Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8487

8487 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ قَعَدَ حَتَّى يُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ» ، فَقَالُوا: مِثْلُ قَرَارِيطِنَا هَذِهِ؟ قَالَ: «لَا بَلْ مِثْلُ أُحُدٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: يَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جنازہ میں شریک ہو ، اس کے لیے ایک قیراط کے مطابق ثواب ہو گا ، جو دفن کر کے واپس آیا تو اس کے لیے دو قیراط کے برابر ثواب ہو گا۔ صحابہ کرام نے عرض کی: ہمارے ہاں قیراط کتنا ہوتا ہے؟ فرمایا: اُحد پہاڑ کے برابر۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8487

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8488

8488 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا أُمَيَّةُ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: نا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَتْهُ امْرَأَتَانِ، قَدْ أَكَلَ إِحْدَى ابْنَيْهِمَا الذِّئْبُ، تَخْتَصِمَانِ فِي الْبَاقِي، فَقَضَى لِلْكُبْرَى، فَلَمَّا خَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ قَالَ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا، فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِسِكِّينٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَوَّلُ مَا سَمِعَتْهُ يَذْكُرُ السِّكِّينَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كُنَّا نُسَمِّيهَا الْمُدْيَةَ، قَالَتِ الصُّغْرَى: لِمَ؟ قَالَ: نَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا، قَالَتْ: ادْفَعْهُ إِلَيْهَا، وَقَالَتِ الْكُبْرَى: شُقَّهُ بَيْنَنَا، فَقَضَى بِهِ سُلَيْمَانُ لِلصُّغْرَى، قَالُوا: لَوْ كَانَ ابْنَكِ لَمْ تَرْضِي أَنْ تَشُقِّيهِ» [ص:231] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ رَوْحٍ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: أُمَيَّةُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو عورتیں تھیں ، ان دونوں میں سے ایک کے بیٹے کو بھیٹریا کھا گیا تھا، دونوں بچہ کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھیں تو حضرت داؤد علیہ السلام نے فیصلہ بڑی کے لیے کیا ۔ دونوں حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آئیں ، آپ نے فرمایا: دونوں کے درمیان کیا فیصلہ ہوا ہے؟ دونوں نے بتایا تو آپ نے فرمایا: چھری لے کر آ ؤ! حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں وہ پہلا شخص تھا ، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھری (سکین) کا ذکر سنا ہے ، ہم اس کا نام مدیہ رکھتے تھے ۔ چھوٹی نے کہا: کیوں؟ آپ نے فرمایا: دونوں کے درمیان آدھا آدھا کر دوں ! اس نے کہا: بڑی کو دے دو! بڑی نے کہا: آدھا آدھا کرو! حضرت سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی کے لیے فیصلہ کیا، انہوں نے کہا: اگر تیرا بیٹا ہوتا تو آدھا آدھا کرنے کے لیے نہ کہتی ۔

الْكُبْرَى شُقَّهُ بَيْنَنَا فَقَضَى بِهِ سُلَيْمَانُ لِلصُّغْرَى ← ادْفَعْهُ إِلَيْهَا، ← نَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا، ← الصُّغْرَى: لِمَ؟ ← يَذْكُرُ السِّكِّينَ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّمَا كُنَّا نُسَمِّيهَا الْمُدْيَةَ، ← أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَوَّلُ مَا ← ائْتُونِي بِسِكِّينٍ، ← كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا؟ فَأَخْبَرَتَاهُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةَ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8488

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8489

8489 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا سَعْدُ بْنُ عَوْنٍ الضُّبَعِيُّ قَالَ: نا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُلِقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ ضِلَعٍ، فَإِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا، فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ إِلَّا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ "

حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے ، اگر سیدھی کرو گے تو ٹوٹ جائے گی ، اس سے ٹیڑھے ہونے کے باوجود فائدہ اٹھاؤ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَعْدُ بْنُ عَوْنٍ الضُّبَعِيُّ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8489

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8490

8490 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْجُدِّيُّ قَالَ: نا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيَحْمِدِيُّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْخُذْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا أَعْطَى فَلْيُعْطِ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا أَكَلَ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْخُذُ بِشِمَالِهِ، وَيُعْطِي بِشِمَالِهِ، وَيَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، تَفَرَّدَ بِهِ: حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْجُدِّيُّ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شی لے تو دائیں ہاتھ سے لے ، جب دے تو دائیں ہاتھ سے دے، جب کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے ، جب پئے تو دائیں ہاتھ سے پئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے پکڑ تا ہے اور دیتا ہے اور کھاتا ہے اور پیتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← زياد بن الربيع اليحمدي ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْجُدِّيُّ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8490

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8491

8491 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: نا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَدَوِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ إِلَّا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ "

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے ، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم کرنے پر ان کی مدد کرے گا تو اس کا تعلق مجھ سے نہیں ہے ، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرے گا تو اس کا تعلق مجھ سے ہے ، وہ مجھ سے میرے حوض پر آئیں گے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سهل بن أسلم العدوي ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8491

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8492

8492 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قَالَ: نا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: نا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ» «وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ» «وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ "

حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ رزہ میرے لیے ہے میں خود اس کی جزاء دوں گا ، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: جب افطار کرے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا ، روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے ہاں مشک خوشبو سے زیادہ ہو گی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8492

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8493

8493 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ: نا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ضِرَارٍ إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ "

حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور صرف میری ایک امت کی اسّی صفیں ہوں گی۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8493

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8494

8494 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا إِسْحَاقُ قَالَ: نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: نا كُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي هَانِئُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي عَنْ عُثْمَانَ هَلْ شَهِدَ بَدْرًا؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَهَلْ شَهِدَ بِيعَةَ الرِّضْوَانِ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَكَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَوَلَّى الرَّجُلُ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّ هَذَا الْآنَ يَذْهَبُ فَيُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ وَقَعْتَ فِي عُثْمَانَ قَالَ: «هَلْ فَعَلْتُ ذَلِكَ؟» قَالَ: كَذَلِكَ زَعَمَ، فَقَالَ: «عَلَيَّ الرَّجُلَ، فَرَدُّوهُ» ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا قُلْتُ لَكَ؟» ، قَالَ الرَّجُلُ: سَأَلْتُكَ: هَلْ شَهِدَ عُثْمَانُ بَدْرًا؟، فَقُلْتَ: لَا، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ شَهِدَ بِيعَةَ الرِّضْوَانِ؟ فَقُلْتَ: لَا، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، [ص:233] فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ: «إِنَّ عُثْمَانَ حُبِسَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِ اللَّهِ» ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ، وَلَمْ يَضْرِبْ لِأَحَدٍ غَابَ بِسَهْمٍ غَيْرَهُ قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بِيعَةِ الرِّضْوَانِ عُثْمَانَ إِلَى مَكَّةَ، يَسْتَأْذِنُهُمْ فِي الْهَدْيِ وَدُخُولِ مَكَّةَ، فَبَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيعَةَ الرِّضْوَانِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، فَقَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ، فَأَنَا أُبَايِعُ اللَّهَ لَهُ فَصَفَّقَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى» قَالَ: وَقَالَ اللَّهُ {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} [آل عمران: 155] ، «فَاذْهَبْ فَقَدْ عَفَا اللَّهُ، فَاذْهَبِ الْآنَ فَاجْهَدْ عَلَيَّ جَهْدَكَ» ، لَمْ يُدْخِلْ أَحَدٌ مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بَيْنَ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، وَحَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: هَانِئَ بْنَ قَيْسٍ " إِلَّا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَرَوَاهُ زَائِدَةُ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَحَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُكْنَى: أَبَا ثَوْرٍ الْحُدَّانِيَّ، حَيٌّ مِنْ مُرَادٍ

حضرت حبیب بن ابو ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ کے پاس ایک آدمی آیا ، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن ! مجھے آپ حضرت عثمان کے متعلق بتائیں کہ کیا آپ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نہیں! اس نے کہا: کیا آپ بیت رضوان میں شریک ہوئے تھے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نہیں! اس نے کہا: آپ اُحد کے دن پھرنے والوں میں شریک تھے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہاں! وہ آدمی چلا گیا، ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: یہ اب جائے گا اور لوگوں کو بتائے گا کہ آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بات کی، آپ نے فرمایا: میں نے ایسے کہا ہے؟ اس آدمی نے کہا: اس نے ایسے خیال کیا ہے آپ نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ ، اس کو لایا گیا تو آپ نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ میں نے کیا کہا ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے آپ سے پوچھا: کیا حضرت عثمان بدر میں شریک ہوئے تھے؟ آپ نے کہا: نہیں ہوئے تھے ، میں نے پوچھا: کیا آپ بیت رضوان میں شریک ہوئے ؟ آپ نے کہا: نہیں! میں نے پوچھا: آپ اُحد کے دن پھرنے والوں میں شریک تھے؟ آپ نے کہا: ہاں! حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدر کے دن عثمان کو اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت نے روک لیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے حصہ مقرر کیا حالانکہ جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ غائب تھے ، ان کے لیے مقر رنہیں کیا اور بیعت رضوان کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کو مکہ کی طرف بھیجا تھا کہ ان سے قربانی اور مکہ میں دخول کی اجازت مانگیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت رضوان کی ، مکہ میں داخل ہونے کی آپ نے فرمایا: عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت میں ہے ، میں اس کی طرف سے بیعت کرتا ہوں ، آپ نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اور کہا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: بے شک جو تم میں سے پھر گئے جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں ، انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ، ان کے بعض اعمال کے باعث اور بے شک اللہ نے انہیں معاف کر دیا تو جا! اللہ نے ان کو معاف کیا ہے ، تو اب جا اور میرے حوالہ سے جو بیان کیا اس کا انکار کر ۔

الرَّجُلُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: ← فَوَلَّى الرَّجُلُ، ← نَعَمْ ← فَكَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ؟ ← لَا۔ ← فَهَلْ شَهِدَ بِيعَةَ الرِّضْوَانِ؟ ← لَا۔ ← عُثْمَانَ هَلْ شَهِدَ بَدْرًا؟ ← يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← كُنْتُ قَاعِدًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← هَانِئِ بْنِ قَيْسٍ ← کُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← إِسْحَاقُ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8494

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8495

8495 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ: ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ يُهْرِيقُهُ، كَأَنَّمَا يَذْبَحُ دَجَاجَةً كُلَّمَا يَعْرِضُ لِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَجْعَلَ فِي بَطْنِهِ إِلَّا طَيِّبًا، فَإِنَّ أَوَّلَ مَا يَنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ» [ص:234] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا أَبُو عَوَانَةَ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ "

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوتم میں سے طاقت رکھے کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک مٹھی خون بھی جو بہایا جائے وہ حائل نہ ہو ، گویا کہ مرغی ذبح کرنا ہے ، جب بھی جنت کے دروازہ میں پیش کیا جائے گا تو وہ خون اس کے اور جنت کے درمیان حائل ہو گا ، جو تم میں سے طاقت رکھتا ہے کہ اس کے پیٹ میں پاہو کیونکہ انسان کے پیٹ میں سب سے پہلے بدبو آئے گی ۔

جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْأَسْوَدِ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8495

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8496

8496 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ: نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّبَتُّلِ» وَقَرَأَ قَتَادَةُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} [الرعد: 38] « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا هِشَامٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُعَاذٌ»

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیر شادی کے رہنے سے منع کیا، حضرت قتادہ نے یہ آیت پڑھی: ’’ بے شک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے ، ان کے لیے ہم نے بیویاں اور اولاد بنائی‘‘ ۔

قَتَادَةَ إِلَّا هِشَامٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُعَاذٌ» ← التَّبَتُّلِ» وَقَرَأَ قَتَادَةُ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْأَسْوَدِ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8496

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8497

8497 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ: نا مُحَرَّرُ بْنُ هَارُونَ الْقُرَشِيُّ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ سَبْعَةً مِنْ خَلْقِهِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتِهِ، وَرَدَّدَ اللَّعْنَةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ ثَلَاثًا، وَلَعَنَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ لَعْنَةً تَكْفِيهِ، فَقَالَ: مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى شَيْئًا مِنَ الْبَهَائِمِ، مَلْعُونٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ، مَلْعُونٌ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ ابْنَتِهَا، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ حُدُودَ الْأَرْضِ، مَلْعُونٌ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل اپنی مخلوق کے سات افراد پر ساتویں آسمان سے لعنت بھیجتا ہے ، ان میں سے ایک پر تین دفعہ بھی ہے باقی ہر ایک پر ایک مرتبہ ، جوان کے لیے کافی ہے، فرمایا:لعنتی ہے وہ جوقوم لوط والے عمل کرے ، لعنتی ہے جوقوم لوط والاعمل کرے ، لعنتی ہے جوقوم لوط والاعمل کرے ، لعنتی ہے جو ذبح کرتے وقت اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لے ، لعنتی ہے جو جانوروں سے بدفعلی کرے ، لعنتی ہے جو اپنی اولاد کو عاق کرے ، لعنتی ہے جو عورت اور اس کی بیٹی کو نکاح میں جمع کرے ، لعنتی وہ جو زمین پر اللہ کی حد کو بدلے ، لعنتی ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کی طرف نیت کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَرَّرُ بْنُ هَارُونَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8497

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8498

8498 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا أَبُو مُصْعَبٍ قَالَ: نا مُحَرَّرُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا، مَا تَنْتَظِرُونَ إِلَّا غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ كِبَرًا مُفَنِّدًا، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرٌّ مُنْتَظَرٌ، أَوِ السَّاعَةَ، وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [ص:235] لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنِ الْأَعْرَجِ إِلَّا مُحَرَّرُ بْنُ هَارُونَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ کاموں میں جلدی کرو ، کیا تم ایسی مال داری کا انتظار کرتے ہو جو سرکش بنائے یا ایسے مرض کا جو فاسد کرے یا ایسے بڑھاپے کا جو کمزور کر دے ، ایسی موت کا جو اچانک آئے ، یا دجال کا کہ وہ برا ہے جس کا انتظار کر رہے ہو یا قیامت کا کہ وہ ہلاک کرنے والی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَرَّرُ بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← مُعَاذٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8498

chevron_left Previous
1…838485…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male