Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9103

9103 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ جَعْفَرٍ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قاضی بنایا گیا وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔

إِسْحَاقَ بْنِ جَعْفَرٍ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← «مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9103

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9104

9104 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي خَالِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي بِصَلَاتِهِ فَلَا يَعْدُو بَصَرُهُ مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَا يَعْدُو بَصَرُهُ مَوْضِعَ جَنْبَيْهِ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ عُمَرُ، وَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ لَا يَعْدُو بَصَرُهُ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ يَمِينَا وَشِمَالًا» لَا يُرْوَى عَنْ أُمّ سَلَمَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نما زپڑھتے تو اپنی نگاہ قدموں کی جگہ سے نہیں اٹھاتے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت ابو بکر کا دور حکومت آ یا ، لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنی نگاہ قدموں کی جگہ سے نہیں اٹھاتے تھے ، حضرت ابو بکر کا وصال ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں جب نماز پڑھتے تھے تو قبلہ سے اپنی نگاہیں نہیں اٹھاتے تھے ، حضرت عثمان کا دور حکومت آ یا لوگ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو نماز میں دائیں بائیں جانب توجہ نہیں کرتے تھے ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9104

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9105

9105 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَاتَّبَعَهُ فِي سِكَّةٍ سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ، فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ، فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَبَصُرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ، فَهَبَطْتُ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ وَهُوَ [ص:50] سَاجِدٌ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ، وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَسَأْتُ بِكَ الظَّنَّ، وَظَنَنْتُ أَنَّكَ قَدْ قُبِضْتَ، فَقَالَ: «جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ: مَا تُحِبُّ أَنْ أَفْعَلَ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَنِي، فَقَالَ: إِنَّهُ يَقُولُ: لَا أَسُوءُكَ فِي أُمَّتِكَ، فَسَجَدْتُ، فَأَفْضَلُ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ السُّجُودُ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے نکلے ، آپ نہیں ملے تو آپ کو گھر میں دیکھا تو آپ گھر میں نہیں تھے ، آپ کو گلی میں دیکھا تو مجھے یہ بتایا گیا کہ آپ وہاں جبل ثواب پر چڑھے ، دائیں بائیں جانب دیکھا ، نماز میں دیکھا ، جس کو لوگوں نے مسجد فتح کی طرف جانے کا راستہ بنایا تھا ، دیکھا تو آپ حالت سجدہ میں تھے ، میں پہاڑ کی چوٹی سے اترا ، آپ سجدہ کی حالت میں تھے ، آپ نے سرنہیں اٹھایا یہاں تک کہ مجھے آپ کے متعلق بُرا گمان ہوا ، میں نے گمان کیا کہ آپ کا وصال ہو گیا ہے ، جب آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے آپ کے متعلق یہ گمان کیا ہے ، میں نے گمان کیا کہ آپ کا وصال ہو گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبریل آئے تھے اس جگہ ، عرض کرنے لگے: اللہ عزوجل آپ کو سلام کہتا ہے اور آپ کو فرماتا ہے کہ آپ اپنی اُمت کے ساتھ کیا کروانا پسند کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اللہ زیادہ جانتا ہے! حضرت جبریل گئے ، پھر آئے اور عرض کرنے لگے : اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ میں آپ کو آپ کی اُمت کے حوالہ سے ناراض نہیں کروں گا، میں نے سجدہ کیا کیونکہ بندہ اللہ کے قریب حالت سجدہ میں ہوتا ہے ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عِكْرِمَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9105

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9106

9106 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْغِفَارِيُّ، نَا مُوسَى بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَعْطَى بَيْعَتَهُ ثُمَّ نَكَثَهَا، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَتْ مَعَهُ يَمِينُهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُوسَى إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ "

حضرت موسیٰ بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے بیت کی پھر اس کو توڑ کر وہ اللہ عزوجل سے ملے گا تو قیامت کے دن اس کے ساتھ قسم نہیں ہو گی ۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْغِفَارِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9106

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9107

9107 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْفُضَيْلِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَطُّ إِلَّا لَهُ فِي أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ مِنْ أَصْحَابِهِ، يَتَّبِعُونَ أَمْرَهُ، وَيَهْتَدُونَ بِسُنَّتِهِ» [ص:51] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ جَعْفَرٍ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی امت میں اس کے اصحاب میں سے حواری تھے جو اس کے حکم کی اتباع کرتے اور اس کی سنت کی راہنمائی کرتے ہیں۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، ← الْحَارِثِ بْنِ الْفُضَيْلِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9107

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9108

9108 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ الْفُرَاتِ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى، فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُكَبِّرْ فِيهِمَا إِلَّا تَكْبِيرَةً تَكْبِيرَةً» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا مانگی ، آپ نے نماز سے پہلے خطبہ دیا اور قبلہ رُخ کیا اور اپنی چادر کو پلٹا ، پھر آپ منبر سے اترے ، دو رکعت نفل پڑھی ، ان میں صرف ایک بار اللہ اکبر کہا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ الْفُرَاتِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9108

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9109

9109 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الشَّيْخِ، فَقُلْ لَهُ: يَقُولُ لَكَ عَمِّي مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُهُ، «فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ أَنَا وَغِلْمَةٌ مَعِي، فَوَجَدْنَاهُ يَأْكُلُ تَمْرًا فِي قِنَاعٍ، وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَبَضَ لَنَا مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ قَبْضَةً قَبْضَةً، وَمَسَحَ عَلَى رُءُوسِنَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت اسحاق بن یحیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں کہ میں موسیٰ بن طلحہ کے ساتھ تھا مسجد میں تو حضرت سائب بن یزید داخل ہوئے ، فرمایا: اس بزرگ کے پاس جاؤ! ان سے عرض کرو کہ آپ کو میرے چچا موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ، میں کے پاس آیا، میں نے عرض کی : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کو دیکھا ہے؟ فرمایا: میں نے آپ کو دیکھا ہے ، میں آپ کے پاس آیا تو میرے ساتھ ایک بچہ تھا ، ہم نے پایا کہ آپ برتن میں کھجوریں تناول کر رہے تھے ، آپ کے ساتھ چند صحابہ کرام بھی تھے ، آپ نے ہمیں ایک مٹھی کھجوریں دیں اور ہمارے سروں پر دست إشفقت پھیرا۔

إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9109

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9110

9110 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ [ص:52] ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَتَبِعْتُهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ: هَذَا الْمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاسْتَأْخَرَ عَنِّي، فَاسْتَأْخَرْتُ عَنْهُ، فَاسْتَنْجَى بِالْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: «صُبَّ عَلَيَّ» ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا أَبُو مَعْشَرٍ، وَلَا عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت حمزه بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک کے لیے نکلے ، جب آدھا راستہ طے کیا تو آپ قضاء حاجت کے لیے گئے ، میں آپ کے پیچھے ہوا ، جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ پانی ہے ، آپ مجھ سے دور ہوئے ، میں آپ سے دور ہوا ، آپ نے پانی سے استنجاء کیا ، پھرفر ما یا: مجھ پر پانی ڈالو! میں نے آپ پر پانی ڈالا تو آپ نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ اور دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور سر اور موزوں پر مسح کیا۔

أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أبو معشر ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9110

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9111

9111 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَسَنِ بْن أَبِي رَافِعٍ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ذِي الْبِجَادَيْنِ الَّذِي هَلَكَ فِي غَزْوَة تَبُوكَ، أَنَّهُ هَلَكَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُفْرَتِهِ، وَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: «أَدْلِيَا إِلَيَّ أَخَاكُمَا» ، فَلَمَّا وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَحْدِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي رَاضٍ عَنْهُ، فَارْضَ عَنْهُ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي صَاحِبُ الْحُفْرَةِ لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ذی بجادین جو غزوۂ تبوک میں وصال کر گئے ان کا وصال آدھی رات کے وقت ہوا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی قبر میں اترے اور حضرت ابو بکر وعمر سے فرمایا: تم دونوں اپنے بھائی کو نیچے کرو! جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو لحد میں رکھا تو عرض کی: اے اللہ ! میں اس سے راضی تھا تو اس سے راضی ہو! حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے خواہش کی کہ میں صاحب قبر میں ہوتا ۔

عَبْدِ اللَّهِ ذِي الْبِجَادَيْنِ الَّذِي هَلَكَ فِي غَزْوَة تَبُوكَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَسَنِ بْن أَبِي رَافِعٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9111

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9112

9112 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ وَاقِمٍ عَرَضَتِ امْرَأَةٌ بَدَوِيَّةٌ بِابْنٍ لَهَا، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا ابْنِي قَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: «أَدْنِيهِ مِنِّي» ، فَأَدْنَتْهُ مِنْهُ، فَقَالَ: «افْتَحِي فَمَهُ» ، فَفَتَحَتْهُ، فَبَصَقَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ» - قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ -، ثُمَّ قَالَ: «شَأْنُكِ [ص:53] بِابْنِكِ، لَيْسَ عَلَيْهِ بَأْسٌ، فَلَنْ يَعُودَ إِلَيْهِ شئٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ» ، ثُمَّ خَرَجْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، ضَحْوًا دَيْمُومَةٌ لَيْسَ فِيهَا شَجَرَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَابِرٍ: «يَا جَابِرُ، انْطَلِقْ فَانْظُرْ لِي مَكَانًا» - يَعْنِي لِلْوُضُوءِ -، فَخَرَجْتُ أَنْطَلِقُ، فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا شَجَرَتَيْنِ مُفْتَرِّقَتَيْنِ، لَوْ أَنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا سَتَرَتَاهُ، فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا يَسْتُرُكَ إِلَّا شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ لَوْ أَنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا سَتَرَتَاكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْطَلِقْ إِلَيْهِمَا، فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكُمَا: اجْتَمِعَا» قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَقُلْتُ لَهُمَا، فَاجْتَمَعَا حَتَّى كَأَنَّهُمَا فِي أَصْلٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: «ائْتِهِمَا، فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: ارْجِعَا كَمَا كُنْتُمَا، كُلُّ وَاحِدَةٍ إِلَى مَكَانِهَا» ، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكُمَا: «ارْجِعَا كَمَا كُنْتُمَا» ، فَرَجَعَتَا ثُمَّ خَرَجْنَا فَنَزَلْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ بَنِي مُحَارِبٍ، فَعَرَضَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبٍ يُقَالُ لَهُ: غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَعْطِنِي سَيْفَكَ هَذَا، فَسَلَّهُ، ونَاوَلَهُ إِيَّاهُ، فَهَزَّهُ وَنَظَرَ إِلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ» ، فَارْتَعَدَتْ يَدُهُ، حَتَّى سَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَتَنَاوَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا غَوْرَثُ، مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟» قَالَ: لَا أَحَدَ، بِأَبِي أَنْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اكْفِنَا غَوْرَثًا وَقَوْمَهُ» ثُمَّ أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِشِّ طَيْرٍ يَحْمِلُهُ [ص:54] فِيهِ فِرَاخٌ، وَأَبَوَاهُ يَتْبَعَانِهِ، وَيَقَعَانِ عَلَى يَدِ الرَّجُلِ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ كَانَ مَعَهُ، فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ بِفِعْلِ هَذَيْنِ الطَّيْرَيْنِ بِفِرَاخِهِمَا؟ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذَيْنِ الطَّيْرَيْنِ بِفِرَاخِهِمَا» ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ، حَتَّى كُنَّا بِحَرَّةِ وَاقِمٍ عَرَضَتْ لَنَا الْأَعْرَابِيَّةُ الَّتِي جَاءَتْ بِابْنِهَا بِوَطْبٍ مِنْ لَبَنٍ وَشَاةٍ، وَأَهْدَتْهُ لَهُ، فَقَالَ: «مَا فَعَلَ ابْنُكِ؟ هَلْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ؟» قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ، وَقَبِلَ هَدِيَّتَهَا، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَهْبِطٍ مِنَ الْحَرَّةِ أَقْبَلَ جَمَلٌ يُرْقِلُ، فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا قَالَ هَذَا الْجَمَلُ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «هَذَا جَمَلٌ جَاءَنِي يَسْتَعِيذُنِي عَلَى سَيِّدِهِ، يَزْعُمُ أَنَّهُ كَانَ يَحْرُثُ عَلَيْهِ مُنْذُ سِنِينَ حَتَّى إِذَا أَجْرَبَهُ وَأَعْجَفَهُ وَكَبُرَ سِنُّهُ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَهُ، اذْهَبْ مَعَهُ يَا جَابِرُ إِلَى صَاحِبِهِ فَائْتِ بِهِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْرِفُ صَاحِبَهُ، قَالَ: «إِنَّهُ سَيَدُلُّكَ عَلَيْهِ» ، قَالَ: فَخَرَجَ بَيْنَ يَدَيَّ مُعْتَقًا حَتَّى وَقَفَ بِي فِي مَجْلِسِ بَنِي خَطْمَةَ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَجِئْتُهُ، فَقُلْتُ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَج مَعِي حَتَّى جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ جَمَلَكَ هَذَا يَسْتَعِيذُنِي عَلَيْكَ، يَزْعُمُ أَنَّكَ حَرَثْتَ عَلَيْهِ زَمَانًا حَتَّى أَجْرَبْتَهُ وَأَعْجَفْتَهُ وَكَبُرَ سِنُّهُ ثُمَّ أَرَدْتَ أَنْ تَنْحَرَهُ؟» قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِعْنِيهِ» ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ، ثُمَّ سَيَّبَهُ فِي الشَّجَرَةِ حَتَّى نَصَبَ سَنَامًا، وَكَانَ إِذَا اعْتَلَّ عَلَى بَعْضِ الْمُهَاجِرِينَ أَوِ الْأَنْصَارِ مِنْ نَوَاضِحِهِمْ شَيْءٌ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَمَكَثَ بِذَلِكَ زَمَانًا. قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ: كَانَتْ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ [ص:55] تُسَمَّى غَزْوَةَ الْأَعَاجِيبِ. لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ سُفْيَانَ، وَلَا عَنْ عَبْدِ الْحَكِيمِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، تَفَرَّدَ بِه إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم غزوۂ ذات الرقاع میں نکلے یہاں تک کہ جب ہم سخت گرمی میں تھے تو ایک بدوی عورت اپنے بیٹے کو لے کر ملی ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئی، عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے شیطان نے اس پر غلبہ دیا۔ آپ نے فرمایا: اس کو میرے قریب کر ۔ اس نے آپ کے قریب کیا تو آپ نے فرمایا: اس کا منہ کھولو! اس نے اس کا منہ کھولا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا ، پھر فرمایا: اے اللہ کے دشمن! نکل جا! میں اللہ کا رسول ہوں ! آپ نے یہ کلمات تین بار کہے ، پھر فرمایا: تیرے بیٹے کے ساتھ تیرے کام کا اس پر کوئی گناہ نہیں ، سو اس کو جو تکلیف پہنچ چکی ہے ، پہنچ چکی ہے ، اب اس کی طرف سے کوئی چیز ہرگز نہ لوٹے گی۔ پھر ہم چل کر چاشت کے وقت اپنی منزل مقصود پر پہنچے جنگل نما ایسی جگہ تھی جس میں کوئی درخت نہ تھا۔ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اے جابر! جا ہمارے لیے کوئی وضو کی جگہ دیکھے۔ میں نے جا کر دیکھا دو درخت الگ کھڑے تھے ، اگر وہ اکٹھے ہوتے تو پردہ بن جاتا۔ میں واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے پردے کے لیے ان دو درختوں کے علاوہ کوئی چیز نہیں دیکھی ، اگر یہ اکٹھے ہوں تو آپ کے لیے پردہ بن سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو جا کر بولو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں فرما رہے ہیں: اکٹھے ہو جاؤ! میں نے جا کر ان سے کہا تو وہ اکٹھے ہوگئے ، یوں لگتا تھا جیسے دونوں کی جڑ ایک ہے۔ پھر میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو آپ نے تشریف لے جا کر قضائے حاجت کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ نے فرمایا: اب ان دونوں کو جا کر کہو کہ اپنی اپنی جگہ لوٹ جاؤ، ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ ہو گیا ، جب میں نے ان دونوں کو جا کر کہا کہ اپنی اپنی جگہ چلے جاؤ۔ پھر ہم چلے اور بنی محارب کی ایک وادی میں حارثہ سے ، بنی محارب کا ایک آدمی سامنے آیا جس کوغورث بن حارث کہا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تلوار گلے میں لٹکائے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: اے محمد! مجھے اپنی یہی تلوار دے دیں۔ آپ نے نیام سے باہر نکال کر دے دی۔ اس نے تلوار کو لہرایا اور آپ کی طرف ایک گھڑی دیکھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ آور ہو کر کہنے لگا: اے محمد! آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے بڑے اطمینان سے فرمایا: تجھ سے مجھے میرا خدا بچائے گا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے یہاں تک کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی، سو آپ نے اپنی تلوار کو اٹھا کر فرمایا: اے غورث! اب تو بتا تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: کوئی بچانے والا نہیں! میرا باپ آپ پر قربان! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو غورث اور اس کی قوم کے لیے کافی ہو جا۔ پھر ہم واپس لوٹے ، ایک صحابی پرندے کا گھونسلا اٹھا کر لایا جس میں بچے تھے اور بچوں کے ماں باپ پیچھے پیچھے۔ اس آدمی کے ہاتھ سے گر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ان دونوں پرندوں کے اپنے بچوں کے ساتھ اس انداز میں محبت کا اظہار کرنے پر تعجب نہیں کرتے ؟ قسم اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا۔ اللہ تعالیٰ ان پرندوں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے ، جتنا یہ اپنے بچوں سے کر رہے ہیں ، پھر ہم وہاں سے لوٹے یہاں تک کہ سخت گرمی میں تھے ۔ وہی دیہاتی عورت اپنا بچہ لے کر اور بکری اور دودھ کی مشک کے ساتھ آئی ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں تحفہ پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے بیٹے کا کیا بنا؟ کیا اسے دوبارہ کوئی چیز لگی جو اسے پہلے پہنچی تھی؟ ہدیہ قبول فرمایا ، پھر ہم چلے۔ یہاں تک کہ جب ہم خوب گرمی اترنے کی جگہ پر تھے تو آگے سے ایک اونٹ ملا۔ اپنے انداز میں کچھ کہہ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو اس اونٹ نے کیا کہا؟ سب نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ یہ اونٹ اپنے سردار سے میری پناہ چاہتا ہے ، اس کا گمان ہے کہ وہ کئی سال سے اس پر ہل چلا رہا تھا یہاں تک کہ جب یہ بیمار اور بوڑھا لاغر ہو گیا تو اس نے اسے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے ۔ اے جابر! اس کے ساتھ جاؤ۔ اس کے مالک کو ساتھ لے آؤ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اس کے مالک کو نہیں پہچانتا۔ آپ نے فرمایا: یہ اونٹ تیری راہنمائی کرے گا۔ آپ فرماتے ہیں: وہ میرے سامنے سے آزاد ہو کر نکلا اور مجھے ساتھ لے کر بنی خطمہ کی مجلس میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں بن فلاں ہے۔ میں اس کے پاس آیا، میں نے اسے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلاتے ہیں ، وہ نکل کر میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: یہ تیرا اونٹ میرے پاس تیری شکایت کر رہا ہے ، اس کا گمان ہے کہ ایک لمبا زمانہ تو نے اس پر ہل چلائے یہاں تک کہ اب وہ بیمار ، لاغر اور بوڑھا ہو گیا ہے تو تُو نے اس کو ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے؟ اس نے عرض کی قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کوحق کے ساتھ بھیجا ہے! بات اسی طرح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے ہاتھوں بیچ دے۔ اس نے کہا: ہاں! یا رسول اللہ! آپ نے اس سے خرید لیا ، پھر اسے درختوں میں کھلا چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس کی کو ہان موٹی ہوگئی ۔ جب کسی مہاجر یا انصاری کی کوئی فصل پکتی تو وہ ضرور اس کو آ کر ڈالتے وہ اس طرح لمبا زمانہ رہا۔ حضرت ابراہیم بن منذ رفرماتے ہیں: محمد بن طلحہ نے مجھ سے کہا: غزوۂ رقاع کا دوسرا نام غزوۂ الاعاجیب ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9112

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9113

9113 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ عَلَى الْمَغَانِمِ، فَأَصَابَ رَجُلًا بِقَوْسِهِ، فَشَجَّهُ مُنَقِّلَةً، فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَ عَشَرَةَ فَرِيضَةً» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الشِّفَاءِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ

حضرت اُم سليمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو جہم بن حذیفہ کو مال غنیمت پر مقرر فرمایا ، ان کو ایک آدمی نے تیرا مارا ، ان کو زخم لگا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے پندرہ فریضے دینے کا فیصلہ کیا۔

الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ ← أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9113

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 9114

9114 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ، فَقَدِمَ فَقَالَ لَمَّا جَاءَ بِهِ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا لِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «مَا بَالِي أَسْتَعْمِلُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَشْيَاءٍ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ، فَيَقْدُمُ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَلَا يَجْلِسُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَبَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يُهْدَى لَهُ؟» ثُمَّ قَالَ: «أَلَا يَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَبَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يُهْدَى لَهُ؟» ثُمَّ قَالَ: «لَا يَأْتِي أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ يَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ» ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ [ص:56] عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ وَدَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ

حضرت ابو حمید الساعدی فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی کو صدقات پر مقرر کیا، وہ گئے جب واپس آئے تو کہنے لگے: یہ تمہارے لیے ہے اور یہ میرے لیے! یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، فرمایا: مجھے کیا ہے کہ تم میں سے کسی کو کسی کام پر امیر مقرر کیا جاتا ہے ، جس پر اللہ نے مجھے مقرر کیا ہے ، وہ آتا ہے تو کہتا ہے: یہ تمہارے لیے ہے اور یہ میرے لیے ہے ، جو ہدیہ دیا گیا ہے کیا تم میں سے کوئی اپنے باپ کے گھر یا ماں کے گھر بیٹھتا تو اس کو تحفے آتے؟ پھر فرمایا: کیا تم میں کوئی اپنے گھر باپ اور ماں کے گھر بیٹھتا تو اس کو تحفے آتے؟ پھر فر ما یا: تم میں کوئی قیامت کے دن آئے گا اونٹ اٹھائے ہوئے اپنی پشت پر جو آوازیں نکال رہا ہو گا اور بکری یا گائے جو آوازیں نکال رہی ہوں گی ، پھر آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھایا ، عرض کی: کیا میں نے پیغام پہنچا دیا۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › One of his name is Masada · Hadith 9114

chevron_left Previous
1…131415…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male