Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأخلاق والآداب

Akhlaq & Adab

38275 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2773

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَنْ يُنْجِيَهُ عَمَلُهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْتَ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک دوسرے کے قریب رہو اور پابندی کرو اور یہ بات جان لو کہ کسی بھی شخص کا عمل اسے نجات نہیں دے گا لوگوں نے عرض کی آپ کا بھی نہیں آپنے ارشاد فرمایا میرا بھی نہیں البتہ مجھے اللہ نے اپنی رحمت اور فضل کے ذریعے ڈھانپ لیاہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2773

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2805

حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَرَحْمَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ میں انسان ہوں جس شخص پر میں نے لعنت کروں اسے برا کہہ دو یا اسے کوڑے لگادوں اور وہ اس کامستحق نہ ہو تو اس کو اس شخص کے لئے دعا، برکت، رحمت اور قربت بنادینا جس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن تیری بارگاہ میں مقرب ہوسکے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2805

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2806

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَكَاةً وَرَحْمَةً

سیدنا جابرؓ کہتے ہیں نبیﷺ نے پہلی حدیث کی طرح فرمایا۔ مگر اس میں بخشش کی جگہ پاکی اور رحمت کا لفظ ہے ۔

النَّبِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَكَاةً وَرَحْمَةً ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2806

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2825

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے اللہ نے اپنی رحمت کو سو اجزاء میں تقسیم کردیا ہے جس میں سے ننانوے اس کے پاس ہیں اور ایک حصہ اس نے زمین پر نازل کیا ہے اسی ایک حصے کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے سے اچھائی سے پیش آتی ہے یہاں تک کہ گھوڑا اپنے بچے پر پاؤں نہیں مارتا اس اندیشے کے تحت کہ اسے کوئی نقصان نہ ہوجائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2825

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2829

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الْقَاضِي عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَعْلَمَهُ النَّاسُ

حضرت نواس بن سمعان بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اچھے اخلاق نیکی ہیں اور گناہ وہ جو تمہارے من میں کھٹکے اور تمہیں یہ بات ناپسند ہو کہ اگر لوگوں کو اس بات کا پتا چل جائے۔

الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، ← يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الْقَاضِي ← صَفْوَانُ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2829

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2833

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ وَحُمَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ

حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے وہ نرمی کی وجہ سے وہ کچھ عطا کرتا ہے جو سختی کی وجہ سے عطا نہیں کرتا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2833

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2834

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2834

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2931

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ قَالَ لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ فَسَمِعَ قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ قَالَ أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ قَالَ زَيْدٌ فِيهَا قَالَ شَرَّكَ بَيْنَهُمْ

مسروق بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ سگی بہنوں باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہیں سگی بہنوں کو دوتہائی حصہ ملے گا اور جو باقی بچ جائے گا وہ بھائیوں کو ملے گا بہنوں کو نہیں ملے گا جو صرف باپ کی طرف سے بہن بھائی ہوں گے۔ مسروق مدینہ آئے انہوں نے اس بارے میں حضرت زید کا فرمان سنا تو وہ انہیں بہت پسند آیا ان کے ساتھیوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ حضرت عبداللہ کے قول کو ترک کر دیں انہوں نے جواب دیا جب میں مدینہ آیا تو میں نے حضرت زید بن ثابت کو علم وراثت کے ماہرین میں ایک پایا۔ امام احمد ارشاد فرماتے ہیں میں نے ابوشہاب سے دریافت کیا حضرت زید نے اس بارے میں کیا فتوی دیا ہے تو انہوں نے جواب دیا ان بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کا حصہ قرار دیا ہے۔

شَرَّكَ بَيْنَهُمْ ← زَيْدٌ فِيهَا ← أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ ← إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ ← لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ ← لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ ← فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2931

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2932

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ أَنَّهُ كَانَ يُعْطِي لِلْأَخَوَاتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَالَ حَكِيمٌ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَرِثَ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ إِنَّ إِخْوَتَهُنَّ قَدْ رُدُّوا عَلَيْهِنَّ

اسماعیل بیان کرتے ہیں ہم نے حکیم بن جابر کے پاس یہ بات ذکر کی کہ حضرت ابن مسعود سگی بہنوں اور باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ فتوی دیتے ہیں کہ سگی بہنوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال باپ کی طرف سے بھائیوں کو ملے گا باپ کو کچھ نہیں ملے گا تو حکیم نے جواب دیا حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کا کام ہے کہ مردوں کو وارث قرار دیا جائے۔ اور عورتوں کو نہ دیا جائے وہ بہنیں دوسری بہنوں کو وراثت میں شریک کریں گی۔

ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ← إِسْمَعِيلُ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2932

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2936

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ ثُمَّ رَفَعَهَا فَبَلَغَتْ عَشْرَةً لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ سَهْمٌ وَلِلْإِخْوَةِ مِنْ الْأُمِّ الثُّلُثُ سَهْمَانِ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ

قاضی شریح لیثی عورت کے بارے میں فرماتے تھے جس نے پسماندگان میں شوہر ماں، سگی بہن اور باپ کی طرف سے شریک بہن اور ماں کی طرف سے شریک بھائی چھوڑے ہوں۔ قاضی صاحب یہ تقسیم چھ سے شروع کرتے تھے۔ پھر اسے بڑھا کر دس تک لے آتے تھے جس میں سے شوہر کو نصف حصہ دیتے ہیں جوتین حصے ہیں سگی بہن کو نصف دیتے ہیں۔ یہ تین حصے ہیں۔ ماں کو چھٹاحصہ دیتے ہیں جو ایک حصہ ہے ماں کی طرف سے شریک بھائیوں کو ایک تہائی حصہ دیتے ہیں یہ دوحصے ہیں اور باپ کی طرف سے شریک بہن کو ایک حصہ دیتے ہیں یوں دوتہائی حصے کو مکمل کر دیتے ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2936

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2942

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُرَادٍ سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَقَحَّمَ جَرَاثِيمَ جَهَنَّمَ فَلْيَقْضِ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ

سعید بن جبیر قبیلہ مراد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص جہنم میں جانا پسند کرتا ہو اسے چاہیے کہ وہ دادا اور بھائیوں کی وراثت کے بارے میں فیصلہ دے۔

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَقَحَّمَ جَرَاثِيمَ جَهَنَّمَ فَلْيَقْضِ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ ← عَلِيًّا ← رَجُلٍ مِنْ مُرَادٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2942

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2950

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَعَلَهُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا أَحَدًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ جَعَلَهُ أَبًا يَعْنِي الْجَدَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کے بارے میں یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں اسے خلیل بناتا لیکن اسلام کا بھائی چارہ افضل ہے یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے اسے باپ کی مانند قرار دیاہے۔ راوی بیان کرتے ہیں یعنی دادا کو۔

جَعَلَهُ الَّذِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2950

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2958

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ إِنِّي أُتِيتُ بِجَدٍّ وَسِتَّةِ إِخْوَةٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ أَنْ أَعْطِ الْجَدَّ سُبُعًا وَلَا تُعْطِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ

شعبی بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ان دنوں بصرہ کے گورنر تھے میرے سامنے ایک دادا اور چھ بھائیوں کی وراثت کا مسئلہ آیا ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا تم دادا کو چھٹا حصہ دو اور اس کے علاوہ اسے اور کچھ نہ دینا۔

ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ إِنِّي أُتِيتُ بِجَدٍّ وَسِتَّةِ إِخْوَةٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2958

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2959

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ قَالَ أَعْطِ الْجَدَّ السُّدُسَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَأَنَّهُ يَعْنِي عَلِيًّا الشَّعْبِيُّ يَرْوِيهِ عَنْ عَلِيٍّ

شعبی چھ بھائیوں اور دادا کی وراثت کے بارے میں فرماتے ہیں دادا کوچھٹا حصہ دو۔ امام دارمی فرماتے ہیں یعنی اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ یہ روایت شعبی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کی ہے۔

عَلِيٍّ، ← أَبُو مُحَمَّد كَأَنَّهُ يَعْنِي عَلِيًّا الشَّعْبِيُّ يَرْوِيهِ ← أَعْطِ الْجَدَّ السُّدُسَ ← الشَّعْبِيِّ فِي سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ ← إِسْمَعِيلُ ← حَسَنٌ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2959

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2961

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى السُّدُسِ

حضرت حسن بصری ارشاد فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ داد کو بھائیوں کے ہمراہ چھٹے حصے تک وراثت میں شریک قرار دیتے ہیں۔

الْحَسَنِ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى السُّدُسِ ← يُونُسَ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2961

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2962

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو وراثت میں بھائیوں کا شریک قرار دیتے ہیں جبکہ ان کامشترکہ حصہ کل مال کا چھٹا حصہ بنتا ہے۔

كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2962

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2963

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ الْجَدَّ إِلَى سِتَّةٍ مَعَ الْإِخْوَةِ يُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ مَعَ جَدٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ وَلَا يَزِيدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَى السُّدُسِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَيْرُهُ وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ مَعَ أَخٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ أَعْطَى الْأُخْتَ النِّصْفَ وَالنِّصْفَ الْآخَرَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ نِصْفَيْنِ وَإِذَا كَانُوا إِخْوَةً وَأَخَوَاتٍ شَرَّكَهُمْ مَعَ الْجَدِّ إِلَى السُّدُسِ

ابراہیم نخعی ارشاد فرماتے ہیں چھٹے حصے تک حضرت علی رضی اللہ عنہ داداکوبھائیوں کو حصے دار قرار دیتے ہیں وہ ہر ایک صاحب کو اس کے مخصوص حصے کے مطابق دیتے ہیں البتہ وہ ماں کی طرف سے شریک بھائی کو دادا کے ہمراہ وارث قرار نہیں دیتے اسی طرح ماں کی طرف سے شریک بہن کو بھی نہیں قرار دیتے بیٹے کی موجودگی میں وہ دادا کو چھٹے حصے سے زیادہ نہیں دیتے البتہ اس کے علاوہ کوئی اور ہو تو حکم مختلف ہے۔ باپ کی طرف سے شریک بھائی یا ماں اور باپ کی طرف سے بھائی کی موجودگی میں وہ حصہ تقسیم نہیں کرتے اگر سگی بہن موجود ہو یا باپ کی طرف سے بھائی موجود ہو۔ اگر سگی بہن اور باپ کی طرف سے بھائی موجود ہو تو بہن کو نصف حصہ دیتے ہیں جبکہ دوسرا نصف حصہ دادا اور بھائی کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں اگر بہنیں اور بھائی زیادہ ہوں تو وہ انہیں دادا کے ہمراہ چھٹے حصے تک کا شریک قرار دیتے ہیں۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2963

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2968

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ زَيْدًا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں حضرت زید ایک تہائی مال تک دادا کو بھائیوں کے ہمراہ شریک قرار دیتے تھے۔

الْحَسَنِ أَنَّ زَيْدًا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ ← يُونُسَ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2968

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2969

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يُقَاسِمُ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ ثُمَّ لَا يُنْقِصُهُ

حضرت زید بن ثابت کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک تہائی مال تک دادا کو بھائیوں کے ہمراہ حصہ دیا کرتے تھے پھر اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2969

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2987

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أُتِيَ فِي إِخْوَةٍ لِأُمٍّ وَأُمٍّ فَأَعْطَى الْإِخْوَةَ مِنْ الْأُمِّ الثُّلُثَ وَالْأُمَّ سَائِرَ الْمَالِ وَقَالَ الْأُمُّ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ان کی خدمت میں ماں کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور ماں کا مسئلہ پیش کیا گیا تو انہوں نے ماں کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائیوں کو ایک تہائی حصہ دیا جبکہ ماں کو بقیہ سارا مال دے دیا۔ اور یہ ارشاد فرمایا جس شخص کا کوئی عصبہ نہ ہو ماں اس کی عصبہ بن جاتی ہے۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2987

chevron_left Previous
1…333435…1,914
Next chevron_right