Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الدعاء والذكر

Dua & Dhikr

13414 hadiths

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1574

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے دوران اپنے دونوں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے البتہ بارش کی دعا مانگتے ہوئے آپ نے ایسا کیا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1574

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1582

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَعَجِّلُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي جَزُورًا ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي شَاةً فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ طُوِيَتْ الصُّحُفُ وَجَلَسُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن کی نماز کے لئے جلدی جانے والے شخص کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ صدقہ کرے اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو گائے صدقہ کرے پھر اس کے بعد آنے والے اس شخص کی طرح جو بکری صدقہ کرے پھر جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو صحیفے لپیٹ لئے جاتے ہیں اور فرشتے بیٹھ کر غور سے خطبہ سنتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1582

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1583

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَكَتَبُوا مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَإِذَا رَاحَ الْإِمَامُ طَوَتْ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْتَمِعُ الذِّكْرَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور ان لوگوں کے نام لکھتے ہیں جو جمعہ پڑھنے کے لئے آتے ہیں پھر جب امام آجائے تو فرشتے اپنے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر خطبہ سننے لگتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جمعہ کے دن سب سے پہلے آنے والا شخص اس طرح ہے جیسے کوئی شخص اونٹ صدقہ کرے اور پھر اس کے بعد آنے والا اس طرح ہے جیسے کوئی شخص گائے صدقہ کرے پھر اس کے بعد آنے والا اس طرح ہے جیسے کوئی بکری صدقہ کرے پھر اس کے بعد اس شخص کی طرح ہے جو بطخ صدقہ کرے اور پھر اس کے بعد آنے والا شخص اس کی طرح ہے جو مرغی صدقہ کرے اور پھر اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو انڈہ صدقہ کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1583

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1630

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَمَلَنِي عَلَى عَاتِقِهِ فَأَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَدْخَلْتُهَا فِي فَمِي فَقَالَ أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ قَالَ وَكَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ

ابوالحوراء، سعدی بیان کرتے ہیں میں نے امام حسن بن علی سے کہا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا بات نقل کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور پکڑی اور اسے اپنے منہ میں لے لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے باہر نکال دو کیا تمہیں پتا نہیں ہے کہ ہمارے لئے صدقہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ حضرت امام حسن بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اے اللہ تو ہدایت عطا کرتا ہے اس میں سے مجھے بھی ہدایت عطا کر اور جو تو عافیت عطا کرتا ہے اس میں سے مجھے بھی عافیت عطا کر اور جس چیز کو پھیر دیتا ہے اس سے مجھے بھی پھیر دے اور جو تو عطا کرتا ہے اس میں میرے لئے بھی برکت عطا کر اور جو تونے فیصلہ کیا اس کے ذریعے مجھے بھی بچالے بے شک تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور جس کا تو مددگار ہو وہ رسوا نہیں ہوسکتا تو برکت والا ہے اور عظمت والا ہے۔

لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ ← أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ ← حَمَلَنِي عَلَى عَاتِقِهِ فَأَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَدْخَلْتُهَا فِي فَمِي ← قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1630

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1953

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَوَقَفَ عَنْ التَّكْبِيرِ فَقَالَ هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ فَإِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمِيرٌ أَمْ رَسُولٌ قَالَ لَا بَلْ رَسُولٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٌ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ وَعَنْ نَحْرِهِمْ وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلُ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ وَكَيْفَ يَرْمُونَ فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةٌ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد واپس تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا ہم لوگ ان کے ہمراہ مکہ روانہ ہوگئے ہم جب عرج کے مقام پر پہنچے اور فجر کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لئے کھڑے ہوگئے تو انہوں نے پیچھے سے اونٹنی کی آواز سنی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے سے رک گئے اور بولے یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعا ہے ہوسکتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کرلیا ہو اگر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوئے تو ہم آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرلیں گے راوی کہتے ہیں اس اونٹنی پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سوار تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ آپ امیر کی حثییت سے آئے ہیں یا پیغام رساں کی حیثیت سے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں پیغام رساں کی حیثیت سے۔ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت توبہ کے ہمراہ بھیجا ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ حج کے مختلف مقامات پر لوگوں کے سامنے اس کی تلاوت کروں۔ (حضرت جابر بیان کرتے ہیں) ہم لوگ مکہ آگئے ترویہ سے ایک دن پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دینا شروع کردیا۔ اور لوگوں کو حج کے مختلف ارکان سے آگاہ کیا جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے پوری سورت کی تلاوت کی۔جب قربانی کا دن آیا تو ہم نے طواف افاضہ کرنا تھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں طواف افاضہ کے بارے میں اور قربانی کے بارے میں اور اس کے دیگر ارکان کے بارے میں بتایا جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے سورت توبہ پڑھی اور مکمل سورت پڑھی اور جب روانگی کا وقت آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں روانگی کا طریقہ سکھایا اور رمی کرنے کا طریقہ سکھایا اور انہیں حج کے مناسک کی تعلیم دی اور جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے سورت توبہ کی تلاوت کی اور مکمل سورت پڑھی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَلَى أَبِي قُرَّةَ هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1953

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2407

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشَرَةَ مِنْ الْإِبِلِ

ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا تھا اس خط میں یہ بات تحریر تھی کہ ناک کو کاٹ دیا جائے تو اس کی پوری دیت ہوگی زبان کی پوری دیت ہوگی دونوں ہونٹوں کی پوری دیت ہوگی دو دانتوں کی پوری دیت ہوگی شرمگاہ کی پوری دیت ہوگی پشت کی پوری دیت ہوگی دونوں آنکھوں کی پوری دیت ہوگی ایک پاؤں کی نصف دیت ہوگی اور ہلکے زخم کی ایک تہائی دیت ہوگی اور ایک قسم کے زخم کی ایک تہائی دیت ہوگی اور ایک قسم کے زخم کی پندرہ اونٹ دیت ہوگی۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2407

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2763

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عَمْرٍو أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي وَلَمْ يَكُنْ يَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ أَنْتَ عَنْ الِاسْتِغْفَارِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ فَحَدَّثْتُ أَبَا بُرْدَةَ وَأَبَا بَكْرٍ ابْنَيْ أَبِي مُوسَى قَالَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں میں اپنی بیوی کے ساتھ بدکلامی کیا کرتا تھا حالانکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ نہیں کیا کرتا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا تم استغفار کیوں نہیں کرتے میں خود روزانہ ایک سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ حضرت ابواسحاق بیان کرتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت موسی کے دو صاحبزادے حضرت ابوبردہ اور ابوبکر کو سنائی تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں روزانہ اللہ سے سومرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں۔ (ان الفاظ میں) میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔

حُذَيْفَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عَمْرٍو أَبِي الْمُغِيرَةِ ← أَبُو إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2763

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2867

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا قِيلَ لِأَبِي عَاصِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ لَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَيَكُونُ ذَلِكَ مِنْهُمْ جُشَاءً يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں راوی ابی عاصم سے دریافت کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت پیشاب نہیں کریں گے ناک صاف نہیں کریں گے اور پاخانہ نہیں کریں گے وہ صرف ڈکار لیں گے اور کھائیں گے اور پئیں گے انہیں تسبیح اور حمد یوں الہام کی جائے گی جیسے سانس لینا الہام کیا جائے گا۔

النَّبِيِّ ← جَابِرًا قِيلَ لِأَبِي عَاصِمٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2867

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3012

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ قَالَ سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ مَوْلُودٍ وُلِدَ وَلَيْسَ بِذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى لَيْسَ لَهُ مَا لِلذَّكَرِ وَلَيْسَ لَهُ مَا لِلْأُنْثَى يُخْرِجُ مِنْ سُرَّتِهِ كَهَيْئَةِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِهِ فَقَالَ نِصْفُ حَظِّ الذَّكَرِ وَنِصْفُ حَظِّ الْأُنْثَى

عامر سے ایسے بچے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو پیدا ہوا ہو وہ مذکر یا مونث نہ ہو اس کا وہ عضو بھی نہ ہو جو مذکر کا ہوتا ہے وہ بھی نہ ہو جو مونث کا ہوتا ہے اور اس کی ناف میں سے پیشاب اور پاخانہ نکلتا ہو ایسے شخص کے بارے میں یہ حکم دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا اس کانصف مرد کی حثییت سے ہوگا اور نصف عورت کی حثییت سے ہوگا۔

أَبُو هَانِئٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3012

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3277

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الْحَسَنِ قَالَ إِذَا أَوْصَى لِبَنِي فُلَانٍ فَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ

حسن فرماتے ہں جب کوئی شخص کسی مخصوص خاندان کے لئے وصیت کرے تو اس بارے میں مرد اور خواتین برابر حق رکھیں گے۔

إِذَا أَوْصَى لِبَنِي فُلَانٍ فَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ ← الْحَسَنِ، ← عَمْرٍو، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3277

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3311

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الْحَسَنِ قَالَ إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ فِي قَرَابَتِهِ فَهُوَ لِأَقْرَبِهِمْ بِبَطْنٍ الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ

حسن ارشاد فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنے رشتے داروں کے بارے میں وصیت کرے تو وہ اس کے قریبی رشتے داروں کے بارے میں شمار ہوگی اور اس میں مرد اور عورت دونوں برابر ہوں گے۔

إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ فِي قَرَابَتِهِ فَهُوَ لِأَقْرَبِهِمْ بِبَطْنٍ الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ ← الْحَسَنِ، ← عَمْرٍو، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3311

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3373

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ مِنْ أَهْلِ الذِّكْرِ يُقْرِئُونَكَ السَّلَامَ فَقَالَ وَعَلَيْهِمْ السَّلَامُ وَمُرْهُمْ فَلْيُعْطُوا الْقُرْآنَ بِخَزَائِمِهِمْ فَإِنَّهُ يَحْمِلُهُمْ عَلَى الْقَصْدِ وَالسُّهُولَةِ وَيُجَنِّبُهُمْ الْجَوْرَ وَالْحُزُونَةَ

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے ابودرداء سے کہا کوفہ سے تعلق رکھنے والے آپ کے اہل علم بھائیوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے حضرت ابودرداء نے جواب دیا ان پر بھی سلام ہو تم انہیں یہ ہدایت کر دو کہ وہ قرآن کی مکمل پیروی کریں کیونکہ قرآن انہیں میانہ روی اور آسانی کی طرف لے جائے گااور زیادتی اور ظلم سے الگ کردے گا۔

لِأَبِي الدَّرْدَاءِ إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ مِنْ أَهْلِ الذِّكْرِ يُقْرِئُونَكَ السَّلَامَ ← أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ رَجُلًا ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3373

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3374

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ عَنْ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ عَنْ الْحَارِثِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أُنَاسٌ يَخُوضُونَ فِي أَحَادِيثَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ فَقُلْتُ أَلَا تَرَى أَنَّ أُنَاسًا يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوهَا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتَكُونُ فِتَنٌ قُلْتُ وَمَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا قَالَ كِتَابُ اللَّهِ كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ هُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ هُوَ الَّذِي مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ وَمَنْ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ فَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ وَهُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ وَهُوَ الَّذِي لَمْ يَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ أَنْ قَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا هُوَ الَّذِي مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ

حارث بیان کرتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور احادیث پر بحث کررہے تھے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ نے غور کیا لوگ مسجد میں احادیث پر بحث کررہے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا وہ ایسا کر رہے ہیں میں نے جواب دیا جی ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب فتنے پیداہوں گے میں نے عرض کی اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی کتاب اللہ کی کتاب اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں ہیں اور بعد میں آنے والے لوگوں کی خبریں ہیں اور یہ تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے اور یہ الگ کرنے والی چیز ہے اس میں مذاق نہیں ہے جو ظالم شخص اسے ترک کردے گا اللہ اسے خراب کردے گا اور جو شخص اس کی بجائے کسی اور جگہ سے علم حاصل کرنا چاہے گا اللہ اسے گمراہی کا شکار کردے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ حکمت کی نصیحت کرنے والا ہے اور یہ سیدھا راستہ دکھانے والا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے خواہشات گمراہی کا شکار نہیں ہوتی اور زبان غلطی سے محفوظ رہتی ہے علماء اس کی وجہ سے سیر نہیں ہوتے اور بکثرت استعمال سے یہ پرانا نہیں ہوتا اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے یہ وہ ہے کہ اسے جنات نے سنا تو یہ کہنے سے باز نہ رہ سکے بے شک ہم نے قرآن کو سناہے اور یہ بڑی حیرت انگیز چیز ہے یہ وہ ہے جو اس کے ہمراہ بات کرے گا وہ سچ بولے گا جو اس کے مطابق فیصلہ کرے گا وہ عدل سے کام لے گا جو اس پر عمل کرے گا اسے اجرملے گا اور جو اس کی طرف دعوت دے گا اس کی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا اے اعور اس بات کو یاد رکھنا۔

الْحَارِثِ ← ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ ← أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3374

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3375

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّتَكَ سَتُفْتَتَنُ مِنْ بَعْدِكَ قَالَ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا قَالَ الْكِتَابُ الْعَزِيزُ الَّذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ مَنْ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ وَمَنْ وَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ مِنْ جَبَّارٍ فَحَكَمَ بِغَيْرِهِ قَصَمَهُ اللَّهُ هُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَالنُّورُ الْمُبِينُ وَالصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ فِيهِ خَبَرُ مَنْ قَبْلَكُمْ وَنَبَأُ مَا بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ وَهُوَ الَّذِي سَمِعَتْهُ الْجِنُّ فَلَمْ تَتَنَاهَى أَنْ قَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلَا تَنْقَضِي عِبَرُهُ وَلَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ لِلْحَارِثِ خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ

حارث بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرض کی گئی یا رسول اللہ آپ کے بعد آپ کی امت آزمائش کا شکار ہوجائے گی تو انہوں نے اللہ کے رسول سے سوال کیا یا نبی رسول اللہ اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ معزز کتاب ہے جس کے آگے اور پیچھے سے باطل نہیں آسکتا اور جو حکمت والی ہے اور لائق حمد کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو شخص اس کے علاوہ کسی اور سے ہدایت تلاش کرنے کی کوشش کرے گا اللہ اسے گمراہی کا شکار کردے گا اور جو ظالم حکمران بننے کے بعد اس کی بجائے دوسرے فیصلے کرے گا اللہ اسے برباد کردے گا یہ حکمت آمیز نصیحت ہے اور واضح رہے کہ سیدھا راستہ یہی ہے۔ اس میں تم سے پہلے لوگوں کی اطلاعات ہیں اور بعد میں آنے والوں کی خبریں ہیں یہ تمہارے درمیان فیصلہ والی چیز ہے فرق کرنے والی چیز ہے یہ مذاق نہیں ہے یہ وہ ہے کہ جب جنات نے اسے سنا تو یہ کہنے سے باز نہ رہ سکے کہ ہم نے قرآن کو سنا ہے اور یہ بہت حیرت والی چیز ہے یہ بکثرت استعمال ہونے والی چیز ہے اور یہ پرانی نہیں ہوسکتی اور اس کی مدت ختم نہیں ہوسکتی اور اس کے عجائب فنا نہیں ہوں گے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حارث سے کہا اے اعور اس بات کو یاد رکھنا۔

قِيلَ ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي سِنَانٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3375

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3525

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ قَالَ إِنَّمَا دَعَوْنَاكَ أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْتِمَ الْقُرْآنَ وَإِنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ عِنْدَ خَتْمِ الْقُرْآنِ قَالَ فَدَعَوْا بِدَعَوَاتٍ

حکم بیان کرتے ہیں مجاہد نے میرے پاس یہ پیغام بھجوایا کہ ہم تمہارے لئے دعا کریں ہم یہ چاہتے ہیں کہ جب ہم قرآن ختم کریں کیونکہ ہمیں یہ پتہ چلاہے کہ قرآن ختم کرنے کے وقت دعا قبول ہوتی ہے راوی بیان کرتے ہیں پھر انہوں نے اس وقت کچھ دعائیں کی تھیں۔

فَدَعَوْا بِدَعَوَاتٍ ← أَرَدْنَا أَنْ نَخْتِمَ الْقُرْآنَ وَإِنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ عِنْدَ خَتْمِ الْقُرْآنِ ← إِنَّمَا دَعَوْنَاكَ ← بَعَثَ إِلَيَّ ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3525

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · کتاب ‹ (15) باب الوضوء من مس الفرج · حديث 111

111 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَاكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذلك، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، يَقُولُ: إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.

إِذَا مَسَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا ← عُرْوَۃُ مَا عَلِمْتُ ذَلِکَ ← مَرْوَانُ: مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ. ← دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَاكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم أنه ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 111

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · کتاب ‹ (4) افتتاح الصلاة والتكبير في كل خفض ورفع · حديث 211

211 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ مولى الزبير، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ , أَنَّهُ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلاَةِ، قَالَ: فَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُكَبِّرَ كُلَّمَا خَفَضْنَا وَرَفَعْنَا.

فَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُكَبِّرَ كُلَّمَا خَفَضْنَا وَرَفَعْنَا. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلاَةِ، ← أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ مولى الزبير، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 211

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · کتاب ‹ (4) افتتاح الصلاة والتكبير في كل خفض ورفع · حديث 212

212 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قُالُ: إِذَا أَدْرَكَ الرَّجُلُ الرَّكْعَةَ فَكَبَّرَ تَكْبِيرَةً وَاحِدَةً، أَجْزتْ عَنْهُ تِلْكَ التَّكْبِيرَةُ. قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الذي نَوَى بِتِلْكَ التَّكْبِيرَةِ افْتِتَاحَ الصَّلاَةِ.

مَالِكٌ: وَذَلِكَ الذي نَوَى بِتِلْكَ التَّكْبِيرَةِ افْتِتَاحَ الصَّلاَةِ. ← إِذَا أَدْرَكَ الرَّجُلُ الرَّكْعَةَ فَكَبَّرَ تَكْبِيرَةً وَاحِدَةً، أَجْزتْ عَنْهُ تِلْكَ التَّكْبِيرَةُ. ← ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 212

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الجمعة ‹ (51) ما جاء في غسل يوم الجمعة · حديث 432

432 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ: فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ: فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ: فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ: فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ: فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ: حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ.

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 432

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الجمعة ‹ (97) باب ما جاء في الدعاء · حديث 621

621 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، أن رسول اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، قَالَ: أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ.

طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، ← زياد بن أبي زياد ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 621

chevron_left Previous
1…567…671
Next chevron_right