Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9245

9245 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ [ص:100] عُلَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ، ثُمَّ يُتَوَضَّأُ مِنْهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ - مَرْفُوعًا - عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَّا السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا کیونکہ اس سے وضو کیا جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ [ص:100] عُلَيَّةَ، ← السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ← النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9245

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9246

9246 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، نَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْكَوْثَرُ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ، حَافَّتَاهُ الذَّهَبُ، وَيَجْرِي عَلَى الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ - مَوْصُولًا - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ إِلَّا ابْنُ عُلَيَّةَ، تَفَرَّدَ بِهِ السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جنت میں ایک کوثر نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں ، اس میں موتی اور یاقوت کے برتن ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ← النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9246

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9247

9247 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَاهَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ أُوحِيَ إِلَيْهِ بِالْأَذَانِ، فَنَزَلَ بِهِ، فَعَلَّمَهُ جِبْرِيلُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا يُونُسُ، وَلَا عَنْ يُونُسَ إِلَّا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَاهَانَ الْوَاسِطِيُّ

حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے معراج کروائی گئی تو مجھے اذان کی وحی کی گئی ، میں وہاں سے آیا تو حضرت جبریل نے مجھے بتائی۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَاهَانَ، ← النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9247

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9248

9248 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «سُنَّةُ الْقِرَاءَةِ فِيِ الصَّلَاةِ أَنْ تَقْرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں قرأت کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھی جائے اور آخری دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھی جائے ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9248

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9249

9249 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، نَا صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ - مَوْلَى آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - عَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ قَالَ: أَيْ رَبِّ، لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ، فَأَعْضَلَتْ بِالْمَلَكَيْنِ، فَصَعَدَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَقَالَا: أَيْ رَبِّ، عَبْدُكَ قَدْ قَالَ مَقَالَةً مَا نَدْرِي كَيْفَ نَكْتُبُهَا» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں کچھ بندے عرض کرتے ہیں: اے رب! تیرے لیے حمد ہے ، جس طرح تیری بزرگی اور تیری بڑی بادشاہی کے لیے مناسب ہے اور فرشتے چڑھتے ہیں دونوں آسمان ِدنیا کی طرف آتے ہیں ، عرض کرتے ہیں: اے رب! تیرے بندے نے جو عرض کیا، ہم نہیں جانتے ہیں کہ اس کو کیا لکھیں ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9249

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9250

9250 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رُشْدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، [ص:102] حَدَّثَنِي عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ بِنْتُ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةُ، قَالَتْ: مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْحِجْرِ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ الْفَضْلِ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلَامٍ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ؟ قَالَ: «هُوَ مَا أَقُولُ لَكِ، فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَأْتِنِي بِهِ» ، قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعْتُهُ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى، وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى، وَأَلْبَأَهُ مِنْ رِيقِهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبِي بِأَبِي الْخُلَفَاءِ» ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَعْلَمْتُهُ، وَكَانَ رَجُلًا لَبَّاسًا جَمِيلًا مُوتَئِدَ الْقَامَةِ، فَتَلَبَّسَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهِ، فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ أَقْعَدَهُ، عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا عَمِّي، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاهِ بِعَمِّهِ» ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: بَعْضَ الْقَوْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَلِمَ لَا أَقُولُ هَذَا يَا عَمُّ، وَأَنْتَ عَمِّي، وَصِنْوُ أَبِي، وَبَقِيَّةُ آبَائِي، وَوَارِثِي، وَخَيْرُ مَنْ أَخْلُفُ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَهْلِي؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَتْ: أُمُّ الْفَضْلِ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: «هِيَ لَكَ يَا عَبَّاسُ بَعْدَ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ وَمِائَةٍ، ثُمَّ مِنْكُمُ السَّفَّاحُ، وَالْمَنْصُورُ، وَالْمَهْدِيُّ، ثُمَّ هِيَ فِي أَوْلَادِهِمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمُ الَّذِي يُصَلِّي بِالْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ طَاوُسٍ إِلَّا حَنْظَلَةُ، وَلَا عَنْ حَنْظَلَةَ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ رُشْدٍ

حضرت اُم فضل بنت حارث الہلالیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرتی ، آپ حجرے میں تشریف فرما تھے ، آپ نے فرمایا: اے اُم فضل! میں نے عرض کی: یارسول اللہ! حاضر ہوں! آپ نے فرمایا: تو بچہ کے ساتھ حاملہ ہے ، میں نے عرض کی: یارسول اللہ! کیسے! قریش نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ اپنی عورتوں سے جماع نہیں کریں گے؟ آپ نے فرمایا: جو میں نے کہا ہے ایسے ہی ہو گا ، جب تو اس کو جن لے تو میرے پاس لانا میں نے جب اس کو جنا تو اسے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئی ، آپ نے اس کے دائیں کان میں اذان دی اور بائیں میں اقامت پڑھی ، اس کو اپنے لعاب کے ساتھ گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا، پھر فرمایا: خلفاء کے باپ کو میرے پاس لاؤ! فرماتی ہیں: میں حضرت عباس کے پاس گئی اور ان کو بتایا۔ حضرت عباس اچھے کپڑے پہننے والے اور درمیانہ قد والے تھے انہوں نے کپڑے پہنے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے ، ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا، پھر ان کو دائیں جانب بٹھایا، پھر فرمایا: یہ میرا چچا ہے! جو چاہے اس کے چچا ہونے پر فخر کرے۔ حضرت عباس نے عرض کی: کوئی بات یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: اے چچا! میں یہ کیوں نہ کہوں تو میرا چچاہے ، آپ میرے باپ کے قائم مقام ہیں ، میرے آباؤ اجداد کی نشانی ہیں اور وارث ہیں ، جو میرے بعد میرے اہل کے ہیں ان میں بہتر ہو۔ حضرت عباس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اُم فضل نے ایسے ایسے کہا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ تیرے لیے ہے اے عباس! ۱۳۲ سال بعد ہوں گے ، پھرتم میں سے خون بہانے والا اور مدد کیا ہوا اور مہدی آپ کی اولاد میں ہو گا یہاں تک کہ ان کا آخری جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھے گا وہ بھی آپ کے خاندان سے ہو گا۔

مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْحِجْرِ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ الْفَضْلِ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ بِنْتُ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةُ، ← طَاوْسٍ ← حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رُشْدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، [ص:102] ← النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9250

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9251

9251 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، [ص:103] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا أَبْقَتْ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، تَقُولُ امْرَأَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، وَيَقُولُ وَلَدُكَ: يَا أَبَتِ، إِلَى مَنْ تَكِلُنَا؟ وَيَقُولُ خَادِمُكَ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَلَا رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَاصِمٍ إِلَّا شَرِيكٌ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دینے والا ہاتھ بہتر ہے ، بہتر صدقہ وہ ہے جو حالت مالداری میں دیا جائے ، اس سے ابتداء کی جائے جو تیری زیر کفالت ہیں ایسا نہ ہو تیری عورت کہے: مجھ پر خرچ کر یا مجھے طلاق دے اور تیرے بچے کہیں: اے ابو! ہمیں کس کے سپرد کیا؟ اور تیرا خادم کہے: مجھے کھلا اور مزدور رکھے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ، [ص:346] ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9251

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9252

9252 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ، وَأَبِي حَفْصٍ، عَنْ أَبِي الْغَادِيَةِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ذَكَرَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَقُلْتُ: لَئِنِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْ هَذَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ وَعَلَيْهِ السِّلَاحُ، فَجَعَلَ يَحْمِلُ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الْقَوْمِ، ثُمَّ يَخْرُجَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا رُكْبَتُهُ قَدْ حُسِرَ عَنْهَا الدِّرْعُ وَالسَّاقُ، فَسَدَّدْتُ نَحْوَهُ الرُّمْحَ، فَطَعَنْتُ رُكْبَتَهُ، ثُمَّ قَتَلْتُهُ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَاتِلُهُ وَسَالِبُهُ فِي النَّارِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

حضرت ابو غادیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا، میں نے عرض کی: اگر آپ کو ان پر قدرت دی ، جب صفین کا دن تھا تو آپ نے اسلحہ پہن رکھا تھا ، اس کو اٹھایا اور قوم میں داخل ہوئے ، پھر نکلے ، میں نے دیکھا تو آپ کے گھٹنے زرہ سے ننگے تھے ، میں نے ان کی طرف نیز ہ کیا، اس کے گھٹنے پر نیزہ مارا ، پھر میں نے ان کو قتل کیا، حضرت عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ان کو قتل کرنے والا ان کے سامان لینے والا جہنمی ہے۔

أبي الغادية ← كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ، وَأَبِي حَفْصٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← النُّعْمَانِ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9252

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: نُعْمَانُ · حديث 9253

9253 - حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، فَمَنْ نَازَعَنِي ثَوْبِي جَعَلْتُهُ فِي النَّارِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ إِلَّا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ، تَفَرَّدَ بِهِ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

حضرت ابو سعید اور ابو ہریرہ دونوں فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے ، جو مجھ سے یہ کپڑا لے گا اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ ← يوسف بن ميمون ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ← النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Noon Gate › Of his name: Noaman · Hadith 9253

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male