Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الصيام

Fasting

29457 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1799

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ كَانَ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيَصُمْهُ

حضرت سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو (یہ اعلان ) کرنے کے لئے بھیجا کہ آج عاشورہ کا دن ہے جس شخص نے کچھ کھا یا پی لیا ہو وہ بقیہ دن روزہ پورا کرے اور جس نے کچھ نہ کھایا ہو اور نہ پیا ہو وہ روزہ رکھ لیں۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1799

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1800

أَخْبَرَنَا يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ عاشورہ کا دن ہے جس میں زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے تم میں سے جو شخص پسند کرے وہ روزہ رکھ لے جو نہ رکھناچا ہے وہ نہ رکھے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر اس دن خود روزہ نہیں رکھتے تھے۔ البتہ ان کے معمول کے روزوں میں یہ دن آجاتا تو یہ رکھ لیتے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1800

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1801

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ حَتَّى إِذَا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے خود بھی اس دن روزہ رکھا۔ اور اس دن روزہ رکھنے کی ہدایت کی یہاں تک کہ جب رمضان فرض ہوگیا تو آپ نے عاشورہ کے دن روزرہ رکھنا ترک کردیا جو چاہے اس دن روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1801

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1802

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ

حضرت عقبہ بن عامر روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عرفہ کے دن اور ایام تشریق ہمارے اہل اسلام کی عید ہے اور ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1802

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1803

أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ

ابن ابونجیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا انہوں نے جواب دیا میں نے آپ کے ہمراہ حج کیا ہے آپ نے اس دن روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی حج کیا ہے انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت عمر کے ہمراہ بھی حج کیا ہے انہوں نے بھی روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت عثمان کے ہمراہ بھی حج کیا ہے انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا اور نہ ہی اس کی ہدایت کرتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں۔

حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ فَلَمْ يَصُمْهُ، ← صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ» ← سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1803

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1808

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّهُ يَتْرُكُ الطَّعَامَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي وَيَتْرُكُ الشَّرَابَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لے ہے ایک نیکی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اجر و ثواب کی حامل ہوتی ہے لیکن روزوں کا حکم مختلف ہے وہ میرے لئے ہیں اور میں ہی ان کی جزا دوں گا ابن آدم میرے لئے کھانا اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرتا ہے اور میرے لئے پینا اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرتا ہے تو وہ روزہ میرے لئے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ:

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1808

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1813

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب رمضان آجاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اور شیاطین کو قید کرلیا جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبُو سُهَيْلٍ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1813

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1814

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص ایمان اور احتساب کے ہمراہ رمضان کے مہینے میں نوافل پڑھے گا اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شخص شب قدر کے نوافل پڑھے گا اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1814

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1815

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَ رَمَضَانَ قَالَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا مِنْ الشَّهْرِ شَيْئًا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ قَالَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ الْآخِرُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَتِهِ فَلَمَّا كَانَتْ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ قُلْنَا وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ قَالَ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان کے مہینے میں روزے رکھنا شروع کئے آپ نے پورا مہینہ کوئی نوافل نہیں پڑھائے۔ یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوافل پڑھانا شروع کئے یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی یہاں تک کہ جب چھٹی رات آئی تو آپ نے کوئی نوافل نہیں پڑھائے پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ نے ہمیں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ رات کا دوسرا نصف حصہ گزر گیا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہمیں بقیہ رات بھی نوافل پڑھاتے رہتے تو یہ مناسب تھا آپ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص امام کے ہمراہ نماز کی اقتداء میں نوافل ادا کرے تو جیسے ہی وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہے اسے پوری رات کے قیام کا ثواب مل جاتا ہے راوی کہتے ہیں جب چوتھی رات آئی تو آپ نے ہمیں کوئی نوافل نہیں پڑھائے یہاں تک کہ ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ ہماری فلاح رہ جائے گی راوی کہتے ہیں ہم نے دریافت کیا فلاح سے کیا مراد ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا سحری۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ مہینے میں کوئی نوافل نہیں پڑھائے۔

فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ← فَلَمْ يَقُمْ بِنَا مِنْ الشَّهْرِ شَيْئًا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ ← صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ شَهْرَ رَمَضَانَ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1815

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1818

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ صَفِّيَةَ بِنْتَ حُيَيٍّ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ

حضرت امام علی بن حسین زین العابدین بیان فرماتے ہیں سیدہ صفیہ بنت حیی نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے دوران ان سے ملنے کے لئے مسجد میں آئی تھی یہ رمضان کے آخری عشرے کی بات ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مختصر گفتگو کی اور پھر وہ واپس چلی گئی۔

الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1818

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1819

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ وَكَانَ بَيْنَ فُلَانٍ وَفُلَانٍ لِحَاءٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْخَامِسَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالتَّاسِعَةِ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کا ارادہ یہ تھا کہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں گے دو مسلمان آپس میں بحث کررہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہارے پاس آیا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں تمہیں شب قدر کے بارے میں بتاؤں لیکن فلاں فلاں لوگ لڑ رہے تھے تو اس کا علم اٹھا لیا گیا اور شاید یہ ہی تمہارے لئے بہتر ہو۔ تم اس رات کو آخری عشرے کی راتوں میں تلاش کرو پانچویں، ساتویں اور نویں رات۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1819

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1820

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنَسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے شب قدر کو خواب دیکھا پھر مجھے گھر والوں نے جواب دیا وہ مجھے بھلا دی گئی تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1820

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1821

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔

سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1821

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1897

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون سے فرمایا تم رمضان کے مہینے میں عمرہ کرو کیونکہ رمضان کے مہینے میں حج کرنے کے برابر ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1897

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1898

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدُ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً

یوسف بن عبداللہ اپنی دادی ام معقل کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا رمضان کے مہینے میں عمرہ کرناحج کرنے کے برابر ہے۔

جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدُ خُزَيْمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1898

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1925

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمُرَ الدِّيلِيَّ يَقُولُ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَجِّ فَقَالَ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ أَوْ يَوْمُ عَرَفَةَ وَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَدْ أَدْرَكَ وَقَالَ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ

عبدالرحمن بن یعمر دہلی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا حج عرفات میں قیام کا نام ہے (راوی کو شک ہے) عرفہ کا نام ہے جو شخص فجر کی نماز سے پہلے مزدلفہ میں رات کے وقت پہنچ جاتا ہے اس نے حج کو پالیا۔ آپ فرماتے ہیں منی کے ایام تین ہیں ارشاد ربانی ہے "جو شخص دونوں میں جلدی کرے اسے کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر سے کام لے اسے بھی کوئی گناہ نہیں۔

الْحَجِّ ← سُئِلَ النَّبِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1925

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1953

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَوَقَفَ عَنْ التَّكْبِيرِ فَقَالَ هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ فَإِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمِيرٌ أَمْ رَسُولٌ قَالَ لَا بَلْ رَسُولٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٌ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ وَعَنْ نَحْرِهِمْ وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلُ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ وَكَيْفَ يَرْمُونَ فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةٌ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد واپس تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا ہم لوگ ان کے ہمراہ مکہ روانہ ہوگئے ہم جب عرج کے مقام پر پہنچے اور فجر کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لئے کھڑے ہوگئے تو انہوں نے پیچھے سے اونٹنی کی آواز سنی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے سے رک گئے اور بولے یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعا ہے ہوسکتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کرلیا ہو اگر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوئے تو ہم آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرلیں گے راوی کہتے ہیں اس اونٹنی پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سوار تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ آپ امیر کی حثییت سے آئے ہیں یا پیغام رساں کی حیثیت سے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں پیغام رساں کی حیثیت سے۔ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت توبہ کے ہمراہ بھیجا ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ حج کے مختلف مقامات پر لوگوں کے سامنے اس کی تلاوت کروں۔ (حضرت جابر بیان کرتے ہیں) ہم لوگ مکہ آگئے ترویہ سے ایک دن پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دینا شروع کردیا۔ اور لوگوں کو حج کے مختلف ارکان سے آگاہ کیا جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے پوری سورت کی تلاوت کی۔جب قربانی کا دن آیا تو ہم نے طواف افاضہ کرنا تھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں طواف افاضہ کے بارے میں اور قربانی کے بارے میں اور اس کے دیگر ارکان کے بارے میں بتایا جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے سورت توبہ پڑھی اور مکمل سورت پڑھی اور جب روانگی کا وقت آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں روانگی کا طریقہ سکھایا اور رمی کرنے کا طریقہ سکھایا اور انہیں حج کے مناسک کی تعلیم دی اور جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے سورت توبہ کی تلاوت کی اور مکمل سورت پڑھی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَلَى أَبِي قُرَّةَ هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1953

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2314

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ قَالَ كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنْ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ فِي لَيْلِي شَيْئًا فَيَتَتَابَعَ بِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ أُصْبِحَ قَالَ فَتَظَاهَرْتُ إِلَى أَنْ يَنْسَلِخَ فَبَيْنَا هِيَ لَيْلَةً تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَمَا لَبِثْتُ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ وَقُلْتُ امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَمْشِي مَعَكَ مَا نَأْمَنُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ الْقُرْآنُ أَوْ أَنْ يَكُونَ فِيكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةٌ يَلْزَمُنَا عَارُهَا وَلَنُسْلِمَنَّكَ بِجَرِيرَتِكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ خَبَرِي فَقَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا صَابِرٌ نَفْسِي فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ قَالَ فَأَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قُلْتُ وَهَلْ أَصَابَنِي الَّذِي أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ قَالَ فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا وَحْشَى مَا لَنَا طَعَامٌ قَالَ فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَكُلْ بَقِيَّتَهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ قَالَ فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمْ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْيِ وَقَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ

سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں میں ایک ایسا شخص تھا جو بیوی کے ساتھ اتنی مرتبہ صحبت کیا کرتا تھا جو عام طور پر لوگ نہیں کرتے جب رمضان کا مہینہ آیا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید میں رات کے وقت ایسی کسی حرکت کا مرتکب ہوجاؤں گا میں اس سے بچنے کی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی وہ بیان کرتے ہیں میں نے مہینہ ختم ہونے کی مدت تک کے لئے ظہار کرلیا اسی دوران رات کے وقت میری بیوی میری خدمت میں حاضر ہوئی اس کا کچھ حصہ میرے سامنے بے پردہ ہوگیا تو میں اس کی طرف لپکنے سے باز نہیں رہ سکا جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور انہیں اس کے بارے میں بتایا اور ان سے کہا کہ تم میرے ساتھ نبی کریم کے پاس چلو لوگ بولے نہیں اللہ کی قسم ہم تمہارے ساتھ نہیں چلیں گے کیونکہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ تمہارے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہوجائے گا یا نبی پاک تمہارے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں گے جس سے ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ہم تمہیں تمہارے جرم کے حوالے کرتے ہیں۔ سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں خود ہی نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساراواقعہ بیان کیا نبی نے دریافت کیا یہ تم نے کیا کیا۔ میں نے عرض کی میں نے ایساہی کیا ہے آپ نے پھر دریافت کیا اے سلمہ تم نے ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے عرض کی میں نے ایسا کیا ہے آپ نے دریافت کیا اے سلمہ تم نے ایسا کیا ہے میں نے عرض کیا میں نے ایساہی کیا ہے اور اب میں اپنے آپ کو پیش کردیاہے آپ میرے بارے میں وہ حکم دیں جو اللہ نے آپ کو حکم دیاہے نبی نے فرمایا تم غلام آزاد کردو۔ سلمہ کہتے ہیں میں نے اپنی گردن کی پشت پرہاتھ مارا اور عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میرے پاس تو صرف بیوی ہے کوئی غلام نہیں۔ نبی اکرم نے فرمایا تم ایک وسق کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اس نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے گزشتہ رات ہم نے بھوکے رہ کر گزارہ کیا ہے ہمارے پاس تو کھانا ہی نہیں ہے۔ نبی اکرم نے فرمایا جو صاحب بنوزریق سے صدقہ وصول کرنے پر مامور ہیں تم ان کے پاس جاؤ وہ تمہیں اس صدقے میں سے کچھ دیدے گا تم ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھجوریں کھلا دینا جو بچ جائے وہ تمہارے اور تمہارے گھروالوں کے لئے ہیں۔ سلمہ بیان کرتے ہیں میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور کہا میں نے تم لوگوں کے پاس تنگی اور غلط رائے پائی ہے اور میں نے اپنے نبی کریم کے پاس بہترین اور کشادہ رائے پائی ہے آپ نے مجھے تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیاہے۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book of divorce › Door · Hadith 2314

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2494

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مَعَهُ فِي مَجْلِسٍ بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ قَالَ فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات ارشاد فرمائی ہے ہم لوگ اس وقت آپ کے ہمراہ ایک مجلس میں شریک تھے۔ کہ تم میرے ہاتھ پر اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور چوری نہیں کروگے اور زنا نہیں کروگے اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگے اور کسی پر جھوٹا الزام عائد نہیں کروگے تم میں سے جو شخص اس کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جوان میں سے کسی حرکت کامرتکب ہو تو اللہ اسے چھپالے تو یہ اللہ کا معاملہ ہے کہ وہ اگر چاہے تو اللہ اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر کرے اور جو ان میں سے کسی حرکت کا مرتکب ہو تو اگر دنیا میں اس کو اس کی سزا مل جائے تو وہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گی۔ راوی کہتے ہیں ہم نے ان سب باتوں پر بیعت کرلی۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2494

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2698

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ لَمَّا كَانَ بِأَخَرَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ فَأَرَادَ أَنْ يَقُومَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتَقُولُ الْآنَ كَلَامًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا خَلَا فَقَالَ هَذَا كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجَالِسِ

حضرت ابوبرزہ اسلمی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے آخری حصے میں جب آپ کسی محفل میں تشریف فرما ہوتے اور جب اٹھنے لگتے تو یہ دعا پڑھتے۔ تو پاک ہے اے اللہ اور ہم تیرے ہی لئے ہیں اور میں یہ گواہی دیتاہوں کہ تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ نے آج وہ بات کہہ دی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس محفل میں جو کچھ بھی ہوا یہ اس کا کفارہ ہے۔

أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2698

chevron_left Previous
1…373839…1,473
Next chevron_right