Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9187

9187 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، ثَنَا عَلَيٌّ، ثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ» [ص:81] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ "

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی ختم کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔

زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ ← «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ» [ص:81] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو قُرَّةَ، ← عَلِيٍّ، ← مُفَضَّلٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9187

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9188

9188 - وَبِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟» فَأَخَذَ الْمَاءَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ، فَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهَا الْأُخْرَى فَأَفْرَغَ فَأَفَاضَ عَلَى وَجْهِهِ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى ظُهُورِ قَدَمَيْهِ فَوْقَ النَّعْلِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ آپ نے پانی لیا، اس پانی کو دونوں ہاتھوں پر ڈالا ، کلی کی دونوں ، ہاتھوں کو جمع کیا، اپنے چہرے کو دھو یا اور دونوں ہاتھ دھوئے ، اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا ، پھر اپنے دونوں موزوں کا مسح کیا پر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔

أَبُو قُرَّةَ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9188

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9189

9189 - وَبِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: إِنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِلَى مَكَّةَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَبَصُرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَجَرَتَيْنِ مُتَبَاعِدَتَيْنِ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، اذْهَبْ إِلَى هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا لَهُ لِيَتَوَارَى بِكُمَا» فَمَشَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ رَجَعَتَا إِلَى مَكَانِهِمَا، فَمَضَى حَتَّى أَتَيْنَا أَزِقَّةَ الْمَدِينَةِ، فَجَاءَ بَعِيرٌ يَشْتَدُّ حَتَّى سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ تَذْرِفُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟» قَالُوا: فُلَانٌ، فَقَالَ: «ادْعُوهُ لِي» ، فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا شَأْنُكَ وَهَذَا الْبَعِيرُ يَشْكُوكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْبَعِيرُ كُنَّا نَسْنُوا عَلَيْهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً، ثُمَّ أَرَدْنَا نَحْرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَكَا ذَلِكَ، بِئْسَمَا جَازَيْتُمُوهُ، اسْتَعْمَلْتُمُوهُ عِشْرِينَ سَنَةً حَتَّى إِذَا رَقَّ عَظْمُهُ وَرَقَّ جِلْدُهُ أَرَدْتُمْ نَحْرَهُ، بِعْنِيهِ» قَالُوا: [ص:82] بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَّهَ بِهِ مَعَ الظُّهْرِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَجَدَ لَكَ هَذَا الْبَعِيرُ وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَسْجُدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ، لَوْ سَجَدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے مکہ کی طرف جاتے ہوئے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ قضاء حاجت کے لیے نکلتے تو دُور جاتے تھے کہ کوئی آپ کو نہیں دیکھتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو درخت دیکھے دونوں دور تھے ، آپ نے فرمایا: اے ابن مسعود! ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ! ان کو کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم دونوں کو فرماتے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ تاکہ تمہارا پردہ کر سکوں ۔ تو ان میں سے ایک دوسرے کی طرف چلا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضاء حاجت فرمائی ، پھر وہ اپنی اپنی جگہ چلے گئے ، آپ آگے چلے یہاں تک کہ ہم شہر کے قریب ہوئے تو ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور آ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے ، پھر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ، اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: فلاں ہے ، آپ نے فرمایا: اس کو میرے پاس بلا ؤ! اس کو لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کو کیا بات ہے یہ اونٹ تمہاری شکایت کر رہا ہے؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! یہ اونٹ ہم نے اس سے بیس سال تک خدمت لی ہے ، پھر ہم نے اس کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: یہی شکایت کر رہا ہے ، کتنا بُرا تو نے اس کے متعلق سوچا ہے ، اس کو بیس سال تک استعمال کیا جب اس کی ہڈیاں کمزور ہو گئیں اور چمڑا کمزور ہو گیا تو تم اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح کرنے لگے ، انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! یہ آپ کے لیے ہے۔ آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کو ایک طرف کیا گیا۔صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ اونٹ آپ کو سجدہ کرتا ہے ، ہم زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ! اللہ کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کو سجدہ کیا جائے ، اگر اس اُمت میں کسی کے لیے سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو دیتاکہ اس کو سجدہ کرے۔

أبا عبيدة بن عبد الله بن مسعود يذكر ← يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ الْكُوفِيُّ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9189

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9190

9190 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، نَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، ثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ قَالَ: «إِنْ ذَكَرَنِي عَبْدِي وَحْدَهُ ذَكَرْتُهُ وَحْدِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، وَإِنْ أَقْبَلَ إِلَيَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ إِلَيْهِ أُهَرْوِلُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جب میرا بندہ مجھے اکیلا یاد کرتا ہے تو میں اس کا ذکر اکیلا کرتا ہوں ، اگر مجھے مجلس میں یاد کرے تو میں اس کا ذکر فرشتوں کے سامنے کروں ، جب میرے پاس چل کر آئے تو میری رحمت دوڑ کر آئے گی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← مُفَضَّلٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9190

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9191

9191 - وَبِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ خَصَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: 6] الْآيَةُ، فَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا اخْتَارَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ الَّذِي بَقِيَ مِنْهَا، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَ» ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ لِعُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ [ص:83] وَسَعْدٍ، وَهُمْ عِنْدَهُ: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مال ِفئی کے ساتھ خاص کیا ، آپ کے علاوہ کسی کو نہیں دیا ، اللہ عزوجل نے فرمایا:’’ما افاء الله الىٰ آخره ‘‘ یہ آیت خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہے ، اللہ کی قسم ! تمہارے علاوہ کسی کو اختیارنہیں کیا تم پر کسی کو ترجیح نہیں دی یہاں تک کہ اس مال سے باقی رہے ، پھر جو باقی رہ جاتے اس کو اللہ کے مال میں رکھو ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مال سے اپنے گھر والوں کے لیے ایک سال کا خرچ رکھتے تھے پھر جو باقی بچتا اس کو اللہ کے مال میں رکھتے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وصال تک اپنی زندگی میں ایسے ہی کرتے رہے۔ پھر حضرت عمر ، پھر حضرت عثمان ایسے ہی کرتے رہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ، ان کے پاس ہوئے ، فرمایا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! کیا تم دونوں کو جانتے ہو؟ دونوں نے کہا: جی ہاں!

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو قُرَّةَ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9191

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9192

9192 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ، ثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُمْنَا فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت پڑھی جاتی ، ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکلنے سے پہلے صفیں سیدھی کرتے تھے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ، ← مفضل بن محمد الجندي

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9192

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9193

9193 - وَبِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْبِرُّ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

حضرت کعب بن عامر اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ؛ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9193

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9194

9194 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، ثَنَا أَبُو حُمَةَ، ثَنَا أَبُو قُرَّةَ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبَانٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا رَفَعْنَا رُؤُوسَنَا مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَضَعْ أَحَدٌ مِنَّا رَأْسَهُ حَتَّى نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم رکوع سے سر اٹھاتے تو ہم سجدہ نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت سجدہ میں دیکھتے۔

أَنَسٍ، ← أَبَانُ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو قُرَّةَ، ← أَبُو حُمَةَ ← مُفَضَّلٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9194

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9195

9195 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، نَا أَبُو حُمَةَ، نَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبَانٍ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّوْحَاءِ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَ التَّأْذِينِ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَأَبْوَابُ الْجِنَانِ، وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ» [ص:84] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادٍ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان بھاگتا ہے اس جگہ سے اور روحاء کے درمیان ، یہاں تک کہ وہ اذان کی آواز نہیں سنتا ہے ، آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے اور دعا قبول ہوتی ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبَانُ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← أَبُو حُمَةَ ← مُفَضَّلٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9195

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9196

9196 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، ثَنَا أَبُو حُمَةَ، ثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ، وَادَّهِنُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیتون کھاؤ ، اس کا تیل نگاؤ ، کیونکہ یہ بابرکت درخت سے نکلتا ہے۔

عُمَرَ، ← أَبِي ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← أَبُو حُمَةَ ← مُفَضَّلٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9196

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9197

9197 - وَبِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: «نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ نَاقَةً، شَرَّكَ بَيْنَ كُلِّ سَبْعَةٍ فِي جَزُورٍ»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ستر اونٹنیاں ذبح کیں ، ایک اونٹ میں سات آدمیوں کوشریک کیا۔

جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9197

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُفَضَّلٌ · حديث 9198

9198 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، نَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، ثَنَا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَحَلَقَ نَاسٌ كَثِيرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ فَقَالَ: «رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر بال منڈوائے آپ کے صحابہ میں سے بہت سے افراد نے بھی سر کے بال منڈوائے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ رحم کرے بال منڈوانے والوں پر! ایک آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ! بال کٹوانے والوں کے لیے دعا کریں! آپ نے فرمایا: اللہ رحم کرے بال منڈوانے والوں پر! تیسری مرتبہ فرمایا: بال کٹوانے والوں پر رحم کرے!

رَجُلٌ: ← رَسُولُ اللَّهِ «يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» ← حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَحَلَقَ نَاسٌ كَثِيرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، ← جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← مُفَضَّلٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Favorite · Hadith 9198

chevron_left Previous
1…20212223
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male