Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8983

8983 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: كَيْف أَصْبَحْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «بِخَيْرٍ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُصْبِحْ صَائِمًا، وَلَمْ يَعُدْ سَقِيمًا، وَلَمْ يُشَيِّعْ جَنَازَةً»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے صبح کیسے کی؟ اس آدمی سے زیادہ بہتر جو روزے کی حالت میں صبح نہیں کرتا ہے ، بیمار کی عیادت نہیں کرتا اور نہ جنازہ کے ساتھ جاتا ہے۔

كَيْف أَصْبَحْتَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8983

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8984

8984 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ» ، قَالُوا: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَمِنِّي، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پوشیدہ چیزوں کے پیچھے نہ پڑو، کیونکہ شیطان انسان میں ایسے چلتا ہے جیسے خون چلتا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: اور اے اللہ کے رسول! آپ سے؟ آپ نے فرمایا: مجھ سے اسی طرح ہوتا لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری مدد کی ہے اور میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے۔

جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8984

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8985

8985 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدْوَانِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَوْفٍ الْقَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: كُنَّا عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَوْمٌ نُورُهُمْ كَالشَّمْسِ» ، قَالُوا: نَحْنُ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكُمْ خَيْرٌ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّهُمْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، الَّذِينَ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ»

حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے تو سورج طلوع ہوا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو قیامت کے دن لائے گا کہ ان کا نور سورج کی طرح ہو گا۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم وہ لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! تمہارے لیے بڑی بھلائی ہے ، وہ فقراء مہاجر ین ہوں گے ، جوز مین کے کناروں سے اکٹھے کیے جائیں گے۔

نَحْنُ هُمْ ← رَسُولُ اللَّهِ «يَأْتِي اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَوْمٌ نُورُهُمْ كَالشَّمْسِ» ← كُنَّا عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← سفيان بن عوف القاري ← جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدْوَانِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8985

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8986

8986 - وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ» ، قُلْنَا: وَمَا الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: «قَوْمٌ صَالِحُونَ قَلِيلٌ فِي نَاسِ سَوْءٍ كَثِيرٍ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غریبوں کے لیے خوشخبری! ہم نے عرض کی: غریب کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: نیک لوگ! خوشحال لوگوں میں وہ تعداد کے لحاظ سے کم ہیں ، ان کی نافرمانی کرنے کے لیے اطاعت کرنے والے سے بہت ہوں گے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← وَبِإِسْنَادِهِ

Hadith 8986

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8987

8987 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ [ص:15] دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ، وَلَا طَائِرٌ، وَلَا شَيْءٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ أَجْرٌ»

حضرت عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی اگاتا ہے ، اس سے لوگ ، پرندے کوئی شی بھی کھاتی ہے تو اس کے لیے ثواب ہو گا۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرِو بْنِ [ص:15] دِينَارٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8987

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8988

8988 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أُكْسُومٍ الصَّدَفِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْبَرْحِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّ خَصْمَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا، فَسَخِطَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَضَى الْقَاضِي فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَإِنَّ لَهُ عَشْرَةَ أُجُورٍ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضى الله عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی اپنے جھگڑا لے کر حضرت عمرو بن عاص کے پاس آئے ، آپ نے دونوں کے درمیان فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ ناراض ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو قاضی فیصلہ کرتا ہے اور خوب کوشش کرتا ہے اگر فیصلہ درست کیا تو اس کے لیے دس گنا ثواب ہے ، جب فیصلہ کرے تو غلط ہو جائے تو اس کے لیے دوگنا ثواب ہے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← الْقَاسِمِ بْنِ الْبَرْحِيِّ ← سلمة بن أكسوم الصدفي ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8988

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8989

8989 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الدَّيْلَمِيِّ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَعْطَاهُ الثَّالِثَةَ، سَأَلَ اللَّهَ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَسَأَلَ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إيَّاهُ، وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ - يَعَنْي مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ - أَنْ يَخْرُجَ مِنْ ذُنُوبِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»

حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رضى الله عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حضرت سلیمان بن داؤدعلیہا السلام نے اللہ عزوجل سے تین چیزیں مانگیں ، دو عطا کی گئیں ، میں امید کرتا ہوں کہ تیسری بھی دی جائے گی، آپ نے قوت فیصلہ کے لیے دعا کی تو آپ کو عطا کی گئی، آپ نے ایسی بادشاہی مانگی کہ ان کے بعد کسی کو نہ دی جائے تو آپ کو دی گئی، آپ نے دعا کی کہ کوئی بھی مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھے تو نماز کے لیے نکلے تو سارے گناہ معاف ہو جائیں ، اس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنا ہے۔

«إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8989

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8990

8990 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ» فَقِيلَ: مَا بَرَكَاتُ الْأَرْضِ؟ قَالَ: «زَهْرَةُ [ص:16] الدُّنْيَا» ، فَقَالَ رَجُلٌ: هَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُنَزَّلُ عَلَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ: هَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟» فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا ذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ حَبَطًا يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا اشْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَاجْتَرَّتْ وَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ»

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر زیادہ خوف یہ ہے کہ تمہارے لیے اللہ عزوجل زمین کی برکات نکالے گا ، عرض کی گئی: زمین کی برکات سے مراد کیا ہے؟ فرمایا: دنیا کی خوشحالی ۔ ایک آدمی نے عرض کی: کیا بھلائی بھی شر لاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا جواب دینے سے خاموش رہے ، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ عنقریب آپ پر وحی نازل ہو گی، پھر آپ نے اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا، پھر فرمایا: سائل کہاں ہے جو پوچھ رہا تھا کہ بھلائی کے ذریعے شر آتا ہے؟ اس آدمی نے عرض کی: میں ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلائی کے ذریعے بھلائی ہی آتی ہے ، تین مرتبہ فرمایا ، فرمایا: یہ مال میٹھا سر سبز ہے۔ ہر وہ چیز جو موسم بہار میں بیکار پیدا ہوتی ، ختم ہو جاتی ہے یاختم ہونے کے قریب ہوتی ہے ، مگر سبزیاں تم کھاتے ہو یہاں تک کہ جب وہ مضبوط ہو جاتی ہیں ، سورج کی دھوپ لگتی ہے ، کھنچتی ہیں ، سُست ہو کر پرانی ہو جاتی ہیں ، پھر دوبارہ ہوتی ہیں ، وہ کھا جاتی ہیں۔ بے شک یہ مال سرسبز اور بڑا میٹھا ہے ، جس کے حق کے ساتھ کمایا، حق میں خرچ کیا تو یہ کمائی کتنی اچھی ہے ، جس نے ناحق مال کمایا وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کھا کر سیر نہیں ہوا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8990

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8991

8991 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برکت تمہارے بزرگوں کے ساتھ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8991

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8992

8992 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، نَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُو مُحْرِمٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَامِلٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت میمونہ سے حالت احرام میں شادی کی۔

«تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← الْمِقْدَامِ،

Hadith 8992

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8993

8993 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لِيُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ أَهْلَ السَّمَاءِ - الْمَلَائِكَةَ - يَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي هَؤُلَاءِ جَاءُوا شُعْثًا غُبْرًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُجَاهِدٍ إِلَّا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل آسمان میں فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے ، جب لوگ عرفات میں ٹھہرتے ہیں ، فرماتا ہے: دیکھو! میرے ان بندوں کی طرف کس طرح بکھرے ہوئے بالوں کی حالت میں میرے پاس آئے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Hadith 8993

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8994

8994 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «آمِينَ آمِينَ آمِينَ» فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ هَذَا؟ فَقَالَ: «قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ - أَوْ بَعُدَ - دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ - أَوْ بَعُدَ - أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يُدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ - أَوْ بَعُدَ - ذُكِرْتَ عَنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ: آمِينَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آمین ، آمین ، آمین ! آپ سے عرض کی گئی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ آپ نے کیا کہا؟ آپ نے فرمایا: مجھے حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کی: اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو! یا وہ اللہ کی رحمت سے دُور ہو! جس نے رمضان کے مہینے کو پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا! میں نے کہا: آمین! پھر عرض کی : اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو! یا فرمایا: وہ اللہ کی رحمت سے دُور ہو جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا دونوں کو یا ایک کو اور جنت حاصل نہ کر سکا! میں نے کہا: آمین! پھر عرض کی: اس کی ناک خاک آلود ہو! یا وہ اللہ کی رحمت سے دُور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور آپ کی بارگاہ میں درود نہ پڑھے! میں نے کہا:آمین!

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Hadith 8994

chevron_left Previous
12345…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male