Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8223

8223 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، نا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ الدَّلَّالُ، نا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، خَتْنِ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا عُرِجَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مَرَّ عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ» ، فَقَالَ: «يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟» قَالَ: هَؤُلَاءِ الْخُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ، الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ، وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْمُغِيرَةِ إِلَّا هِشَامٌ، وَلَا عَنْ هِشَامٍ إِلَّا أَبُو عَتَّابٍ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ فِي حَدِيثِهِ: ثُمَامَةَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے معراج کروائی گئی تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے ہونٹ کاٹے جا رہے تھے ، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبریل نے عرض کی: یہ آپ کی امت کے خطباء ہیں جولوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے ، کیا یہ سمجھ نہیں رکھتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← الْمُغِیْرَۃُ خَتَنُ مَالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ الدَّلَّالُ ← حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8223

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8224

8224 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، نا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَنَفِيُّ، وَوَكِيعٌ ـ وَلَمْ يَقُلْ وَكْيِعٌ فِي حَدِيثِهِ: وَلَا عِتْقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ " وَلَا رَوَاهُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طلاق نکاح کے بعد ہے اور آزاد کرنا مالک بننے کے بعد ہے۔

جَابِرٍ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8224

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8225

8225 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ [ص:145] مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ، وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا سَعِيدٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین دوا جو تم کرتے ہو پچھنا لگوانا ہے اور قسط بجری (ایک قسم کی لکڑی جو ہندوستان میں پائی جاتی ہے) ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عبد الوهاب بن عطاء الخفاف ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8225

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8226

8226 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، نا بُهْلُولُ بْنُ مُوَرِّقٍ، نا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا أَعْمَى، فَقَالَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الزُّبَيْرَ مَرَّ عَلَيَّ يَوْمَ بُعَاثٍ فَأَعْتَقَنِي، فَهَبْهُ لِي أَجْزِهِ بِهِ، فَقَالَ: «هُوَ لَكَ» . فَقَالَ لِلزُّبَيْرِ: هَلْ تَعْرِفُنِي؟ قَالَ: نَعَمْ، أَنْتَ ثَابِتٌ. قَالَ: إِنِّي أَمُنُّ عَلَيْكَ كَمَا مَمَنْتَ عَلَيَّ يَوْمَ بُعَاثٍ قَالَ: هَلْ تَنْفَعُنِي؟ أَيْنَ أَهْلِي؟ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَبْ لِي أَهْلَهُ قَالَ: فَوَهَبَ لَهُ أَهْلَهُ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَدَّ لَهُ أَهْلَهُ. قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا يَنْفَعُنِي أَنْ نَعِيشَ أَجْسَادًا، أَيْنَ الْمَالُ؟ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَبْ لِي مَالَهُ. قَالَ: «وَلَكَ مَالُهُ» ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَدَّ مَالَكَ، وَقَدْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِكَ خَيْرًا. فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا فَعَلَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ سَيِّدُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِي؟ قَالَ: قَدْ قُتِلَ. قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا فَعَلَ زَيْدُ بْنُ بُوطَا حَامِيَةُ الْيَهُودِ؟ قَالَ: قَدْ قُتِلَ. قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ أَشْطَا الَّذِي تَظَلُّ عَذَارَى الْحَيِّ يَتَعَجَّبْنَ مِنْ حُسْنِهِ؟ قَالَ: قُتِلَ. قَالَ: مَا فَعَلَ الْمَجْلِسَانِ؟ قَالَ: هُمَا كَأَمْسِ الذَّاهِبِ. قَالَ: فَمَا بَيْنِي وَبَيْنَ لِقَاءِ الْأَحِبَّةِ إِلَّا كَإِفْرَاغِ الدَّلْوِ، أَسْأَلُكَ بِيَدِي عَلَيْكَ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِالْقَوْمِ قَالَ: فَقَتَلَهُ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَلَا عَنْ مُوسَى إِلَّا بُهْلُولُ بْنُ مُوَرِّقٍ»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول ہے: زبیر نامی ایک نابینا آدمی تھے ، ثابت بن قیس بن شماس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی کہ زبیر میرے پاس سے ایک دن گزرے تو انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔اب وہ میرے حوالے فرما دیں تا کہ میں اسے بدلہ دوں ، آپ نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے۔ انہوں نے زبیر سے کہا: کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟ اس نے کہا: آپ ثابت ہیں۔ میں نے کہا: جس طرح تو نے بعاث کے دن مجھ پر احسان کیا تھا میں تجھ پر احسان کروں گا۔ انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے کوئی نفع دے سکتے ہیں؟ میرے گھر والے کہاں ہیں؟ ثابت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ، عرض کی:اس کے گزر والے بھی مجھے دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے دیئے۔وہ آئے ، زبیر سے کہا:رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے گھر والے بھی دے دیئے ہیں ، اس نے کہا: اے میرے برادر زاد! مجھے کیا نفع ہو گا کہ ہم اپنے جسموں کو خوراک پہنچائیں، مال کہاں ہے؟ ثابت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پھر آئے، عرض کی: اے اللہ کے رسول 1! اس کا مال بھی عنایت فرمائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال بھی دے دیا۔ اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے ، ثابت نے آ کر زبیر کو بتایا۔ اس نے کہا: اے میرے بھائی کے بیٹے! شہر و دیہات کے سردار حیی بن احطب کا کیا بنا؟ کہا:قتل ہو گیا! اس نے کہا: اے بھائی کے بیٹے! یہود کے حامی زید بن بُوطا کا کیا ہوا؟ کہا: قتل ہوا! اے میرے بھائی کے بیٹے ! کعب بن اشطا کو کیا ہوا جو محلے کی کنواریوں کے ساتھ رہتا، وہ اس کے حسن کو پسند کرتیں؟ کہا: قتل ہوا! کہا: مجلسان کا کیا بنا؟ کہا: وہ دونوں گزشتہ کل کی طرح ہیں ، اس نے کہا: میرے اور دوستوں کے درمیان ڈول بھرنے کی طرح ہے ، میرا جو احسان تیرے اوپر ہے اس کے بدلے تو مجھے اپنی قوم سے ملا دے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔

ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ ← كَانَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا أَعْمَى، ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← موسى بن عبيدة ← بَهْلولُ بْنُ مُوَرِّقٍ، ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8226

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8227

8227 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ كِتَابًا، وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ: «انْطَلِقَا حَتَّى تُدْرِكَا امْرَأَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَائْتِيَانِي بِهِ» ، فَانْطَلَقَا حَتَّى لَقَيَاهَا، فَقَالَا: أَعْطِينَا الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكِ، وَأَخْبَراهَا أَنَّهُمَا غَيْرُ مُنْصَرِفَيْنِ حَتَّى يَنْزِعَا كُلَّ ثَوْبٍ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَلَسْتُمَا رَجُلَيْنِ مُسْلِمَيْنِ؟ فَقَالَا: بَلَى، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ مَعَكَ كِتَابًا. فَلَمَّا أَيَقْنَتْ أَنَّهُمَا غَيْرُ مُفْلِتِيهَا حَلَّتِ الْكِتَابَ مِنْ رَأْسِهَا، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبًا حَتَّى قَرَأَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَقَالَ: «تَعْرِفُ هَذَا الْكِتَابَ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: هُنَاكَ وَلَدِي وَذُو قَرَابَتِي، وَكُنْتُ امْرَأً غَرِيبًا فِيكُمْ مَعْشَرَ قُرَيْشٍ. فَقَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فِي قَتْلِ حَاطِبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي، لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، إِنِّي غَافِرٌ لَكُمْ» [ص:147] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو "

حضرت عبدالرحمٰن بن حاطب بن ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے قریش کے لیے کافروں کی طرف خط لکھا حالانکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا ، فرمایا: دونوں جاؤ! ایک عورت ملے گی ، اس کے پاس کتاب ہو گی ، اس کو میرے پاس لاؤ ۔ دونوں گئے ، اس کو ملے اور دونوں نے کہا: ہم کو وہ خط دے دو جو تمہارے پاس ہے۔ دونوں نے بتایا کہ تم سے لیے بغیر ہم جائیں گے نہیں یہاں تک کہ تیرا ہر کپڑا بھی اتار دیں گے ۔ اس نے کہا: کیا تم مسلمان مرد نہیں ہو؟ دونوں نے کہا: جی ہاں! کیوں نہیں! لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا ہے کہ خط تمہارے پاس ہے۔ جب اسے یقین ہوا کہ یہ جانے والے نہیں ہیں تو اس نے اپنے سر سے خط نکالا اور ان دونوں کو دے دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حاطب کو بلوایا اور ان کے سامنے خط پڑھا ، فرمایا: کیا تم اس خط کو جانتے ہو؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا:تمہیں ایسا کرنے پر کس نے ابھارا تھا؟ اس نے عرض کی: میرے بچے اور رشتے دار وہاں رہتے تھے ، میں قریش کے گروہ میں غریب آدمی ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: مجھے اجازت دیں حاطب کو قتل کرنے کے لیے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہ بدر میں شریک ہوا ہے ، کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ اللہ عزوجل نے بدر والوں کے دلوں کو دیکھا ، فرمایا: تم جو چاہو عمل کرو ، میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إسحاق بن راشد ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8227

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8228

8228 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، نا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، عَنْ مَرْوَانِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَرْضُ أَرْضُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، فَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَرْوَانَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ "

مروان بن حکم، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: زمین اللہ کی زمین ہے ، بندے اللہ کے بندے ہیں ، جس نے بے آباد زمین کو آباد کیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8228

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8229

8229 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ كَانَ عَاشِرَ عَشْرَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءَ، فَتَحَرَّكَ حِرَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اثْبُتْ حِرَاءُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» قَالَ سَعِيدٌ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ» فَقَالَ الْمُغِيرَةُ لِسَعِيدٍ: اذْكُرْ لَنَا مَنِ التَّاسِعِ؟ قَالَ: دَعْنِي، وَلَمْ يَزَلْ حَتَّى قَالَ: أَنَا التَّاسِعُ «[ص:148] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَلَا عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا الْحَجَّاجُ، تَفَرَّدَ بِهِ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ»

حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ یہ ان دس افراد میں سے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے حراء پہاڑ پر ، حراء پہاڑ خوشی سے جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حراء !ٹھہر جا! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور شہید ہے۔ حضرت سعید فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ابو بکر ، عمر ، علی ، عثمان ، طلحہ ، زبیر ، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد جنتی ہیں ، حضرت مغیرہ نے سعید سے کہا: نویں کا ذکر کرو! آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دیں ، آپ سے مسلسل عرض کی جاتی رہی ، آپ نے فرمایا: نواں میں ہوں۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8229

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8230

8230 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: تَذَاكَرْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا أَفْضَلُ: مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَسْجِدُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ فِيهِ، وَلَنِعْمَ الْمُصَلَّى، وَلَيُوشِكَنَّ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ مِثْلُ سِيَةِ قَوْسِهِ مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ يَرَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ خَيْرًا لَهُ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا الْحَجَّاجُ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، تَفَرَّدَ بِهِ عَنِ الْحَجَّاجِ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، وَتَفَرَّدَ بِهِ عَنْ سَعِيدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ "

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ذکر کیا کہ کون سی مسجد افضل ہے: مسجد نبوی یا مسجد بیت المقدس؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد نبوی میں نماز زیادہ افضل ہے چار نمازوں سے ، اور کتنی اچھی نماز پڑھنے کی جگہ ہے ، قریب ہے کہ آدمی کے لیے زمین سے ایک کمان کے نوک کے برابر جو وہ بیت المقدس دیکھے ، وہ اس کے لیے بہتر ہو دنیا و مافیہا سے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8230

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8231

8231 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ عُمَرَ وَرَّاقُ الْحُمَيْدِيِّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ وَلَدِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ سَعِيدٍ، وَهِيَ جَدَّتِي، عَنْ أَبِيهَا سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: خَرَجْتُ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كُنْتُ بِأَدْنَى الشَّامِ، لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ رَجُلٌ تَنَبَّأَ؟، قُلْتُ: [ص:149] نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْرِفُ صُورَتَهُ إِذْ رَأَيْتَهَا؟، قُلْتُ: نَعَمْ. فَأَدْخَلَنِي بَيْتًا فِيهِ صُوَرٌ، فَلَمْ أَرَ صُورَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَيْنَا، فَقَالَ: فِيمَ أَنْتُمْ؟، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَذَهَبَ، بِنَا إِلَى مَنْزِلِهِ، فَسَاعَةَ مَا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَى صُورَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِعَقِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الْقَابِضُ عَلَى عَقِبِهِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا كَانَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا هَذَا، فَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، وَهَذَا الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ، وَإِذَا صِفَةُ أَبِي بَكْرٍ» . لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ وَرَّاقُ الْحُمَيْدِيِّ

حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں ملک شام کی طرف گیا ، جب میں شام کے قریب ہوا تو مجھے اہل کتاب میں سے ایک آدمی ملا ، اس نے کہا: کیا تمہارے پاس ایک ایسا آدمی ہے جوخبر دیتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو اس نے کہا: کیا تو اس کی تصور کو جان لے گا ، جب تو دیکھے گا؟ میں نے کہا: جی ہاں! اس نے مجھے اپنے گھر داخل کیا ، جس میں تصویر تھی ، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر نہیں دیکھی ، ہم اسی حالت میں تھے کہ اچانک ہمارے پاس ایک آدمی آیا ، اس نے کہا: تم ان میں ہو؟ ہم نے اس کو بتایا تو وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا، کچھ دیر کے لیے داخل نہیں ہوا ، میں نے دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر تھی اور ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیچھے سے پکڑے ہوئے تھا۔ میں نے کہا:یہ آدمی کون ہے جو آپ کو پیچھے سے پکڑے ہوئے ہے؟ اس نے کہا: ہر نبی کے بعد اس کے پیچھے کوئی ہوتا ہے ، یہ اس نبی کے بعد ہو گا ، یہ اس نبی کے بعد خلیفہ ہو گا ، وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8231

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8232

8232 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ أَبِي بِلَالٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي الْعَتَّابِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، قَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْفَجْرِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، مِنْهَا رَكْعَتَانِ مَعَ الْفَجْرِ» فَسَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ أَكْثَرُ صِيَامِهِ سِوَى رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومَهُ أَوْ عَامَّتَهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعَتَّابِ إِلَّا نُوحُ بْنُ أَبِي بِلَالٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ "

حضرت عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ نماز عشاء کے بعد اور فجر کی نماز کے درمیان تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ، دوان میں فجر کی سنتیں ہوتی تھیں؟ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے بعد اکثر روزے شعبان کے رکھتے تھے۔

زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعِتَابِ، ← نُوحِ بْنِ أَبِي بِلاَلٍ ← عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْحَرَّانِيُّ، ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8232

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8233

8233 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُمْهُورٍ السِّمْسَارُ التِّنِّيسِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْنَا: يَا عَمُّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: «الْعَصْرُ، وَهِيَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:150] الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ» لَمْ يَرْوِ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُ الْمُبَارَكِ "

حضرت ابو امامہ بن سہیل فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نماز ظہر پڑھی ، پھر ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، ہم نے آپ کو نماز عصر پڑھتے ہوئے پایا، ہم نے عرض کی:اے چچا!یہ کون سی نماز آپ پڑھ رہے ہیں؟ فرمایا:عصر! یہ وہی نماز ہے جو ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے۔

أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← موسى بن جمهور السمسار التنيسي

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8233

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8234

8234 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُمْهُورٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرٍ الْأَنْطَاكِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا أَبُو أُسَامَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرٍ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماں کا ذبح اس کے بچے کا ذبح ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← مُوسَى بْنُ جُمْهُورٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8234

chevron_left Previous
1…616263…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male