المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مِنْ بَقِيَّةِ مَنْ أَوَّلُ اسْمِهِ مِيمٌ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 7947
7947 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا، حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَصْحَابِي: مَنْ يَرْعَى إِبِلِنَا، وَنَنْطَلِقُ نَقْتَبِسُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَاحَ أَقْبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُ فِي نَفْسِي: لِعَلِيٌّ مَغْبُونٌ، يَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَمْ أَسْمَعْ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَضَرْتُ يَوْمًا فَسَمِعْتُ رَجُلًا، يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاتِهِ كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» فَتَعَجَّبْتُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَكَيْفَ لَوْ سَمِعْتَ الْكَلَامَ الْآخَرَ؟ كُنْتَ أَشَدَّ عَجَبًا، فَقُلْتُ: ارْدُدْ عَلَيَّ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرَكُ بِاللَّهِ تَعَالَى شَيْئًا، فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ» ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَهُ، فَصَرَفَ وَجْهَهُ عَنِّي، فَقُمْتُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لِمَ تَصْرِفُ وَجْهَكَ عَنِّي؟ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: «أَوَاحِدٌ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمِ اثْنَا عَشَرَ؟» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ إِلَّا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ»
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بارہ گھڑ سوار میں تھا ، یہاں تک کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، میرے ساتھی نے کہا:ہمارے اونٹوں کا کون خیال کرے گا، ہم چلتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیثیں سنتے ہیں، جب واپس آئے تو ہم نے سنا ہے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا میں نے کہا:میں، پھر میں نے اپنے دل میں کہا:ہو سکتا ہے میں غلط ہوں، میرے ساتھی نے سنا ہو جو میں نے سن رکھا ہو۔ میں ایک دن حاضر ہوا ، میں نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مکمل وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑا ہوا، اس کے گناہ اس طرح معاف ہوں گے جس طرح آ ج ہی اس کی ماں نے جنا ہے ، میں نے اس پر تعجب کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر دوسری بات سنتا تو اس سے زیادہ تعجب کرتا، میں نے کہا: مجھے بتائیں! مجھے اللہ آپ پر قربان کرے! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جواس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس سے چا ہے داخل ہو جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، میں قبلہ رخ تھا، آپ نے اپنا چہرہ مبارک مجھ سے پھیرا، میں آپ کے سامنے کھڑا ہوا ، میں نے ایسے تین مرتبہ کیا جب چوتھی دفعہ یہی ہوا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے اپنا چہرہ مبارک مجھ سے کیوں پھیرا؟ آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا:کیا تمہیں ایک کافی ہے یا دو ہوں ، دو یا تین مرتبہ فرمایا ، جب میں نے یہ دیکھا تو میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس آ گیا۔
عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ← مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › From the rest of the first one whose name is Mim, whose name is Moses · Hadith 7947
