Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8693

8693 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي عَرُوسٌ، وَقَدْ أَخَذَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَتَسَاقَطَ شَعَرُهَا، فَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرٍو إِلَّا اللَّيْثُ "

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئی ، عرض کرنے لگی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری بیٹی کی شادی ہے ، اس کے بال ختم ہوتے ہیں ، کیا اس کو بال لگوائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت ہو بال لگانے اور لگوانے والیوں پر ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8693

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8694

8694 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، [ص:300] عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَزَلَ عَلَيَّ جِبْرِيلُ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ» ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَعْدُ يُصَلِّي الْهَاجِرَةَ حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ، رُبَّمَا أَخَّرَهَا فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ، يَسِيرُ الرَّجُلُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا اسْوَدَّ الْأُفُقُ، وَصَلَّى الصُّبْحَ فَغَلَّسَ بِهَا، ثُمَّ صَلَّاهَا يَوْمًا آخَرَ، فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى الْإِسْفَارِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ، وَلَمْ يَحُدَّ أَحَدٌ مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ الْمَوَاقِيتَ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ»

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے ، میرے ساتھ نماز پڑھی، پھر میرے ساتھ نماز پڑھی، پھر میرے ساتھ نماز پڑھی، پھر میرے ساتھ نماز پڑھی، پھر میرے ساتھ نماز پڑھی، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا سورج ڈھلنے کے بعد نماز ظہر پڑھتے ہوئے ، گرمیوں میں دیر سے پڑھتے تھے اور نماز عصر پڑھتے اس وقت جب سورج بلندی پر سفید ہوتا تھا کہ آدمی نماز پڑھ کر ذی الحلیفہ تک جا سکتا تھا ، وہ جگہ چھ میل دور تھی اور مغرب کی نماز پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور نماز عشاء جب اُفق پر سیاہی پھیل جاتی اور نماز فجر بسا اوقات اندھیرے میں پڑھتے اور بسا اوقات اسفار ( روشنی )میں پڑھتے پھر دنیا سے (بظاہر ) پردہ فرمانے تک اسفار کی طرف نہیں لوٹے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8694

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8695

8695 - وَبِهِ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَرْتَنَا بِالزَّكَاةِ، زَكَاةِ الْفِطْرِ، فَنَحْنُ نُؤَدِّيَهَا، فَكَيْفَ بِنَا إِنْ أَدْرَكْنَا وُلَاةً لَا يَضَعُونَهَا مَوَاضِعَهَا؟ فَقَالَ: «أَدُّوهَا إِلَى وُلَاتِكُمْ، فَإِنَّهُمْ يُحَاسَبُونَ بِهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَالِمٍ إِلَّا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ "

حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے عرض کی: ہم کو آپ نے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے ، ہم ادا کرتے ہیں ، آپ کیا فرماتے ہیں کہ ہم اپنے حاکموں کو پاتے ہیں جو زکوٰۃ کو زکوٰۃ کے مصارف پر خرچ نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے والیوں کو دے دو کیونکہ ان سے اس کا حساب لیا جائے گا۔

أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8695

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8696

8696 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ، يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا؟» فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ» [ص:301] لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ "

حضرت میمونہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو بکری کھینچ رہے تھے گدھے کی طرح ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کوفرمایا: اگر تم اس کی کھال سے نفع اٹھاؤ تو کیا خیال ہے؟ انہوں نے عرض کی: یہ مردار ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتے پاک کر دے گی۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8696

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8697

8697 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: دَخَلَ نَفَرٌ يَعْنِي عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَقَالُوا: حَدِّثْنَا بَعْضَ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَمَا أُحَدِّثُكُمْ؟ «كُنْتُ جَارَهُ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَكَتَبْتُ الْوَحْيَ، وَكَانَ إِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا، وَإِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا، وَإِذَا ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ مَعَنَا» ، فَكُلُّ هَذَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ؟ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَارِجَةَ إِلَّا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ»

حضرت خارجہ بن زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ایک گروہ حضرت زید بن ثابت کے پاس آیا ، انہوں نے کہا: ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض احادیث سنائیں! حضرت زید نے فرمایا: میں تم کو کیا بیان کروں؟ میں تو آپ کا پڑوسی تھا ، آپ پر جب وحی نازل ہوتی تو میری طرف کسی کو بھیجتے ، میں وحی لکھتا ، جب ہم کو آ خرت کو یاد کرتے تو ساتھ آپ بھی اس کا ذکر کرتے ، جب ہم دنیا کا تذکرہ کرتے تو اس کے ساتھ آپ بھی کرتے ، جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپ ہمارے ساتھ کرتے‘ کیا ان تمام کے متعلق تم کو سناؤں؟

خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← سليمان بن خارجة بن زيد بن ثابت ← الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8697

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8698

8698 - وَبِهِ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاقَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:302] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَلِيلُ الْفِقْهِ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ فِقْهًا إِذَا عَبَدَ اللَّهَ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا إِذَا أُعْجِبَ بِرَأْيِهِ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ مُؤْمِنٌ وَجَاهِلٌ، فَلَا تُؤْذِ الْمُؤْمِنَ، وَلَا تُجَاوِرِ الْجَاهِلَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ إِلَّا إِسْحَاقُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ "

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تھوڑی سمجھ بہت زیادہ عبادت سے بہتر ہے ، آدمی کے لیے کافی ہے کہ جب وہ اللہ کی عبادت کرے ، آدمی کے جاہل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اپنی رائے پر تعجب کرے، یعنی صرف اپنی رائے کو پسند کرے، لوگ دوقسم کے ہیں: مؤمن اور جاہل ، مؤمن کو تکلیف نہ دو اور جاہل کے پڑوسی نہ بنو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← إسحاق أبي عبد الرحمن ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8698

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8699

8699 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَهُوَ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ، يَقُولُ: هَذَا فِدَائِي مِنَ النَّارِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ إِلَّا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ "

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مؤمن ہو گا، اس کے بدلہ قیامت کے دن یہودی اور عیسائی کو لائے گا اور کہیے گا:یہ میرا بدلہ ہے جہنم سے۔

أبيه أبي موسى ← أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8699

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8700

8700 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، [ص:303] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ إِلَّا ابْنُ لَهِيعَةَ "

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے ، وہ شہید ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِكْرِمَةَ، [ص:395] ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8700

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8701

8701 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقَرَارِيطُ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ عَلَى مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ "

حضرت عبدالرحمٰن بن شماسہ المہری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:عنقریب تم پر ایسی زمین فتح کی جائے گی کہ اس میں قراریط کا ذکر ہو گا، اس کے رہنے والوں سے بھلائی کرنا، اگر ان کے لیے پناہ اور رحمت ہے ، جب تم دو آدمیوں کو دیکھو کہ وہ ایک اینٹ کی جگہ کے متعلق لڑ رہے ہیں تو اس سے نکل جاؤ۔

أَبَا ذَرٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8701

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8702

8702 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبٌ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا نُفَاضِلُ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، ثُمَّ اسْتَوَى النَّاسُ، فَيَبْلُغُ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يُنْكِرُ ذَلِكَ عَلَيْنَا» وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ،: ثُمَّ يَبْلُغُ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُنْكِرُ عَلَيْنَا، إِلَّا بُكَيْرٌ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے درمیان فضیلت بیان کرتے ، ہم کہتے : حضرت ابو بکر اور عمر اور عثمان ان کے بعد سب لوگ برابر ہیں ، یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ہم پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8702

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8703

8703 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبٌ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَهْرُ الزَّانِيَةِ سُحْتٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ، إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا، سُحْتٌ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَرْفُ: إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا، إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، تَفَرَّدَ بِهِ: الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زانیہ اور کتے کی کمائی سوائے شکاری کتے کے سود ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8703

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8704

8704 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبٌ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا انْهَزَمَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بَقِيَ مَعَهُ أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَصْعَدُ فِي الْجَبَلِ، فَلَحِقَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ: «أَلَا أَحَدٌ لِهَؤُلَاءِ؟» فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «كَمَا أَنْتَ يَا طَلْحَةُ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: «فَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ عَنْهُ، وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ مَنْ بَقِيَ مَعَهُ، ثُمَّ قُتِلَ الْأَنْصَارِيُّ فَلَحِقُوهُ، فَقَالَ:» أَلَا أَحَدٌ لِهَؤُلَاءِ؟ «فَقَالَ طَلْحَةُ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ مِثْلَ قَوْلِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَاتَلَ مِثْلَ قِتَالِهِ وَقِتَالِ صَاحِبِهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْعَدُ وَأَصْحَابُهُ يَصْعَدُونَ، ثُمَّ قُتِلَ، فَلَحِقُوهُ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ، وَيَقُولُ طَلْحَةُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَيَحْبِسُهُ، وَيَسْتَأْذِنُهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِلْقِتَالِ، وَيَأْذَنُ لَهُ، فَيُقَاتِلُ مِثْلَ مَنْ كَانَ قَبْلَهُ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا طَلْحَةُ، فَغَشَوْهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:» مَنْ لِهَؤُلَاءِ؟ «فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، فَقَاتَلَ مِثْلَ قِتَالِ جَمِيعِ مَنْ كَانَ قَبْلَهُ، وَأُصِيبَ بَعْضُ أَنَامِلِهِ، فَقَالَ: حِسْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:» يَا طَلْحَةُ، لَوْ قُلْتَ: بِسْمِ اللَّهِ، أَوْ ذَكَرْتَ اللَّهَ لَرَفَعَتْكَ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، حَتَّى تَلِجَ بِكَ فِي جَوِّ السَّمَاءِ «، ثُمَّ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةُ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: يَحْيَى "

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اُحد کے دن چلے گئے تو آپ کے ساتھ انصار کے بارہ افراد باقی رہے ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ پہاڑ پر چڑھے ، مشرکین ان سب کو پیچھے ملے ، آپ نے فرمایا: کیا کوئی ان کے لیے ہے؟ حضرت طلحہ بن عبیداللہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں ہوں ، آپ نے فرمایا: تم ایسے ہی ہو اے طلحہ۔ انصار کے ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں ہوں ، آپ اس جگہ سے اٹھے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے باقی افراد سمیت اس کے ساتھ چڑھے، پھر انصاری کو قتل کیا گیا۔ وہ اُس کو پیچھے سے آ کر ملے ، آپ نے پھر فرمایا: ان کے لیے کوئی ہے؟ تو حضرت طلحہ نے پہلے قول کی طرح بات کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی مثل جواب ارشاد فرمایا، ایک اور انصاری نے عرض کی: میں حاضر ہوں! اے اللہ کے رسول! اس انصاری کو اجازت ملی ، اس نے بے مثال جہاد کیا اور اپنے انصاری دوست کی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب پھر پہاڑ پر چڑھے ، پھر وہ انصاری قتل ہوئے ۔وہ اسے پیچھے سے آ ملے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل پہلے قول کی طرح ارشاد فرماتے رہے اور حضرت طلحہ نے عرض کی: میں موجود ہوں! یا رسول اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو روک کر کسی صحابی انصاری کو جہاد کی اجازت دیتے رہے ، جب وہ آپ سے اجازت مانگتا وہ پہلے ساتھی کی طرح جہاد کر کے شہید ہوتا رہا ، یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف حضرت طلحہ باقی رہ گئے ۔ سو ان لوگوں نے ان دونوں حضرات کو گھیر لیا ، تو آپ نے فرمایا: ان کے لیے کون ہے؟ حسب سابق حضرت طلحہ نے عرض کی: میں! حضرت طلحہ نے اپنے سابقین کی طرح خوب جہاد کیا ، آپ کی انگلی کا بعض حصہ زخمی ہوا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ ’’حِس ‘‘ ادا ہوئے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن کر فرمایا:اے طلحہ! اگر تو بسم اللہ کہتا تو تجھے فرشتے اٹھا کر لے جاتے اس حال میں کہ لوگ دیکھ رہے ہوتے، یہاں تک کہ تجھے لے کر آسمان کی فضا میں داخل ہو جاتے ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر اپنے ساتھیوں کی طرف آ گئے جبکہ وہ سب اکٹھے تھے۔

طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← «أَلَا أَحَدٌ لِهَؤُلَاءِ؟» ← لَمَّا انْهَزَمَ النَّاسُ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8704

chevron_left Previous
12345…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male