Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8163

8163 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا حَنْبَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «يَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ، إِيَّاكَ أَعْبُدُ، وَإِيَّاكَ أَسْتَعِينُ» قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ تُصْرَعُ، تَضْرِبُهَا الْمَلَائِكَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا، وَمَنْ خَلْفِهَا « لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو الرَّبِيعِ» سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ طَالُوتَ عَنْ حَنْبَلٍ، فَقَالَ: «زَعَمُوا [ص:124] أَنَّهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي قُرَيْعٍ» . وَسَأَلْتُهُ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ هَاشِمٍ، فَقَالَ: «شَيْخٌ بَصَرِيٌّ» . فَقُلْتُ لَهُ: كَانَ ثِقَةً؟ قَالَ: «مَا أَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا»

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، میں نے سنا آپ یہ دعا کر رہے تھے: اے قیامت کے دن کے مالک! تیری عبادت کرتے ہیں ، تجھی سے مددطلب کرتے ہیں ، میں نے دیکھا کہ مرد گر رہے تھے فرشتے ان کو آ گے اور پیچھے سے مار رہے تھے۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8163

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8164

8164 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دَبْرٍ، وَكَانَ مُحْتَاجًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَاهُ، فَقَالَ: «أَعْتَقْتَ غُلَامَكَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ؟» ، فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَا، فَاشْتَرَاهُ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَنَهُ، فَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ إِلَّا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، تَفَرَّدَ بِهِ: قُتَيْبَةُ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک آدمی نے اپنا مدبر غلام آزاد کیا ، وہ ضرورت مند تھا، اس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہوا تو آپ نے اس کو بلوایا ، فرمایا: تو نے غلام آزاد کیا ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کا زیادہ ضرورت مند ہے ، پھر فرمایا: اس کو کون خریدے گا؟ نعیم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں خریدتا ہوں انہوں نے خریدا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیسے لیے پھروہ ( پیسے ) اس کے مالک کو دے دیئے ۔

نَعَمْ ← «أَعْتَقْتَ غُلَامَكَ؟» ← ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ فَدَعَاهُ، ← دَبْرٍ، وَكَانَ مُحْتَاجًا، ← جابر بن عبد الله أن رجلا من الأنصار أعتق غلاما له ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8164

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8165

8165 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ، نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ الْأَسَدِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ، فَقَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ، مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «يَعْبُدُونَهُ، وَلَا يُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ، مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» [ص:125] قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «أَلَّا يُعَذِّبَهُمْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ إِلَّا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ "

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا گدھے پر ، آپ نے مجھے فرمایا: اے معاذ! بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس کی عبادت کرے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۔ پھر فرمایا: اے معاذ! بندے کا اللہ پر کیا حق ہے جب وہ ایسا کر لیں؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو عذاب نہ دے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ ← أَبِي حُصَيْنِ الأَسَدِيِّ، ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8165

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8166

8166 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: اشْتَرَيْتُ أَنَا وَأَخِي مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ سِهَامِ خَيْبَرَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَاصِمُ، مَا ذِئْبَانِ عَادِيَانِ أَصَابَا غَنَمًا أَضَاعَهَا رَبُّهَا بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حُبِّ الْمَرْءِ الْمَالَ وَالشَّرَفَ لِدِينِهِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَمِيرَةَ بِنْتِ سَهْلٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: عِيسَى بْنُ يُونُسَ "

حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی نے خیبر کے حصوں میں سے حصہ لیا۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عاصم! دو بھوکے بھیٹریے بکریوں میں چھوڑے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے ہیں جتنا مال اور عزت کا بھوکا دین کا نقصان کرتا ہے۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8166

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8167

8167 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَلَوِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ بِنْتِ عَدِيٍّ، أَنَّ أُمِّهَا عَمِيرَةَ بِنْتَ سَهْلٍ صَاحِبَ الصَّاعَيْنِ الَّذِي لَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ، حَدَّثَتْهَا أَنَّهُ خَرَجَ بِزَكَاتِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَبِابْنَتِهِ عَمِيرَةَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً؟ قَالَ: «وَمَا هِيَ؟» قَالَ: تَدْعُو اللَّهَ لِي وَلَهَا بِالْبَرَكَةِ، وَتَمْسَحُ رَأْسَهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ غَيْرُهَا، قَالَتْ: «فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَيَّ» ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَكَأَنَّ بَرْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَبِدِي « لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَمِيرَةَ بِنْتِ سَهْلٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: عِيسَى بْنُ يُونُسَ»

حضرت عمیرہ بنت سہل سے روایت ہے یہ وہ ہیں جن کو دو صاع لینے کی وجہ سے منافقوں نے طعنہ دیا تھا ، بیان کرتی ہیں کہ وہ ایک صاع کھجور کی زکوٰۃ لے کر نکلیں اور اپنی بیٹی عمیرہ کو یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں ، آپ کے آگے رکھا، پھر عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے آپ سے کام ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا. وہ کیا ہے؟ عرض کی: اللہ سے دعا کریں میرے لیے برکت اور اس کے سر پر اپنا دست مبارک پھیریں کیونکہ میری اس کے علاوہ اولاد نہیں ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک مجھ پر رکھا ، اللہ کی قسم! میں اپنے جسم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک پاتی ہوں ۔

سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8167

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8168

8168 - وَبِهِ حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:126] عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ، لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِمَا أَحْبَبْتَ، فَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، فَعَجِبَ لِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ: «اذْهَبْ، فَاقْتُلْ أَبَاكَ» ، فَقَالَ: فَخَرَجَ مُوَلِّيًا لِيَفْعَلَ فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: «أَقْبِلْ، فَإِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ» ، فَمَرِضَ طَلْحَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فِي الشِّتَاءِ فِي بَرْدٍ وَغَيْمٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأَهْلِهِ: «إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ، فَآذِنُونِي حَتَّى أَشْهَدَهُ وَأُصَلِّي عَلَيْهِ، وَعَجِّلُوهُ» ، فَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تُوُفِّيَ، وَجَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ طَلْحَةُ: ادْفِنُونِي، وَأَلْحِقُونِي بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَلَا تَدْعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ الْيَهُودَ، وَأَنْ يُصَابَ فِي سَبَبِي، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى قَبْرِهِ، فَصَفَّ النَّاسُ مَعَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ، الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: عِيسَى بْنُ يُونُسَ "

حضرت حصین بن وحوح فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن براء کو جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے ، عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے آپ جو پسند کریں حکم دیں ، میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پسند آئی کہ بچہ ہو کر یہ بات کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ! اپنے باپ کو قتل کر دے ۔حصین فرماتے ہیں: وہ ایسا کرنے کے لیے نکلے تو آپ نے بلوایا ، اس کو فر ما یا: جاؤ! کیونکہ میں صلہ رحمی کاٹنے کے لیے نہیں دیا۔ اس کے بعد حضرت طلحہ بیمار ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لیے آئے سخت سردی میں ، جب آپ عیادت کر کے واپس آنے لگے تو ان کے گھر والوں سے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ اس نے اس دنیا سے چلے جانا ہے ، جب یہ دنیا سے چلا جائے تو مجھے بلانا، میں اس کی نماز پڑھوں گا او رجلدی کرنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی سالم بن عوف میں نہیں پہنچے تھے کہ ان کا وصال ہو گیا، رات اندھیرا تھا ، حضرت طلحہ نے کہا: مجھے دفن کر دو مجھے میرے رب سے ملانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ بلوانا، کیونکہ میں آپ کے متعلق یہود کی شرارت سے ڈرتا ہوں کہ میری وجہ سے آپ کو تکلیف نہ ہو۔ جس وقت صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا ، آپ تشریف لائے ان کی قبر کے پاس ٹھہرے ، لوگوں نے آپ کے ساتھ صفیں بنائیں ، آپ نے دعا کی: اے اللہ! تو طلحہ سے مل اس حالت میں کہ تو خوش ہو اور یہ تجھے دیکھ کر خوش ہو۔

حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ، لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ ← أَبِيهِ، [ص:184] ← عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، ← عِيسَى؛ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8168

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8169

8169 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ، نا أَبُو الْجَوَّابِ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ فِي صَلَاةٍ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِلَّا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو الْجَوَّابِ " وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَمْ يَذْكُرِ: ابْنَ عَبَّاسٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ایک ایسا وقت ہوتا ہے جو مسلمان بھی اس وقت نماز پڑھتے ہوئے اللہ سے بھلائی مانگے تو اللہ عزوجل عطا کرتا ہے۔ یہ حدیث منصور ، مجاہد سے ، وہ ابن عباس سے اور منصور سے عمار بن رزیق روایت کرتے ہیں۔ اس کو روایت کرنے میں ابو الجواب اکیلے ہیں۔اس حدیث کو عبدالعزيز بن عبدالصمد ، منصور سے ، وہ مجاہد سے ، وہ ابو ہریرہ سے۔ اس سند میں حضرت ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← حجاج بن يوسف الشاعر ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8169

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8170

8170 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، [ص:127] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب نماز کی اقامت پڑھی جائے تو صرف فرض نماز جائز ہے۔

"إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ". ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، [ص:160] ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8170

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8171

8171 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا دَاوُدُ، نا مُحَمَّدٌ، ثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، أَخْبَرَنِي حُجْرٌ الْمَدَرِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْعُمْرَى أَنَّهَا لِلْمُعْمَرِ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ»

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر آباد زمین آباد کرنے کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ وہ زمین آباد کرنے والے کے لیے ہے اس کی زندگی اور موت میں ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← حُجْرٍ الْمَدَرِيُّ، ← طَاوُسًا ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَمْرٍو، ← مُحَمَّدٍ ← دَاوُدُ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8171

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8172

8172 - وَبِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَلَمْ تُوصِ، أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» لَمْ يَرْوِ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ إِلَّا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری والدہ کا وصال ہوا ہے اس نے کوئی وصیت نہیں کی ہے ، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کو نفع ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8172

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8173

8173 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَامَ عُمَرُ بِمِنًى، فَسَأَلَ النَّاسَ: مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا؟ فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ، فَقَالَ: ادْخُلْ قُبَّتَكَ حَتَّى أُخْبِرِكَ فَدَخَلَ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: «كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ "

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے منٰی میں لوگوں سے پوچھا جس کے پاس عورت کی میراث اپنے شوہر کی طرف سے ملنے والی کا علم ہے؟ حضرت ضحاک بن سفیان کلابی کھڑے ہوئے اور عرض کی: میں گھر داخل ہوتا ہوں ، آپ کو بتاؤں گا۔ وہ داغل ہوئے ، اس کے بعد آئے اور عرض کی: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف خط لکھا تھا کہ اشیم ضبابی کی عورت کو اپنے خط شوہر کی دیت کا وارث بناتا ہوں ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8173

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 8174

8174 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92] قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيَكُونُ فِيهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ، فَيُصِيبُهُ الْمُسْلِمُونَ خَطَأً فِي سَرِيَّةٍ أَوْ غَزَاةٍ، فَيَعْتِقُ الَّذِي يُصِيبُهُ رَقَبَةً» ، {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ} [النساء: 92] قَالَ: «هُوَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُعَاهَدًا، وَيَكُونُ قَوْمُهُ أَهْلَ عَهْدٍ، فَيُسَلِّمُ إِلَيْهِمُ الدِّيَةَ، وَيَعْتِقُ الَّذِي أَصَابَهُ رَقَبَةً» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى إِلَّا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے اس ارشاد: ’’اگر قوم کے کچھ لوگ آپ کے دشمن ہوں ، وہ مؤمن ہوتو مؤمنہ عورت کو آزاد کرو‘‘۔ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تھا ، آپ پر اسلام لاتا ، پھر واپس اپنی قوم کی طرف جاتا، مشرک لوگ بھی ہوتے مسلمانوں کوسریہ یا غزوہ جو ان کو غلام ملا تھا اگر تمہاری قوم اور ان کے درمیان پختہ وعدہ ہوا ہو ، ایک آدمی کا معاہدہ ہے وہ قوم وعدہ والی ہے ، ان کی طرف دیت سپر دکر دو ، وہ غلام جو ملا ہے آزاد کر دو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي يَحْيَى، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 8174

chevron_left Previous
1…565758…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male