المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9127
9127 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ [ص:61] عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ، ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَرْبَدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ جُزَيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ كِلَابٍ، وَعَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَدِمَا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَجَلَسَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ: يَا مُحَمَّدُ، مَا تَجْعَلُ لِي إِنْ أَسْلَمْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ» قَالَ عَامِرٌ: أَتَجْعَلُ لِيَ الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ» قَالَ عَامِرٌ: أَتَجْعَلُ لِيَ الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ وَلَا لِقَوْمِكَ، وَلَكِنْ لَكَ أَعِنَّةُ الْخَيْلِ» قَالَ: أَنَا الْآنَ لِي أَعِنَّةُ الْخَيْلِ تُجَرُّ، اجْعَلْ لِيَ الْوَبَرَ وَلَكَ الْمَدَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» فَلَمَّا خَرَجَ أَرْبَدُ وَعَامِرٌ، قَالَ عَامِرٌ: يَا أَرْبَدُ، إِنِّي أَشْغَلُ عَنْكَ مُحَمَّدًا بِالْحَدِيثِ فَاضْرِبْهُ بِالسَّيْفِ، فَإِنَّ النَّاسَ إِذَا قَتَلْتَ مُحَمَّدًا لَمْ يَزِيدُوا عَلَى أَنْ يَرْضَوْا بِالدِّيَةِ، وَيَكْرَهُوا الْحَرْبَ، فَسَنُعْطِيهِمُ الدِّيَةَ، قَالَ أَرْبَدُ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَقْبَلَا رَاجِعَيْنِ إِلَيْهِ، فَقَالَ عَامِرٌ: يَا مُحَمَّدُ، قُمْ مَعِي أُكَلِّمْكَ، فَقَامَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَلَّقًا إِلَى الْجِدَارِ، وَوَقَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ، وَسَلَّ أَرْبَدُ السَّيْفَ، فَلَمَّا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى السَّيْفِ يَبِسَتْ عَلَى قَائِمَةِ السَّيْفِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ سَلَّ السَّيْفِ، وَأَبْطَأَ أَرْبَدُ عَلَى عَامِرٍ بِالضَّرْبِ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى عَامِرًا وَمَا يَصْنَعُ، فَانْصَرَفَ عَنْهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَ عَامِرٌ وَأَرْبَدَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضَيَا حَتَّى إِذَا كَانَا بِالْحَرَّةِ - حَرَّةِ بَنِي وَاقِمٍ - نَزَلَا، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، فَقَالَ: اشْخَصَا يَا عَدُوَّيِ اللَّهِ، فَقَالَ عَامِرٌ: مَنْ هَذَا يَا سَعْدُ؟ قَالَ: أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْكَتَائِبُ، فَخَرَجَا حَتَّى إِذَا كَانَا بِالرَّقَمِ أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى أَرْبَدَ صَاعِقَةً فَقَتَلَتْهُ، [ص:62] وَخَرَجَ عَامِرٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْخُرَيْمِ أَرْسَلَ اللَّهُ قُرْحَةً فَأَخَذَتْهُ، فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي سَلُولٍ، فَجَعَلَ يَمَسُّ الْقُرْحَةَ فِي حَلْقِهِ، وَيَقُولُ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ، يَرْغَبُ أَنْ يَمُوتَ فِي بَيْتِهَا، ثُمَّ رَكَبَ فَرَسَهُ، فَأَحْضَرَهُ حَتَّى مَاتَ عَلَيْهِ رَاجِعًا، فَأَنْزَلَ فِيهِمَا: {اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ} [الرعد: 8] إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ} [الرعد: 11] قَالَ: الْمُعَقِّبَاتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ يَحْفَظُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ أَرْبَدَ وَمَا قَتَلَهُ، فَقَالَ: {هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا} [الرعد: 12] إِلَى قَوْلِهِ: {وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ} [الرعد: 13] . لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ إِلَّا ابْنَاهُ، وَلَا رَوَاهُ عَنْهُمَا إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ
اربد بن قیس اور عامر بن طفیل مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس حال میں پہنچے کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے وہ دونوں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ عامر بن طفیل بولا : اے محمد! اگر میں اسلام لاؤں تو آپ میرے لیے کیا بنائیں گے؟ آپ نے فرمایا: تیرے وہی حقوق ہوں گے جو دیگر مسلمانوں کے ہیں اور تجھ پر وہی فرائض ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں پر ہیں ۔ عامر نے کہا: اگر میں آپ کے بعد مسلمان بنوں تو میرے لیے حکومت ہو گی ۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے دوسرے مسلمانوں جیسے حقوق و فرائض ہوں گے ۔ عامر نے کہا: اگر میں آپ کے بعد اسلام قبول کروں تو میں ولی بنوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تجھے اور نہ تیری قوم کو یہ حق ملے گا ، ہاں! تیرے لیے گھوڑے ہوں گے ۔ اس نے کہا: گھوڑے تو اب بھی میرے پاس بہت ہیں جن کو آگے سے پکڑ کر کھینچا جاتا ہے لیکن میرے لیے اونٹ بناؤ تو آپ کے لیے پختہ گھر ہوں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! جب اربد اور عامر وہاں سے اٹھ کر نکلے۔ عامر نے کہا: اے اربد! میں محمد کو باتوں میں مصروف کر کے تجھ سے بے خیال کر دوں گا تو ان کو تلوار سے مار دینا کیونکہ جب تو نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کر دیا تو زیادہ سے زیادہ لوگ دیت پر ہی راضی ہوں گے ، جنگ کو نا پسند کریں گے اور دیت ہم ان کو دے لیں گے ۔ اربد نے کہا: میں کر لوں گا۔ وہ لوٹ کر آپ کے پاس واپس آئے۔ عامر نے کہا: اے محمد ! اُنہیں! میں آپ سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے دیوار سے ٹیک لگا کر ۔ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر آپ باتیں کرنے لگے۔ اربد نے تلوار کو سونت لیا ، جب اس نے تلوار پر اپنا ہاتھ رکھا تو تلوار کے دستہ کے ساتھ اس کا ہاتھ خشک ہو گیا۔ وہ تلوار سونتے پر قادر نہ ہوا۔ عامر کے سامنے اربد نے مارنے سے دیر کی ۔ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہوئے ۔ عامر اور اس کے کام کو دیکھا۔ ان دونوں سے آپ ایک طرف ہو گئے پس جب عامر اور اربد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے نکلے تو چلتے چلتے حرہ کے مقام پر پہنچے ، ہنو واقم قبیلہ والا خرّہ۔ وہاں اترے ، سعد بن معاذ اور اُسید بن حضیر نکل کر ان تک پہنچے۔ کہا: اے اللہ کے دشمنو! سامنے آؤ! عامر بولا : یہ کون ہے؟ اے سعد! کہا: اُسید بن حضیر۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر جب مقام رقم تک پہنچے تو اللہ نے اربد پر آسمانی بجلی نازل کی جس نے اس کو مار دیا۔ عامر وہاں سے نکلا جب خریم کے مقام پر گیا تو اللہ نے اس پر ایک سفیدی نازل کی جس نے اس کو آ لیا۔ بنی سلول کی ایک عورت کے گھر اسے رات آ گئی، وہ اپنے حلق میں اسے ٹٹولنے لگا اور کہتا: یہ تو سلولیہ کے گھر میں اونٹ کی غدود کی مانند کی غدود ہے ، اس کو پسند کیا کہ وہ اس کے گھر میں مرجائے ، پھر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ اس نے اسے حاضر کیا یہاں تک کہ واپس لوٹتے ہوئے مر گیا۔ ان دونوں کے بارے میں آیت نازل کی:’’الله يعلم الیٰ آخرہ ‘‘ اس قول تک:’’ وما لهم الیٰ آخرہ ‘‘اللہ کے حکم سے جو چیزیں نازل ہوتی ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرتی ہیں، پھر اربد اور اس کے قتل کا ذکر کیا ور فرمايا:"هو الذيی الىٰ آخرہ ‘‘ اس قول تک’’وهو شدید المحال‘‘۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِيهِمَا، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ، ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9127
