Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8959

8959 - حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَتَمَةَ، ثُمَّ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ سَبْعَ رَكَعَاتٍ، يُسَلِّمُ فِي الْأَرْبَعِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، يَتَشَهَّدُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ تَشَّهُدَهُ فِي التَّسْلِيمِ، وَيُوتِرُ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَيَرْقُدُ، فَإِذَا انْتَبَهَ مِنْ نَوْمِهِ، قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أنَامَنِي فِي عَافِيَةٍ، وَأَيْقَظَنِي فِي عَافِيَةٍ» ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَتَفَكَّرُ، ثُمَّ يَقُولُ: {رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [آل عمران: 191] فَيَقْرَأُ حَتَّى يَبْلُغَ {إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ} [آل عمران: 194] ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَيُكْثِرُ فِيهِمَا الدُّعَاءَ، حَتَّى إِنَّى لَأَرْقُدُ وَأَسْتَيْقِظُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَضْطَجِعُ فَيُغْفِي، ثُمَّ يَتَضَوَّرُ، ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا تَكَلَّمَ فِي الْأُوَّلِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ هُمَا أَطْوَلُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، وَهُوَ فِيهِمَا أَشَدُّ تَضَرُّعًا وَاسْتِغْفَارًا، حَتَّى أَقُولَ: هَلْ هُوَ مُنْصَرِفٌ؟ وَيَكُونُ ذَلِكَ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيُغْفِي قَلِيلًا فَأَقُولُ: هَذَا غَفَا أَمْ لَا؟ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الْأُولَى، ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَدْعُو بِالسِّوَاكِ فَيَسْتَنُّ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاتُهُ ثَلَاثَ عَشَرَ رَكْعَةً لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا ابْنُ لَهِيعَةَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء پڑھتے تھے ، پھر گھر میں نماز پڑھتے ، واپس جا کر سات رکعتیں ، چار رکعتیں پڑھتے ، دو پڑھ کر سلام پھیرتے اور تین رکعت وتر پڑھتے ، وتروں کی دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور تیسری میں سلام پھیرتے اور وتروں میں معوذتین پڑھتے ، جب گھر واپس آتے تو دو رکعت پڑھتے اور سو جاتے، جب آپ نیند سے اٹھتے تو یہ دعا کرتے: تمام خوبیاں اللہ کے لیے جس نے نیند سے عافیت دی اور اپنی عافیت میں جگایا، پھر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تو غور کرتے ، پھر پڑھتے : اے ہمارے رب! تو نے باطل نہیں پیدا کیا ، تیرے لیے پاکی ہے ، ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا ، آپ’’انك لا تخلف الميعاد ‘‘ تک پڑھتے، پھر آپ وضو کرتے، پھر کھڑے ہوتے اور دو رکعت نفل پڑھتے، ان دونوں میں قرأت اور رکوع و سجود لمبا کرتے، ان میں کثرت سے دعا کرتے یہاں تک کہ میں سوتی اور جاگتی، پھر آپ سلام پھیرتے اور لیٹ جاتے ۔ آپ کے لیٹنے کی آواز آتی، پھر آپ پہلے کی طرح گفتگو کر تے، پھر آپ کھڑے ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے، دونوں کو پہلی سے لمبا کرتے ، ان دونوں میں گڑگڑاتے اور بخشش مانگتے (اپنی امت کے لیے) یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ چھوڑیں گے! یہ آخر رات تک معاملہ رہتا، پھر آپ اٹھتے اور تھوڑی دیر کے لیے لیٹتے، آپ کے پاس مؤذن آتا اور پہلے کی طرح عرض کرتا آپ بیٹھتے پھر آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے، پھر دو مختصر رکعتیں سنتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکلتے ، آپ اپنی نماز کی تیرہ رکعتیں ادا کرتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ← مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Hadith 8959

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8960

8960 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: هَلْ رُخِّصَ لِلنِّسَاءِ أَنْ يُصَلِّينَ عَلَى الدَّوَابِّ؟ فَقَالَتْ: «لَمْ يُرَخَّصْ لَهُنَّ فِي ذَلِكَ فِي شِدَّةٍ وَلَا فِي رَخَاءٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ إِلَّا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ

حضرت عطاء بن رباح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا: کیا عورتوں کے لیے اجازت ہے کہ سواریوں پر نماز پڑھیں؟ فرمایا: تنگی اور خوشحالی میں رخصت نہیں ہے۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8960

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8961

8961 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثٌ مَنْ حَفِظَهُنَّ فَهُوَ وَلِيِّي حَقًّا، وَمَنْ ضَيَّعَهُنَّ فَهُوَ عَدُوِّي حَقًّا: الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالْجَنَابَةُ» [ص:9] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُمَيْدٍ إِلَّا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، تَفَرَّدَ بِهِ أَسَدُ بْنُ مُوسَى

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں جس میں ہوں وہ میرا پکا دوست ہے ، جو ان کا خیال نہ کرے وہ میرا دشمن ہے ، نماز ، روزہ ، غسل جنابت۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8961

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8962

8962 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الرَّقِّيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، مَالِكُ الْمُلُوكِ وَمَلِكُ الْمُلُوكِ، قُلُوبُ الْمُلُوكِ فِي يَدِي، وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا أَطَاعُونِي حَوَّلْتُ قُلُوبَ مُلُوكِهِمْ عَلَيْهِمْ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا عَصَوْنِي حَوَّلْتُ قُلُوبَهُمْ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْطَةِ وَالنِّقْمَةِ فَسَامُوهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ، فَلَا تَشْغَلُوا أَنْفُسَكُمْ بِالدُّعَاءِ عَلَى الْمُلُوكِ، وَلَكِنِ اشْتَغِلُوا بِالذِّكْرِ وَالتَّضَرُّعِ إِلَيَّ أَكْفِكُمْ مُلُوكَكُمْ»

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں ، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، میں مالک الملوک ، بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ، بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں اور بندے جب میری اطاعت میں ہیں ، میں ان کے بادشاہوں کے دلوں میں نرمی اور رحمت بھر دوں گا ، بندے جب میری نافرمانی کریں تو ان کے دلوں میں ناراضگی اور انتقام رکھ دوں گا، ان پر بڑا عذاب کروں گا ، تم اپنے رب سے بادشاہوں کے خلاف دعا نہ کرو، تم ذکر اور عاجزی میں مشغول ہو جاؤ، تم مجھ سے عاجزی مانگو، میں تمہارے حکمرانوں کو تمہاری طرف سے کافی ہوں۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الرَّقِّيُّ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8962

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8963

8963 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الرَّقِّيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ، قَاءَ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ إِلَّا وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تحفہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر ہو کر قے کرتا ہے ، پھر دوبارہ صاف کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الرَّقِّيُّ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8963

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8964

8964 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّاسَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ: «إِنَّ النَّاسَ رَأَوْهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ إِلَّا أَبُو الْأَسْوَدِ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَد إِلَّا ابْنُ لَهِيعَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الْأَسْوَدِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کولیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے میں دکھائی گئی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پو چھا گیا، آپ سے عرض کی گئی تو فرمایا: لوگوں کو آخری عشرے میں دکھائی گئی ، اس کو آخری سات دنوں میں تلاش کرو۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← اَبُو الْاَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8964

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8965

8965 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ قُوِّمَ عَلَيْهِ بِمَنْ أَعْتَقَ فِي مَالِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَنْدَهُ قُوِّمَ قِيمَةَ عَدْلِهِ، ثُمَّ اسْتَسْعَى غَيْرَ مَشْقُوقٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ إِلَّا ابْنُ لَهِيعَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الْأَسْوَدِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے حصے کا غلام آزاد کیا اس کے پاس پیسے ہوں تو باقی کو آزاد کروا دے ، اس کے پاس پیسے نہ ہوں تو اسکے برابر قیمت لگوالے ، پھر بغیر کسی ڈر کے اس غلام سے محنت مزدوری کروا لے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8965

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8966

8966 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى فِي مَنَامِهِ شَيْئًا وَلَا يَرَى بَلَلًا، وَيَرَى بَلَلًا ثُمَّ لَا يَرَى شَيْئًا؟ قَالَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ بَلَلًا وَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَلْيَغْتَسِلْ، وَإِذَا رَأَى شَيْئًا وَلَمْ يَرَ بَلَلًا فَلَا يَغْتَسِلْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ، تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَتَفَرَّدَ بِهِ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ: ابْنُ لَهِيعَةَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا: آدمی خواب میں کوئی شی دیکھتا ہے ، تری نہیں پاتا ہے اور تری دیکھتا ہے ، لیکن کوئی شی نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: جب کوئی تری پائے اور کوئی شی نہ دیکھے تو غسل کرے ، جب کوئی شی دیکھے اور تری نہ پائے تو غسل نہ کرے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8966

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8967

8967 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ تَحْتَ مَمْلُوكٍ فَلَمَّا عُتِقَتْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتِ أَمْلَكُ بِنَفْسِكِ إِنْ شِئْتِ أَقَمْتِ مَعَ زَوْجِكِ، وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتِيهِ مَا لَمْ يُمْسِكْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ إِلَّا ابْنُ لَهِيعَةَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ ایک غلام کے نکاح میں تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: تُو اپنی جان کی زیادہ مالک ہے اگر تُو چا ہے تو اپنے شوہر کے ساتھ رہ ، اگر تو چاہے تو اس سے جدا رہ جب تک تجھے نہ روکے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8967

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8968

8968 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي، وَإِنَّهَا لَأَمَامَهُ، بَيْنَ نَبِيِّ اللَّهِ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ [ص:11] خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تھے ، میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان ہوتی تھی ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8968

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8969

8969 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الْمُضَمْرَةِ، فَكَانَتْ تُرْسَلُ مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاع، وَسَابَقَ الْخَيْلَ الَّتِي لَمْ تَضْمُرْ، وَكَانَتْ تُرْسَلُ، وَكَانَ أَمَدُهَا مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ إِلَّا ابْنُ لَهِيعَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الْأَسْوَدِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان مقابلہ کروایا کرتے، حفیاء کے مقام سے انہیں چھوڑا جاتا تھا اور ثنتہ الوداع ان کی انتہا ہوتی تھی اور جن گھوڑوں کو نہیں سکھایا گیا تھا، ان کا مقابلہ کرواتے ، انہیں بھی چھوڑا جاتا تھا لیکن ان کا میدان بنی زریق کی مسجد ہوتا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8969

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8970

8970 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ» لَمْ يَرِو هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا أَبُو الْأَسْوَدِ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو طعام خریدے تو وہ اس کو فروخت نہ کرے یہاں تک کہ پہلے آدمی سے اس پورا کر کے لے لے۔

ابْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← مِقْدَامٌ،

Hadith 8970

chevron_left Previous
1234…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male