Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الصيام

Fasting

29457 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7892

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ الْمَعْنَى عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ومَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهُمَا وَسَأَشْدُو لَكُمْ مِنْهُمَا شَدْوًا أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ أَجْلَى الْجَبْهَةِ عَرِيضُ النَّحْرِ فِيهِ دَفَأٌ كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ قَالَ لَا أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے پاس آنے کے لئے گھر سے نکلا تھا درحقیقت لیلۃ القدر اور مسیح الضلالۃ(دجال) کی تعیین مجھ پر واضح کردی گئی تھی لیکن مسجد کے ایک دروازے کے قریب دو آدمیوں کے درمیان کچھ جھگڑا ہو رہا تھا میں نے ان دونوں کے درمیان معاملہ رفع دفع کرانے کے لئے آیا تو مجھے وہ دونوں چیزیں بھول گئیں البتہ میں تمہیں اس کی علامت کا کچھ اندازہ بتائے دیتا ہوں۔ جہاں تک شب قدر کا تعلق ہے تو تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو باقی رہامسیح ضلالت تو وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا کشادہ پیشانی اور چوڑے سینے والا ہوگا اس کے جسم میں کندھے کا جھکاؤ سینہ کی طرف ہوگا اور وہ قطن بن عبد العزی کے مشابہہ ہوگایہ سن کر قطن کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس سے مشابہت میرے لئے نقصان دہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم ایک مسلمان آدمی ہو اور وہ کافر ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← الْمَسْعُودِيُّ الْمَعْنَى ← الْمَسْعُودِيُّ وَأَبُو النَّضْرِ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7892

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7904

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا وَيُزَيِّنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّتَهُ ثُمَّ يَقُولُ يُوشِكُ عِبَادِي الصَّالِحُونَ أَنْ يُلْقُوا عَنْهُمْ الْمَئُونَةَ وَالْأَذَى وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ وَيُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ فَلَا يَخْلُصُوا إِلَى مَا كَانُوا يَخْلُصُونَ إِلَيْهِ فِي غَيْرِهِ وَيُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو رمضان میں پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے افطار تک فرشتے ان کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کو مزین فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ عنقریب میرے نیک بندے اپنے اوپر سے محنت و تکلیف کو اتار پھینکیں گے اور تیرے پاس آئیں گے اس مہینے میں سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا غیر رمضان میں انہیں جو آزادی حاصل ہوتی ہے وہ اس میہنے میں نہیں ہوتی اور ماہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی بخشش کردی جاتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہی شب قدرہے ؟ فرمایا نہیں البتہ بات یہ ہے کہ جب مزدور اپنی مزدوری پوری کرلے تو اسے اس کی تنخواہ پوری پوری دے دی جاتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← محمد بن الأسود ← هشام بن أبي هشام ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7904

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7959

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ وَيُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثَانَ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَمَّا عَلِيٌّ فَرَفَعَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا يُونُسُ فَلَمْ يَعْدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ قَالَ يَعْنِي الشَّاهِدَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَالْمَوْعُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَمَّا عَلِيٌّ فَرَفَعَهُ ← عَمَّارٌ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ وَيُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7959

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7960

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّارًا مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ قَالَ الشَّاهِدُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْمَشْهُودُ يَوْمَ عَرَفَةَ وَالْمَوْعُودُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔

الشَّاهِدُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْمَشْهُودُ يَوْمَ عَرَفَةَ وَالْمَوْعُودُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ ← أَنَّهُ ← عَمَّارًا مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ← يُونُسَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7960

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16520

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ اعْتَمِرَا فِي رَمَضَانَ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ لَكُمَا كَحَجَّةٍ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَلَمْ يَقُلْ حَدَّثَنِي يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ كَحَجَّةٍ

حضرت یوسف بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری میاں بیوی سے فرمایا کہ تم دونوں رمضان میں عمرہ کرو کیونکہ تمہارے لئے رمضان میں عمرہ کرناحج کرنے کی طرح ہے۔

يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16520

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16533

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ تَظَاهَرْتُ مِنْ امْرَأَتِي ثُمَّ وَقَعْتُ بِهَا قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفْتَانِي بِالْكَفَّارَةِ

حضرت سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے مباشرت بھی کرلی، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الزُّرَقِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16533

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16534

قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ تَظَاهَرْتُ مِنْ امْرَأَتِي ثُمَّ وَقَعْتُ بِهَا قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفْتَانِي بِالْكَفَّارَةِ

ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الزُّرَقِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16534

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16535

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ تَظَاهَرْتُ مِنْ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَرَقًا مِنْ أَنْ أُصِيبَ فِي لَيْلَتِي شَيْئًا فَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ يُدْرِكَنِي النَّهَارُ وَأَنَا لَا أَقْدِرُ عَلَى أَنْ أَنْزِعَ فَبَيْنَا هِيَ تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي وَقُلْتُ لَهُمْ انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ بِأَمْرِي فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَفْعَلُ نَتَخَوَّفُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ أَوْ يَقُولَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ لِي أَنْتَ بِذَاكَ فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ فَقَالَ أَنْتَ بِذَاكَ فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ نَعَمْ هَا أَنَا ذَا فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنِّي صَابِرٌ لَهُ قَالَ أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي بِيَدِي وَقُلْتُ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ قَالَ فَتَصَدَّقْ قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشَاءَ مَا لَنَا عَشَاءٌ قَالَ اذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ عَنْكَ مِنْهَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثُمَّ اسْتَعِنْ بِسَائِرِهِ عَلَيْكِ وَعَلَى عِيَالِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمْ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ فَادْفَعُوهَا لِي قَالَ فَدَفَعُوهَا إِلَيَّ

حضرت سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں عورتوں کو بہت چاہتا تھا اور میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورتوں سے اتنی صحبت کرتا ہو، جیسے میں کرتا تھا۔ خیر رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، اخیر رمضان تک تاکہ رات کے وقت اس کے قریب نہ چلا جاؤں ، دن ہونے تک میں اسی طرح کرتا تھا، اور اپنے اندر اتنی طاقت نہ پاتا تھا کہ اس سے مکمل جدا ہوجاؤں ، ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کی ران سے کپڑا اوپر ہوگیا، میں اس سے صحبت کر بیٹھا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا کہ میرے لئے یہ مسئلہ تم آنحضرت سے دریافت کرو۔ انہوں نے کہا ہم تو نہیں پوچھیں گے ایسا نہ ہو کہ ہمارے متعلق کتاب نازل جو تاقیامت باقی رہے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ (غصہ) فرما دیں اور اس کی شرمندگی تاعمر ہمیں باقی رے لیکن اب تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب سمجھو کرو، چنانچہ میں وہاں سے نکلا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا یہ کام کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور میں حاضر ہوں یا رسول اللہ! اور میں اللہ عزوجل کے حکم پر صابر رہوں گا جو میرے بارے میں اترے، آپ نے فرمایا تو ایک غلام آزاد کر، میں نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا، میں تو بس اپنے ہی نفس کا مالک ہوں ، آپ نے فرمایا اچھا! دو ماہ لگاتار روزے رکھ، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ جو بلا مجھ پر آئی یہ روزہ رکھنے ہی سے تو آئی، آپ نے فرمایا تو صدقہ دے اور ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا، میں نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہم تو اس رات بھی فاقے سے تھے، ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ نے فرمایا بنی زریق کے صدقات کے ذمے دار کے پاس جا اور اس سے کہ وہ تجھے جو مال دے اس میں سے ساٹھ مساکین کو کھلا اور جو بچے اسے اپنے استعمال میں لا، چنانچہ میں اپنی قوم میں جب واپس آیا تو ان سے کہا کہ مجھے تمہارے پاس سے تنگی اور بری رائے ملی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کشادگی اور برکت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے تمہارے صدقات کا حکم دیا ہے لہذا وہ میرے حوالے کرو، چنانچہ انہوں نے وہ مجھے دے دیئے۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16535

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16621

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا وَلِيُتِمَّ صَوْمَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کر دے کہ جس شخص نے آچ کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہئے اور جس نے کچھ کھاپی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16621

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16626

قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِيَهُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ أَنَّ مَنْ كَانَ اصْطَبَحَ فَلْيُمْسِكْ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ اصْطَبَحَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کردے کہ جس شخص نے آج کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔

سَلَمَةَ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16626

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16641

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَذِّنْ فِي قَوْمِكَ أَوْ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مَنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کر دے کہ جس شخص نے آج کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہئے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16641

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16719

قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ وَقَالَ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوًّا لَكُمْ فَتَقَوَّوْا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو، لیکن خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا، اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر روزہ افطار کر لیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ← سُمَيٍّ ← مالک بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16719

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16825

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٌ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا فَدَفَعْتُ عَنْهُ فَقَالَ دَعُوهُ فَأَرَبٌ مَا جَاءَ بِهِ فَقُلْتُ نَبِّئْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبْعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ أَوْ أَطْوَلْتَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يُؤْتُوهُ إِلَيْكَ وَمَا كَرِهْتَ لِنَفْسِكَ فَدَعْ النَّاسَ مِنْهُ خَلِّ عَنْ زِمَامِ النَّاقَةِ

مغیرہ بن سعد اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میدان عرفات میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، لوگ مجھے ہٹانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، کوئی ضرورت ہے جو اسے لائی ہے، میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کردے اور جہنم سے دور کردے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا اگرچہ تمہارے الفاظ مختصر ہیں لیکن بات بہت بڑی ہے، اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، حج بیت اللہ کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، لوگوں کے پاس اس طرح جاؤ جیسے ان کا تمہیں اپنے پاس آنا پسند ہو اور جس چیز کو تم اپنے حق میں ناگوار سمجھتے ہو، اس سے لوگوں کو بھی بچاؤ اور اب اونٹنی کی رسی چھوڑ دو۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِعَرَفَةَ فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا فَدَفَعْتُ عَنْهُ ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ أَوْ ← المغيرة بن سعد، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16825

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16834

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْحَنَفِيُّ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَرِيفٌ مِنْ عُرَفَاءِ قُرَيْشٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَهُ مِنْ فَلْقِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالَ وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ دَخَلَ الْجَنَّةَ

قریش کے ایک سردار اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن دہن مبارک سے سنا کہ جو شخص ماہ رمضان، شوال، بدھ جمعرات اور جمعہ کے دن روزہ رکھا کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔

من صام رمضان وشوال والاربعاء والخميس دخل الجنة ← أَبِيهِ سَمِعَهُ مِنْ فَلْقِ فِي رَسُولِ اللَّهِ ← عريف من عرفاء قريش ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← أَبُو مَالِكٍ الْحَنَفِيُّ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16834

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16836

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْمَلَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَخُوهُ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ قَوْمَهُ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَهُوَ أَسْمَاءُ بْنُ حَارِثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فَقَالَ مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُهُمْ قَدْ طَعِمُوا قَالَ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ

حضرت ہند بن حارثہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنی قوم کی طرف جس کا تعلق بنو اسلم سے تھا، بھیجا اور فرمایا اپنی قوم کو حکم دو کہ آج عاشورہ کے دن کا روزہ رکھیں اگر تم ان میں کوئی ایسا شخص پاؤ جس نے دن کے پہلے حصے میں کچھ کھا پی لیا ہو تو اسے چاہئے کہ بقیہ دن کھائے پیئے بغیر گذار دے۔

يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ، ← ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16836

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16840

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ عَرَفَةَ وَيَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَالَ وَكَانَ الْفَاكِهُ بْنُ سَعْدٍ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالْغُسْلِ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ

حضرت فاکہ بن سعد سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن، عرفہ کے دن، عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن اہتمام کے ساتھ غسل فرماتے تھے، خود فاکہ بن سعد بھی اپنے اہل خانہ کو ان ایام میں غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔

جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← يوسف بن خالد ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16840

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16898

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ أَضْلَلْتُ جَمَلًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرَفَةَ أَبْتَغِيهِ فَإِذَا أَنَا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ فِي النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ

حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میدان عرفات میں میرا اونٹ گم ہوگیا، میں اسے تلاش کرنے کے لئے نکلا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں وقوف کئے ہوئے ہیں ، یہ اس وقت کی بات ہے جب ان پر نزول وحی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا. فائدہ۔ دراصل قریش کے لوگ میدان عرفات میں نہیں جاتے تھے اور انہیں حمس کہا جاتا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسم کو توڑ ڈالا۔

أَضْلَلْتُ جَمَلًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرَفَةَ أَبْتَغِيهِ فَإِذَا ← جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16898

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16992

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُفْرَضْ عَلَيْنَا صِيَامُهُ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ فَإِنِّي صَائِمٌ فَصَامَ النَّاسُ

حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں چلے گئے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یہ عاشورہ کا دن ہے، اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے، لہذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے، اور میں تو روزے سے ہوں ، اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ ← مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ, أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16992

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16993

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں چلے گئے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یہ عاشورہ کا دن ہے، اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے، لہذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے، اور میں تو روزے سے ہوں ، اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔

الْحَدِيثَ. ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ← حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16993

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17015

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَأَخْرَجَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ مِنْ كُمِّهِ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْهَا نِسَاؤُهُمْ

حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہا چلے گئے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یہ عاشورہ کا دن ہے، اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے، لہذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے، اور میں تو روزے سے ہوں ، اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔ انہوں نے ہاتھوں میں بالوں کا ایک گچھا لے کر فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، اور فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر عذاب اسی وقت آیا تھا جب ان کی عورتوں نے اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا تھا ۔

إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْهَا نِسَاؤُهُمْ ← مِثْلِ هَذَا وَأَخْرَجَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ مِنْ كُمِّهِ ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ ← رَسُولَ اللَّهِ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَهُوَ ← بِالْمَدِينَةِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ← مُعَاوِيَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17015

chevron_left Previous
1…585960…1,473
Next chevron_right