المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8945
8945 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جُعِلَتْ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ ثُمَّ أُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَتُكْوَى بِهَا [ص:384] جَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفِ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حِلَابُهَا يَوْمَ وَرْدِهَا، إِلَّا أُتِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَأَهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ آخِرُهَا مَرَّ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفِ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أُتِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، لَيْسَ فِيهَا عَضْبَاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفِ سَنَةٍ، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ آخِرُهَا مَرَّ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ إِلَّا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُ لَهِيعَةَ "
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نہیں ہے سونے چانے والا جو ان کا حق ادانہیں کرتا مگر میدان کے لیے آگ کی تختیاں ہوں گی پھر ان کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا۔ان کے ساتھ اس کا منہ اور پیٹھ داغی جائے گی اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ، پس وہ اپنا راستہ خود ہی دیکھ لے گا، جنت کی طرف ہے یا دوزخ کی طرف، جو اوٹنی والا اس کا حق ادانہیں کرے گا اس کا حق بچہ جنے کے دن دودھ پلانا ہے مگر اسے قیامت کے دن لایا جائے گا، اس کا ہر چھوٹا بچہ ساتھ ہو گا۔ اس آدمی کو کھلی زمین میں ڈال دیا جائے گا، وہ اونٹ کے بچے اسے اپنے پاؤں کے ساتھ روندیں گے اور اپنے مونہوں کے ساتھ اسے کھائیں گے ، جب بھی اوّل سے لے کر آخر تک سارے گزر جائیں گے تو پھر پہلا گزرنا شروع کر دے گا ، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ۔گائے بکری والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر اسے کھلی زمین پر ڈال دیا جائے گا سینگوں والے اور بغیر سینگوں کے سب موجود ہوں گے ، اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے ، جب بھی آ خری گزر جائے گا تو پھر پہلا آ جائے گا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے وہ جنت و دوزخ کا اپنا راستہ دیکھ لے گا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← مِقْدَامٌ،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8945
