Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

11303 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20015

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا حکمران قریش میں سے ہوںگے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں اور فیصلہ کریں تو انصاف کریں اور جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔

أَبَا بَرْزَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ ← سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ ← سكين ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20015

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20020

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ أَبُو الْمِنْهَالِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ وَإِنَّ فِي أُذُنَيَّ يَوْمَئِذٍ لَقُرْطَيْنِ وَإِنِّي غُلَامٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ ثَلَاثًا مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے تین مرتبہ فرمایا حکمران قریش میں سے ہوں گے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں اور فیصلہ کریں تو انصاف کریں اور جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔

سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ أَبُو الْمِنْهَالِ ← سكين بن عبد العزيز ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20020

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20043

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيِّ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَإِنَّ فِي أُذُنَيَّ يَوْمَئِذٍ لَقُرْطَيْنِ قَالَ وَإِنِّي لَغُلَامٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ إِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ أَنِّي أَصْبَحْتُ لَائِمًا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ فُلَانٌ هَاهُنَا يُقَاتِلُ عَلَى الدُّنْيَا وَفُلَانٌ هَاهُنَا يُقَاتِلُ عَلَى الدُّنْيَا يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ حَتَّى ذَكَرَ ابْنَ الْأَزْرَقِ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ لَهَذِهِ الْعِصَابَةُ الْمُلَبَّدَةُ الْخَمِيصَةُ بُطُونُهُمْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ وَالْخَفِيفَةُ ظُهُورُهُمْ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ لِي عَلَيْهِمْ حَقٌّ وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

سیار بن سلالہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت میرے کانوں میں بالیاں تھیں، میں نوعمر تھا، حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ قریش کے اس قبیلے کو ملامت کرتا رہتا ہوں، یہاں فلاں فلاں آدمی دنیا کی، خاطر قتال کرتا ہے یعنی عبدالملک بن مروان، حتیٰ کہ انہوں نے ابن ازرق کا بھی تذکرہ کیا، پھر فرمایا میرے نزدیک اس گروہ میں تمام لوگوں سے زیادہ محبوب وہ ہے جس کا پیٹ مسلمانوں کے مال سے خالی ہو اور اس کی پشت ان کے خون سے بوجھل نہ ہو، نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے حکمران قریش میں سے ہوں گے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں اور فیصلہ کریں تو انصاف کریں اور جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔

سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيِّ، ← سكين بن عبد العزيز ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20043

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23640

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) مروی ہے کہ اس امت کو دیگر امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے اس امت کے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنایا گیا ہے اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اور اس امت کو سورت بقرہ کی آخری آیتیں عرش الہٰی کے نیچے ایک خزانے سے دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23640

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23718

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ سَأَلَتْنِي أُمِّي مُنْذُ مَتَى عَهْدُكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَنَالَتْ مِنِّي وَسَبَّتْنِي قَالَ فَقُلْتُ لَهَا دَعِينِي فَإِنِّي أَاتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِبَ ثُمَّ لَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ فَعَرَضَ لَهُ عَارِضٌ فَنَاجَاهُ ثُمَّ ذَهَبَ فَاتَّبَعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ حُذَيْفَةُ قَالَ مَا لَكَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْأَمْرِ فَقَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ ثُمَّ قَالَ أَمَا رَأَيْتَ الْعَارِضَ الَّذِي عَرَضَ لِي قُبَيْلُ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَهُوَ مَلَكٌ مِنْ الْمَلَائِكَةِ لَمْ يَهْبِطْ الْأَرْضَ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ فَاسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتا دیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں ۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے میں بھی پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے ۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جوانان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں ۔

حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23718

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23739

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ وَاللَّهِ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبْدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ أَوْ قَتَلُوهُ أَوْ يَضْرِبُهُمْ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَتَقُولُ هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ قَالَ لَا أَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچا سکے گا، ایک آدمی نے ان سے کہا بندہ خدا! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ تو خود قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو وہی بات کہہ رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔

عَمْرِو بْنِ حَنْظَلَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23739

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1644

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى القطان قال حدثنا بن جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسَاجِدِنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإنس" 1.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :جو شخص اس سبزی یعنی لہسن ،پیاز یا گند نے کو کھا لے ،تو قہ ہماری مساجد میں نہ آئے کیو نکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے ، جس انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of the mosques · Hadith 1644

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1697

أخبرنا الفضل بن حباب الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ وَأُوتِيتُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا يعطى أحد بعدي" 1.

حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :ہمیں دوسر ے لوگوں سے تین حوالے سے فضلیت دی گی ہے ہمارے لئے تمام روئے زمین مسجد بنا دیا گیا ہے زمین کی مٹی کو ہمارے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ بنادیا گیا ہے ۔اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا گیا ہے ، اورمجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے دی گی ہے یہ مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں میرے بعد بھی کسی کو نہیں دی جائے گی ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الفضل بن حباب الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1697

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حدثنا أبو خثيمة قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سعيد بن جبير عن بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ والملائكة والناس أجمين" 1. [2: 109]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے‘ تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ ‘ تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ‘‘۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← أبو خثيمة ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 417

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3005

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ" قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَقُولُ؟ قَالَ: "قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً" قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم1. [104:1]

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : جب تم کسی میت کے پاس جاو، تو اچھی بات کہو، کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہی۔ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب (میرے سابقہ شوہر) حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ کا انتقال ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اب میں کیا پڑھوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو: "اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر اور ہمیں اس کی جگہ اچھابدل عطا کر"۔ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی جگہ حضرت محمد ﷺ (بطور شوہر ) عطا کر دئیے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3005

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1753

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قَالَ: "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ" 1. [1: 2]

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک فرشتے کسی شخص کیلئے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے ہیں۔ جب تک وہ شخص اپنی اس جائے نماز پر موجود رہتا ہے جہاں اس نے نماز ادا کی تھی۔ جب تک وہ بے وضو نہیں ہوا (وہ فرشتے یہ دعا کرتے ہیں) اے اللہ! تو اس کی مغفرت کردے۔ اے اللہ! تو اس پر رحم کر"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1753

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1100

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ لِي: مَا حَاجَتُكَ؟ قُلْتُ لَهُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بعد الغائط والبول، وكنت امرأ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ1 -أَوْ مُسَافِرِينَ- أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أيام

زربن حبیش بیان کرتے ہیں : میں حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا تمہیں کیا کام ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی علم کا حصول انہوں نے فرمایا: فرشتے طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے کہا پیشاب کرنے کے بعد ( وضو کرتے ہوئے ) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں میں آپ کے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی بات سنی ہے، تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم لوگ سفر کی حالت میں ہوں ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جب ہم مسافر ہوں ، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپمے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے تاہم پاخانہ یا پیشاب یا سونے ( کی وجہ سے وضو ختم ہونے کی صورت میں ہم موزے نہ اتاریں) ( امام ابن حبان رحمتہاللہ علیہ فرماتے ہیں ) رقاد ( رعنی سونے ) کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام ہے۔ اس کا آغاز وہ اونگھ ہے، جو نیند کے شروع میں ہوتی ہے، اور اس کی یہ حالت ہوتی ہے، اس دوران اگر آدمی کے ساتھ کلام کیا جائے، تو وہ سن لیتا ہے اور اگر بے وضو ہو جائے ، تو اسے یہ پتہ ہوتا ہے البتہ اگر وہ ایک طرف ڈھلک جائے ( تو معاملہ مختلف ہے ) اور اس کا اختتام یعنی شعور کا زائل ہو جانا ہے۔ اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے ، جب آدمی اس حالت کے دوران بے وضو ہو جائے ، تو اسے پتہ نہیں چلتا اور اگر اس کے ساتھ کلام کیا جائاے تو اسے پتہ نہیں چلتاتو اونگھ کسی بھی شخص پر وضو کو لازم نہیں کر تی ہےخواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو خواہ اونگھنے کی حالت کوئی سی بھی ہو جبکہ نیند وضو کو لازم کر دیتی ہے۔ خواہ وہ کسی بھی حالت میں پائی جائے جو سونے والی کی ہوتی ہے ۔ اس کے ہمراہ بعض اوقات لفظ نوم ( یعنی نیند ) کا اطلاق نعاس ( یعنی اونگھ ) پر بھی ہوتا ہے، اور لفظ نعاس کا اطلاق لفظ نوم پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں کا معنی مختلف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " اسے اونگھ نہیں آتی ہے اور نیند بھی نہیں آتی ہے " تو جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت صفوان کی نقل کردہ روایت میں نیند ، پاخانے اور پیشاب کو وضو کرنے والی چیزوں میں شامل کر لیا تو جس طرح پیشاب اور ماخانے میں کوئی فرق نہیں ہے یہ دونوں جس کسی سے بھی صادر ہوں گے خواہ وہ تھورے ہو ں یا زیادہ اس شخص پر وضو لازم ہو جائیگا ۔ خواہ پیشاب کرنے والا شخص بیتھ کر کرے یا کھڑے ہو کر کرے یا رکوع کی حالت میں کرے یا سجدے کی حالت میں کرے ، تو ہر وہ شخص جس کی عقل زائل ہو جائے اور وہ سو جائے تو اس پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا ۔ خواہ اس کی حالتوں میں اختلاف ہو یا حلتوں میں اتفاق ہو ، کیونکہ اس میں بنیادی علت عقل کا زائل ہو جانا ہے۔ حالت کا تبدیل ہونا بنیادی علت نہیں ہے۔ جیسا کہ پیشاب اور پاخانے میں علت ان دونون کا پایا جانا ہے ۔ پیشاب کرنے والے یا پاخانہ کرنے والے کی حالت کو متغیر ہونا ( علت نہیں ) ہے۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1100

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3716

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نقرأه إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَصَحِيفَةً فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا، فَإِذَا فِيهَا شَيْءٌ مِنْ أَسْنَانِ الْإِبِلِ وَالْجِرَاحَاتِ، وَإِذَا فِيهَا: "مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذَنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَالْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ القيامة صرف ولا عدل" 1. [109:2]

حضرت علی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں ہے، جس کو ہم پڑھتے ہوں، صرف اللہ کی کتاب ہے یا ایک صحیفہ ہے، جو میری تلوار کی میان میں ہے۔ پھر انہوں نے اس صحیفے کو ہمارے سامنے پڑھا، اس میں اونٹوں کی دیت کے حوالے سے اور زخموں کی دیت کے حوالے سے کچھ احکام تھے اور اس میں ایک یہ بات موجود تھی جو (آزاد شدہ غلام ) اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کر ے اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں ، تمام لوگوں کی لعنت ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے شخص کی کوئی بھی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ تمام مسلمانوں کی دی ہوئی پناہ ایک جیسی حیثیت رکھتی ہے ان کا عام فرد بھی اسے پورا کرنے کی کوشش کرے گا اور جو کوئی شخص کسی مسلمان کو رسوا کرے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ایسے شخص کی قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی اور مدینہ منورہ اپنے دونوں کناروں کے درمیان پورے کا پورا قابل احترام ہے جوشخص یہا ں بدعت ایجاد کرے یا بدعتی کو پناہ دے ، تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ایسے شخص سے قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔

عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3716

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1804

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} ، فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ وَالْإِمَامَ يَقُولُ: آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تقدم من ذنبہ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: "جب امام غیر المغضوب علیھم ولاالضالین کہے، تو تم آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ جس شخص کا آمین کہنا فرشتے کے آمین کہنے کے ساتھ ہو تو اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجاتا ہے۔" (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان " تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو" اس کا مطلب یہ ہے، فرشتے ریاکاری، شہرت، خود پسندی وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہتے ہیں۔ ان کا آمین کہنا، خالص طور پر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ تو جب قرات کرنے والا شخص، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے، خود پسندی، ریا کاری، شہرت وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہے گا، تو اخلاص کے حوالے سے اس کا آمین کہنا، فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگا۔ تو اس صورت میں اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجائے گی۔

الْإِمَامُ فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ وَالْإِمَامَ ← «إِذَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1804

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1205

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بن عمرو يحدث عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ 2 عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ" 3.

عبد اللہ بن نجی اپنےب والد کا یہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : "فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی شخص موجود ہو۔"

"لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ" ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← أَبَا زُرْعَةَ بن عمرو ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1205

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَغَيْرِهِمَا · حديث 1321

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ [ص:150] الْعِلْمِ رِضًا لِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَكُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، «كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ». قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ الْهَوَى؟ قَالَ: نَعَمْ، بَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرٍ، فَنَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ كَلَامِهِ، قَالَ: «هَاؤُمُ»، قُلْنَا: وَيْلَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتَكَ، فَإِنَّكَ نُهِيتَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقُهُمْ؟ قَالَ: «هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا، حَتَّى قَالَ: «إِنَّ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ بَابًا فَتَحَهُ اللَّهُ لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، [ص:151] فَلَا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ». [1: 71]

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں حضرت صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو۔ میں نے جواب دیا: علم کے حصول کے لئے انہوں نے فرمایا: طالب علم کی طلب سے راضی ہوکر فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے عرض کی: پاخانہ اور پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ صحابی رسول ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ کیا آپ نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبانی اس بارے میں کچھ سنا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے۔ جب ہم سفر کی حالت میں ہوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جن ہم مسافر ہوں، تو تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے، تاہم پاخانہ پیشاب یا نیند کی (صورت میں وضو ٹوٹنے پر وضو کرتے ہوئے ہم انہیں نہیں اتاریں گے) میں نے اس سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواہش کے بارے میں کوئی چیز ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ایک مرتبہ ہم سفر کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز میں پکارا اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کلام کی مانن (بلند آواز میں) اسے جواب دیا: فرمایا: آگے آجاؤ ہم نے (ا س دیہاتی) سے کہا تمہارا استیاناس ہو تم اپنی آواز کو پست کرو۔ تمہیں اس بات سے منع کیا گیا ہے۔ (تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی آواز میں بات کرو) اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ ہوگا، جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہمارے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی: " مغرب کی سمت میں ایک دروازہ ہے، جس کی چوڑائی چالیس برس کی مسافت جتنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس دن زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا اس دن اسے توبہ کے لئے پیدا کیا تھا اور وہ اسے اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس (مغرب کی) طرف سے طلوع نہیں ہوگا"۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of sackcloth on the two soles and the like · Hadith 1321

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَغَيْرِهِمَا · حديث 1325

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ جِئْتُ أَنْبِطُ الْعِلْمَ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يَطْلُبُ الْعِلْمَ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ" قَالَ جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ نَعَمْ كُنَّا فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهُورٍ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَلَا نَخْلَعُهُمَا1 مِنْ غَائِطٍ ولا بول2.

۔ زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو ۔ میں نے جواب دیا۔ علم حاصل کرنے کے لئے انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو بھی شخص علم کے حصول کے لئے گھر سے نکلتا ہے، تو فرشتے اس کے اس عمل سے راضی ہوکے اپنے پراس کے لئے بچھا دیتے ہیں"۔ زر نے کہا میں اس لئے آیا ہوں تاکہ موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کروں تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں ہم ایک لشکر میں تھے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا، تو آپ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ جب ہم موزوں کو طہارت کی حالت میں (یعنی وضو کرکے) پہن لیں تو سفر کے دوران تین دن تک ہم ان پر مسح کر سکتے ہیں۔ ہم پاخانہ یا پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) انہیں نہیں اتاریں گے۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of sackcloth on the two soles and the like · Hadith 1325

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 768

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں ‘ تو ان لوگوں پر سکنیت نازل ہوتی ہے رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود ( فرشتوں کے سامنے ) ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 768

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 779

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَمَا أَنَا أَقْرَأُ اللَّيْلَةَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِذْ سَمِعْتُ وَجْبَةً مِنْ خَلْفِي، فَظَنَنْتُ أَنَّ فَرَسِي انْطَلَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ "، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْمِصْبَاحِ مُدَلًّى بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَمْضِيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ " (1) . [1: 2]

اسید بن حضیر ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات میں سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہا تھا۔ اسی دوران میں نے اپنے پیچھے ایک آہٹ سنی مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید میرا گھوڑا چلا گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :اے ابو اسید ! تم تلاوت کرتے رہو ‘ میں نے توجہ کی ‘ تو وہاں کچھ چراغ نظر آئے ‘ جو آسمان و زمین کے درمیان موجود تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا؛ اے ابو عتیک ! تم تلاوت کرتے ہو۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں اب تلاوت جاری نہیں رکھ سکتا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا :یہ فرشتے تھے جو سورہ بقرہ کی تلاوت کی وجہ سے نازل ہوئے تھے ‘ اگر تم تلاوت جاری رکھتے ‘ تو اور بھی حیران کن چیزیں دیکھتے۔

أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 779

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 813

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ؟» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، قَالَ: «آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟» قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنْ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ مسجد میں ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا : تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو۔ لوگوں نے بتایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں۔ حضرت معاویہ ؓ نے دریافت کیا: اللہ کی قسم! کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھتے ہو ؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں ۔ حضرت معاویہ ؓ نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ اپنے اصحاب کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کوں بیٹھے ہوئے ہو۔ انہوںانہوں نے کہا: ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لئے اور اس نے جو اسلام کی ہدایت دی ہے اور ہم پر یہ احسان کیا ہے اس بات پر اس کی حمد بیان کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا اللہ کی قسم! تم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہوئے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں نے تم پر کوئی الزام عائد کرنے کے لئے تم سے قسم نہیں لی ہے‘ بلکہ جبرائیل میرے پاس آئے انہوں نے مجھے بتایا: اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کا اظہار کر رہا ہے۔

وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، ← آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ ← جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، ← خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 813

chevron_left Previous
1…161718…566
Next chevron_right