Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9127

9127 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ [ص:61] عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ، ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَرْبَدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ جُزَيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ كِلَابٍ، وَعَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَدِمَا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَجَلَسَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ: يَا مُحَمَّدُ، مَا تَجْعَلُ لِي إِنْ أَسْلَمْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ» قَالَ عَامِرٌ: أَتَجْعَلُ لِيَ الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ» قَالَ عَامِرٌ: أَتَجْعَلُ لِيَ الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ وَلَا لِقَوْمِكَ، وَلَكِنْ لَكَ أَعِنَّةُ الْخَيْلِ» قَالَ: أَنَا الْآنَ لِي أَعِنَّةُ الْخَيْلِ تُجَرُّ، اجْعَلْ لِيَ الْوَبَرَ وَلَكَ الْمَدَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» فَلَمَّا خَرَجَ أَرْبَدُ وَعَامِرٌ، قَالَ عَامِرٌ: يَا أَرْبَدُ، إِنِّي أَشْغَلُ عَنْكَ مُحَمَّدًا بِالْحَدِيثِ فَاضْرِبْهُ بِالسَّيْفِ، فَإِنَّ النَّاسَ إِذَا قَتَلْتَ مُحَمَّدًا لَمْ يَزِيدُوا عَلَى أَنْ يَرْضَوْا بِالدِّيَةِ، وَيَكْرَهُوا الْحَرْبَ، فَسَنُعْطِيهِمُ الدِّيَةَ، قَالَ أَرْبَدُ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَقْبَلَا رَاجِعَيْنِ إِلَيْهِ، فَقَالَ عَامِرٌ: يَا مُحَمَّدُ، قُمْ مَعِي أُكَلِّمْكَ، فَقَامَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَلَّقًا إِلَى الْجِدَارِ، وَوَقَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ، وَسَلَّ أَرْبَدُ السَّيْفَ، فَلَمَّا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى السَّيْفِ يَبِسَتْ عَلَى قَائِمَةِ السَّيْفِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ سَلَّ السَّيْفِ، وَأَبْطَأَ أَرْبَدُ عَلَى عَامِرٍ بِالضَّرْبِ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى عَامِرًا وَمَا يَصْنَعُ، فَانْصَرَفَ عَنْهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَ عَامِرٌ وَأَرْبَدَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضَيَا حَتَّى إِذَا كَانَا بِالْحَرَّةِ - حَرَّةِ بَنِي وَاقِمٍ - نَزَلَا، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، فَقَالَ: اشْخَصَا يَا عَدُوَّيِ اللَّهِ، فَقَالَ عَامِرٌ: مَنْ هَذَا يَا سَعْدُ؟ قَالَ: أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْكَتَائِبُ، فَخَرَجَا حَتَّى إِذَا كَانَا بِالرَّقَمِ أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى أَرْبَدَ صَاعِقَةً فَقَتَلَتْهُ، [ص:62] وَخَرَجَ عَامِرٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْخُرَيْمِ أَرْسَلَ اللَّهُ قُرْحَةً فَأَخَذَتْهُ، فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي سَلُولٍ، فَجَعَلَ يَمَسُّ الْقُرْحَةَ فِي حَلْقِهِ، وَيَقُولُ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ، يَرْغَبُ أَنْ يَمُوتَ فِي بَيْتِهَا، ثُمَّ رَكَبَ فَرَسَهُ، فَأَحْضَرَهُ حَتَّى مَاتَ عَلَيْهِ رَاجِعًا، فَأَنْزَلَ فِيهِمَا: {اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ} [الرعد: 8] إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ} [الرعد: 11] قَالَ: الْمُعَقِّبَاتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ يَحْفَظُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ أَرْبَدَ وَمَا قَتَلَهُ، فَقَالَ: {هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا} [الرعد: 12] إِلَى قَوْلِهِ: {وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ} [الرعد: 13] . لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ إِلَّا ابْنَاهُ، وَلَا رَوَاهُ عَنْهُمَا إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

اربد بن قیس اور عامر بن طفیل مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس حال میں پہنچے کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے وہ دونوں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ عامر بن طفیل بولا : اے محمد! اگر میں اسلام لاؤں تو آپ میرے لیے کیا بنائیں گے؟ آپ نے فرمایا: تیرے وہی حقوق ہوں گے جو دیگر مسلمانوں کے ہیں اور تجھ پر وہی فرائض ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں پر ہیں ۔ عامر نے کہا: اگر میں آپ کے بعد مسلمان بنوں تو میرے لیے حکومت ہو گی ۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے دوسرے مسلمانوں جیسے حقوق و فرائض ہوں گے ۔ عامر نے کہا: اگر میں آپ کے بعد اسلام قبول کروں تو میں ولی بنوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تجھے اور نہ تیری قوم کو یہ حق ملے گا ، ہاں! تیرے لیے گھوڑے ہوں گے ۔ اس نے کہا: گھوڑے تو اب بھی میرے پاس بہت ہیں جن کو آگے سے پکڑ کر کھینچا جاتا ہے لیکن میرے لیے اونٹ بناؤ تو آپ کے لیے پختہ گھر ہوں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! جب اربد اور عامر وہاں سے اٹھ کر نکلے۔ عامر نے کہا: اے اربد! میں محمد کو باتوں میں مصروف کر کے تجھ سے بے خیال کر دوں گا تو ان کو تلوار سے مار دینا کیونکہ جب تو نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کر دیا تو زیادہ سے زیادہ لوگ دیت پر ہی راضی ہوں گے ، جنگ کو نا پسند کریں گے اور دیت ہم ان کو دے لیں گے ۔ اربد نے کہا: میں کر لوں گا۔ وہ لوٹ کر آپ کے پاس واپس آئے۔ عامر نے کہا: اے محمد ! اُنہیں! میں آپ سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے دیوار سے ٹیک لگا کر ۔ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر آپ باتیں کرنے لگے۔ اربد نے تلوار کو سونت لیا ، جب اس نے تلوار پر اپنا ہاتھ رکھا تو تلوار کے دستہ کے ساتھ اس کا ہاتھ خشک ہو گیا۔ وہ تلوار سونتے پر قادر نہ ہوا۔ عامر کے سامنے اربد نے مارنے سے دیر کی ۔ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہوئے ۔ عامر اور اس کے کام کو دیکھا۔ ان دونوں سے آپ ایک طرف ہو گئے پس جب عامر اور اربد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے نکلے تو چلتے چلتے حرہ کے مقام پر پہنچے ، ہنو واقم قبیلہ والا خرّہ۔ وہاں اترے ، سعد بن معاذ اور اُسید بن حضیر نکل کر ان تک پہنچے۔ کہا: اے اللہ کے دشمنو! سامنے آؤ! عامر بولا : یہ کون ہے؟ اے سعد! کہا: اُسید بن حضیر۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر جب مقام رقم تک پہنچے تو اللہ نے اربد پر آسمانی بجلی نازل کی جس نے اس کو مار دیا۔ عامر وہاں سے نکلا جب خریم کے مقام پر گیا تو اللہ نے اس پر ایک سفیدی نازل کی جس نے اس کو آ لیا۔ بنی سلول کی ایک عورت کے گھر اسے رات آ گئی، وہ اپنے حلق میں اسے ٹٹولنے لگا اور کہتا: یہ تو سلولیہ کے گھر میں اونٹ کی غدود کی مانند کی غدود ہے ، اس کو پسند کیا کہ وہ اس کے گھر میں مرجائے ، پھر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ اس نے اسے حاضر کیا یہاں تک کہ واپس لوٹتے ہوئے مر گیا۔ ان دونوں کے بارے میں آیت نازل کی:’’الله يعلم الیٰ آخرہ ‘‘ اس قول تک:’’ وما لهم الیٰ آخرہ ‘‘اللہ کے حکم سے جو چیزیں نازل ہوتی ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرتی ہیں، پھر اربد اور اس کے قتل کا ذکر کیا ور فرمايا:"هو الذيی الىٰ آخرہ ‘‘ اس قول تک’’وهو شدید المحال‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِيهِمَا، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ، ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9127

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9128

9128 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا فَضَالَةُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ: «اجْلِسُوا» ، فَسَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسُوا» ، فَجَلَسَ فِي بَنِي غَنَمٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَاكَ ابْنُ رَوَاحَةَ جَالِسٌ فِي بَنِي غَنَمٍ، سَمِعَكَ وَأَنْتَ تَقُولُ لِلنَاسِ: «اجْلِسُوا» ، فَجَلَسَ فِي مَكَانِهِ لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَلَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا فَضَالَةُ بْنُ يَعْقُوبَ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے فرمایا: بیٹھو! عبداللہ بن رواحہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی وہ بنی تمیم میں بیٹھنے لگے ، عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ابن رواحہ بنی تمیم میں بیٹھ گیا آپ کا ارشادسن کر ، آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ ! وہ اپنی جگہ بیٹھ گئے ۔

عَائِشَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّ عُرْوَةَ ← إبراهيم بن إسماعيل ← فَضَالَةُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9128

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9129

9129 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا فَضَالَةُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِرَجُلٍ جَالِسٍ فِي صَلَاتِهِ، قَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ عَلَى عَيْنِهِ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجْلِسْ جِلْسَةَ [ص:63] قَوْمٍ قَدْ عُذِّبُوا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، تَفَرَّدَ بِهِ فَضَالَةُ بْنُ يَعْقُوبَ

حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز میں بیٹھا ہوا تھا اور اپنا بایاں ہاتھ نماز میں آنکھ پر رکھا تھا۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کی طرح نہ بیٹھوجن کو عذاب دیا گیا۔

نَافِعٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← إبْرَاهِيمَ أَبِي إسْمَاعِيلَ ← فَضَالَةُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9129

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9130

9130 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا؛ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ، وَيُسَمِّي قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ. وَلَا قَالَ أَحَدٌ مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ: «وَيُسَمِّي قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا» ، إِلَّا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے اٹھے تو اپنے ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے یہاں تک کہ دھولے کیونکہ اس کو معلوم نہیں ہے کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے اور برتن میں داخل کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9130

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9131

9131 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: إِمَامٌ يُقْسِطَ، وَرَجُلٌ يَتَصَدَّقُ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ، وَرَجُلٌ بَذَلَتْ لَهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَمِيسَمٍ نَفْسَهَا، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَرَجُلٌ ذُكِرَ اللَّهُ عِنْدَهُ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ لَقِيَ رَجُلًا، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ، فَقَالَ: وَأَنَا أُحِبُّكَ لِلَّهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو ضَمْرَةَ. [ص:64] وَالْمَشْهُورُ: مِنْ حَدِيثِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل سات آدمیوں کو قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ دے گا: (۱) عادل بادشاہ (۲)ایسے آدمی کو جو دائیں ہاتھ سے اس طرح صدقہ کرے کہ بائیں کو معلوم نہ ہو ، ایک وہ آدمی جو کہ حسب و نسب والی عورت کو دعوت دے وہ کہے: میں تمام کائنات کے پالنے والے رب سے ڈرتا ہوں ، ایک وہ آدمی جو اللہ کا ذکر کرے اور تنہائی میں اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں اللہ کے ڈر سے ، ایک وہ آدمی جو دوسرے آدمی سے کہے: اللہ کی قسم! میں اللہ کے لیے آپ سے محبت کرتا ہوں ، میں اللہ کے لیے آپ سے محبت کرتا ہوں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الأَسْلَمِيِّ ← أَبُو ضَمْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9131

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9132

9132 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: هَاكَهَا خَضِرَةٌ، فَقَالَ: «يَا لَبَّيْكَ، أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَثِيرٍ إِلَّا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ

حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ ہاں یہ سبز ہے ، آپ نے فرمایا: اے میں حاضر ہوں! ہم نے تیرے منہ سے جو بات کی ہے ، اس سے اچھی فال لیں گے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9132

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9133

9133 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّافِعِيُّ، نَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ خَمْسًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَثِيرٍ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّافِعِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت نجاشی کے نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں پڑھیں ۔

كَثِيرٍ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّافِعِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ خَمْسًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّافِعِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9133

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9134

9134 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرُ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن اللہ عزوجل جہنم سے بندوں کو کثرت سے آزاد کرتا ہے ، اس کی رحمت ان کے قریب ہوتی ہے ، اللہ عزوجل فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے ، فرماتا ہے: ان کا کیا ارادہ ہے!

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9134

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9135

9135 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، حَدَّثَهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَعَمِّي مُرْدِفِي، وَهُوَ وَاضِعٌ إِصْبَعَيْهِ إِحْدَيْهِمَا عَلَى الْأُخْرَى، فَقُلْتُ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ [ص:65] قَالَ: يَقُولُ: «ارْمُوا الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍ وَرَوَاهُ النَّاسُ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ خَارِجَةَ

حضرت حمزه بن عمرو الاملی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن دیکھا ، میرے چچا میرے پیچھے تھے ، انہوں نے اپنی دونوں انگلیوں میں ایک دوسری کے اوپر رکھے ہوئے تھیں ، میں نے عرض کی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ کہا:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ٹھیکری کی مثل کنکری مارو۔

يحيى بنِ هندٍ، ← ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9135

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9136

9136 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُوسَى بْن عُقْبَةَ إِلَّا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَلَا عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ إِلَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9136

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9137

9137 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ، - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ عَائِشَةَ، - أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا كَانَ نَبِيٌّ قَطُّ إِلَّا فِي أُمَّتِهِ مُعَلِّمٌ أَوْ مُعَلِّمَانِ، وَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، إِنَّ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ: «إِنَّ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت عبداللہ بن محمد بن ابو عتیق اپنے والد کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی ُامت میں ایک معلم یا دو معلم ہوتے ہیں ، اگر میری امت میں کوئی ہے تو حضرت عمر بن خطاب ہیں ، حق عمر کی زبان اور دل پر ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← عبد الله بن محمد بن أبي عتيق ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9137

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9138

9138 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نُودِيَ: أَيْنَ أَبْنَاءُ السِّتِّينَ؟ وَهُوَ الْعُمُرُ الَّذِي قَالَ: {أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ} [فاطر: 37] » لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءٍ إِلَّا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، وَلَا عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، وَلَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا. جب قیامت کا دن ہو گا تو آواز دی جائے گی: کہاں ہیں ساٹھ سال کی عمر والے! یہ وہی عمر ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا کہ کیا ہم نے تم کو ایسی عمر نہیں دی تھی جس میں نصیحت پکڑنے والا نصیحت پڑ سکتا ہے اور تمہارے پاس ڈر سنانے والا آیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9138

chevron_left Previous
1…151617…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male