Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

11303 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15078

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور لہسن کھانے سے منع فرمایا تھا لیکن جب ہم اپنی ضرورت سے مغلوب ہو گئے تو ہم نے اسے کھالیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کواذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی ہوتی ہے۔

أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15078

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8319

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8319

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8355

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَدِينَتِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ كَمَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشْتَبِكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ فَمَنْ أَرَادَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! اہل مدینہ کے لئے ان کا مدینہ مبارک فرما اور ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما اے اللہ ابراہیم آپ کے بندے اور خلیل تھے اور میں آپ کا بندہ اور رسول ہوں ابراہیم نے آپ سے اہل مکہ کے لئے دعا مانگی تھی میں آپ سے اہل مدینہ کے لئے ویسی ہی دعا مانگ رہا ہوں جیسی ابراہیم نے اہل مکہ کے لئے مانگی تھی اور اتنی ہی اور بھی۔ پھر فرمایا کہ مدینہ منورہ ملائکہ کے جال میں جکڑا ہوا ہے اس کے ہر سوارخ پر دو فرشتے اس کی حفاظت کے لئے مقرر ہیں یہاں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکتے جو اس کے ساتھ کوئی ناپاک ارادہ کرے گا اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔

سعد بن مالك وأبا هريرة يقولان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ أَنَّهُ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8355

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15226

حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى زَمَنَ خَيْبَرَ عَنْ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَأَكَلَهُمَا قَوْمٌ ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَنْهَ عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْمُنْتِنَتَيْنِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ أَجْهَدَنَا الْجُوعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَحْضُرْ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے زمانے میں پیاز اور لہسن سے منع فرمایا تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے کھالیا پھر وہ مسجد میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دو بدبو دار درختوں سے کھانے سے منع نہیں کیا تھا لوگوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ۔ لیکن ہم بھوک سے مغلوب ہو گئے تھے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کواذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی ہوتی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15226

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15303

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الْمَدِينَةِ كَالْكِيرِ وَحَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ وَأَنَا أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ وَهِيَ كَمَكَّةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهَا لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ مِنْهَا وَلَا يَقْرَبُهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ وَالْمَلَائِكَةُ يَحْرُسُونَهَا عَلَى أَنْقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے حضرت ابراہیم نے مکہ مکرمہ کو حرام قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتاہوں لہذامدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیانی حصہ اور اس کی چراگاہیں مکمل طور پر حرم ہیں جس کا کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا الاّ یہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو کھلائے اور ان شاء اللہ طاعون اور دجال اس کے قریب بھی نہ آسکے گا اس کے تمام سوراخوں اور دروازوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہوں گے۔

مَثَلُ الْمَدِينَةِ كَالْكِيرِ وَحَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15303

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8504

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا جَاءَ فُلَانٌ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ جَاءَ فُلَانٌ فَأَدْرَكَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُدْرِكْ الْجُمُعَةَ إِذَا لَمْ يُدْرِكْ الْخُطْبَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر فرشتے لوگوں کے مراتب لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا فلاں آدمی آیا تو اسے صرف نماز ملی اور جمعہ نہیں ملا یہ اس وقت لکھتے ہیں جبکہ کسی کو خطبہ نہ ملا ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8504

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8509

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔

لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رِفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8509

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24564

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھےسُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← عَمْرِو بْنِ الْهَيْثَمِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24564

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21273

ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ

پھر ایک دن نبیﷺ باہر تشریف لائے تو ہم سے فرمایا کہ تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جیسے فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بندی کرتے ہیں ، صحابہ کرامؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ! فرشتے رب کے سامنے کس طرح صف بندی کرتے ہیں ؟ نبیﷺ نے فرمایا پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صفوں کے خلاء کو پر کرتے ہیں۔

أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ← ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21273

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21337

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ يُتَمِّمُونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ

پھر ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم سے فرمایا کہ تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جیسے فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بندی کرتے ہیں صحابہ کرام نے پوچھا یارسول اللہ فرشتے اپنے رب کے سامنے کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صفوں کے خلاء کو پر کرتے ہیں۔

جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ← تَمِيمَ بْنَ طَرْفَةَ الطَّائِيَّ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21337

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17641

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَامِرٍ أَوْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي غَيْرِ صُورَتِهِ يَحْسِبُهُ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ وَضَعَ جِبْرِيلُ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ مَا الْإِيمَانُ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ مَا الْإِحْسَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَهُوَ يَرَاكَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنْتُ قَالَ نَعَمْ وَيَسْمَعُ رَجْعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَلَا يَرَى الَّذِي يُكَلِّمُهُ وَلَا يَسْمَعُ كَلَامَهُ قَالَ فَمَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ خَمْسٌ مِنْ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ قَالَ السَّائِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِعَلَامَتَيْنِ تَكُونَانِ قَبْلَهَا فَقَالَ حَدِّثْنِي فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ تَلِدُ رَبَّهَا وَيَطُولُ أَهْلُ الْبُنْيَانِ بِالْبُنْيَانِ وَكَانَ الْعَالَةُ الْجُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ قَالَ وَمَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعَرِيبُ قَالَ ثُمَّ وَلَّى فَلَمْ يُرَ طَرِيقُهُ بَعْدُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا جَاءَ لِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْمَرَّةُ

حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کسی مجلس میں تشریف فرما تھے، کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی شکل وصورت بدل کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھے کہ یہ کوئی مسلمان آدمی ہے، انہوں نے سلام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دو، لا الہ الا اللہ کی گواہی دو اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو اور زکوۃ دو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں کام کرلوں گا تو مسلمان کہلاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا کہ ایمان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر، یوم آخرت، ملائکہ، کتابوں ، نبیوں ، موت اور حیات بعد الموت، جنت و جہنم، حساب و میزان اور ہر اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کرلوں گا تو مومن بن جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرنا کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو پھر یہی تصور کر لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے پوچھا اگر میں ایسا کر لو تو میں نے احسان کا درجہ حاصل کر لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ، راوی کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات تو سن رہے تھے لیکن وہ شخص نظر نہیں آرہا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے اور نہ ہی اس کی بات سنائی دے رہی تھی۔ پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! غیب کی پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔ پھر سائل نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو دو علامتیں بتا سکتا ہوں جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی۔ اس نے کہا جب آپ دیکھیں کہ باندی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے اور عمارتوں والے عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کر رہے ہیں اور ننگے افراد لوگوں کے سردار بن گئے ہیں (تو قیامت قریب آجائے گی) راوی نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا دیہاتی لوگ۔ پھر وہ سائل چلا گیا اور ہمیں بعد میں اس کا راستہ نظر نہیں آیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ کر فرمایا یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، جبرائیل میرے پاس اس مرتبہ کے علاوہ جب بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا۔

عَامِرٍ أَوْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْد اللَّه بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17641

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24834

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَيَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ تَذْكُرُ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَرْخَى عَلَيْهِ ثِيَابَهُ فَلَمَّا قَامُوا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَذِنْتَ لَهُمَا وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ أَرْخَيْتَ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَسْتَحْيِي مِنْهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ ران مبارک سے کپڑا ہٹ گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا، جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ سے ابوبکروعمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے، اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں واللہ جس سے فرشتے حیاء کر تے ہوں۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ تَذْكُرُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَيَّارٍ ← مَرْوَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24834

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17753

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيْدِيِّ الْكَاتِبِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيَ عَيْنٍ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَوَلَدِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ وَذَكَرْتُ الَّذِي كُنَّا فِيهِ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ نَافَقْتُ نَافَقْتُ فَقَالَ إِنَّا لَنَفْعَلُهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا حَنْظَلَةُ لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ أَوْ فِي طُرُقِكُمْ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَ هَذَا هَكَذَا قَالَ هُوَ يَعْنِي سُفْيَانَ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، وہاں ہم جنت اور جہنم کا تذکرہ کرنے لگے اور ایسا محسوس ہوا کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، پھر جب میں اپنے اہل خانہ اور بچوں کے پاس آیا تو ہنسنے اور دل لگی کرنے لگا، اچانک مجھے یاد آیا کہ ابھی ہم کیا تذکرہ کر رہے تھے؟ چنانچہ میں گھر سے نکل آیا، راستے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، تو میں کہنے لگا کہ میں تو منافق ہو گیا ہوں ، ( اور ساری بات بتائی) انہوں نے فرمایا کہ یہ تو ہم بھی کرتے ہیں ، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کیفیت ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حنظلہ! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہنے لگو جس کیفیت میں تم میرے پاس ہوتے ہو تو تمہارے بستروں اور راستوں میں فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں ، حنظلہ! وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔

حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيِّدِيِّ الْکَاتِبِ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17753

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17815

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ فَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَقَالَ يَزِيدُ وَقَالَ مَطَرٌ وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ أَوْ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ قَالَ أَبِي قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ وَلَا عَدْلٌ إِنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← سَعِيدٌ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17815

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17816

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ قَالَ عَفَّانُ وَزَادَ فِيهِ هَمَّامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُذْكَرْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ رَاحِلَتِهِ وَزَادَ فِيهِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَقَالَ رَغْبَةً عَنْهُمْ

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17816

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17817

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ← خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ ← عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17817

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17820

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ وَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِلْوَارِثِ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا أَوْ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ الْخُشَنِيَّ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17820

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17821

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ نَاقَتِهِ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ وَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ قَالَ مَطَرٌ وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ

عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17821

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17928

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا فِي مَنَامِي أَتَتْنِي الْمَلَائِكَةُ فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا فَالْإِيمَانُ حَيْثُ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ

حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس کچھ فرشتے آئے، انہوں نے میرے تکیے کے نیچے سے کتاب کا ستون اٹھایا اور اسے شام لے گئے، یاد رکھو! جب فتنے رونما ہوں گے تو ایمان شام میں ہوگا۔

بَيْنَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17928

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25137

حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25137

chevron_left Previous
1…101112…566
Next chevron_right