Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الصيام

Fasting

29457 hadiths

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 847

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَالْحَسَنِ وَعَطَاءٍ قَالُوا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَيَغْشَاهَا زَوْجُهَا

سعید بن مسیب، حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح مستحاضہ عورت کے بارے میں فرماتے ہیں وہ غسل کر کے نماز پڑھے گی رمضان کے روزے رکھے گی اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کرسکتا ہے۔

فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَيَغْشَاهَا زَوْجُهَا ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَالْحَسَنِ وَعَطَاءٍ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 847

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1118

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ امْرَأَتَهُ وَقَدْ رَأَتْ الطُّهْرَ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ قَالَ هِيَ حَائِضٌ مَا لَمْ تَغْتَسِلْ وَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ وَلَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ

حسن بصری سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کا شوہر اس وقت اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے جب وہ طہر دیکھ چکی تھی لیکن اس نے غسل نہیں کیا تھا تو حسن نے جواب دیا جب تک وہ غسل نہیں کرلیتی اس وقت تک حائضہ شمار ہوگی اور اس کے شوہر کو کفارہ دینا ہوگا (طلاق کے مسئلہ میں) شوہر اسی وقت بیوی سے رجوع کرسکتا ہے جب تک وہ غسل نہیں کرلیتی۔

الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ امْرَأَتَهُ وَقَدْ رَأَتْ الطُّهْرَ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1118

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1132

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَأَبُو النُّعْمَانِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ ذَنْبٌ أَتَاهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ

سعید بن جبیر کہتے ہیں اس شخص نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے لیکن اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

ذَنْبٌ أَتَاهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَأَبُو النُّعْمَانِ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1132

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1138

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ فِي الَّذِي يُفْطِرُ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ قَالَ عَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ أَوْ بَدَنَةٌ أَوْ عِشْرِينَ صَاعًا لِأَرْبَعِينَ مِسْكِينًا وَفِي الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ مِثْلُ ذَلِكَ

یزید بن ابراہیم بیان کرتے ہیں: جو شخص رمضان کے مہینے میں ایک دن روزہ نہ رکھے اس کے بارے میں میں نے حسن بصری کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اسے ایک غلام آزاد کرنا ہوگا یا قربانی دینی ہوگی یا چالیس مسکینوں کو بیس صاع غلہ دینا ہوگا اور جو شخص اپنی حائضہ بیوی کے ساتھ جماع کرے اس پر بھی یہی کفارہ لازم ہوگا۔

فِي الَّذِي يُفْطِرُ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ ← الْحَسَنِ، ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1138

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1433

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ أَسَمِعْتَ أَنَسًا يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ قَالَ نَعَمْ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا

شعبہ بیان کرتے ہیں میں نے قتادہ سے دریافت کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث نقل کرتے ہوئے سنا ہے مسجد میں تھوکنا گناہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں۔ اور حدیث کے یہ الفاظ بھی ہیں اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے۔

نَعَمْ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا ← الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ← النَّبِيِّ ← قُلْتُ لِقَتَادَةَ أَسَمِعْتَ أَنَسًا ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1433

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1514

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَأَتَى الْمَدِينَةَ لِبَيْعِ عَقَارِهِ فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا أَرَادَ ذَلِكَ سِتَّةٌ مِنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُمْ وَقَالَ أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ثُمَّ إِنَّهُ قَدِمَ الْبَصْرَةَ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوِتْرِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَحَدِّثْنِي بِمَا تُحَدِّثُكَ فَأَتَيْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَقُلْتُ لَهُ انْطَلِقْ مَعِي إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ إِنِّي لَا آتِيهَا إِنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذِهِ الشِّيعَتَيْنِ فَأَبَتْ إِلَّا مُضِيًّا قُلْتُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ فَانْطَلَقْنَا فَسَلَّمْنَا فَعَرَفَتْ صَوْتَ حَكِيمٍ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا قُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهُ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْقِيَامُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهَا كَانَتْ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ أُنْزِلَ أَوَّلُ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَحُبِسَ آخِرُهَا فِي السَّمَاءِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أُنْزِلَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْوِتْرُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ سِوَاكَهُ عِنْدِي فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ فَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي التَّاسِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ خُلُقًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ وَمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى يُصْبِحَ وَلَا قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ صَدَقَتْكَ أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَشَافَهْتُهَا مُشَافَهَةً قَالَ فَقُلْتُ أَمَا إِنِّي لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ

زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں سعد بن ہشام نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لئے مدینہ منورہ آئے تاکہ اسے فروخت کر کے ہتھیار خرید سکیں ان کی ملاقات چند انصاری حضرات سے ہوئی تو ان حضرات نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چھ حضرات نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات سے منع کردیا تھا اور دریافت کیا تھا کہ کیا تم لوگوں کے لئے میرا اسوہ کافی نہیں ہے۔ زرارہ بیان کرتے ہیں یعنی سعد بن ہشام بصرہ آ گئے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز کے بارے میں جسے سب سے زیادہ علم ہے میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں میں نے جواب دیا ہاں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو۔ تم ان کی خدمت میں جاؤ ان سے یہ سوال کرنا اور پھر وہ جو جواب دیں واپس آ کر مجھے بھی بتا دینا۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ میرے ساتھ ام المومنین کی خدمت میں چلیں حکیم نے جواب دیا میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انہیں ان دونوں گروہوں (یعنی حضرت علی کے موافقین اور مخالفین) کے معاملے میں دخل دینے سے منع کیا تھا تو انہوں نے میری بات نہیں مانی سعد کہتے ہیں میں بولا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ چلیں پھر ہم دونوں چل پڑے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ہم نے سلام کیا انہوں نے حکیم کی آواز کو پہچان لیا اور دریافت کیا یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا میں سعد بن ہشام ہوں انہوں نے دریافت کیا کون ہشام۔ میں نے جواب دیا ہشام بن عامر انہوں نے جواب دیا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیا جی ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا وہی نبی اکرم کا اخلاق۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے یہ ارادہ کرلیا اب میں اٹھ جاتا ہوں اور مرتے دم تک کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کا خیال آگیا تو میں نے سوال کیا کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔ کیا تم نے سورت مزمل نہیں پڑھی میں نے جواب دیا جی ہاں پڑھی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اس سورت کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات کے نوافل کا حکم نازل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نوافل ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے ۔ چھ ماہ تک اس سورت کا آخری حصہ نازل نہیں ہوا پھر وہ حصہ نازل ہو تو رات کے نوافل کو نفل قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ پہلے فرض تھے۔ سعد بن ہشام نے کہا میں نے ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اور مرتے دم تک سوال نہیں کروں گا۔ لیکن مجھے وتر کا خیال آ گیا تو میں نے عرض کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی نماز کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو اپنی مسواک میرے پاس رکھ دیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ کسی وقت انہیں بیدار کردیتا تھا تو آپ ٩ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے آپ ٨ رکعات کے بعد بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے۔ اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے ۔ پھر نویں رکعات پڑھنے کے بعد بیٹھتے اور اللہ کی حمد بیان کرتے اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے اور پھر بلند آواز سے سلام پھیر دیتے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت نماز ادا کرتے یہ گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ ٧ رکعت ادا کیا کرتے تھے جن میں سے آپ ٦ رکعت نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے تھے اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے رب سے دعا مانگتے تھے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے تھے اور ساتویں رکعت ادا کرنے کے بعد پھر بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیر دیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے یہ نو رکعات ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند کا غلبہ ہوتا یا آپ بیمار ہوتے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی معمول اختیار کرتے تھے تو آپ کو یہ پسند تھا آپ اسے باقاعدگی کے ساتھ سر انجام دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رات بھر نوافل ادا نہیں کئے ۔ اور نہ ہی آپ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہے اور رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ٹھیک بیان کیا ہے اگر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوسکتا تو ان سے براہ راست یہ حدیث سن لیتا سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ ان کے ہاں نہیں آتے جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔

سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1514

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1617

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَالصِّيَامَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ

حضرت طلحہ بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بال الجھے ہوئے تھے اس نے عرض کی یا رسول اللہ اللہ نے میرے اوپر کتنی نمازیں فرض کی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور روزہ رکھنا فرض کیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کیا اور وہ شخص بولا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بزرگی عطا کی ہے میں ان میں مزید کسی چیز کا اضافہ نہیں کروں گا اور جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اس کے باپ کی قسم اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو یہ کامیاب ہوگیا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ جنت میں داخل ہوجائے گا اگر یہ سچ کہہ رہا ہے اس کے باپ کی قسم۔

أَبِيهِ ← أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكٍ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1617

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1699

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَقُولُ بِهِ قَالَ مَالِكٌ كَانَ يَقُولُ بِهِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطر میں کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر آزاد یا غلام مرد یا عورت مسلمان پر لازم کیا ہے۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا امام مالک بھی اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1699

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1702

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ رمضان میں صدقہ فطر کے طور پر اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع، یا کشمش کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع ادا کیا کرتے تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1702

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1721

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ أَصْبَحْتُ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ مِنْ شَعْبَانَ أَوْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَأَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَتَيْتُ عِكْرِمَةَ فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا فَقَالَ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ حَلَفَ وَلَا يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ فَعَذَّرْتُ وَإِنَّمَا تَسَحَّرْتُ قُبَيْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قُلْتُ هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ فَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا

حضرت سماک بن حرب بیان کرتے ہیں ایک دن مشکوک تھا کہ وہ شعبان کا آخری دن ہے یارمضان کا دن ہے؟ میں نے روزہ رکھ لیا اور حضرت عکرمہ کے پاس آیا اور وہ روٹی اور سبزی کھا رہے تھے انہوں نے فرمایا آؤ کھانا کھاؤ میں نے کہا میں روزہ دار ہوں تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم آؤ تم ضرور کھانا کھاؤ۔ جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے قسم اٹھا لی ہے اور اس میں کوئی استثناء نہیں رکھا گیا میں آگے بڑھا اور میں نے تھوڑا سا کھانا کھا لیا کیونکہ میں نے تھوڑی دیر ہی پہلے سحری کی تھی پھر میں نے کہا اب آپ بتائیں آپ کے پاس اس بارے میں کیا علم ہے انہوں نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی اکرم کا یہ فرمان سنایا تھا کہ یعنی چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر ہی افطار کرو اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل آجائے تو تیس کی تعداد پوری کرو رمضان کے مہینے کا استقبال پہلے ہی نہ کرو۔

سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1721

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1722

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے نبی کریم نے چاند کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اس وقت تک روزہ نہ رکھو جب تک تم چاند نہ دیکھ لو اور اس وقت تک روزہ رکھنا بند نہ کرو جب تک تم شوال کا چاند نہ دیکھ لو اور اگر بادل وغیرہ آجائے تو گنتی پوری کرو۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1722

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1727

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ رَمَضَانَ يَوْمًا وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رمضان کے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو سوائے اس شخص کے جو پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1727

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1729

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالصِّيَامِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگ پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کررہے تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے تو آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالصِّيَامِ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَالِمٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1729

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1731

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ عِنْدَكِ طَعَامٌ فَقَالَتْ لَا وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ وَجَاءَتْ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ خَيْبَةً لَكَ فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ

حضرت براء بیان کرتے ہیں نبی اکرم کے اصحاب میں سے جب کوئی صاحب روزہ رکھتے اور ان کے سامنے کھانے کا سامان آتا اور اسے کھانے سے پہلے سوجاتے تو وہ اس ساری رات میں اور اس سے اگلے دن شام تک کچھ نہیں کھاسکتے تھے ایک مرتبہ حضرت قیس بن صرمہ انصاری نے روزہ رکھا ہوا تھا جب افطاری کا وقت ہوا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے دریافت کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے اہلیہ نے جواب دیا نہیں البتہ میں جا کر آپ کے لئے کوئی چیز ڈھونڈ کر لاتی ہوں حضرت قیس دن بھر کام کرتے رہے تھے انہیں نیند آگئی جب ان کی اہلیہ آئی اور ان کو سوتے ہوئے دیکھا تو بولی آپ پر افسوس ہے راوی کہتے ہیں جب اگلا دن نصف گزر گیا تو ان پر بے ہوشی طاری ہوگئی اس بات کا ذکر نبی اکرم سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی، تمہارے لئے روزوں کی رات میں بیوں کے ساتھ صحبت کرنا جائز قراردیا گیا ہے وہ تمہارا لباس ہے تم ان کے لباس ہو تم نے اپنے آپ کے ساتھ جو خیانت کی اللہ اس سے واقف ہے اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف کردیا اب تم ان کے ساتھ مباشرت کرسکتے ہو اور جو اللہ نے تمہارا مقدر کیا ہے اسے تلاش کرسکتے ہو اور تم اس وقت تک کھاپی سکتے ہوجب تک سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے فجر کے وقت نمایاں نہ ہوجائے پھر تم رات تک روزہ پورا کرو اور جب تم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو ان عورتوں کے ساتھ مباشرت نہ کرو تو یہ اللہ کی حدود ہیں ان کے قریب نہ جاؤ اسی طرح اللہ اپنی آیات لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ پرہیز گاری اختیار کریں۔ اس آیت کے نزول پر صحابہ کرام اجمعین بہت خوش ہوئے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1731

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1733

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسُّحُورِ قَالَ قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت زید بن ثابت نے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سحری کی ہے پھر آپ نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے دریافت کیا اس اذان اور سحری کے درمیان کتنا فرق تھا انہوں نے جواب دیا پچاس آیات کی تلاوت جتنا وقت تھا۔

قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً ← قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسُّحُورِ ← ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ← تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1733

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1734

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کیا کرو کیونکہ سحری کرنے میں برکت ہے۔

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1734

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1736

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يُبَيِّتْ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ فِي فَرْضِ الْوَاجِبِ أَقُولُ بِهِ

سیدہ حفصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں جو شخص رات کے وقت سحری سے پہلے روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ نہیں ہوتا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں فرض روزے کے بارے میں میری بھی یہی رائے ہے۔

عَبْد اللَّهِ فِي فَرْضِ الْوَاجِبِ أَقُولُ بِهِ ← مَنْ لَمْ يُبَيِّتْ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← حَفْصَةَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1736

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1748

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ

حضرت کعب بن عاصم اشعری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفر کے دوران روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔

كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ؛ ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1748

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1749

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ

حضرت کعب بن عاصم اشعری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفر کے دوران روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔

لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ← النَّبِيِّ ← كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ؛ ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← صَفْوَانَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ صَفْوَانَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1749

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1750

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ قَالَ انْتَظِرْ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنْ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ

حضرت ابوامیہ ضمری بیان کرتے ہیں میں ایک سفر سے واپسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا جب میں اٹھ کر جانے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوامیہ کھانے کا انتظار کرو (وہ آجائے تو کھا کر جانا) ابوامیہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی میں روزہ دار ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اسے روزہ رکھنا معاف کیا ہے اور نصف نماز معاف کی ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں مسافر اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چا ہے تو روزہ نہ رکھے۔

أَبُو مُحَمَّد إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ ← الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ ← فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ تَعَالَ أُخْبِرْكَ ← انْتَظِرْ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ ← قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ ← أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ← أَبِي الْمُهَاجِرِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1750

chevron_left Previous
1…353637…1,473
Next chevron_right