المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8307
8307 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَامٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَيُّهَا النَّاسُ تَوَاضَعُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ» وَقَالَ: «انْتَعِشْ نَعَشَكَ اللَّهُ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمًا، وَفِي نَفْسِهِ صَغِيرًا، وَمَنْ تَكَبَّرَ قَصَمَهُ اللَّهُ» وَقَالَ: «اخْسَأْ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرًا، وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا الثَّوْرِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ: سَعِيدُ بْنُ سَلَامٍ "
حضرت عابس بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منبر پر فرمایا: اے لوگو! عاجزی کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اللہ سے عاجزی کرتا ہے اللہ اس کو پسند کرتا ہے، اور فرمایا: جو تکبر کرتا ہے اللہ اس کو گراتا ہے ، لوگوں کی نگاہ میں برا ہوتا ہے جو اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے ، جو تکبر کرتا ہے ، اللہ عزوجل اس کو رسوا کرتا ہے ، وہ لوگوں کی نظر میں چھوٹا ہوتا ہے ، جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔
عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← سعيد بن سلام العطار ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ← موسى بن زكريا التستري،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8307
