرہ کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ میں تو دونوں ہتھیلیوں میں بھر کر پانی لیتا ہوں اور تین مرتبہ اپنے سر پر بہا لیتا ہوں۔

فَأُفْرِغُ عَلَی رَأْسِي ثَلَاثًا ← عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ أَمَّا ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ← أَنَّهُ ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16908

chevron_left Previous
1…404142…1,850
Next chevron_right