Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطهارة

Taharah / Purification

36985 hadiths

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 101

وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من توضا يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل افضل» .‏‏‏‏ رواه الخمسة وحسنه الترمذي.

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کے روز جس نے وضو کیا اس نے اچھا اور بہتر کیا اور جس نے غسل کیا تو بہرحال افضل ہے اور بہترین ہے۔“ اس کو پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 101

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 104

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اغتسل من الجنابة يبدا فيغسل يديه ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه ثم يتوضا ثم ياخذ الماء فيدخل اصابعه في اصول الشعر،‏‏‏‏ ثم حفن على راسه ثلاث حفنات،‏‏‏‏ ثم افاض على سائر جسده ثم غسل رجليه. متفق عليه واللفظ لمسلم.ولهما من حديث ميمونة: ثم افرغ على فرجه وغسله بشماله،‏‏‏‏ ثم ضرب بها الارض.وفي رواية: فمسحها بالتراب. وفي آخره: ثم اتيته بالمنديل فرده،‏‏‏‏ وفيه: وجعل ينفض الماء بيده.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اس طرح آغاز کرتے۔ پہلے ہاتھ دھوتے پھر سیدھے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنا عضو مخصوص دھوتے۔ پھر وضو کرتے، پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کے بالوں کی تہہ (جڑوں) میں داخل کرتے۔ پھر تین چلو پانی کے بھر کر یکے بعد دیگرے سر پر ڈالتے۔ پھر باقی سارے وجود پر پانی بہاتے (سب سے آخر میں) پھر دونوں پاؤں دھوتے۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور بخاری و مسلم میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح ہے۔ ”پھر اپنے عضو مخصوص پر پانی ڈالتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اسے دھوتے اور ہاتھوں کو زمین پر مار کر مٹی سے ملتے اور (صاف کرتے)“ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے ”پھر دونوں ہاتھ مٹی سے مل کر اچھی طرح صاف کرتے۔“ اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رومال (تولیہ) پیش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لوٹا دیا اور بدن (پر جو پانی رہ گیا تھا) اسے اپنے ہاتھ سے جھاڑنا شروع کیا۔“

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 104

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 105

وعن ام سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: قلت: يا رسول الله! إني امراة اشد شعر راسي،‏‏‏‏ افانقضه لغسل الجنابة؟ وفي رواية: والحيضة؟ قال: «‏‏‏‏لا إنما يكفيك ان تحثي على راسك ثلاث حثيات» .‏‏‏‏ رواه مسلم

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے سر کے بال (یعنی مینڈھیوں کی شکل میں) باندھ لیتی ہوں۔ کیا غسل جنابت کے موقع پر ان کو کھولوں؟ اور ایک روایت میں حیض سے فارغ ہو کر غسل کے وقت کے الفاظ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں (کھولنے کے ضرورت نہیں) بس تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین چلو پانی بہا دیا کر۔“ (مسلم)

قُلْتُ ← وعن ام سلمة رضي الله تعالى عنها

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 105

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 107

وعنها رضي الله عنها قالت: كنت اغتسل انا ورسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من إناء واحد تختلف ايدينا فيه من الجنابة. متفق عليه،‏‏‏‏ وزاد ابن حبان:" وتلتقي".

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔ اس برتن میں ہمارے ہاتھ یکے بعد دیگرے داخل ہوتے تھے۔ (بخاری و مسلم) اور ابن حبان نے اتنا اضافہ مزید نقل کیا ہے کہ بسا اوقات دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھو جاتے تھے۔

کُنْتُ أَغْتَسِلُ ← وعنها

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 107

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 108

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والترمذي وضعفاه. ولاحمد عن عائشة رضي الله عنها نحوه وفيه راو مجهول.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ہر بال کی تہہ (نیچے) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو۔“ ابوداؤد اور ترمذی دونوں نے اسے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی ضعیف بھی قرار دیا ہے۔ مسند احمد میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں ایک راوی مجہول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 108

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 109

عن جابربن عبد الله رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:«‏‏‏‏اعطيت خمسا لم يعطهن احد قبلي: نصرت بالرعب مسيرة شهر وجعلت لي الارض مسجدا وطهورا فايما رجل ادركته الصلاة فليصل» .‏‏‏‏ وذكر الحديث وفي حديث حذيفة رضي الله عنه عند مسلم:«‏‏‏‏وجعلت تربتها لنا طهورا إذا لم نجد الماء» ‏‏‏‏ وعن علي عند احمد: «‏‏‏‏وجعل التراب لي طهورا» ‏‏‏‏

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی (نبی و رسول) کو بھی نہیں دی گئیں۔ میری ایک مہینہ کی مسافت سے (دشمن پر) رعب و دبدبے سے مدد دی گئی ہے۔ ساری زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے، اب جس آدمی کو (جہاں بھی) نماز کا وقت آ جائے اسے نماز پڑھ لینی چاہیئے۔“ اور آگے پوری حدیث ذکر کی۔ مسلم میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب ہمیں پانی دستیاب نہ ہو تو زمین کی مٹی ہمارے لئے حصول طہارت و پاکیزگی کیلئے پاک بنا دی گئی ہے۔“ مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”مٹی میرے لئے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔“

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 109

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 110

وعن عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في حاجة،‏‏‏‏ فاجنبت،‏‏‏‏ فلم اجد الماء،‏‏‏‏ فتمرغت في الصعيد،‏‏‏‏ كما تتمرغ الدابة،‏‏‏‏ ثم اتيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فذكرت له ذلك. فقال:«‏‏‏‏إنما يكفيك ان تقول بيديك هكذا» ‏‏‏‏،‏‏‏‏ ثم ضرب بيديه الارض ضربة واحدة ثم مسح الشمال على اليمين وظاهر كفيه ووجهه. متفق عليه واللفظ لمسلم. وفي رواية للبخاري: وضرب بكفيه الارض ونفخ فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه.

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ضرورت و حاجت کے سلسلے میں بھیجا۔ میں جنبی ہو گیا اور پانی مجھے دستیاب نہ ہو سکا تو میں مٹی میں اس طرح لوٹ پوٹ ہوا جس طرح چوپایہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے۔ (ضرورت سے فارغ ہو کر) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تجھے اپنے ہاتھ سے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا پھر بائیں کو دائیں پر ملا اپنے ہاتھوں کی پشت اور چہرے پر۔ (بخاری اور مسلم) اور متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور پھونک مار کر گرد و غبار اڑا دیا پھر ان کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 110

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 111

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏التيمم ضربتان: ضربة للوجه وضربة لليدين إلى المرفقين» .‏‏‏‏ رواه الدارقطني وصحح الائمة وقفه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”تیمم دو ضربوں سے (مکمل) ہوتا ہے، ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک۔“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ائمہ نے اس کے موقوف کو صحیح کہا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 111

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 112

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله: «‏‏‏‏الصعيد وضوء المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين. فإذا وجد الماء فليتق الله وليمسه بشرته» .‏‏‏‏ رواه البزار وصححه ابن القطان لكن صوب الدارقطني إرساله،‏‏‏‏ وللترمذي عن ابي ذر نحوه وصححه والحاکم ايضا.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مٹی مومن مسلمان کا وضو ہے خواہ دس برس تک اسے پانی نہ ملے۔ مگر جب پانی دستیاب ہو جائے تو پھر اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور اسے اپنے جسم پر پانی پہنچانا چاہیئے۔“ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور ابن قطان نے صحیح قرار دیا ہے، تاہم دارقطنی نے اس کے مرسل ہونے کو درست اور قرین صواب کہا ہے۔ ترمذی میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے بھی صحیح کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 112

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 113

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: خرج رجلان في سفر فحضرت الصلاة وليس معهما ماء فتيمما صعيدا طيبا فصليا ثم وجدا الماء في الوقت،‏‏‏‏ فاعاد احدهما الصلاة والوضوء،‏‏‏‏ ولم يعد الآخر،‏‏‏‏ ثم اتيا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فذكرا ذلك له،‏‏‏‏ فقال للذي لم يعد: «‏‏‏‏اصبت السنة واجزاتك صلاتك» ‏‏‏‏ وقال للآخر:«‏‏‏‏لك الاجر مرتين» . رواه ابو داود والنسائي.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے۔ نماز کا وقت آ گیا، مگر ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ پھر پانی بھی دستیاب ہو گیا اور ابھی نماز ادا کرنے کا وقت باقی تھا۔ ان میں سے ایک صاحب نے وضو کیا اور دوبارہ نماز ادا کی، مگر دوسرے صاحب نے نہ تو وضو کیا اور نہ ہی نماز دہرائی۔ سفر سے واپسی پر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جس نے دوبارہ نماز نہیں پڑھی تھی فرمایا ”تو نے سنت کے مطابق عمل کیا اور تیری نماز کافی ہو گئی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے فرمایا ”تجھے دو گنا اجر ملے گا۔“ (ابوداؤد و نسائی)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 113

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 117

وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: من السنة ان لا يصلي الرجل بالتيمم إلا صلاة واحدة،‏‏‏‏ ثم يتيمم للصلاة الاخرى. رواه الدارقطني بإسناد ضعيف جدا.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ تیمم کرنے والا شخص تیمم سے ایک ہی نماز پڑھے اور دوسری نماز کیلئے ازسرنو (دوبارہ سے) تیمم کرے۔ اس کو دارقطنی نے بہت ہی ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔

ابن عباس رضي الله تعالى عنهما

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 117

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 118

عن عائشة رضي الله عنها: ان فاطمة بنت ابي حبيش كانت تستحاض فقال لها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏إن دم الحيض دم اسود يعرف فإذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئي وصلي» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم واستنكره ابو حاتم.وفي حديث اسماء بنت عميس عند ابي داود:«‏‏‏‏ولتجلس في مركن فإذا رات صفرة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر،‏‏‏‏ غسلا واحدا،‏‏‏‏ وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا وتغتسل للفجر غسلا واحدا وتتوضا فيما بين ذلك» .‏‏‏‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا استحاضہ کی دائمی مریضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ ”حیض کے خون (کی رنگت) سیاہ ہوتی ہے، آسانی سے پہچان ہو سکتی ہے۔ جن ایام میں یہ خون آ رہا ہو تو ان ایام میں نماز چھوڑ دو اور جب کوئی دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔“ ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا ہے ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم کے نزدیک یہ منکر ہے ابوداؤد میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی مروی حدیث میں ہے کہ ایک ٹب میں بیٹھ جائے اور جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر دونوں نمازوں کیلئے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز کیلئے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کیلئے الگ سے ایک غسل کر لے اور ان کے درمیان میں وضو کر لے۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 118

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 210

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا قمت إلى الصلاة فاسبغ الوضوء ثم استقبل القبلة فكبر ثم اقرا ما تيسر معك من القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم افعل ذلك في صلاتك كلها» .‏‏‏‏ اخرجه السبعة واللفظ للبخاري ولابن ماجه بإسناد مسلم: «‏‏‏‏حتى تطمئن قائما» .ومثله في حديث رفاعة بن رافع عند احمد وابن حبان: «‏‏‏‏حتى تطمئن قائما» .‏‏‏‏ولاحمد: «‏‏‏‏فاقم صلبك حتى ترجع العظام» .‏‏‏‏ وللنسائي وابي داود من حديث رفاعة بن رافع: «‏‏‏‏إنها لا تتم صلاة احدكم حتى يسبغع الوضوء كما امره الله تعالى ثم يكبر الله تعالى ويحمده ويثني عليه» .‏‏‏‏ وفيها: «فإن كان معك قرآن فاقرا وإلا فاحمد الله وكبره وهلله» .‏‏‏‏ ولابي داود: «‏‏‏‏ثم اقرا بام الكتاب وبما شاء الله» .‏‏‏‏ولابن حبان: «‏‏‏‏ثم بما شئت» .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم نماز ادا کرنے کیلئے کھڑا ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو اچھی طرح کر لو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر «الله اكبر» کہو۔ پھر قرآن کا جتنا حصہ تمہیں یاد ہو اس میں سے جتنا آسانی سے پڑھ سکتے ہو، پڑھو۔ پھر رکوع کرو اور پوری طرح اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر سیدھا کھڑے (ہو جاؤ) اور پورے اطمینان سے کھڑے رہو، پھر سجدہ کرو اور پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو پھر سجدہ سے اٹھ کر پورے اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر دوسرا سجدہ کرو اور پورے اطمینان سے کرو۔ پس پھر باقی ساری نماز میں اسی طرح (اطمینان سے ارکان نماز ادا کرو)۔“ اسے بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور امام احمد نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ امام بخاری کے ہیں۔ ابن ماجہ نے مسلم کی سند سے رکوع سے کھڑے ہونے کے وقت یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ ”پورے اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ۔“ احمد اور ابن حبان میں رفاعہ بن رافع بن مالک کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ”اپنی کمر (پشت) کو سیدھا کرو کہ ہڈیاں اپنے مقام میں واپس آ جائیں۔“ نسائی اور ابوداؤد میں رفاعہ بن رافع سے ہے کہ ”جب تک وضو کامل نہ ہو جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے اس وقت تک نماز مکمل نہیں ہو سکتی۔ پھر تکبیر کہے اور اللہ کی حمد و ثناء کرے“ اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے ”اگر تجھے قرآن کا کچھ حصہ یاد ہو تو اسے پڑھ بصورت دیگر اللہ کی حمد و توصیف کر «الله اكبر» اور «لا إله إلا الله» ۔“ ابوداؤد میں ہے کہ ”پھر سورۃ «فاتحه» پڑھ اور مزید جو اللہ نے چاہا۔“ ابن حبان میں ہے ”پھر جو تم چاہو پڑھو۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 210

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 213

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا كبر للصلاة سكت هنيهة قبل ان يقرا فسالته فقال:«‏‏‏‏اقول: اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» . متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ تکبیر تحریمہ کے بعد تھوڑا سا وقفہ فرماتے پھر قرآت شروع کرتے (ایک روز) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وقفہ کے دوران آپ کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا! «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے مابین اتنا فاصلہ اور دوری فرما دے کہ جتنا مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف فرما دے کہ جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔“ (بخاری و مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 213

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 784

وعن رجل من الصحابة رضي الله عنه قال: غزوت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فسمعته يقول: «‏‏‏‏الناس شركاء في ثلاثة: في الكلإ والماء والنار» .‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود ورجاله ثقات.

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ”تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سب حصہ دار ہیں۔ گھاس، پانی اور آگ۔“ احمد و ابوداؤد اس کے راوی ثقہ ہیں۔

غزوت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← رجل من الصحابة

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 784

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 800

وعن زيد بن خالد الجهني قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فساله عن اللقطة فقال: «‏‏‏‏اعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فشانك بها» ‏‏‏‏ قال: فضالة الغنم؟ قال: «‏‏‏‏هي لك او لاخيك او للذئب» ‏‏‏‏ قال: فضالة الإبل؟ قال: «‏‏‏‏ما لك ولها معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتاكل الشجر حتى يلقاها ربها» . متفق عليه.

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس کا ڈاٹ اور تسمہ خوب پہچان کے رکھو۔ سال بھر اس کا اعلان کرتے رہو۔ پھر اگر اس کا اصل مالک آ جائے تو اس کے سپرد کر دو ورنہ جو چاہو کرو۔“ پھر اس نے گمشدہ بکریوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑئیے کی۔“ پھر اس نے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کا پانی، اس کے جوتے اس کے پاس ہیں۔ گھاٹ پر آ کے پانی پی لے گا، درختوں کے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کے پاس پہنچ جائے گا۔“ (بخاری و مسلم)

فضالة الإبل ← هي لك أو لأخيك أو للذئب ← فضالة الغنم ← «اعْرِفْ عِفَاصَهَا، وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا»، ← اللقطة ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فساله ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 800

بلوغ المرام · كتاب الأطعمة ‹ باب · حديث 1148

وعن عدي بن حاتم رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا ارسلت كلبك فاذكر اسم الله عليه فإن امسك عليك فادركته حيا فاذبحه وإن ادركته قد قتل ولم ياكل منه فكله وإن وجدت مع كلبك كلبا غيره وقد قتل فلا تاكل فإنك لا تدري ايهما قتله وإن رميت سهمك فاذكر اسم الله فإن غاب عنك يوما فلم تجد فيه إلا اثر سهمك فكل إن شئت وإن وجدته غريقا في الماء فلا تاكل» .‏‏‏‏ متفق عليه وهذا لفظ مسلم.

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ ” جب تو اپنا شکاری کتا جانور کے شکار کے لیے چھوڑے تو اس پر اللہ کا نام پڑھ لیا کرو۔ ( «بسم الله» پڑھ لیا کرو) پھر اگر وہ شکار کو تمہارے لئے روک لے اور تو اسے زندہ پا لے تو اسے ذبح کر لو اور اگر تو شکار کو مردہ حالت میں پائے اور کتے نے ابھی تک اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو تو تم اسے کھا سکتے ہو اور اگر تو اپنے کتے کے ساتھ دوسرا کوئی کتا بھی پائے اور جانور مردہ حالت میں ملے تو پھر اسے نہ کھا کیونکہ تجھے معلوم نہیں کہ ان دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے اور اگر تو اپنا تیر چھوڑے تو اس پر «بسم الله» پڑھ۔ پھر اگر شکار تیری نظروں سے ایک روز تک اوجھل رہے اور اس میں تیرے تیر کے سوا دوسرا کوئی زخم کا نشان نہ ہو تو پھر اسے تو کھا لے۔ اگر تیری طبیعت کھانے کی طرف مائل ہو اور اگر شکار کو پانی میں ڈوب کر مرا ہوا پائے تو اسے نہ کھا۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ

Bulugh Al Maram · Food Book › Chapter · Hadith 1148

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1977

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ وَاللَّهِ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ لَيْسَ ثَلَاثًا أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ قَالَ مُوسَى فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ فَقُلْتُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ إِنَّ الْخَيْلَ كَانَتْ فِي بَنِي هَاشِمٍ قَلِيلَةً فَأَحَبَّ أَنْ تَكْثُرَ فِيهِمْ

'Abdullah bin 'Ubaidullah bin 'Abbas narrated that he heard Ibn 'Abbas say: The Messenger of Allah (PBUH) was an obedient slave; he conveyed - by Allah - what he was sent with and he did not tell us anything in exclusion to the people, except for three things: He instructed us to do wudoo' properly, not to consume charity and not to breed a donkey with a mare. Moosa said: I met 'Abdullah bin Hasan and said: 'Abdullah bin 'Ubaidullah told me such and such. He said: Horses were few among Banu Hashim, and he wanted to increase their numbers.

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1977

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 2060

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ

It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah (PBUH) commanded us to do wudoo' properly.

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبِي جَهْضَمٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 2060

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 2100

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

It was narrated that Ibn 'Abbas (RA) said: The Messenger of Allah (PBUH) said: "Nothing makes water najis

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 2100

chevron_left Previous
1…262728…1,850
Next chevron_right