Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأخلاق والآداب

Akhlaq & Adab

38275 hadiths

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 305

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِي عَمِّي جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ تُبَيْعًا يُحَدِّثُ عَنْ كَعْبٍ قَالَ إِنِّي لَأَجِدُ نَعْتَ قَوْمٍ يَتَعَلَّمُونَ لِغَيْرِ الْعَمَلِ وَيَتَفَقَّهُونَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ وَيَطْلُبُونَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ وَيَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنْ الصَّبْرِ فَبِي يَغْتَرُّونَ أَوْ إِيَّايَ يُخَادِعُونَ فَحَلَفْتُ بِي لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَتْرُكُ الْحَلِيمَ فِيهَا حَيْرَانَ

کعب بیان کرتے ہیں میں نے اس قوم کی حالت ان الفاظ میں پائی ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) جو عمل کے بجائے ویسے ہی علم حاصل کرتے ہیں اور عبادت کرنے کی بجائے دوسرے مقاصد کے حصول کے لئے دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے ہیں وہ آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے دنیا طلب کرنا چاہتے ہیں اور وہ اونٹ کی کھال کے لباس پہنیں گے ان کے دل کڑوی چیز سے زیادہ کڑوے ہوں گے تو کیا وہ مجھے دھوکادیں گے یا میرے ساتھ فریب کریں گے میں یہ قسم اٹھاتاہیوں کہ میں ان لوگوں کو ایسے فتنے میں مبتلا کروں گا جس میں بردبار شخص بھی حیران رہ جاتا ہے۔

کَعْبٍ ← تُبَيْعًا ← عَمِّي جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 305

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 387

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِتُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ تُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ وَلَا تَتْرُكْ الْعِلْمَ زُهْدًا فِيهِ وَرَغْبَةً فِي الْجَهَالَةِ يَا بُنَيَّ اخْتَرْ الْمَجَالِسَ عَلَى عَيْنِكَ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَاجْلِسْ مَعَهُمْ فَإِنَّكَ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا يُعَلِّمُوكَ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ فَيُصِيبَكَ بِهَا مَعَهُمْ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَلَا تَجْلِسْ مَعَهُمْ فَإِنَّكَ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا لَا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا زَادُوكَ غَيًّا وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِعَذَابٍ فَيُصِيبَكَ مَعَهُمْ

حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں مجھے یہ پتا چلا ہے کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے یہ کہا تھا اے میرے بیٹے علم اس لئے حاصل نہ کرنا تاکہ اس کے ذریعے علماء کے ساتھ مقابلہ کر سکو یا بیوقوف لوگوں کے ساتھ بحث کرسکو یا اس کے ذریعے محافل میں اپنا آپ دکھا سکو اور اس علم سے بے رغبت ہو کر جہالت کی طرف راغب ہوتے ہوئے علم کو چھوڑ نہ دینا۔ اے میرے بیٹے محافل کا جائزہ لیتے رہنا جب تم کسی ایسی قوم کو دیکھو جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جانا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں فائدہ دے گا اور اگر تم جاہل ہو گے تو وہ لوگ تمہیں تعلیم دیں گے ہوسکتا ہے کہ اللہ کی رحمت ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو اور اس میں سے کچھ حصہ تمہیں بھی نصیب ہوجائے۔ اسی طرح اگر تم کچھ لوگوں کو دیکھو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کر رہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں وہاں کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اگر تم جاہل ہوگے تو وہ لوگ تمہاری جہالت میں مزید اضافہ کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ اللہ کا عذاب ان کی طرف متوجہ ہوجائے اور اس کے ساتھ وہ تمہیں بھی پہنچ جائے۔

بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 387

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 391

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ يَقُولُ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ وَلَا تَتْرُكْ الْعِلْمَ زَهَادَةً فِيهِ وَرَغْبَةً فِي الْجَهَالَةِ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَاجْلِسْ مَعَهُمْ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا عَلَّمُوكَ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ فَيُصِيبَكَ بِهَا مَعَهُمْ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَلَا تَجْلِسْ مَعَهُمْ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا لَمْ يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا زَادُوكَ غَيًّا أَوْ عِيًّا وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِسَخَطٍ فَيُصِيبَكَ بِهِ مَعَهُمْ

حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں مجھے یہ پتا چلا ہے کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے یہ کہا تھا اے میرے بیٹے علم اس لئے حاصل نہ کرنا تاکہ اس کے ذریعے علماء کے ساتھ مقابلہ کر سکو یا بیوقوف لوگوں کے ساتھ بحث کر سکو یا اس کے ذریعے محافل میں اپنا آپ دکھا سکو اور اس علم سے بے رغبت ہو کر جہالت کی طرف راغب ہوتے ہوئے علم کو چھوڑ نہ دینا۔ اے میرے بیٹے محافل کا جائزہ لیتے رہنا جب تم کسی ایسی قوم کو دیکھو جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جانا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں فائدہ دے گا اور اگر تم جاہل ہو گے تو وہ لوگ تمہیں تعلیم دیں گے ہوسکتا ہے کہ اللہ کی رحمت ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو اور اس میں سے کچھ حصہ تمہیں بھی نصیب ہوجائے۔ اسی طرح اگر تم کچھ لوگوں کو دیکھو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کر رہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں وہاں کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اگر تم جاہل ہوگے تو وہ لوگ تمہاری جہالت میں مزید اضافہ کریں گے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب ان کی طرف متوجہ ہوجائے اور اس کے ساتھ وہ تمہیں بھی پہنچ جائے۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 391

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 399

عَن حَسَّانَ قَالَ مَااز دَادَ عَبُدٌبِاللہِ عِلمًا اِلَّا ازُدَادَ النَّاسُ مِنہُ قُربًا مِن رَحمَۃِ اللہِ

مَااز دَادَ عَبُدٌبِاللہِ عِلمًا اِلَّا ازُدَادَ النَّاسُ مِنہُ قُربًا مِن ← حَسَّانُ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 399

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 406

أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ لَا يَرَى غِيبَةً لِلْمُبْتَدِعِ

اعمش بیان کرتے ہیں ابراہیم نخعی کے نزدیک بدعتی شخص کی برائی بیان کرنا برائی نہیں ہے۔

كَانَ إِبْرَاهِيمُ لَا يَرَى غِيبَةً لِلْمُبْتَدِعِ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ← مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 406

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 499

أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنْ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى فِيهِ وَقَالَ اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ

حضرت عبداللہ بن عمرو ارشاد فرماتے ہیں پہلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو بھی بات سنتا تھا اسے نوٹ کرلیتا تھا میرا ارادہ یہ ہوتا تھا کہ میں اسے یاد کروں گا قریش نے مجھے اس بات سے منع کیا اور یہ بات کہی تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی ہر بات نوٹ کرلیتے ہو جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک انسان ہیں آپ کسی وقت غصے کے عالم میں اور کسی وقت خوشی کے عالم میں کوئی بات ارشاد فرما سکتے ہیں تو میں نوٹ کرنے سے رک گیا پھر میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم سے کیا تو آپ نے اپنی مبارک انگلی کے ذریعے اپنے مبارک منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تم نوٹ کرسکتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس (یعنی منہ سے) حق کے علاوہ کوئی چیز نہیں نکلتی۔

الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ فَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى فِيهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ ← تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ ← كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 499

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 524

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو غِفَارٍ الْمُثَنَّى بْنُ سَعْدٍ الطَّائِيُّ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنِي فُلَانٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَهُ عُمَرُ قُلْتُ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ عِيَّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ وَالْفِقْهَ مِنْ الْإِيمَانِ وَهُنَّ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ وَيُنْقِصْنَ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ وَإِنَّ الْبَذَاءَ وَالْجَفَاءَ وَالشُّحَّ مِنْ النِّفَاقِ وَهُنَّ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا وَيُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ وَمَا يُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ

عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا فلاں صاحب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صحابی کا نام لیا تھا حضرت عمر بن عبدالعزیز انہیں جانتے تھے میں نے کہا انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بےشک حیاء، پاکدامنی اور رکاوٹ، زبان کی رکاوٹ دل کی نہیں اور سمجھ بوجھ ایمان کا حصہ ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو آخرت میں انسان کے مرتبہ و مقام میں اضافہ کرتی ہیں اور دنیامیں (حاصل ہونے والی نعمتوں میں) کمی کردیتی ہیں جبکہ فضول گوئی بد زبانی اور بخل وہ چیزیں ہیں جو نفاق کا حصہ ہیں یہ چیزیں دنیا میں انسان کے اشتغال میں اضافہ کرتی ہیں اور آخرت کی طر ف توجہ میں کمی کردیتی ہیں اور آخرت میں کمی کرنے والی چیز یں بہت ہیں۔

فُلَانٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ فَعَرَفَهُ عُمَرُ قُلْتُ ← قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو غِفَارٍ الْمُثَنَّى بْنُ سَعْدٍ الطَّائِيُّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 524

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 529

أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا حَتَّى بَانَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ فَقَالَ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً كَانَ لَهُ أَجْرُهُ وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ

حضرت جریر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے اس بارے میں سستی کا اظہار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے پھر انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک تھیلی لے کر آیا تو اس کے بعد لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار دکھائی دینے لگے تو آپ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی اچھے کام کا آغاز کرتا ہے اسے اس کا اجر ملتا ہے اور جتنے لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ان کے جتنا اجر ملتا ہے حالانکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اور جو شخص کسی برے کام کا آغاز کرتا ہے اسے ان سب لوگوں کے گناہوں جتنا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے جو اس پر عمل کرتے ہیں حالانکہ ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ← مسلم يعني ابن صبيح ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 529

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 555

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ لَيْثٍ قَالَ قَالَ لِي طَاوُسٌ مَا تَعَلَّمْتَ فَتَعَلَّمْ لِنَفْسِكَ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ ذَهَبَتْ مِنْهُمْ الْأَمَانَةُ

لیث بیان کرتے ہیں طاؤس نے مجھ سے کہا تم جو علم حاصل کرتے ہو اسے اپنے لئے حاصل کرو کیونکہ لوگوں میں سے امانت رخصت ہوگئی ہے۔

لِي طَاوُسٌ مَا تَعَلَّمْتَ فَتَعَلَّمْ لِنَفْسِكَ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ ذَهَبَتْ مِنْهُمْ الْأَمَانَةُ ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 555

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 668

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْكُمَيْتِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُوسَى قَالَ مَرَّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامًا فَقَالَ هَلْ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَدْرَكَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَهُ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا هَذَا الْجَفَاءُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ جَفَاءٍ رَأَيْتَ مِنِّي قَالَ أَتَانِي وُجُوهُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَلَمْ تَأْتِنِي قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ أَنْ تَقُولَ مَا لَمْ يَكُنْ مَا عَرَفْتَنِي قَبْلَ هَذَا الْيَوْمِ وَلَا أَنَا رَأَيْتُكَ قَالَ فَالْتَفَتَ سُلَيْمَانُ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ أَصَابَ الشَّيْخُ وَأَخْطَأْتُ قَالَ سُلَيْمَانُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا لَنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لِأَنَّكُمْ أَخْرَبْتُمْ الْآخِرَةَ وَعَمَّرْتُمْ الدُّنْيَا فَكَرِهْتُمْ أَنْ تُنْقَلُوا مِنْ الْعُمْرَانِ إِلَى الْخَرَابِ قَالَ أَصَبْتَ يَا أَبَا حَازِمٍ فَكَيْفَ الْقُدُومُ غَدًا عَلَى اللَّهِ قَالَ أَمَّا الْمُحْسِنُ فَكَالْغَائِبِ يَقْدُمُ عَلَى أَهْلِهِ وَأَمَّا الْمُسِيءُ فَكَالْآبِقِ يَقْدُمُ عَلَى مَوْلَاهُ فَبَكَى سُلَيْمَانُ وَقَالَ لَيْتَ شِعْرِي مَا لَنَا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ اعْرِضْ عَمَلَكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّ مَكَانٍ أَجِدُهُ قَالَ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ قَالَ سُلَيْمَانُ فَأَيْنَ رَحْمَةُ اللَّهِ يَا أَبَا حَازِمٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنْ الْمُحْسِنِينَ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ يَا أَبَا حَازِمٍ فَأَيُّ عِبَادِ اللَّهِ أَكْرَمُ قَالَ أُولُو الْمُرُوءَةِ وَالنُّهَى قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ فَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ أَدَاءُ الْفَرَائِضِ مَعَ اجْتِنَابِ الْمَحَارِمِ قَالَ سُلَيْمَانُ فَأَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ دُعَاءُ الْمُحْسَنِ إِلَيْهِ لِلْمُحْسِنِ قَالَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ لِلسَّائِلِ الْبَائِسِ وَجُهْدُ الْمُقِلِّ لَيْسَ فِيهَا مَنٌّ وَلَا أَذًى قَالَ فَأَيُّ الْقَوْلِ أَعْدَلُ قَالَ قَوْلُ الْحَقِّ عِنْدَ مَنْ تَخَافُهُ أَوْ تَرْجُوهُ قَالَ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ قَالَ رَجُلٌ عَمِلَ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَدَلَّ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَحْمَقُ قَالَ رَجُلٌ انْحَطَّ فِي هَوَى أَخِيهِ وَهُوَ ظَالِمٌ فَبَاعَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ أَصَبْتَ فَمَا تَقُولُ فِيمَا نَحْنُ فِيهِ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوَ تُعْفِينِي قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ لَا وَلَكِنْ نَصِيحَةٌ تُلْقِيهَا إِلَيَّ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ آبَاءَكَ قَهَرُوا النَّاسَ بِالسَّيْفِ وَأَخَذُوا هَذَا الْمُلْكَ عَنْوَةً عَلَى غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَلَا رِضَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا مِنْهُمْ مَقْتَلَةً عَظِيمَةً فَقَدْ ارْتَحَلُوا عَنْهَا فَلَوْ أُشْعِرْتَ مَا قَالُوا وَمَا قِيلَ لَهُمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا أَبَا حَازِمٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ كَذَبْتَ إِنَّ اللَّهَ أَخَذَ مِيثَاقَ الْعُلَمَاءِ لَيُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا يَكْتُمُونَهُ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ فَكَيْفَ لَنَا أَنْ نُصْلِحَ قَالَ تَدَعُونَ الصَّلَفَ وَتَمَسَّكُونَ بِالْمُرُوءَةِ وَتَقْسِمُونَ بِالسَّوِيَّةِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ كَيْفَ لَنَا بِالْمَأْخَذِ بِهِ قَالَ أَبُو حَاَزِمٍ تَأْخُذُهُ مِنْ حِلِّهِ وَتَضَعُهُ فِي أَهْلِهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ هَلْ لَكَ يَا أَبَا حَازِمٍ أَنْ تَصْحَبَنَا فَتُصِيبَ مِنَّا وَنُصِيبَ مِنْكَ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ وَلِمَ ذَاكَ قَالَ أَخْشَى أَنْ أَرْكَنَ إِلَيْكُمْ شَيْئًا قَلِيلًا فَيُذِيقَنِي اللَّهُ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ ارْفَعْ إِلَيْنَا حَوَائِجَكَ قَالَ تُنْجِينِي مِنْ النَّارِ وَتُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ سُلَيْمَانُ لَيْسَ ذَاكَ إِلَيَّ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَمَا لِي إِلَيْكَ حَاجَةٌ غَيْرُهَا قَالَ فَادْعُ لِي قَالَ أَبُو حَازِمٍ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ سُلَيْمَانُ وَلِيَّكَ فَيَسِّرْهُ لِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنْ كَانَ عَدُوَّكَ فَخُذْ بِنَاصِيَتِهِ إِلَى مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ قَطُّ قَالَ أَبُو حَازِمٍ قَدْ أَوْجَزْتُ وَأَكْثَرْتُ إِنْ كُنْتَ مِنْ أَهْلِهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مِنْ أَهْلِهِ فَمَا يَنْفَعُنِي أَنْ أَرْمِيَ عَنْ قَوْسٍ لَيْسَ لَهَا وَتَرٌ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ أَوْصِنِي قَالَ سَأُوصِيكَ وَأُوجِزُ عَظِّمْ رَبَّكَ وَنَزِّهْهُ أَنْ يَرَاكَ حَيْثُ نَهَاكَ أَوْ يَفْقِدَكَ حَيْثُ أَمَرَكَ فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ بَعَثَ إِلَيْهِ بِمِائَةِ دِينَارٍ وَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَنْفِقْهَا وَلَكَ عِنْدِي مِثْلُهَا كَثِيرٌ قَالَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَيْهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ أَنْ يَكُونَ سُؤَالُكَ إِيَّايَ هَزْلًا أَوْ رَدِّي عَلَيْكَ بَذْلًا وَمَا أَرْضَاهَا لَكَ فَكَيْفَ أَرْضَاهَا لِنَفْسِي وَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ لَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهَا رِعَاءً يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِنْ دُونِهِمْ جَارِيَتَيْنِ تَذُودَانِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ فَسَقَى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّى إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ جَائِعًا خَائِفًا لَا يَأْمَنُ فَسَأَلَ رَبَّهُ وَلَمْ يَسْأَلْ النَّاسَ فَلَمْ يَفْطِنْ الرِّعَاءُ وَفَطِنَتْ الْجَارِيتَانِ فَلَمَّا رَجَعَتَا إِلَى أَبِيهِمَا أَخْبَرَتَاهُ بِالْقِصَّةِ وَبِقَوْلِهِ فَقَالَ أَبُوهُمَا وَهُوَ شُعَيْبٌ هَذَا رَجُلٌ جَائِعٌ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا اذْهَبِي فَادْعِيهِ فَلَمَّا أَتَتْهُ عَظَّمَتْهُ وَغَطَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا فَشَقَّ عَلَى مُوسَى حِينَ ذَكَرَتْ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا وَلَمْ يَجِدْ بُدًّا مِنْ أَنْ يَتْبَعَهَا إِنَّهُ كَانَ بَيْنَ الْجِبَالِ جَائِعًا مُسْتَوْحِشًا فَلَمَّا تَبِعَهَا هَبَّتْ الرِّيحُ فَجَعَلَتْ تَصْفِقُ ثِيَابَهَا عَلَى ظَهْرِهَا فَتَصِفُ لَهُ عَجِيزَتَهَا وَكَانَتْ ذَاتَ عَجُزٍ وَجَعَلَ مُوسَى يُعْرِضُ مَرَّةً وَيَغُضُّ أُخْرَى فَلَمَّا عِيلَ صَبْرُهُ نَادَاهَا يَا أَمَةَ اللَّهِ كُونِي خَلْفِي وَأَرِينِي السَّمْتَ بِقَوْلِكِ ذَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى شُعَيْبٍ إِذَا هُوَ بِالْعَشَاءِ مُهَيَّأً فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ اجْلِسْ يَا شَابُّ فَتَعَشَّ فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَعُوذُ بِاللَّهِ فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ لِمَ أَمَا أَنْتَ جَائِعٌ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا عِوَضًا لِمَا سَقَيْتُ لَهُمَا وَإِنَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ لَا نَبِيعُ شَيْئًا مِنْ دِينِنَا بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذَهَبًا فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ لَا يَا شَابُّ وَلَكِنَّهَا عَادَتِي وَعَادَةُ آبَائِي نُقْرِي الضَّيْفَ وَنُطْعِمُ الطَّعَامَ فَجَلَسَ مُوسَى فَأَكَلَ فَإِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْمِائَةُ دِينَارٍ عِوَضًا لِمَا حَدَّثْتُ فَالْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ فِي حَالِ الِاضْطِرَارِ أَحَلُّ مِنْ هَذِهِ وَإِنْ كَانَ لِحَقٍّ لِي فِي بَيْتِ الْمَالِ فَلِي فِيهَا نُظَرَاءُ فَإِنْ سَاوَيْتَ بَيْنَنَا وَإِلَّا فَلَيْسَ لِي فِيهَا حَاجَةٌ

ضحاک بن موسی بیان کرتے ہیں سلیمان بن عبدالملک کا گزر مدینہ سے ہوا وہ مکہ جانا چاہتے تھے اس نے کچھ دن مدینہ میں قیام کیا اور دریافت کیا کہ کیا مدینہ میں کوئی ایسے صاحب موجود ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا زمانہ پایا ہو لوگوں نے انہیں بتایا کہ ابوحازم ہیں سلیمان نے انہیں پیغام بھجوایا۔ جب وہ ان کے پاس آئے تو سلیمان نے ان سے کہا اے ابوحازم یہ زیادتی ہے ابوحازم نے دریافت کیا اے امیرالمومنین آپ نے میری طرف سے کون سی زیادتی دیکھی ہے سلیمان نے کہا میرے پاس مدینے کئے تمام سر کردہ لوگ آئے ہیں لیکن آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے۔ ابوحازم نے جواب دیا اے امیرالمومنین میں اس بارے میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتاہوں کہ آپ وہ بات کریں جو نہیں ہوئی آج کے دن سے پہلے آپ مجھ سے واقف نہیں تھے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا تھا تو میں کیوں آپ کے پاس آتا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر سلیمان، محمد بن شہاب زہری کی طرف متوجہ ہوا اور بولا یہ بزرگ ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ سلیمان نے کہا اے ابوحازم ہم موت کو ناپسند کیوں کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی آخرت خراب کی ہوئی ہے اور دنیا کو آباد کیا ہوا ہے اس لئے آپ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کسی بسی ہوئی چیز سے کسی تباہ حال کی طرف جائیں۔ سلیمان نے کہا اے ابوحازم آپ نے ٹھیک کہا ہے کل ہم اللہ کی بارگاہ میں کیسے حاضر ہوں گے؟ ابوحازم نے جواب دیا نیک آدمی تو یوں آئے گا جیسا کہ گھر سے غیر موجود شخص اپنے گھر واپس آتا تھا۔ اور گناہ گار یوں آئے گا جیسے کوئی مفرور غلام اپنے آقا کے پاس آتا ہے۔ سلیمان رو پڑا اور بولا ہائے افسوس۔ اللہ کی بارگاہ میں جانے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ ابوحازم نے کہا آپ اپنے عمل اللہ کی کتاب پر پیش کریں۔ سلیمان نے دریافت کیا کیا میں کسی جگہ انہیں پا سکتا ہوں؟ ابوحازم نے کہا بے شک نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور گناہ گار لوگ جہنم میں ہوں گے۔ سلیمان نے دریافت کیا اے ابوحازم اللہ کی رحمت کہاں ہوگی۔ ابوحازم نے جواب دیا اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے پاس ہوگی۔ سلیمان نے ان سے کہا اے ابوحازم اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جو مروت اور سمجھ کا مالک ہو۔ سلیمان نے ان سے کہا سب سے افضل عمل کون سا ہے ۔ ابوحازم نے جواب دیا حرام چیزوں سے اجتناب کرنے کے ہمراہ فرائض ادا کرنا۔ سلیمان نے پوچھا کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جس شخص کے ساتھ احسان کیا گیا وہ اپنے محسن کے لئے جو دعا کرتا ہے۔ سلیمان نے دریافت کیا کون سا صدقہ افضل ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا جو مصیبت زدہ شخص کو دیا جائے اور جو کوئی غریب شخص دے جس میں احسان نہ جتایا جائے اور تکلیف نہ دی جائے۔ سلیمان نے پوچھا کون سی بات عدل کے زیادہ قریب ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جس بات سے تم خوف زدہ ہو یا جب تمہیں کوئی امید ہو اس وقت حق بیان کرنا۔ سلیمان نے پوچھا سب سے زیادہ عقل مند کون سا مومن ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا جو شخص اللہ کی کتاب پر عمل کرے اور لوگوں کی اس طرف رہنمائی کرے۔ سلیمان نے پوچھا کون سا مومن سب سے زیادہ احمق ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جو شخص اپنے بھائی کی نفسانی خواہش میں شریک ہو کر ظلم کا ارتکاب کرے یوں وہ دوسرے شخص کی دنیا کے عوض میں اپنی آخرت کو فروخت کردے۔ سلیمان نے ان سے کہا آپ نے ٹھیک کہا ہے ہم جس حال میں ہیں اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہو۔ ابوحازم نے جواب دیا اے امیرالمومنین کیا آپ مجھ سے درگزر کریں گے۔ سلیمان نے ان سے کہا نہیں یہ ایک نصیحت ہوگی جو آپ کی طرف سے مجھ تک آئے گی۔ ابوحازم نے کہا اے امیرالمومنین آپ کے آباء و اجداد نے تلواروں کے ذریعے لوگوں کو مغلوب کیا ہے انہوں نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی حکومت پر قبضہ کرلیا۔ مسلمانوں کی اس میں کوئی رضامندی نہیں تھی انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور بہت سے لوگ ان کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں کاش آپ جان سکتے کہ انہوں نے کیا کہا اور ان سے کیا کہا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا اے ابوحازم آپ نے بہت غلط بات کہی ہے۔ ابوحازم نے کہا تم جھوٹ بول رہے ہو بے شک اللہ نے علماء سے یہ پختہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کو واضح طور پر بیان کریں گے اور ان سے چھپائیں گے نہیں۔ سلیمان نے کہا ہم اب اس چیز کو کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں؟ ابوحازم نے کہا آپ لوگ تکبر کو چھوڑ دیں اور مروت کو اختیار کریں اور برابری کی بنیاد پر تقسیم کریں۔ سلیمان نے ان سے کہا ٹیکس وصول کرنے کے بارے میں ہمارے لئے کتنی گنجائش ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا آپ اسے مناسب طور پر وصول کرسکتے ہیں اور اس کے مستحق لوگوں پر خرچ کرسکتے ہیں۔ سلیمان نے ان سے دریافت کیا اے ابوحازم کیا یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں یوں ہمیں آپ سے فائدہ ہوگا اور ہم بھی آپ کو کچھ فائدہ پہنچا دیں گے۔ ابوحازم نے جواب دیا میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ سلیمان نے ان سے کہا ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔ ابوحازم نے جواب دیا مجھے یہ ڈرہے کہ آپ کی طرف میں تھوڑا سا جھکوں گا جس کے نتیجے میں اللہ مجھے زندگی میں اور مرنے کے بعد دگنا عذاب دے گا۔ سلیمان نے ان سے کہا اپنی ضروریات ہمارے سامنے پیش کریں۔ ابوحازم نے جواب دیا آپ مجھے جہنم سے نجات دلوا کر جنت میں داخل کروا دیں۔ سلیمان نے کہا یہ تو میں نہیں کرسکتا۔ ابوحازم نے کہا پھر آپ سے مجھے کوئی کام نہیں۔ سلیمان نے کہا آپ میرے لئے دعا کریں۔ ابوحازم نے دعاکی اے اللہ اگر سلیمان تیرا دوست ہے تو اسے دنیا اور آخرت میں بھلائی کے ذریعے خوش کردے اور اگر یہ تیرا دوست نہیں تو اس کی پیشانی پکڑ کر اسے اس طرف لے جا جس سے تو راضی ہوجائے اور جو تجھے پسند ہو۔ سلیمان نے ان سے کہا بس اتناہی؟ ابوحازم بولے میں نے مختصر الفاظ میں وسیع مفہوم رکھنے والی دعا کردی اگر تم اس کے اہل ہوئے اور اگر تم اس کے اہل نہ ہوئے تو مجھے کیا فائدہ ہوگا اگر میں کمان کے ذریعے کوئی ایسا تیر پھینکوں جس پر پھل ہی نہ لگا ہو؟سلیمان نے ان سے کہا آپ مجھے کوئی وصیت کریں۔ ابوحازم بولے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اور مختصر الفاظ میں کروں گا تم اپنے پروردگار کو عظیم سمجھو اور اسے اس بات سے پاک رکھو کہ وہ تمہیں کسی ایسے معاملے میں دیکھے جس سے اس نے تمہیں منع کیا ہے یا کسی ایسی جگہ پر تمہیں غیرموجود پائے جس کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔ جب سلیمان ان کے ہاں سے اٹھ کر گیا تو ان کی خدمت میں سو دینار بھیجے اور ساتھ ہی یہ تحریر بھیجی آپ انہیں خرچ کیجیے میری طرف سے آپ کو ان جیسے اور بہت ملیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں ابوحازم نے وہ انہیں واپس کردیئے اور جوابی خط میں لکھا اے امیر المومنین میں آپ کو اس بات سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں کہ آپ نے مذاق کے طور پر مجھ سے کچھ مانگیں یا آپ تذلیل کے طور پر کوئی چیز واپس لیں جس چیز پر میں آپ کے لئے راضی نہیں ہوں اس سے اپنے لئے کیسے راضی ہوسکتا ہوں۔ ابوحازم نے سلیمان کو خط میں لکھا حضرت موسی جب مدین کے چشمے پر آئے تو وہاں انہوں نے کچھ لوگوں کو بکریوں کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا دو لڑکیاں ان سے کچھ ہٹ کر کھڑی ہوئی تھیں حضرت موسی نے ان دونوں سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا ہم اس وقت تک پانی حاصل نہیں کرسکتے جب تک یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا لیتے۔ کیونکہ ہمارے والد عمر رسیدہ آدمی ہیں حضرت موسی نے ان دونوں کو پانی لا کردیا اور پھر سائے میں آکر بیٹھ گئے اور بولے اے میرے رب تو میری طرف جو بھلائی نازل کرے گا میں اس کا محتاج ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھوک کے عالم میں تھے اور خوف زدہ بھی۔ کیونکہ وہ امن کی حالت میں نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنے پروردگار سے مانگا۔ انہوں نے لوگوں سے سوال نہیں کیا۔ بکریوں کے چرواہوں کو اس بات کا پتہ نہیں چل سکا لیکن وہ دونوں لڑکیاں یہ بات سمجھ گئیں جب وہ دونوں اپنے والد کے پاس واپس گئیں اور انہیں یہ ماجرا سنایا اور ان کی بات کے بارے میں بتایا تو ان کے والد نے جو حضرت شعیب تھے یہ کہا وہ شخص بھوکا ہوگا پھر انہوں نے ایک لڑکی سے کہا تم جاؤ اور اسے بلا کر لاؤ جب وہ لڑکی ان کے پاس آئی تو انہیں تعظیم پیش کی اور اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اور یہ بولی کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے تاکہ آپ نے ہمیں جو پانی لا کردیا ہے اس کا بدلہ آپ کو دیں۔ جب اس لڑکی نے یہ بات کہ جو آپ نے پانی پلایا ہے اس کا بدلہ آپ کو دیں تو حضرت موسی کو اس سے بہت تکلیف ہوئی لیکن اس وقت ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اس لڑکی کے پیچھے چلے جائیں کیونکہ وہ اس وقت پہاڑی سلسلے کے درمیان تھے بھوکے تھے وحشت کا شکار تھے اس لئے وہ اس کے پیچھے چل پڑے جب وہ اس کے پیچھے چلے تو ہوا چل پڑی جس کے نتیجے میں اس کی پشت کی جانب سے کپڑے ہلنے لگے جس کی وجہ سے بے پردگی کے آثار پیداہوئے وہ صحت مند جسم کی مالک لڑکی تھی حضرت موسی کبھی نگاہ دوسری طرف پھیر لیتے تھے اور کبھی نگاہ جھکا دیتے تھے جب ان سے برداشت نہیں ہوا تو اس نے بلند آواز سے کہا اے لڑکی اللہ کی کنیز تم میرے پیچھے آجاؤ اور مجھے زبانی طور پر راستے کے بارے میں بتاؤ۔ جب حضرت موسی حضرت شعیب کے پاس حاضر ہوئے تو اس وقت رات کا کھانا تیار تھا حضرت شعیب نے ان سے کہا اے نوجوان بیٹھ جاؤ اور کھانا کھاؤ حضرت موسی نے ان سے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں حضرت شعیب نے ان سے کہا وہ کیوں کیا تم بھوکے نہیں ہو۔ حضرت موسی نے جواب دیا جی ہاں۔ لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ اس چیز کا معاوضہ ہے جو میں نے ان دولڑکیوں کو پانی لا کردیا تھا۔ میں اسے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جس کے لوگ تمام روئے زمین کے برابر سونے کے عوض میں بھی اپنی نیکی فروخت نہیں کرتے۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا نہیں اے نوجوان لیکن میری اور میرے آباء و اجداد کی یہ عادت ہے کہ ہم مہمان نوازی کرتے ہیں۔ لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں تو حضرت موسی بیٹھ گئے اور انہوں نے کھانا کھا لیا۔ ابوحازم نے سلیمان کو لکھا کہ آپ نے جو سو دینار بھیجے ہیں اگر تو یہ اس چیز کا معاوضہ ہے جو میں نے آپ سے باتیں کی تھیں تو مردار، خون اور گوشت سور کا، اضطرار کی حالت میں اس سے زیادہ حلال ہے اور اگر یہ بیت المال کے حق کی وجہ سے ہے تو اس کے بہت سے مستحق ہیں اگر تو آپ ہم سب میں برابر تقسیم کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ جَفَاءٍ رَأَيْتَ مِنِّي ← لَهُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا هَذَا الْجَفَاءُ ← لَهُ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ ← هَلْ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَدْرَكَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← مَرَّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامًا ← الضَّحَّاكُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْكُمَيْتِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 668

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْخَوَّاصِ الشَّامِيِّ أَبِي عُتْبَةَ قَالَ أَمَّا بَعْدُ اعْقِلُوا وَالْعَقْلُ نِعْمَةٌ فَرُبَّ ذِي عَقْلٍ قَدْ شُغِلَ قَلْبُهُ بِالتَّعَمُّقِ عَمَّا هُوَ عَلَيْهِ ضَرَرٌ عَنْ الِانْتِفَاعِ بِمَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ حَتَّى صَارَ عَنْ ذَلِكَ سَاهِيًا وَمِنْ فَضْلِ عَقْلِ الْمَرْءِ تَرْكُ النَّظَرِ فِيمَا لَا نَظَرَ فِيهِ حَتَّى لَا يَكُونَ فَضْلُ عَقْلِهِ وَبَالًا عَلَيْهِ فِي تَرْكِ مُنَافَسَةِ مَنْ هُوَ دُونَهُ فِي الْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ أَوْ رَجُلٍ شُغِلَ قَلْبُهُ بِبِدْعَةٍ قَلَّدَ فِيهَا دِينَهُ رِجَالًا دُونَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ اكْتَفَى بِرَأْيِهِ فِيمَا لَا يَرَى الْهُدَى إِلَّا فِيهَا وَلَا يَرَى الضَّلَالَةَ إِلَّا بِتَرْكِهَا يَزْعُمُ أَنَّهُ أَخَذَهَا مِنْ الْقُرْآنِ وَهُوَ يَدْعُو إِلَى فِرَاقِ الْقُرْآنِ أَفَمَا كَانَ لِلْقُرْآنِ حَمَلَةٌ قَبْلَهُ وَقَبْلَ أَصْحَابِهِ يَعْمَلُونَ بِمُحْكَمِهِ وَيُؤْمِنُونَ بِمُتَشَابِهِهِ وَكَانُوا مِنْهُ عَلَى مَنَارٍ كَوَضَحِ الطَّرِيقِ فَكَانَ الْقُرْآنُ إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِمَامًا لِأَصْحَابِهِ وَكَانَ أَصْحَابُهُ أَئِمَّةً لِمَنْ بَعْدَهُمْ رِجَالٌ مَعْرُوفُونَ مَنْسُوبُونَ فِي الْبُلْدَانِ مُتَّفِقُونَ فِي الرَّدِّ عَلَى أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ مَعَ مَا كَانَ بَيْنَهُمْ مِنْ الِاخْتِلَافِ وَتَسَكَّعَ أَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ بِرَأْيِهِمْ فِي سُبُلٍ مُخْتَلِفَةٍ جَائِرَةٍ عَنْ الْقَصْدِ مُفَارِقَةٍ لِلصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ فَتَوَّهَتْ بِهِمْ أَدِلَّاؤُهُمْ فِي مَهَامِهَ مُضِلَّةٍ فَأَمْعَنُوا فِيهَا مُتَعَسِّفِينَ فِي تِيهِهِمْ كُلَّمَا أَحْدَثَ لَهُمْ الشَّيْطَانُ بِدْعَةً فِي ضَلَالَتِهِمْ انْتَقَلُوا مِنْهَا إِلَى غَيْرِهَا لِأَنَّهُمْ لَمْ يَطْلُبُوا أَثَرَ السَّالِفِينَ وَلَمْ يَقْتَدُوا بِالْمُهَاجِرِينَ وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لِزِيَادٍ هَلْ تَدْرِي مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ زَلَّةُ عَالِمٍ وَجِدَالُ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ وَأَئِمَّةٌ مُضِلُّونَ اتَّقُوا اللَّهَ وَمَا حَدَثَ فِي قُرَّائِكُمْ وَأَهْلِ مَسَاجِدِكُمْ مِنْ الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ وَالْمَشْيِ بَيْنَ النَّاسِ بِوَجْهَيْنِ وَلِسَانَيْنِ وَقَدْ ذُكِرَ أَنَّ مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي النَّارِ يَلْقَاكَ صَاحِبُ الْغِيبَةِ فَيَغْتَابُ عِنْدَكَ مَنْ يَرَى أَنَّكَ تُحِبُّ غِيبَتَهُ وَيُخَالِفُكَ إِلَى صَاحِبِكَ فَيَأْتِيهِ عَنْكَ بِمِثْلِهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ أَصَابَ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا حَاجَتَهُ وَخَفِيَ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا مَا أُتِيَ بِهِ عِنْدَ صَاحِبِهِ حُضُورُهُ عِنْدَ مَنْ حَضَرَهُ حُضُورُ الْإِخْوَانِ وَغَيْبَتُهُ عَلَى مَنْ غَابَ عَنْهُ غَيْبَةُ الْأَعْدَاءِ مَنْ حَضَرَ مِنْهُمْ كَانَتْ لَهُ الْأَثَرَةُ وَمَنْ غَابَ مِنْهُمْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حُرْمَةٌ يَفْتِنُ مَنْ حَضَرَهُ بِالتَّزْكِيَةِ وَيَغْتَابُ مَنْ غَابَ عَنْهُ بِالْغِيبَةِ فَيَا لَعِبَادَ اللَّهِ أَمَا فِي الْقَوْمِ مِنْ رَشِيدٍ وَلَا مُصْلِحٍ يَقْمَعُ هَذَا عَنْ مَكِيدَتِهِ وَيَرُدُّهُ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بَلْ عَرَفَ هَوَاهُمْ فِيمَا مَشَى بِهِ إِلَيْهِمْ فَاسْتَمْكَنَ مِنْهُمْ وَأَمْكَنُوهُ مِنْ حَاجَتِهِ فَأَكَلَ بِدِينِهِ مَعَ أَدْيَانِهِمْ فَاللَّهَ اللَّهَ ذُبُّوا عَنْ حُرَمِ أَغْيَابِكُمْ وَكُفُّوا أَلْسِنَتَكُمْ عَنْهُمْ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ وَنَاصِحُوا اللَّهَ فِي أُمَّتِكُمْ إِذْ كُنْتُمْ حَمَلَةَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَإِنَّ الْكِتَابَ لَا يَنْطِقُ حَتَّى يُنْطَقَ بِهِ وَإِنَّ السُّنَّةَ لَا تَعْمَلُ حَتَّى يُعْمَلَ بِهَا فَمَتَى يَتَعَلَّمُ الْجَاهِلُ إِذَا سَكَتَ الْعَالِمُ فَلَمْ يُنْكِرْ مَا ظَهَرَ وَلَمْ يَأْمُرْ بِمَا تُرِكَ وَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ اتَّقُوا اللَّهَ فَإِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ رَقَّ فِيهِ الْوَرَعُ وَقَلَّ فِيهِ الْخُشُوعُ وَحَمَلَ الْعِلْمَ مُفْسِدُوهُ فَأَحَبُّوا أَنْ يُعْرَفُوا بِحَمْلِهِ وَكَرِهُوا أَنْ يُعْرَفُوا بِإِضَاعَتِهِ فَنَطَقُوا فِيهِ بِالْهَوَى لَمَّا أَدْخَلُوا فِيهِ مِنْ الْخَطَإِ وَحَرَّفُوا الْكَلِمَ عَمَّا تَرَكُوا مِنْ الْحَقِّ إِلَى مَا عَمِلُوا بِهِ مِنْ بَاطِلٍ فَذُنُوبُهُمْ ذُنُوبٌ لَا يُسْتَغْفَرُ مِنْهَا وَتَقْصِيرُهُمْ تَقْصِيرٌ لَا يُعْتَرَفُ بِهِ كَيْفَ يَهْتَدِي الْمُسْتَدِلُّ الْمُسْتَرْشِدُ إِذَا كَانَ الدَّلِيلُ حَائِرًا أَحَبُّوا الدُّنْيَا وَكَرِهُوا مَنْزِلَةَ أَهْلِهَا فَشَارَكُوهُمْ فِي الْعَيْشِ وَزَايَلُوهُمْ بِالْقَوْلِ وَدَافَعُوا بِالْقَوْلِ عَنْ أَنْفُسِهِمْ أَنْ يُنْسَبُوا إِلَى عَمَلِهِمْ فَلَمْ يَتَبَرَّءُوا مِمَّا انْتَفَوْا مِنْهُ وَلَمْ يَدْخُلُوا فِيمَا نَسَبُوا إِلَيْهِ أَنْفُسَهُمْ لِأَنَّ الْعَامِلَ بِالْحَقِّ مُتَكَلِّمٌ وَإِنْ سَكَتَ وَقَدْ ذُكِرَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كَلَامِ الْحَكِيمِ أَتَقَبَّلُ وَلَكِنِّي أَنْظُرُ إِلَى هَمِّهِ وَهَوَاهُ فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ لِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا وَوَقَارًا لِي وَإِنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا لَمْ يَعْمَلُوا بِهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا كُتُبًا وَقَالَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ قَالَ الْعَمَلُ بِمَا فِيهِ وَلَا تَكْتَفُوا مِنْ السُّنَّةِ بِانْتِحَالِهَا بِالْقَوْلِ دُونَ الْعَمَلِ بِهَا فَإِنَّ انْتِحَالَ السُّنَّةِ دُونَ الْعَمَلِ بِهَا كَذِبٌ بِالْقَوْلِ مَعَ إِضَاعَةِ الْعَمَلِ وَلَا تَعِيبُوا بِالْبِدَعِ تَزَيُّنًا بِعَيْبِهَا فَإِنَّ فَسَادَ أَهْلِ الْبِدَعِ لَيْسَ بِزَائِدٍ فِي صَلَاحِكُمْ وَلَا تَعِيبُوهَا بَغْيًا عَلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ الْبَغْيَ مِنْ فَسَادِ أَنْفُسِكُمْ وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِلطَّبِيبِ أَنْ يُدَاوِيَ الْمَرْضَى بِمَا يُبَرِّئُهُمْ وَيُمْرِضُهُ فَإِنَّهُ إِذَا مَرِضَ اشْتَغَلَ بِمَرَضِهِ عَنْ مُدَاوَاتِهِمْ وَلَكِنْ يَنْبَغِي أَنْ يَلْتَمِسَ لِنَفْسِهِ الصِّحَّةَ لِيَقْوَى بِهِ عَلَى عِلَاجِ الْمَرْضَى فَلْيَكُنْ أَمْرُكُمْ فِيمَا تُنْكِرُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ نَظَرًا مِنْكُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَنَصِيحَةً مِنْكُمْ لِرَبِّكُمْ وَشَفَقَةً مِنْكُمْ عَلَى إِخْوَانِكُمْ وَأَنْ تَكُونُوا مَعَ ذَلِكَ بِعُيُوبِ أَنْفُسِكُمْ أَعْنَى مِنْكُمْ بِعُيُوبِ غَيْرِكُمْ وَأَنْ يَسْتَطْعِمَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا النَّصِيحَةَ وَأَنْ يَحْظَى عِنْدَكُمْ مَنْ بَذَلَهَا لَكُمْ وَقَبِلَهَا مِنْكُمْ وَقَدْ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَهْدَى إِلَيَّ عُيُوبِي تُحِبُّونَ أَنْ تَقُولُوا فَيُحْتَمَلَ لَكُمْ وَإِنْ قِيلَ لَكُمْ مِثْلُ الَّذِي قُلْتُمْ غَضِبْتُمْ تَجِدُونَ عَلَى النَّاسِ فِيمَا تُنْكِرُونَ مِنْ أُمُورِهِمْ وَتَأْتُونَ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يُوجَدَ عَلَيْكُمْ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ وَرَأْيَ أَهْلِ زَمَانِكُمْ وَتَثَبَّتُوا قَبْلَ أَنْ تَكَلَّمُوا وَتَعَلَّمُوا قَبْلَ أَنْ تَعْمَلُوا فَإِنَّهُ يَأْتِي زَمَانٌ يَشْتَبِهُ فِيهِ الْحَقُّ وَالْبَاطِلُ وَيَكُونُ الْمَعْرُوفُ فِيهِ مُنْكَرًا وَالْمُنْكَرُ فِيهِ مَعْرُوفًا فَكَمْ مِنْ مُتَقَرِّبٍ إِلَى اللَّهِ بِمَا يُبَاعِدُهُ وَمُتَحَبِّبٍ إِلَيْهِ بِمَا يُغْضِبُهُ عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا الْآيَةَ فَعَلَيْكُمْ بِالْوُقُوفِ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ حَتَّى يَبْرُزَ لَكُمْ وَاضِحُ الْحَقِّ بِالْبَيِّنَةِ فَإِنَّ الدَّاخِلَ فِيمَا لَا يَعْلَمُ بِغَيْرِ عِلْمٍ آثِمٌ وَمَنْ نَظَرَ لِلَّهِ نَظَرَ اللَّهُ لَهُ عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَأْتَمُّوا بِهِ وَأُمُّوا بِهِ وَعَلَيْكُمْ بِطَلَبِ أَثَرِ الْمَاضِينَ فِيهِ وَلَوْ أَنَّ الْأَحْبَارَ وَالرُّهْبَانَ لَمْ يَتَّقُوا زَوَالَ مَرَاتِبِهِمْ وَفَسَادَ مَنْزِلَتِهِمْ بِإِقَامَةِ الْكِتَابِ وَتِبْيَانِهِ مَا حَرَّفُوهُ وَلَا كَتَمُوهُ وَلَكِنَّهُمْ لَمَّا خَالَفُوا الْكِتَابَ بِأَعْمَالِهِمْ الْتَمَسُوا أَنْ يَخْدَعُوا قَوْمَهُمْ عَمَّا صَنَعُوا مَخَافَةَ أَنْ تَفْسُدَ مَنَازِلُهُمْ وَأَنْ يَتَبَيَّنَ لِلنَّاسِ فَسَادُهُمْ فَحَرَّفُوا الْكِتَابَ بِالتَّفْسِيرِ وَمَا لَمْ يَسْتَطِيعُوا تَحْرِيفَهُ كَتَمُوهُ فَسَكَتُوا عَنْ صَنِيعِ أَنْفُسِهِمْ إِبْقَاءً عَلَى مَنَازِلِهِمْ وَسَكَتُوا عَمَّا صَنَعَ قَوْمُهُمْ مُصَانَعَةً لَهُمْ وَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ بَلْ مَالَئُوا عَلَيْهِ وَرَقَّقُوا لَهُمْ فِيهِ

ابو عتبہ عباد بن عباد خواص شامی تحریر کرتے ہیں امابعد۔ یہ بات جان لو کہ عقل بڑی نعمت ہے کچھ عقل مند ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان چیزوں میں غور کرتے ہیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کا ذہن غافل ہوجاتا ہے اور جس چیز کی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ اس چیز سے غافل ہوجاتے ہیں آدمی کی عقل کی فضیلت یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اس کے بارے میں غور و فکر نہ کرے تاکہ اس کی عقل کی فضیلت اس کے لئے وبال کا باعث نہ بن جائے۔ کہ اس نے ان لوگوں پر گرفت نہیں کی جو اعمال میں ان سے کم تھے یا وہ شخص جس کا دل بدعت میں مبتلا ہوجائے اور وہ اپنے گلے میں اس دین کا ہار پہنا لے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا نہیں تھایا وہ اپنی رائے پراکتفا کرتے ہوئے یہی سمجھے کہ صرف وہی ہدایت ہے اور اس کے اپنے نظریے کو ترک کرنا ہی گمراہی ہے وہ یہ سمجھے کہ اس نے یہ نظریہ قرآن سے حاصل کیا ہے حالانکہ وہ قرآن سے الگ کرنے والا ہوگیا اس شخص سے اور اس کے ساتھیوں سے پہلے قرآن کے ماہر نہیں تھے۔ جو قرآن کے محکم پر عمل کرتے تھے اور اس کے متشابہ پر ایمان رکھتے تھے اور وہ لوگ اس واضح طریقے پر گامزن تھے قرآن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے پیشوا تھے اور ان کے ساتھی بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے پیشوا تھے جن سے ہر شخص واقف تھا اور وہ ہر شہر میں موجود تھے۔ یہ لوگ آپس میں فقہی مسائل میں اختلاف رکھتے تھے لیکن بدمذہب لوگوں کی تردید کے بارے میں ان کے درمیان اتفاق پایا جاتا تھا ان بدمذہب لوگوں کو ان کی رائے نے مختلف راستوں پر ڈال دیا ہے جو میانہ روی سے دوور ہے اور صراط مستقیم سے الگ ہے ان کے پیشواؤں نے ان لوگوں کو گمراہی کے میدان میں تھکا دیا ہے یہ لوگ انہیں میدانوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں جب بھی ان کی گمراہی کے لئے شیطان کوئی نئی بدعت ایجاد کرتا ہے یہ ایک سے دوسری طرف منتقل ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ سابقہ زمانے کے لوگوں کے نشانات کی تلاش نہیں کرتے اور ہجرت کرنے والے صحابہ کی پیروی نہیں کرتے۔ حضرت عمر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے زیاد سے یہ کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز اسلام کو منہدم کردیتی ہے عالم شخص کی پھسلن، منافق شخص کا قرآن کے بارے میں بحث کرنا اور گمراہ کرنے والے پیشوا، لہذا اللہ سے ڈرو، اس چیز کے بارے میں جو تمہارے علماء اور تمہارے مساجد والوں کے درمیان غیبت اور چغل خوری اور لوگوں کے ساتھ دوغلے چہرے اور دوغلی زبانوں کے ساتھ ملنا آچکا ہے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جو شخص دنیا میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا وہ جہنم میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا۔ غیبت کرنے والا شخص تم سے ملاقات کرتا ہے اور تمہارے سامنے اس شخص کی غیبت کرتا ہے جس کی غیبت کو تم پسند کرتے ہو پھر وہ تمہارے مخالف کے پاس آجاتا ہے اور اس کے سامنے تمہارے بارے میں وہی حرکت کرتا ہے جو تمہارے ساتھ کی تھی اس طرح وہ دونوں میں سے ہر ایک کے پاس سے اپنا مقصد حاصل کرلیتا ہے اور دونوں میں سے ہر ایک سے وہ بات پوشیدہ رکھتا ہے جو اس نے دوسرے فریق کے سامنے پیش کی تھی وہ جس شخص کے پاس موجود ہوتا ہے اس کے پاس بھائیوں کی طرح موجود ہوتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اس کے بارے میں دشمنوں کا سا رویہ رکھتا ہے، جس کے پاس اس کے زیر اثر ہوتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اس کا اس کے نزدیک کوئی احترام نہیں ہوتا۔ وہ جس شخص کے پاس موجود ہوتا ہے اسے تزکیہ کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اسے غیبت کے حوالے سے برا بنا دیتا ہے۔ اور اے اللہ کے بندو کیا تمہارے اندر کوئی بھی سمجھدار نہیں ہے اور کوئی بھی ایسا اصلاح پسند نہیں ہے جو ان لوگوں کے فریب کا قلع قمع کردے اور اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو واپس لوٹا دے بلکہ ان لوگوں کی خواہش کو سمجھ کر وہ لوگ جس طرف لے کے جا رہے ہیں انہیں وہیں رہنے دے اور ان سے ان کی ضرورت پوری کرلے یوں وہ اپنے دین کے ہمراہ ان کے دین کو بھی محفوظ کرلے گا۔ اے اللہ کے بندو! کیا تمہارے درمیان کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو سمجھ دار ہو اور ان لوگوں کی اصلاح کرے اور ان کے فریب کو ختم کرے اور اسے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی خلاف ورزی کرنے سے باز رکھے بلکہ وہ یہ جان لے کہ ان کی خواہش کیا ہے اس چیز کے بارے میں جسے وہ ساتھ لے کر ان کی طرف گیا ہے پھر اس نے ان لوگوں سے اپنی ضرورت نکالی تو انہوں نے اس کی ضرورت پوری کردی یوں اس شخص نے ان لوگوں کے دین کے ہمراہ اپنے دین کو بھی خراب کرلیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو۔ اپنے غیر موجود لوگوں کے احترام کے حوالے سے بچو اور ان کے بارے میں اپنی زبان سے صرف اچھی بات استعمال کرو اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں اللہ کی خیرخواہی اختیار کرو اگر تم کتاب وسنت کے عالم ہو بے شک کتاب خود بات نہیں کرتی جب تک اس کی بات بیان نہ کی جائے اور سنت خود عمل نہیں کرتی جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے جب عالم خاموش رہے گا تو ناواقف شخص کیسے علم حاصل کرے گا اگر وہ ظاہر ہونے والی چیز کا انکار نہ کرے اور جس چیز کو ترک کیا گیا ہے اس کا حکم نہ دے تو پھر کیا ہوگا جبکہ اللہ نے ان لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اسے واضح طور پر بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں پرہیزگاری کمزور ہوگئی ہے اور عاجزی کم ہوگئی ہے علم کے حاصل کرنے والے لوگ وہ ہیں جو اس میں فساد پیدا کرتے ہیں اور یہ بات پسند کرتے ہیں کہ عالم کے طور پر ان کی پہچان ہو اور وہ یہ بات ناپسند کرتے ہیں علم کے ضائع کرنے کے حوالے سے ان کی شناخت ہوجائے وہ علم کے بارے میں اپنی خواہش نفس کے مطابق وہ بات بیان کرتے ہیں جو اس میں انہوں نے غلط شامل کردی ہے اور وہ کلمات میں تحریف کے حق کو چھوڑ کر اس باطل کی طرف لے جاتے ہین جس پر وہ عمل کرتے ہیں ان کے گناہ ایسے ہیں کہ ان کی مغفرت نہیں کی جاسکتی اور ان کی غلطیاں ایسی ہیں جن کا اعتراف نہیں کیا جاسکتا۔ دلیل حاصل کرنے والا اور ہدایت حاصل کرنے والا کیسے ہدایت حاصل کرسکتا ہے جبکہ دلیل ہی بھٹکانے والی ہو۔ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور یہ بات ناپسند کرتے ہیں اہل دنیا کی تعظیم کریں۔ یہ لوگ زندگی میں ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں لیکن باتوں کے حوالے سے ان سے الگ رہتے ہیں اور اپنی طرف سے اس بات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے عمل کی طرف انہیں منسوب کیا جائے۔ لہذا جس چیز کی نفی کرنا چاہتے ہیں اس سے بری نہیں ہوتے اور جس چیز کی طرف منسوب یہ خود کو کرتے ہیں اس میں یہ داخل نہیں ہوتے اس لئے کہ حق کے اوپر عمل کرنے والا شخص بول رہا ہو یا خاموش ہو اس کی ایک ہی حثثیت ہوتی ہے یہ بات مذکور ہے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے میں ہر دانا شخص کی ہربات کو قبول نہیں کرتا بلکہ میں اس کی خواہش اور ارادے کی طرف دیکھتا ہوں اگر اس کی خواہش اور ارادہ میرے لئے ہو تو میں اس کی خاموشی کو بھی اپنے لئے حمد و ثناء سمجھتاہوں اگرچہ اس نے کوئی بات کہی ہو یا نہ۔ "وہ لوگ جنہیں تورات کا علم دیا گیا اور پھر انہوں نے اس کا علم حاصل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جو کتابوں کا بنڈل لاد لیتا ہے۔ اور اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے ہم نے جو تمہیں دیا ہے اسے قوت سے حاصل کرلو۔ یعنی جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو لہذا کسی بھی حدیث پر صرف زبانی طور پر عمل کئے بغیر اکتفا نہ کرو کیونکہ حدیث پر عمل کئے بغیر صرف زبانی طور پر اسے بیان کرنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے اور علم کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، اہل بدعت کی برائی اس لئے بیان نہ کرو کہ ان کی برائی بیان کرنے سے تمہیں شہرت ملے گی اس لئے کہ اہل بدعت کا فاسد ہونا تمہاری بہتری میں کوئی اضافہ نہیں کرے گا اور ان کی برائی بیان کرتے ہوئے زیادتی نہ کرو چونکہ یہ زیادتی تمہارے نفس کا فساد ہوگی۔ کسی طبیب کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ بیمار کا علاج کسی ایسی دوائی کے ذریعے کرے جو اسے ٹھیک نہ کرے بلکہ اور بیمار کردے کیونکہ جب وہ شخص بیمار ہوگا تو وہ اپنی بیماری میں مشغول ہونے کی وجہ سے دوسروں کو دوا دینے سے دینے سے باز آجائے گا، اسلۓ اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ پہلے اپنی ذات کے لئے صحت کا خیال رکھے تاکہ اس کی بدولت بیمار لوگوں کے علاج کے قابل ہوسکے۔ اس لئے تمہارا معاملہ یہ ہونا چاہیے کہ تم اپنے بھائیوں کی جس بات کا انکار کرتے ہو اس میں تم اپنے آپ کا بھی جائزہ لو اور اپنی طرف سے اپنے رب کے لئے خیر خواہی اختیار کرو یہ تمہاری طرف سے تمہارے بھائیوں کے لئے شفقت ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے رکھو کہ دوسروں کے عیوب کے مقابلے میں تمہیں اپنے عیوب کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے، ایک شخص دوسرے کے لئے خیرخواہی چاہتا ہے اور اس شخص کا تمہارے نزدیک حصہ ہونا چاہیے جو تمہارے لئے خیر خواہی کرتا ہے یا تمہاری طرف سے خیر خواہی کو قبول کرتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ارشاد فرماتے ہیں اللہ اس شخص پر رحم کرے جو میری خامیوں سے مجھے آگاہ کرتا ہے کہ کیا تم لوگ یہ بات پسند کرتے ہو کہ تم لوگ کوئی بات بیان کرو تو اسے برداشت کیا جائے اور تم نے جو بات بیان کی ہے اگر اسی جیسی تم سے کہی جائے تو تم ناراض ہوجاؤ تم ان لوگوں کو اس حال میں پاتے ہو جس کا تم انکار کرتے ہو اور خود وہی کام سر انجام دیتے ہو کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اس بارے میں تم سے مواخذہ کیا جائے۔ تم اپنی رائے اور اپنے زمانے کے لوگوں کی رائے پر الزام لگاؤ اور بات کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرو اور عمل کرنے سے پہلے علم حاصل کرو کیونک عنقریب وہ زمانہ آجائے گا جس میں حق و باطل مشتبہ ہوجائیں گے اس زمانے میں نیکی گناہ بن جائے گی اور گناہ نیکی بن جائے گا اللہ کے قرب کے طلب گار کتنے ہی لوگ ہوں جو درحقیقت اللہ سے دور ہو رہے ہوں گے اور اللہ کی محبت کے کتنے ہی طلب گار ہیں جو اپنے بارے میں اللہ کی ناراضگی میں اضافہ کر رہے ہوں گے اللہ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جس کے لئے اس کے عمل کی برائی کو سجادیا گیا ہے وہ شخص اسے نیکی سمجھتا ہے۔ شبہات سے بچنا تم پر لازم ہے یہاں تک کہ شہادت کے ذریعے واضح حق تمہارے سامنے نمودار ہوجائے گا اس لئے کہ جو شخص علم کے بغیر اس چیز میں داخل ہوتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہے وہ شخص گناہ گار ہوتا ہے اور جو شخص اللہ کے لئے کسی بات کا جائزہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کا جائز لیتا ہے تم پر قرآن پڑھنالازم ہے تم اسے اپنا پیشوا بناؤ اور اس سے ہدایت حاصل کرو اور گزرے ہوئے لوگوں کے آثار کی تلاش کرو اس لئے کہ اگر مذہی پیشوا اور رہنما اپنے مراتب کے زوال سے نہ ڈریں اور اپنے اعمال میں کتاب قائم کرنے کے ذریعے اپنی قدر و منزلت کے فساد سے نہ ڈریں اور انہوں نے جو تحریف کی ہے اسے واضح نہ کریں اور اسے نہ چھپائیں لیکن وہ لوگ جب وہ اپنے اعمال کے ذریعے کتاب کے خلاف عمل کرتے ہیں تو وہ ایسی چیز تلاش کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ قوم کو دھوکہ دے سکیں اس چیز کے بارے میں جو انہوں نے کیا ہے انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ اپنی حثییت خراب کر جائیں گے وہ لوگوں کے سامنے اس کے فساد کو بیان کرتے ہیں اور کتاب کے مفہوم میں تحریف کردیتے ہیں اور جہاں وہ تحریف نہیں کرسکتے وہاں اسے چھپا لیتے ہیں اور اپنی حثییت کو برقرار رکھنے کے لئے خود جو حرکت کی ہوتی ہے اس پر خاموش رہتے ہیں اور اس بات پر بھی خاموش رہتے ہیں جو لوگوں نے انہیں بچانے کے لۓ کیا ہوتا ہے تحقیق اللہ نے جن لوگوں کو کتاب دی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح طور پر اسے بتائیں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں بلکہ وہ لوگ تو خود اس کی طرف جھک گئے ہیں اور اس بارے میں انہوں نے لوگوں کے ساتھ نرمی کی ہے۔

عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْخَوَّاصِ الشَّامِيِّ أَبِي عُتْبَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 670

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 675

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَقَدَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ قَالَ عَقَدَهُنَّ فِي يَدِهِ وَيَدُهُ فِي يَدِي سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ

جرمی نہدی بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا، راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا اور آپ کا دست اقدس میرے ہاتھ میں تھا وہ باتیں یہ تھیں۔ سبحان اللہ پڑھنا نصف میزان کے برابر ہے اور الحمدللہ پڑھنا میزان کے نیکیوں کے پلڑے کو بھر دیتا ہے اللہ اکبر کہنا آسمان اور زمین کے خلا کو بھردیتا ہے۔ وضو نصف ایمان اور روزہ نصف صبر ہے۔

عَقَدَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ فِي يَدِي أَوْ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 675

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 760

أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ كَانَ أَحَدُهُمَا يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ وَكَانَ الْآخَرُ لَا يَسْتَنْزِهُ عَنْ الْبَوْلِ أَوْ مِنْ الْبَوْلِ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَكَسَرَهَا فَغَرَزَ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا قِطْعَةً ثُمَّ قَالَ عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا حَتَّى تَيْبَسَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا ان دونوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جارہا ہے اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جارہا ان میں سے ایک چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تر شاخ پکڑ کر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور انہیں دونوں قبروں کے سرہانے گاڑھ دیا تاکہ ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف ہوجائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 760

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 877

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ تُخَاصِمُ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا فَقَالَتْ قَدْ حِضْتُ فِي شَهْرٍ ثَلَاثَ حِيَضٍ فَقَالَ عَلِيٌّ لِشُرَيْحٍ اقْضِ بَيْنَهُمَا قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْتَ هَا هُنَا قَالَ اقْضِ بَيْنَهُمَا قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْتَ هَا هُنَا قَالَ اقْضِ بَيْنَهُمَا قَالَ إِنْ جَاءَتْ مِنْ بِطَانَةِ أَهْلِهَا مِمَّنْ يُرْضَى دِينُهُ وَأَمَانَتُهُ تَزْعُمُ أَنَّهَا حَاضَتْ ثَلَاثَ حِيَضٍ تَطْهُرُ عِنْدَ كُلِّ قُرْءٍ وَتُصَلِّي جَازَ لَهَا وَإِلَّا فَلَا فَقَالَ عَلِيٌّ قَالُونُ وَقَالُونُ بِلِسَانِ الرُّومِ أَحْسَنْتَ

عامر بیان کرتے ہیں ایک خاتون مقدمہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے اپنے شوہر کو فریق بنایا تھا جس نے اسے طلاق دے دی تھی وہ عورت بولی مجھے مہینے میں تین مرتبہ حیض آیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (شہر کے قاضی) شریح کو حکم دیا ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردو انہوں نے عرض کی امیرالمومنین آپ کی موجودگی میں میں کیسے فیصلہ کرسکتا ہوں حضرت نے فرمایا ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرو انہوں نے پھر عرض کی اے امیرالمومنین آپ کی موجودگی میں میں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرو انہوں نے یہ فیصلہ دیا اگر اس عورت کے خاندان کی کوئی دیندار اور امانت دار عورت یہ گواہی دے کہ اسے ایک مہینے میں تین مرتبہ حیض آیا اور وہ پاک ہوگئی ہے اور اس نے ہر مرتبہ حیض سے پاک ہونے پر نماز ادا کی ہے تو عورت کے حق میں فیصلہ ہوگا ورنہ نہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا قالون (راوی کہتے ہیں) رومی زبان میں قالون کا مطلب بہت اچھا ہے۔

اقْضِ بَيْنَهُمَا ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْتَ هَا هُنَا ← اقْضِ بَيْنَهُمَا ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْتَ هَا هُنَا ← عَلِيٌّ لِشُرَيْحٍ اقْضِ بَيْنَهُمَا ← قَدْ حِضْتُ فِي شَهْرٍ ثَلَاثَ حِيَضٍ ← جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ تُخَاصِمُ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ← عَامِرٍ، ← إِسْمَعِيلُ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 877

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1098

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُصَافَحَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْمَجُوسِيِّ وَالْحَائِضِ فَلَمْ يَرَ فِيهِ وُضُوءًا

حماد بیان کرتے ہیں میں نے ابراہیم نخعی سے یہودی، عیسائی، مجوسی، شخص اور حائضہ عورت سے ہاتھ ملانے کے بارے میں دریافت کیا تو ان کے نزدیک اس کے نتیجے میں وضو نہیں کرنا پڑتا۔

مُصَافَحَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْمَجُوسِيِّ وَالْحَائِضِ فَلَمْ يَرَ فِيهِ وُضُوءًا ← سَأَلْتُ إبْرَاهِيمَ ← حَمَّادٌ، ← سُفْيَانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1098

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1343

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا تَعَوَّذَ

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھا اور سجدے میں سبحان ربی الاعلی پڑھا۔ نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کے مضمون والی کوئی آیت پڑھتے تو ٹھہر جاتے اور رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب والی آیت پڑھتے تو اس سے پناہ مانگتے۔

حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَكَانَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1343

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1377

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى إِسْرَافِيلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي الصَّلَاةِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مَا شَاءَ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے یہ کہا اللہ کے بندوں سے پہلے اللہ کو سلام ہو۔ جبرائیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، اسرافیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو۔ حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ خود سلام ہے۔ جب تم نماز میں بیٹھو تو یہ پڑھو ہر طرح کی جسمانی مالی عبادتیں اللہ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ آپ نے فرمایا جب تم یہ کلمات پڑھ لو تو زمین آسمان میں موجود ہر نیک شخص تک سلام پہنچ جائے گا۔ پھر تم یہ پڑھو۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جو چاہو دعا مانگو انسان کو اختیار ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1377

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1378

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ حُرٍّ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ قَالَ أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ قَالَ زُهَيْرٌ أُرَاهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَيْضًا شَكَّ فِي هَاتَيْنِ الْكَلِمَتَيْنِ إِذَا فَعَلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ

حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں تشہد کے کلمات سکھائے تھے جو یہ ہیں۔ ہر طرح کی جسمانی مالی عبادتیں اللہ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ اس حدیث کے راوی حضرت زہیر بیان کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں میں یہ گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اس راوی کو ان دو کلمات کے بارے میں بھی شک ہے جو یہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم ایسا کرو گے جب تم اسے پورا پڑھ لو گے تو تم نے اپنی نماز کو مکمل کرلیا اب اگر تم اٹھنا چاہو تو اٹھ جاؤ اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو۔

أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَسَنِ بْنِ حُرٍّ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1378

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1396

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أُقِرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ قَالَ أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا قَالَ مَا أَنَا قُلْتُهَا وَقَدْ خِفْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَوَ مَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمْ اللَّهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَوْ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ أَوْ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ أَوْ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

حطان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری نے ہمیں نماز پڑھائی یہ مغرب یا شاید عشاء کی نماز تھی نمازیوں میں سے ایک صاحب بولے کہ نماز اور زکوۃ بڑے نیکی کے کام ہیں جب حضرت ابوموسی نے نماز ختم کی تو دریافت کیا کہ یہ جملہ کس نے کہا ہے سب لوگ خاموش رہے حضرت ابوموسی بولے اے حطان شاید یہ جملہ تم نے کہا ہے حطان کہتے ہیں میں نے کہا یہ جملہ میں نے نہیں کہا مجھے اندیشہ ہے کہ شاید آپ مجھ سے ناراض نہ ہوجائیں حاضرین میں سے ایک صاحب بولے میں نے یہ جملہ کہا ہے اور میرا مقصد صرف نیک تھا۔ حضرت ابوموسی نے فرمایا کیا تم لوگوں کو پتا نہیں ہے کہ تم لوگوں کو اپنی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے نماز پڑھانے کا طریقہ سکھایا تھا اور اس کے آداب وضاحت کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ آپنے فرمایا تھا کہ جب نماز پڑھی جانے لگے تو تم میں سے ایک شخص تم لوگوں کی امامت کرے گا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ غیر المغضوب علیھم ولا لضالین کہے تو آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے تو تم بھی تکبیر کہہ رکوع میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جائےگا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہوگا جب امام سمع اللہ کہے تو تم اللہم ربناالک الحمد کہو کیونکہ اللہ نے اپنے نبی کی زبانی یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ جس شخص نے اللہ کی حمد بیان کی اللہ نے اس کی حمد کو سن لیا۔ پھر جب امام تکبیر کہہ کر سجدے میں جائے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں چلے جاؤ امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے سجدے سے اٹھے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہوگا کہ پھر جب تم قعدہ میں بیٹھو تو یہ پڑھو۔ ہرطرح کی مالی اور جسمانی عبادت اللہ کے لئے مخصوص ہے اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو اور آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ ← رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: ← قُلْتُهَا وَقَدْ خِفْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا ← مَا ← لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا ← أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ← رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أُقِرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ ← صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1396

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1426

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا يَمْسَحْ الْحَصَا

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کے مد مقابل ہوتی ہے اس لئے اسے کنکریاں نہیں ہٹانی چاہیے۔ یعنی اپنی پوری توجہ نماز کی طرف رکھنی چاہیے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1426

chevron_left Previous
1…313233…1,914
Next chevron_right