Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9031

9031 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، نَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، [ص:28] عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «بِمَ هَذَا؟» قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسِهِ شَيْئًا، فَلْيَرْكَبْ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے موقع پر ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے بیٹوں کا سہارا لے کر مکہ اور مدینہ کے درمیان چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: اس کو کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: اس نے بیت اللہ کی طرف پیدل جانے کی نذر مانی تھی ، آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل کسی جان کو خود عذاب دینے سے منع کرتا ہے ، اس کو چاہیے کہ سوار ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9031

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9032

9032 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ الْيَشْكُرِيُّ، قَالَ: مَرَّ بِنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، وَقَدْ صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ، وَمَعَهُ نَفَرٌ فَأَذَّنَ بَعْضُهُمْ، فَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقَامَ، فَتَقَدَّمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَصَلَّى بِهِمُ الْغَدَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ أَرْسَلَ إِلَى وِسَادَتَيْنِ، فَأُتِيَ بِهِمَا فَالْتَفَتْنَا لَهُ، فَقَعَدَ يُحَدِّثُنَا، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا، أَنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لَهُ لِشَيْءٍ فَعَلَهُ: «لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟» ، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ يَفْعَلْهُ: «أَلَا فَعَلْتَ كَذَا»

حضرت ابو عثمان الیشکری فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے گزرے مسجد بنی رفاعہ کے ، ہم نے فجر کی نماز پڑھی ، آپ کے ساتھ چند لوگ تھے ، ان میں سے بعض نے اذان دی ، آپ نے دو رکعت سنتیں پڑھی ، پھر اقامت ہوئی تو حضرت انس آگے بڑھے، آپ نے فجر کی نماز پڑھائی ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دو تکیے لانے کے لیے بھیجا، آپ کے پاس لائے گئے تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے ، ہم سے گفتگو کرنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس سال خدمت کی آپ نے بھی کسی شے کے متعلق نہیں فرمایا کہ تُو نے یہ کیوں نہیں کیا ، یا یہ کام کیوں کیا؟

مَرَّ بِنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، وَقَدْ صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْيَشْكُرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9032

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9033

9033 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا الْبَيْتُ دِعَامَةٌ مِنْ دَعَائِمِ الْإِسْلَامِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ، أَوِ اعْتَمَرَ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ، فَإِنْ مَاتَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ رَدَّهُ إِلَى أَهْلِهِ رَدَّهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گھر اسلام کی بنیادیں ہیں ، جس نے حج یا عمرہ کیا وہ اللہ کی حفاظت میں ہے ، اگر مر گیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا ، اگر واپس آیا تو ثواب اور غنیمت لے کر واپس آیا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9033

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9034

9034 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا خَالِدٌ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى [ص:29] رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے ، آپ کے سرانور پر خودتھا بغیر حالتِ احرام کے جب اسے اتارا تو آپ کے پاس ایک آدمی نے آ کر کہا:ابن خطل کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا: اس کو مارو!

أَنَسٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← خَالِدٌ، ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9034

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9035

9035 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا خَالِدٌ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ دَاءٍ فِي رَأْسِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُمَيْدٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت ِاحرام میں پچھنا لگوایا کیونکہ آپ کے سرانور پر زخم تھا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← خَالِدٌ، ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9035

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9036

9036 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا خَالِدٌ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُزْهِيَ، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا تُزْهِي؟ قَالَ: «حَتَّى تَحْمَرَّ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کی بیع کرنے سے منع کیا سرخ ہونے سے پہلے۔

«حَتَّى تَحْمَرَّ» ← بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُزْهِيَ، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا تُزْهِي؟ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← خَالِدٌ، ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9036

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9037

9037 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمَ ثَمَانِيَةُ رَهْطٍ مِنْ عُكْلٍ الْمَدِينَةَ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوُا الْأَرْضَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَوْا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْدُوا إِلَى الْإِبِلِ، فَاشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا» ، فَذَهَبُوا فَكَانُوا فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَسَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں آٹھ آدمیوں کا گروہ آیا ، وہ مسلمان ہوئے ، ان کو آب و ہوا موافق نہ آئی تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ، انہوں نے اس کی شکایت کی، آپ نے فرمایا:ان کو اونٹوں کے پاس لے جاؤ کہ ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں ، وہ گئے ، پیا جو اللہ نے چاہا ، صحت دی انہوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تلاش میں بھیجا تو ان کو لا یا گیا، ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے ، ان کی آ نکھوں میں گرم لو ہا پھیرا گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9037

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9038

9038 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن روزے سے منع نہیں کرتا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ نَهَى عَنْهُ» ← نَهَيْتُ ← مَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9038

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9039

9039 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّمْرِ سَأَلَ عَنْهُ، [ص:30] فَإِنْ قَالُوا: صَدَقَةٌ: قَالَ: «كُلُوا» ، وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قَالُوا: هَدِيَّةٌ أَكَلَ مَعَهُمْ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ تے کھجو ر لے کر آپ اس کے متعلق پوچھتے ، اگر وہ عرض کرتے کہ صدقہ ہے، فرماتے: کھاؤ! آپ خود نہیں کھاتے تھے ، اگر عرض کرتے کہ تحفہ ہے تو آپ خود بھی کھاتے ۔

هَدِيَّةٌ أَكَلَ مَعَهُمْ ← «كُلُوا» وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ ← صَدَقَةُ، ← كَانَ النَّاسُ إِذَا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ بِالتَّمْرِ سَأَلَ عَنْهُ، [ص:30] فَإِنْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9039

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9040

9040 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَالَ رَبُّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ عَنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے: انسان کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ میں خود اس کی جزاء دوں گا، روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے ہاں مشک خوشبو سے زیادہ عمدہ ہوتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9040

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9041

9041 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ؛ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَجِدُ مَا يُغْنِيهِ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ لِيُعْطُوهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ ہے جو نہ پائے ، جس کے ساتھ وہ مال دار ہو نہ لوگوں سے مانگے گا کہ لوگ اس کو دیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9041

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9042

9042 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عَنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَدَعُ امْرَأَتَهُ وَشَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عَنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَانِي، الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِنْ قَاتَلَهُ أَحَدٌ أَوْ شَتَمَهُ أَحَدٌ فَلَا يُكَلِّمْهُ، وَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان کا ہر عمل اس کے لیے ہے ، روز ہ میرے لیے ہے ، میں خود اس کی جزاء دوں گا ، روزے دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے ہاں مشک خوشبو سے زیادہ ہے کیونکہ آدمی اپنی عورت اور شہوت اور کھانا پینا میری وجہ سے چھوڑتا ہے اور روزہ میرے لیے ہے ، میں خود اس کی جزاء دوں گا، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کرتے وقت ، جس وقت مجھ سے ملے گا ، روزہ ڈھال ہے اگر اس کو کوئی مارے یا گالی دے ، وہ کسی کا جواب نہ دے بلکہ کہہ دے: میں حالت روزہ میں ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← خَالِدٌ، ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9042

chevron_left Previous
1…789…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male