Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطهارة

Taharah / Purification

36985 hadiths

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1209

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ قَالَ يُصِيبُهَا زَوْجُهَا إِذَا تَيَمَّمَتْ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهَذَا قَالَ إِي وَاللَّهِ

ابن جریج بیان کرتے ہیں عطاء سے ایسی خاتون کے بارے میں سوال کیا گیا جسے پاک ہوجانے کے بعد (غسل) کرنے کے لئے پانی نہ ملے انہوں نے جواب دیا : وہ عورت تیمم کر لے تو اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کرسکتا ہے۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی سے سوال کیا گیا آپ بھی یہی کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا : ہاں اللہ کی قسم! میں بھی اسی بات کا قائل ہوں۔

إِي وَاللَّهِ ← يُصِيبُهَا زَوْجُهَا إِذَا تَيَمَّمَتْ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهَذَا ← عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1209

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1248

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ح وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ وَهُوَ يَقُولُ هُوَ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء ادا کرنے میں تاخیر کردی عرض کی گئی یارسول اللہ! خواتین اور بچے سو چکے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ اپنے پہلو سے پانی پونچھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو (عشاء کی نماز) کا یہی وقت ہوتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← وَابْنُ جُرَيْجٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1248

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1277

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً حَسِبْتُهُ قَالَ هُنَيَّةً فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی اختیار کرتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی میں آپ کیا پڑھتے ہیں نبی اکرم نے جواب دیا میں یہ پڑھتا ہوں۔ اے اللہ میرے اور گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کردے جتنا تونے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک رکھا جاتا ہے اے اللہ میری خطاؤں کو برف اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے دھو دے۔

هُنَيَّةً فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي وَأُمِّي ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً حَسِبْتُهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← بِشْرُ بْنُ آدَمَ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1277

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1366

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ رِفَاعَةُ وَمَالِكُ ابْنَيْ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ شَكَّ هَمَّامٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى وَجَعَلْنَا نَرْمُقُ صَلَاتَهُ لَا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ قَالَ هَمَّامٌ فَلَا أَدْرِي أَمَرَهُ بِذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ الرَّجُلُ مَا أَلَوْتُ فَلَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلَاتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ فَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ وَيَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ فَيَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ قَالَ هَمَّامٌ وَرُبَّمَا قَالَ جَبْهَتَهُ مِنْ الْأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ

علی بن یحییٰ اپنے چچا حضرت رفاعہ بن رافع کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت رافع اور حضرت مالک دونوں حضرت رفاعہ کے صاحبزادے ہیں اور ان دونوں بھائیوں کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے یہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اس نے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اور حاضرین کو سلام کیا تو نبی کریم نے فرمایا تم پر بھی سلام ہو تم واپس جا کر نماز ادا کرو اور نماز ادا کرنے کے بعد پھر آؤ کیونکہ تم لوگوں نے نماز نہیں پڑھی وہ شخص دوبارہ گیا اور نماز پڑھی ہم مسلسل اس کی غلطی کا جائزہ لیتے رہے لیکن ہمیں اس کی غلطی کا اندازہ نہ ہوا جب اس نے نماز مکمل کرلی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حاضرین کو سلام کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس جاؤ اور نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ راوی کو شک ہے کہ ایک یا دو مرتبہ ایسا ہوا پھر اس شخص نے عرض کیا میں نے کیا غلطی کی کیونکہ مجھے اپنی غلطی کا اب تک اندازہ نہیں ہوسکا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ وضو مکمل نہ کر جیسا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے یعنی کہ جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوئے اپنے سر کا مسح کرے اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے پھر اللہ کی تکبیر بیان کرتے ہوئے رکوع میں جائے دونوں ہاتھوں کو ٹخنوں پر رکھے اس کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر آجائے اور پرسکون ہوجائے پھر وہ سمع اللہ لمن حمدہ۔ کہتا ہوا سیدھا کھڑا ہوجائے یہاں تک کہ اس کی کمر سیدھی ہوجائے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجائے پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں مل جائے اور اپنا چہرہ زمین پر رکھے یہاں تک کہ پرسکون ہوجائے پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھ جائے یہاں تک کہ اس کی کمر سیدھی ہوجائے۔ اس طرح نبی اکرم نے چاروں رکعات کا طریقہ بیان کیا ہے پھر فرمایا تم میں سے کسی کی نماز اس وقت مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ ایسا نہ کرے۔

عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ رِفَاعَةُ وَمَالِكُ ابْنَيْ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، ← إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1366

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1425

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ فِي الْمَسْحِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً قَالَ هِشَامٌ أُرَاهُ قَالَ مَسْحِ الْحَصَا

حضرت معیقیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے کی جگہ سے کنکریاں ہٹانے کا مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اگر یہ ضروری ہو تو صرف ایک مرتبہ کیا جائے۔ اس حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ امام دارمی فرماتے ہیں یعنی حدیث میں یہ الفاظ ہیں کنکریاں ہٹانا۔

مُعَيْقِيبٌ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1425

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1523

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَالِكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ يَقُولُ قَائِلٌ أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى أَلَا دَاعٍ يُجَابُ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک موخر کردیتا کیونکہ جب تہائی رات گزرجاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور صبح صادق ہونے تک اسی عالم میں رہتا ہے اور یہ فرماتا ہے کہ کیا کوئی مانگنے والا ہے جو اسے عطا کیا جائے کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اسے قبول کیا جائے کیا کوئی بیمار ہے جو شفا چاہتا ہو اسے شفا عطا کی جائے کیا کوئی گناہ گار ہے جو مغفرت طلب کرے اور اس کی مغفرت کردی جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ إِسْحَقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1523

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1578

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا زِدْتُ أَنْ تَوَضَّأْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَقَالَ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک شخص مسجد میں داخل ہوا۔ حضرت عمر اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ بولا اے امیرالمؤمنین میں نے جب اذان کی آواز سنی تو اس کے فورا بعد صرف وضو کیا اور یہاں آگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کیا وضو ہی کیا ہے؟ کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اس شخص کو غسل کرلینا چاہیے۔

"إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ". ← وَالْوُضُوءَ أَيْضًا أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ ← النِّدَاءَ. ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا زِدْتُ أَنْ تَوَضَّأْتُ حِينَ ← بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1578

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1655

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا قَالَ إِطْرَاقُ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمِنْحَتُهَا وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی اونٹ گائے بکری کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے قیامت کے دن ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا کھر والے جانور اپنے کھر کے ذریعے اسے روندیں گے اور سینگ والے جانور اپنے سینگوں کے ذریعے کے ذریعے اسے ماریں گے جانوروں میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جس کے سینگ نہ ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا ہوگا جس کے سینگ ٹوٹے ہونگے لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ان کا حق کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نر جانوروں کو جفتی کے لئے ادھار دینا اس کاڈول ادھار دینا دودھ دینے کے لئے کوئی بکری ادھار دینا جب پانی پلانا ہو تو اس کا دودھ دوہ کر (کسی کودے دینا) اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لئے) ان پر سامان لاد دینا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1655

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1656

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ قَطُّ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ قَطُّ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةٌ قَرْنُهَا وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ قَالَ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فَمِهِ فَيَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنْحُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کسی اونٹ کا جو مالک اس کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ اونٹ قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گا اور اس مالک کو اس کے اونٹ کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ اونٹ اپنے پاؤں اور کھروں کے ذریعے اسے روندے گا جس گائے کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا وہ قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گی اس شخص کو اس گائے کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ گائے اسے اپنے سینگوں کے ذریعے مارے گی اور اپنے کھروں کے ذریعے روندے گی جس بکری کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا وہ بکری قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گی اس شخص کو اس بکری کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ بکری اسے اپنے سینگوں کے ذریعے مارے گی اور اپنے کھروں کے ذریعے روندے گی ان جانوروں میں کوئی بھی بغیر سینگ کے نہیں ہوگا اور کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا نہیں ہوگا جس خزانے کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن وہ خزانہ ایک اژدھا کی شکل میں اپنا منہ کھول کر اس کے پیچھے آئے گا جب وہ اس شخص کے پاس آئے گا تو وہ شخص اس سے بھاگے گا تو وہ اژدھا بلند آواز سے پکارے گا اپنا وہ خزانہ لے لو جسے تم نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا وہ شخص کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے پھر وہ شخص دیکھے گا اب کوئی چارہ نہیں ہے وہ اپنا ہاتھ اس اژدھا کی طرف بڑھائے گا تو وہ اسے یوں چبا لے گا جیسے کوئی اونٹ کوئی چیز چبا لیتا ہے ابوزبیر کہتے ہیں میں نے عبید بن عمیر کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا پھر ہم نے جابر بن عبداللہ سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی بات بیان کی جو عبید بن عمیر نے بیان کی تھی ابوزبیر بیان کرتے ہیں میں نے عبید بن عمیر کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ اونٹ کا حق کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جب پانی (پلانے کے لئے اسے لایا جائے) تو اس کا دودھ دوہ کر دوسروں کو پلا دیا جائے اس کے ڈول کو ادھار دے دیا جائے، نر اونٹ کو (جفتی کے لئے) ادھار دے دیا جائے (کسی بکری کو) دودھ دوہنے کے لئے دے دیا جائے اور ان جانوروں پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے سامان لادا جائے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1656

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1739

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ الرَّبَابِ الضَّبِّيَّةِ عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ

حضرت سلیمان بن عامر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص افطاری کرنے لگے اسے کھجور کے ساتھ افطاری کرنی چاہیے اگر وہ نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطاری کرنی چاہیے کیونکہ پانی کے ذریعے طہارت حاصل کی جاتی ہے۔

عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← الرَّبَابِ الضَّبِّيَّةِ ← حَفْصَةَ، ← عَاصِمٍ، ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1739

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1762

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ هَشِشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنْ الْمَاءِ قُلْتُ إِذًا لَا يَضِيرُ قَالَ فَفِيمَ

حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے جوش میں آکر (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیا۔ میں روزہ کی حالت میں تھا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی آج میں نے ایک بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر تم پانی سے کلی کرلیتے تو؟ میں نے عرض کی اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا پھر مسئلہ کیا ہے۔

فَفِيمَ ← أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنْ الْمَاءِ قُلْتُ إِذًا لَا يَضِيرُ ← صَائِمٌ» ← صَائِمٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنِّي صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ ← ھَشَشْتُ فَقَبَّلْتُ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1762

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1766

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ بِمَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ الْوَضُوءَ قَالَ عَبْد اللَّهِ إِذَا اسْتَقَاءَ

حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں مسجد دمشق میں میری ملاقات حضرت ثوبان سے ہوئی میں نے اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو فرمایا حضرت ابودرداء نے صحیح بیان کیا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کرنے کے لئے پانی انڈیلا تھا۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں یہ حکم اس صورت میں ہے جب وہ شخص جان بوجھ کر قے کرے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← أَبِيهِ ← يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1766

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1919

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ أَخْبِرْنِي عَشِيَّةَ رَدِفْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ قَالَ جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ وَمَا قَالَ أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالسَّابِغِ جِدًّا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ قَالَ فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ وَالنَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ قَالَ رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ

کریب بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت اسامہ بن زید سے سوال کیا کہ جب آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھے تو اس شام آپ نے کیا کیا۔ مجھے اس بارے میں بتائیں حضرت اسامہ نے جواب دیا جب ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ رات کے وقت اونٹ بٹھاتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اونٹنی کو بٹھایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا (راوی کہتے ہیں انہوں نے) یہ نہیں کہا کہ پانی دو پھر آپ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور وضو کیا لیکن اس میں اسباغ نہیں کیا پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہ نماز۔ آپ نے فرمایا نماز آگے چل کر پڑھیں گے حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں پھر آپ سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آگئے۔ آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا لوگ اپنے اپنے پڑاؤ کی جگہ پر تھے لوگوں نے اس وقت تک احرام نہ کھولا جب تک عشاء کی نماز ادانہ کرلی۔ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا دی تو پھر لوگوں نے اپنا اپنا احرام کھول دیا۔ کریب بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی مجھے یہ بتائیں اگلے دن آپ نے صبح کیا کیا تو حضرت اسامہ نے جواب دیا اس وقت حضرت فضل بن عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے میں قریش کے چند لوگوں کے ساتھ پیدل آگے چلا گیا تھا۔

عَشِيَّةَ رَدِفْتَ النَّبِيَّ كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ ← كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1919

سنن دارمی · من كتاب الصيد ‹ باب · حديث 2051

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ قِرَاءَةً عَنْ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ الْأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہم لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں ہمارے ساتھ تھوڑا سا پانی ہوتا ہے اگر ہم اس کے ذریعے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اس کا پانی پاک ہوتا ہے اور اس کا مردار حلال ہوتا ہے۔

سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ الْأَزْرَقِ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the hunting book › Door · Hadith 2051

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2173

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَغْطِيَةِ الْوَضُوءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم وضو کے پانی کو ڈھانپ کر رکھیں اور مشکیزے کے منہ کو باندھ کر رکھیں اور برتنوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِتَغْطِيَةِ الْوَضُوءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2173

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2652

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ لَا نَدْرِي أَيَّ مَاءٍ قَالَ يَقُولُ لَا أَدْرِي مَاءً جَارِيًا أَوْ الْمَاءَ الْمُسْتَقَى

حضرت ایاس بن عبد مزنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں شامل ہیں بیان کرتے ہیں پانی کو فروخت نہ کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی کو فروخت کرنے سے منع کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عمرو بن دینار فرماتے ہیں ہمیں پتہ نہیں اس سے کون ساپانی مراد ہے وہ فرماتے ہیں مجھے نہیں پتہ اس سے مراد پینے والا پانی ہے یا جسے کنویں سے نکالا جائے۔

لَا أَدْرِي مَاءً جَارِيًا أَوْ الْمَاءَ الْمُسْتَقَى ← بَيْعِ الْمَاءِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ لَا نَدْرِي أَيَّ مَاءٍ ← النَّبِيَّ يَنْهَی ← لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي ← إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2652

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2653

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ سَيَّارٍ رَجُلٍ مِنْ فَزَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ فَالْتَزَمَهُ فَقَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ فَقَالَ الْمِلْحُ وَالْمَاءُ قَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ وَانْتَهَى إِلَى الْمِلْحِ وَالْمَاءِ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ تَقُولُ بِهِ فَأَوْمَأَ بِرَأْسِهِ

بہیسہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اجازت لے کر آپ کی قمیص کے اندر اپنا منہ ڈال کر مہر نبوت کا بوسہ لیا راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو اپنے جسم کے ساتھ لپٹا لیا تھا انہوں نے دریافت کیا وہ کون سی چیز ہے جسے استعمال کرنے سے روکناجائز نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمک اور پانی۔ انہوں نے عرض کی وہ کون سی چیز ہے جس کے استعمال کرنے سے روکنا جائز نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نیکی کروگے تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے انہوں نے پھر اسی طرح دریافت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اگر تم نیکی کروگے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں آپ نے صرف نمک اور پانی کی پابندی کی ہے امام دارمی فرماتے ہیں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے سر کے اشارے سے جواب دیا جی ہاں۔

مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَکَ ← مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← الْمِلْحُ وَالْمَاءُ ← مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← عُثْمَانُ فَالْتَزَمَهُ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ فَاسْتَأْذَنَهُ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ وَقَدْ ← أَبِيهَا ← بهيسة ← أَبِيهِ ← سَيَّارٍ, رَجُلٌ مِنْ فَزَارَةَ, ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2653

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2658

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنْ الزَّرْعِ وَبِمَا سَعِدَ مِنْ الْمَاءِ مِنْهَا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَأَذِنَ لَنَا أَوْ قَالَ رَخَّصَ لَنَا فِي أَنْ نُكْرِيَهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ

حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں پہلے ہم پیدوار کے کچھ حصے کے عوض میں زمین کرائے پر دیا کرتے تھے اسی طرح پانی وغیرہ کے عوض میں بھی دیا کرتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کردیا تاہم آپ نے ہمیں اس بات کی اجازت دی راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں آپ نے ہمیں اس بات کی رخصت دی کہ ہم سونے اور چاندی کے عوض میں زمین کو کرائے پر دے سکتے ہیں۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة ← محمد بن عكرمة بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2658

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2809

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَوْ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ

حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2809

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2857

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِي النَّارِ وَأَمَّا نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَإِنَّ النَّارَ تُصِيبُهُمْ عَلَى قَدْرِ ذُنُوبِهِمْ فَيُحْرَقُونَ فِيهَا حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَيُنْثَرُونَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يُفِيضُوا عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ قَالَ فَيُفِيضُونَ عَلَيْهِمْ فَتَنْبُتُ لُحُومُهُمْ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل نار وہ ہی لوگ ہیں جو اہل جہنم ہیں وہ جہنم میں مریں گے نہیں البتہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جہنم کا عذاب ان کے گناہوں کے حوالے سے دیا جائے گا وہ اس میں جلتے رہیں گے یہاں تک کہ جب وہ لوگ کوئلہ ہوجائیں گے تو ان کے بارے میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی وہ لوگ جہنم سے نکلیں گے تو برے حال میں ہوں گے انہیں جنت کی نہروں میں ڈالا جائے گا جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی بہاؤ ان پر پانی بہایا جائے گا تو ان کا گوشت یوں اگے گا جیسے سیلاب کی گزرگاہ سے کوئی دانہ اگ جاتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2857

chevron_left Previous
1…192021…1,850
Next chevron_right