المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8959
8959 - حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَتَمَةَ، ثُمَّ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ سَبْعَ رَكَعَاتٍ، يُسَلِّمُ فِي الْأَرْبَعِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، يَتَشَهَّدُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ تَشَّهُدَهُ فِي التَّسْلِيمِ، وَيُوتِرُ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَيَرْقُدُ، فَإِذَا انْتَبَهَ مِنْ نَوْمِهِ، قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أنَامَنِي فِي عَافِيَةٍ، وَأَيْقَظَنِي فِي عَافِيَةٍ» ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَتَفَكَّرُ، ثُمَّ يَقُولُ: {رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [آل عمران: 191] فَيَقْرَأُ حَتَّى يَبْلُغَ {إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ} [آل عمران: 194] ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَيُكْثِرُ فِيهِمَا الدُّعَاءَ، حَتَّى إِنَّى لَأَرْقُدُ وَأَسْتَيْقِظُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَضْطَجِعُ فَيُغْفِي، ثُمَّ يَتَضَوَّرُ، ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا تَكَلَّمَ فِي الْأُوَّلِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ هُمَا أَطْوَلُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، وَهُوَ فِيهِمَا أَشَدُّ تَضَرُّعًا وَاسْتِغْفَارًا، حَتَّى أَقُولَ: هَلْ هُوَ مُنْصَرِفٌ؟ وَيَكُونُ ذَلِكَ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيُغْفِي قَلِيلًا فَأَقُولُ: هَذَا غَفَا أَمْ لَا؟ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الْأُولَى، ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَدْعُو بِالسِّوَاكِ فَيَسْتَنُّ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاتُهُ ثَلَاثَ عَشَرَ رَكْعَةً لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا ابْنُ لَهِيعَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء پڑھتے تھے ، پھر گھر میں نماز پڑھتے ، واپس جا کر سات رکعتیں ، چار رکعتیں پڑھتے ، دو پڑھ کر سلام پھیرتے اور تین رکعت وتر پڑھتے ، وتروں کی دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور تیسری میں سلام پھیرتے اور وتروں میں معوذتین پڑھتے ، جب گھر واپس آتے تو دو رکعت پڑھتے اور سو جاتے، جب آپ نیند سے اٹھتے تو یہ دعا کرتے: تمام خوبیاں اللہ کے لیے جس نے نیند سے عافیت دی اور اپنی عافیت میں جگایا، پھر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تو غور کرتے ، پھر پڑھتے : اے ہمارے رب! تو نے باطل نہیں پیدا کیا ، تیرے لیے پاکی ہے ، ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا ، آپ’’انك لا تخلف الميعاد ‘‘ تک پڑھتے، پھر آپ وضو کرتے، پھر کھڑے ہوتے اور دو رکعت نفل پڑھتے، ان دونوں میں قرأت اور رکوع و سجود لمبا کرتے، ان میں کثرت سے دعا کرتے یہاں تک کہ میں سوتی اور جاگتی، پھر آپ سلام پھیرتے اور لیٹ جاتے ۔ آپ کے لیٹنے کی آواز آتی، پھر آپ پہلے کی طرح گفتگو کر تے، پھر آپ کھڑے ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے، دونوں کو پہلی سے لمبا کرتے ، ان دونوں میں گڑگڑاتے اور بخشش مانگتے (اپنی امت کے لیے) یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ چھوڑیں گے! یہ آخر رات تک معاملہ رہتا، پھر آپ اٹھتے اور تھوڑی دیر کے لیے لیٹتے، آپ کے پاس مؤذن آتا اور پہلے کی طرح عرض کرتا آپ بیٹھتے پھر آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے، پھر دو مختصر رکعتیں سنتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکلتے ، آپ اپنی نماز کی تیرہ رکعتیں ادا کرتے تھے ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ← مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،
Hadith 8959
