Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14961

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَافُوا وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے جب ہم بیت اللہ کا طواف اور سعی کرچکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں البتہ جن کے پاس ہدی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کریں جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور دس ذی الحجہ کو صرف طواف زیارت کیا صفامروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14961

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14985

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى الْبَطْحَاءِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ عَهْدِي بِأَهْلِي الْيَوْمَ فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مِنْهُ لَأَحْلَلْتُ وَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ سَاقَ الْهَدْيَ فَأَحْرَمْنَا حِينَ تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں۔ اس پر بطحاء کی طرف ہم نکلے اور ایک آدمی کہنے لگا کہ آج میں اپنی بیوی کے پاس جاؤں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔

خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14985

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15005

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيَّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا سَرِفَ حَاضَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ تَبْكِينَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي الْأَذَى قَالَ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ يُصِيبُكِ مَا يُصِيبُهُنَّ قَالَ وَقَدِمْنَا الْكَعْبَةَ فِي أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَيَّامًا أَوْ لَيَالِيَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا فَأَحْلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ قَالَ فَتَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا خَرَجْنَا حُجَّاجًا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَاتٍ إِلَّا أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ أَوْ لَيَالٍ خَرَجْنَا إِلَى عَرَفَاتٍ وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ الْمَنِيَّ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَبِّرْنَا خَبَرَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ قَالَ فَأَتَيْنَا عَرَفَاتٍ وَانْصَرَفْنَا مِنْهَا ثُمَّ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي قَدْ اعْتَمَرُوا قَالَ إِنَّ لَكِ مِثْلَ مَا لَهُمْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي فَوَقَفَ بِأَعْلَى وَادِي مَكَّةَ وَأَمَرَ أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَهَا حَتَّى بَلَغَتْ التَّنْعِيمَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا مقام سرف میں پہنچے تو حضرت عائشہ کو ایام آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ توایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی ساری بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے۔ہم لوگ چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مکمل حلال ہوگئے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی ہلال ہوجاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے۔ اور سراقہ بن مالک جمرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ یہ حکم اس سال کے لئے خاص ہے یاہمیشہ کے لئے فرمایا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے پھر ہم عرفات پہنچے وہاں سے واپسی ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں چنانچہ حضرت عائشہ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا اور تنعیم سے عمرہ کرکے واپس آگئیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← معقل يعني ابن عُبَيد الله الجزري، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15005

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15006

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَحِلُّوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حِلُّ مَاذَا قَالَ حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنْ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ قَالَ فَغُشِيَتْ النِّسَاءُ وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ قَالَ خَلَفٌ وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا قَالَ فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَوْ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ أَلَا فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ قَالَ فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ قَالَ فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ الْجَزُورَ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ہم لوگ چارذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف دوگانہ طواف اور صفاومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہم نے بال چھوٹے کروا لئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال ہو جاؤ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ کس طرح فرمایا جس طرح ایک غیر محرم کے لئے عورت خوشبو حلال ہوجاتی ہے چنانچہ لوگوں نے اپنے عورتوں سے خلوت کی اور انگھٹیاں خوشبو اڑانے لگیں کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا کہ اس کا مطلب ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرے ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے اگر میرے سامنے بات پہلے ہی سے آجاتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے مجھ سے مناسک حج سیکھ لو پھر لوگوں کو غیر محرم ہونے کی حالت میں ہی رہنے دیا یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی تاریخ آئی اور منی کی طرف روانگی کا حکم ہوا تو انہوں نے حج کا احرام باندھا اس سفر میں جس کے پاس ہدی کا جانور موجود تھا اس پر قربانی رہی اور جس کے پاس نہیں تھا اس پر روزے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ اور ایک گائے میں سات آدمیوں کو شریک کرایا اور یاد رہے کہ حج اور عمرے کے لئے انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی مرتبہ کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی ایک مرتبہ ہی کی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صَبِيحٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15006

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15007

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا قَطَنٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَحْسِبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ نُودِيَ فِينَا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ قَالَ فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ الْهَدْيَ قَالَ وَبَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيُّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَعْطَاهُ نَيِّفًا عَلَى الثَّلَاثِينَ مِنْ الْبُدْنِ قَالَ ثُمَّ بَقِيَا عَلَى إِحْرَامِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم حج کرنے جارہے ہیں جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں اعلان ہوگیا کہ تم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہواسے چاہیے کہ احرام کھول دے اور جس کے پاس ہدی کا جانور ہو اسے اپنے احرام پر باقی رہنا چاہیے چنانچہ لوگ عمرہ کر کے احرام سے فارغ ہو گئے الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حالت احرام میں ہی رہے آپ کے پاس اونٹ سو تھے ادھر حضرت علی بھی یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی احرام باندھتاہوں جو آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تیس سے زائد اونٹ دیئے اور وہ دونوں حالت احرام میں ہی رہے یہاں تک کہ ہدی کا جانور اپنے ٹھکانہ تک پہنچ گیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قطن ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15007

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20840

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا لَكُمْ وَلِلْكِلَابِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ

حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداءً کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا پھر بعد میں فرمادیا کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے اور شکاری کتے اور بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت کے لئے کتے رکھنے کی اجازت دے دی۔

مَا لَكُمْ وَلِلْكِلَابِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ ← أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِقَتْلِ الْکِلَابِ ثُمَّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← مُطَرِّفًا ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20840

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15047

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيَخْطُبُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَيَقُولُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا أَوْ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ جس شخص کو ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں کر سکتا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیزیں نو چیزیں ہیں اور ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتاجاتا اور جوش میں اضافہ ہوتاجاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور پھر فرمایا کہ تم پر صبح کو قیامت آگئی یا شام کو جو شخص مال ودولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کاہے اور جو شخص قرض یابچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے اور میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8293

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8293

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15225

حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا لَحْمَ الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حالت احرام میں تمہارے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ تم خود شکار نہ کرو یا اسے تمہاری خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15225

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8367

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا لِيُوَدِّعَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبَعِيدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہربلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کےلئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔

اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبَعِيدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فَلَمَّا وَلَّى ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ يُرِيدُ سَفَرًا لِيُوَدِّعَهُ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أُسَامَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8367

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15230

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ قَالَ فَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَوَقَعَتْ النِّسَاءُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ قَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کاتلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی۔آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اسی دوران حضرت سراقہ بن مالک بھی آگئے اور کہنے لگے یارسول اللہ کیاعمرہ کاصرف حکم اس سال کے لئے ہے یاہمیشہ کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← فَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَوَقَعَتْ النِّسَاءُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ← رَسُولُ اللَّهِ أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ ← خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15230

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15253

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو أَخْبَرَنِي رَجُلٌ ثِقَةٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَحْمُ الصَّيْدِ حَلَالٌ لِلْمُحْرِمِ مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم کے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ وہ خود شکار نہ کرے یا اسے اس کی خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔

لَحْمُ الصَّيْدِ حَلَالٌ لِلْمُحْرِمِ مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← رَجُلٌ ثِقَةٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15253

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15426

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِطٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ يَعْنِي إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ

حضرت عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے لئے جھکتے ہوئے اور سر اٹھاتے ہوئے مکمل تکبیر نہیں کہتے تھے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← الْحَسَنُ بْنُ عُمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِطٍ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15426

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15443

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ

حضرت عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے لئے جھکتے ہوئے اور سر اٹھاتے ہوئے مکمل تکبیر نہیں کہتے تھے۔

أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15443

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24808

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَنَا وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ فَقَالَ عَمَّارٌ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاهُ فَقَالَتْ السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى حَتَّى أَعَادَهَا عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكِ لَأُمِّي وَإِنْ كَرِهْتِ قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ هَذَا الْأَشْتَرُ قَالَتْ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِي قَالَ نَعَمْ قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَأَرَادَهُ قَالَتْ أَمَا لَوْ فَعَلْتَ مَا أَفْلَحْتَ أَمَّا أَنْتَ يَا عَمَّارُ فَقَدْ سَمِعْتَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مَنْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ كَفَرَ بَعْدَمَا أَسْلَم أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَقُتِلَ بِهَا

عمرو بن غلاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، عمار اور اشتر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمار نے کہا اماں جان! السلام علیک انہوں نے جواب میں فرمایا: السلام علی من اتبع الھدی "(اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے) عمار نے دو تین مرتبہ انہیں سلام کیا اور پھر کہا کہ واللہ آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ بات پسند نہ ہو، انہوں نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ عمار نے بتایا کہ یہ اشتر ہے، انہوں نے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کیا تھا اور اس نے بھی یہی ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا اگر تم ایسا کرتے تو تم کبھی کامیاب نہ ہوتے اور اے عمار! تم نے یا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جانا، یا کسی شخض کو قتل کرنا جس بدلے میں اسے قتل کر دیا جائے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أو ← أَمَا لَوْ فَعَلْتَ مَا أَفْلَحْتَ أَمَّا أَنْتَ يَا عَمَّارُ فَقَدْ ← نَعَمْ قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَأَرَادَهُ ← أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِي ← هَذَا الْأَشْتَرُ ← مَنْ هَذَا مَعَكَ ← أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكِ لَأُمِّي وَإِنْ كَرِهْتِ ← السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى حَتَّى أَعَادَهَا عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ ← عَمَّارٌ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاهُ ← وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ ← انْتَهَيْتُ إِلَى عَائِشَةَ ← عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24808

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17818

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الثُّمَالِيِّ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْهَدْيِ يَعْطَبُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْحَرْ وَاصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ وَاضْرِبْ بِهِ عَلَى صَفْحَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى جَنْبِهِ وَلَا تَأْكُلَنَّ مِنْهُ شَيْئًا أَنْتَ وَلَا أَهْلُ رُفْقَتِكَ

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہدی کے اس جانور کے متعلق پوچھا جو مرنے کے قریب ہو؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کردو، اس کے نعل کو خون میں رنگ دو، اور اس کی پیشانی یا پہلو پر لگا دو، اور خود تم یا تمہارے رفقاء اس میں سے کچھ نہ کھاؤ۔

النَّبِيُّ انْحَرْ وَاصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ وَاضْرِبْ بِهِ عَلَى صَفْحَتِهِ أَوْ ← الْهَدْيِ يَعْطَبُ ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الثُّمَالِيِّ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← لَيْثٌ، ← شَرِيکٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17818

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18027

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِقُوا عَنْه دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِقُوا عَنْه دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى ← النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ← هِشَامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18027

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18030

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌوَقَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَىوَقَالَ الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَعَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صِلَةٌ وَصَدَقَةٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے روزہ افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے، لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے، ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ ← حَفْصَةَ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18030

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18031

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ أَرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18031

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18034

وَقَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِقُوا عَنْه دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18034

chevron_left Previous
1…212223…579
Next chevron_right