Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9308

9308 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، نَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ} [البقرة: 285] قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغَ: {غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} [البقرة: 285] قَالَ اللَّهُ: «قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» فَلَمَّا قَالَ: {رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: 286] قَالَ اللَّهُ: «لَا أُؤَاخِذُكُمْ» فَلَمَّا قَالَ: {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: 286] قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «لَا أَحْمِلُ عَلَيْكُمْ» ، فَلَمَّا قَالَ: {وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} [البقرة: 286] قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: «لَا أُحَمِّلُكُمْ» {وَاعْفُ عَنَّا} [البقرة: 286] قَالَ: «قَدْ عَفَوْتُ عَنْكُمْ» ، فَلَمَّا قَالَ: {وَاغْفِرْ لَنَا} [البقرة: 286] قَالَ: «قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» ، فَلَمَّا قَالَ: {وَارْحَمْنَا} [البقرة: 286] قَالَ: «قَدْ رَحِمْتُكُمْ» ، فَلَمَّا قَالَ: {فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} [البقرة: 286] قَالَ: «قَدْ نَصَرْتُكُمْ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءٍ إِلَّا وَرْقَاءُ، تَفَرَّدَ بِهِ آدَمُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’ رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اتری ہے اور ایمان والے‘‘ ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پڑھا، جب اس آیت تک پہنچے: ’’ تیری معافی ہواے رب ہمارے! اور تیری طرف پھرنا ہے ‘‘۔ اللہ پاک نے فرمایا: میں نے تم کو معاف کیا، جب یہ فرمایا: اے ہمارے رب! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں ! اللہ نے فرمایا: میں تم سے مواخذہ نہیں کروں گا! جب یہ پڑھے: اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ، جوتو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تم پر نہیں رکھوں گا جب تم پڑھو: ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہم کو طاقت نہیں ہے ، اللہ پاک نے فرمایا: میں تم پر نہیں ڈالوں گا ، عرض کی: ہم کو معاف کر ، اللہ پاک نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کیا۔ عرض کی : ہم کو بخش دے! اللہ پاک نے فرمایا: میں نے تمہیں بخش دیا ، جب اس جگہ پر پہنچے: ہم پر رحم کرے! اللہ پاک نے فرمایا: میں نے تم پر رحم کیا ، جب اس آیت پر پہنچے: ’’ہماری کافروں پر مدد فرما‘‘! اللہ پاک نے فرمایا: میں نے تمہاری کافروں پر مدد فرمائی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9308

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9309

9309 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ قَالَ: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ نَمُوتُ وَنَحْيَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَنْصُورٍ إِلَّا شَيْبَانُ

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جاگتے تو یہ دعا کرتے :’’الحمد لله الىٰ آخرہ ‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے اور یہ دعا کرتے :’’ باسمك اللهم الىٰ آخرہ‘‘ ۔

مَنْصُورٍ إِلَّا شَيْبَانُ ← «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ نَمُوتُ وَنَحْيَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» وَكَانَ النَّبِيُّ إِذَا قَامَ ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا اسْتَيْقَظَ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← شَيْبَانَ ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9309

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9310

9310 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، [ص:124] عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْمُدَاهِنِ، فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالرَّاكِبِ حُدُودَ اللَّهِ كَمَثَلِ نَفَرٍ ثَلَاثَةٍ كَانُوا فِي سَفِينَةٍ، فَتَوَزَّعُوا مَنَازِلَهَا، فَصَارَ مَكَانُ النِّزِّ وَمِهْرَاقُ الْمَاءِ لِأَحَدِهِمْ، فَتَأَذَّوْا بِهِ، فَأَخَذَ الْقَدُومَ فَقَرَعَ مَكَانَهُ، فَقَالَ أَحَدُ الْبَاقِينَ لِلْآخَرِ: أَلَا تَرَى هَذَا الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَخْرِقَ سَفِينَتَنَا فَيُغْرِقَنَا؟ فَقَالَ لَهُ الْآخَرُ: دَعْهُ؛ فَإِنَّمَا يَخْرِقُ مَكَانَهُ» ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنْ مَنَعُوهُ سَلِمَ وَسَلِمُوا، وَإِنْ تَرَكُوهُ غَرِقَ وَغَرِقُوا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ وَرْقَاءَ إِلَّا آدَمُ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی مثال جو حدود اللہ کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی مثال جو حدود اللہ کی حفاظت نہیں کرتا ہے ، حدود کی حفاظت کرنے والے کی مثال ان آدمیوں کی طرح ہے جو کشتی میں ہیں ، ان کا جگہ کے متعلق جھگڑا ہوا ، انہوں نے قرعہ اندازی کر کے دو خانہ بنائے ، ایک او پر ایک نیچے ہوا ، نیچے والے نے کہا: ہم کو پانی پینے کے لیے اوپر جانا پڑتا ہے ، یہ اس سے سوراخ کر لیتے ہیں اور یہ اس کو پکڑتے ہیں تاکہ یہ غرق نہ ہو۔ دوسرے کا نظریہ ہے کہ وہ اپنی جگہ پھاڑ رہا ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر منع کریں گے تو سارے بچ جائیں گے ، اگر اس کو چھوڑ دیں گے تو خودبھی اور سارے غرق ہوں گے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، [ص:124] ← مُغِيرَةَ، ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9310

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9311

9311 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يَغْمِسَهَا فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ أَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، يَغْسِلُ فَرْجَهُ حَتَّى يُنَقِّيَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ» ، قَالَتْ: «وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ، وَكَانَ يَأْخُذُ الْمَاءَ فَيُدْخِلُهُ فِي أُصُولِ شَعْرِهِ يُخَلِّلُهُ، حَتَّى إِذَا اسْتَبْرَأَ الْبَشْرَةَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى جَسَدِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ إِلَّا آدَمُ، وَأَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو آپ اپنے ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو دھوتے ، اپنی شرمگاہ کو دھوتے ، اس کو بائیں ہاتھ سے صاف کرتے ، پھر نماز جیسا وضو کرتے، آپ کے بال مبارک تھے ، آپ پانی لیتے اور بالوں کی جڑوں تک ڈالتے ، اس کا خلال کرتے ، جب جلد صاف ہو جاتی تو اپنے سر انور پر تین مرتبہ ڈالتے، پھر اپنے جسم اطہر پر ڈالے۔

«كَانَ النَّبِيُّ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9311

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9312

9312 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّءُ الْمَلَكَةِ، مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُسْلِمًا، أَوْ غَرَّهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الشَّعْبِيِّ إِلَّا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ جَابِرٍ [ص:125] إِلَّا شَيْبَانُ وَأَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ

حضرت ابو صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں بد اخلاق مسلمان کو نقصان اور دھوکہ دینے والا داخل نہیں ہو گا۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← شَيْبَانَ ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9312

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9313

9313 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّةُ، إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ مِنْ أَبِيكِ أَمْرٌ لَيْسَ اللَّهُ بِتَارِكٍ أَحَدًا مِنْهُ لِمُوَافَاةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے بیٹی! آپ کے والد کا وصال قریب ہے! اللہ عزوجل قیامت کے دن تک کسی کو باقی رکھنے والا نہیں۔

فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9313

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9314

9314 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، نَا آدَمُ، نَا شَيْبَانُ، ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ خُنَيْسٍ الْحِمْصِيِّ، قَالَ مَرَّةً: حُنَيْسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ شَهِيدٌ، فَقَالَ: «إِنْ لَمْ يَكُنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي إِلَّا هَؤُلَاءِ إِنَّهُمْ إِذًا لَقَلِيلٌ، الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ، وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ» [ص:126] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا شَيْبَانُ وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ شَيْبَانَ، تَفَرَّدَ بِهِ آدَمُ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری عیادت فرمائی ، فرمایا: تم جانتے ہو کہ میری اُمت میں کون لوگ شہید ہیں! سب لوگ خاموش ہو گئے ، پھر لوگوں نے عرض کی: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ، صبر کرنے والا شہید ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو میری اُمت میں شہداء کم ہوں گے ، آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں لڑنے والا شہید ہے ، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے ، جل کر مرنے والا شہید ہے ، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ، طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ، حالت نفاس میں مرنے والی عورت شہید ہے۔

عَادَنِي النَّبِيُّ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَرَّةً: حُنَيْسٍ، ← رَاشِدِ بْنِ خُنَيْسٍ الْحِمْصِيِّ، ← عَزْرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيِّ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9314

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9315

9315 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، نَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ، وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ، كَانَ لَهُ عَهْدٌ عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ إِلَّا أَبُو غَسَّانَ، تَفَرَّدَ بِهِ آدَمُ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پانچ نمازیں اللہ پاک نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں ، جس نے اچھا وضو کیا اور وقت پر نماز ادا کی اور رکوع وسجود مکمل کیا ، اللہ کے ذمہ ہے کہ اس کو بخشے ، جو ایسانہیں کرے گا اس کے لیے اللہ کے ہاں کوئی وعدہ نہیں ہے ، اگر چاہے تو عذاب دے ، اگر چاہے تو بخش دے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← الصُّنَابِحِیّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9315

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9316

9316 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ إِلَّا شَيْبَانُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مُد پانی کے ساتھ وضوکرتے تھے ۔

عَائِشَةَ إِلَّا شَيْبَانُ ← أُمِّهِ2، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ» لَمْ يَرْوِهِ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9316

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9317

9317 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، تَعَلَّقَتْ بِحَقْوَيِ الرَّحْمَنِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ صِلْ مَنْ وَصَلَنِي، وَاقْطَعْ مَنْ قَطَعَنِي» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ إِلَّا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ وَرَوَاهُ وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحم رحمٰن سے ہے ، رحمٰن کے ساتھ اس کا تعلق ہے ، جو کہتا ہے: اے اللہ! اس کو ملا جو مجھے ملائے اس کوختم کر جو مجھے ختم کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← عبد الله بن دينار ← أبو جعفر الرازي ← آدَمُ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ،

Hadith 9317

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9318

9318 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، نَا آدَمُ، نَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنْ [ص:127] سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَآذَتْنَا الْبَرَاغِيثُ فَسَبَبْنَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوهَا؛ فَنِعْمَتِ الدَّابَّةُ؛ فَإِنَّهَا أَيْقَظَتْكُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ آدَمُ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جگہ اُترے ہم کو مچھر نے تکلیف دی ، ہم نے اس کو بُرا بھلا کہا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو گالی نہ دو! اچھا جانور ہے کیونکہ یہ تم کو اللہ کے ذکر کے لیے اُٹھاتا ہے۔

Hadith 9318

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْهَاءِ ‹ ذِكْرُ مَنِ اسْمُهُ: هَاشِمٌ · حديث 9319

9319 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَجِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِ اللَّهِ: {مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ} [غافر: 78] ، قَالَ: «بَعَثَ اللَّهُ عَبْدًا حَبَشِيًّا نَبِيًّا، فَهُوَ مِمَّنْ لَمْ يَقْصُصْ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» لَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ آدَمُ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے ارشاد: ’’ان میں سے کچھ قصے آپ کو بیان کیے ہیں اور کچھ بیان نہیں کیے ہیں‘‘۔فرمایا: اللہ عزوجل نے ایک حبشی نبی بنا کر بھیجا تھا، اس کا قصہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان نہیں کیا۔

Hadith 9319

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male