المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُعَاذٌ · حديث 8487
8487 - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ قَعَدَ حَتَّى يُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ» ، فَقَالُوا: مِثْلُ قَرَارِيطِنَا هَذِهِ؟ قَالَ: «لَا بَلْ مِثْلُ أُحُدٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: يَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ "
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جنازہ میں شریک ہو ، اس کے لیے ایک قیراط کے مطابق ثواب ہو گا ، جو دفن کر کے واپس آیا تو اس کے لیے دو قیراط کے برابر ثواب ہو گا۔ صحابہ کرام نے عرض کی: ہمارے ہاں قیراط کتنا ہوتا ہے؟ فرمایا: اُحد پہاڑ کے برابر۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← مُعَاذٌ،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Forbid · Hadith 8487
