Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8995

8995 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: اسْتَتْبَعَنْي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَالَ: «إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ خَمْسَةَ عَشَرَ بَنُو إِخْوَةٍ وَبَنُو عَمٍّ يَأْتُونِي اللَّيْلَةَ فَأَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ، فَجَعَلَ لِي خَطًّا ثُمَّ أَجْلَسَنِي فِيهِ» ، وَقَالَ: «لَا تَخْرُجَنَّ مِنْ هَذَا» ، فَبِتُّ فِيهِ حَتَّى أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ السَّحَر، وَفِي يَدِهِ عَظْمُ حَائِلٍ، وَرَوْثَةٌ، وَحُمَمَةٌ، فَقَالَ: «إِذَا أَتَيْتَ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَنْجِيَنَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا» ، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ: لَأَعْلَمَنَّ حَيْثُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبْتُ فَرَأَيْتُ مَوْضِعَ سَبْعِينَ بَعِيرًا" لَمْ يَرْوِ عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ساتھ لے گئے ، فرمایا: بنو اخواہ و بنوعم سے پندرہ جن آج رات میرے پاس آئے کہ میں ان کو قرآن پڑھاؤں، میں ان کے ساتھ جا رہا ہوں جس جگہ کا ارادہ کیا ، آپ نے میرے لیے خط کھینچا، پھر اس میں بٹھایا اور فرمایا: اس جگہ سے نہ نکلنا، میں نے وہاں رات گزاری یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے سحری کے وقت، آپ کے ہاتھ میں ہڈی، لید، اور کوئلہ تھا، آپ نے فرمایا:جب تُو بیت الخلاء آئے تو ان سے استنجاء نہ کرنا ، جب میں نے صبح کی تو میں نے کہا: میں بھی جاتا ہوں جس جگہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گئے تھے ، میں گیا تو میں نے دیکھاستر اونٹوں کی جگہ۔

اسْتَتْبَعَنْي رَسُولُ اللَّهِ لَيْلَةً، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8995

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8996

8996 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكْثَرُ مَا يُولِجُ النَّاسَ النَّارَ؟ فَقَالَ: «الْأَجْوَفَانِ الْفَرْجُ، وَالْفَمُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کی گئی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اکثر لوگ جہنم میں کیسے داخل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منہ اور شرمگاہ کی وجہ سے۔

قِيلَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8996

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8997

8997 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟» قُلْتُ: إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: «فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ بَخَصْتَ الْعَيْنَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَذَاكَ صَوْمُ الدَّهْرِ» ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، فَقَالَ: «صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تو رات کو قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے کہا ہے ، آپ نے فرمایا: جب تو کرے تو ہر ماہ کے تین روزے رکھ، میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ ، آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8997

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8998

8998 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: «أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا جہاد کے لیے اجازت مانگنے کےلیے، آپ نے فرمایا:کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟اس نے عرض کی:جی ہاں! فرمایا:ان دونوں کی خدمت کر، یہ تیرا جہاد ہے۔

ففیھما فجاھد۔ ← نَعَمْ ← جَاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ یَسْتَاْذِنُہُ فِی الْجِھَادِ فقَالَ: اَحَیٌّ والداک ← وعن عبد الله بن عمرو

Hadith 8998

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8999

8999 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے جو فیصلہ کرنے میں بہتر ہے۔

جَابِرٍ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8999

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9000

9000 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَوْ غَزْوٍ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ: «مَنْ يَمْلَأُ لَنَا حِيَاضَ الْإِثَايَةِ؟» قَالَ جَابِرٌ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْإِثَايَةَ [ص:19] فَمَلَأْتُ الْحَوْضَ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ جَاءَ رَجُلٌ فَنَزَلَ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ مِنَ الْحَوْضِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى، عَلَيْهِ إِزَارٌ مُلْتَحِفًا بِهِ، فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی طرف نکلے حج یا عمرہ کے لیے، جب آپ راستے میں تھے تو آپ نے فرمایا:ہمارے لیے برتن پانی کے لیے کون بھرے گا؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں! ہم چلے یہاں تک کہ میں نے حوض سے پانی کا برتن بھرا ، جب رات کا کچھ حصہ گزرا تو ایک آدمی آیا ، وہ اترا تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تھی ، آپ چلے ، قضاء حاجت فرمائی ، پھر آئے اور حوض سے وضو کیا، پھر آئے نماز پڑھی، آپ نے چادر اٹھائی ہوئی تھی، میں نے وضو کیا، میں آیا تو آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوا ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا مجھے اپنی دائیں جانب کیا تو دو رکعت نفل پڑھے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عبد الله بن عمر العمري ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 9000

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9001

9001 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ لِلْمَرِيضِ، وَالْمَحْزُونِ عَلَى الْهَالِكِ، وَتَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «التَّلْبِينَةُ تُجِمُّ فُؤَادَ الْمَرِيضِ، وَتَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ»

حضرت عروہ ، حضرت عائشہ رضی الله عنها سے روایت کرتے ہیں کہ مریض کو تلبیہ کا حکم دیتیں اور پر یشان اور کسی مصیبت کی وجہ سے بھی اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تلبیہ مریض کے دل کو مضبوط کرتی ہے اور بعض غم لے جاتی ہے۔

«التَّلْبِينَةُ تُجِمُّ فُؤَادَ الْمَرِيضِ، وَتَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ لِلْمَرِيضِ، وَالْمَحْزُونِ عَلَى الْهَالِكِ، وَتَقُولُ: إِنِّي ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 9001

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9002

9002 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى بْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الحَبْسِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عِكْرِمَةَ إِلَّا عِيسَى، وَلَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سورۂ نسا میں میراث والی آیت نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال روکنے سے منع کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ← عِكْرِمَةَ إِلَّا عِيسَى، وَلَا يُرْوَى ← الحَبْسِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← «لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَخِيهِ عِيسَى بْنِ لَهِيعَةَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 9002

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9003

9003 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، نَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْعُكْلِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: [ص:20] سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْحَرَامِ سُتْرَةً، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَانَ أَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِيهِ كَالْمُرْتِعِ إِلَى جَانِبِ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَحَارِمُهُ»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:تم اپنے اور حرام کے درمیان سترہ رکھ لیا کرو، جس نے ایسے کیا اس نے اپنی عزت اور دین بچا لیا، جو حرام میں پڑ گیا وہ ایسے ہے جس طرح چرواہا جانور چرا رہا ہے ، ہوسکتا ہے جانور اس کھیتی میں چلے جائیں ، ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے اللہ کی چراگاہ زمین میں اس کے حرام کردہ کام ہیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← النعمان بن بشير الأنصاري ← [ص:149] ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْعُكْلِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَمْدَانِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ← عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 9003

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9004

9004 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَمِّي سَعِيدٌ، نَا مُفَضَّل بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، أَعْلَاهَا شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا: إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنِ المَقْبُرِيِّ إِلَّا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے میں ان میں بلند لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا ہے ، کم از کم راستے سے تکلیف دہ اشیاء کا اٹھانا اور حیاء ایمان کا حصہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ← عَمِّي سَعِيدٌ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 9004

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9005

9005 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَشْرَسَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ رَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ؟ فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» ، فَذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ، وَقَالَ: «فَلَوْلَا مَا عَلِمْتُ مِنْ غَيْرَتِكَ يَا أَبَا حَفْصٍ لَدَخَلْتُهُ» ، فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَقَالَ: «عُمَرُ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنَّا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَلَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَشْرَسَ، تَفَرَّدَ بِه سَعِيدُ بْنُ عِيسَى

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے سونے کا ایک محل دیکھا ، میں نے جبریل سے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ عرض کی : یہ قریش کے ایک آدمی کا ہے ، میں نے امید کی کہ وہ میں ہی ہوں؟ میں نے کہا: وہ کون ہے؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کی: وہ عمر بن خطاب ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں اس کا ذکر کیا اور آپ نے فرمایا: اے ابو حفص! اگر آپ کی غیرت کے متعلق نہ جانتا ہوتا تو میں داخل ہوتا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور عرض کرنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان! یا رسول اللہ! میں آپ پر غیرت کروں گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد کے حوالے سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ وہ آپ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں ، اس میں کچھ اضافہ ہے کہ آپ نے فرمایا: عمر غیرت والا ہے ، میں عمر سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ ہم سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَشْرَسَ، ← عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 9005

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9006

9006 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّمْحِ التُّجِيبِيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَارَتْ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ «فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِوَارَهَا»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو العاص بن ربیع بن عبدشمس کے لیے پناہ مانگی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ دے دی۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← عباد بن كثير ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّمْحِ التُّجِيبِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 9006

chevron_left Previous
1…456…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male