Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8945

8945 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جُعِلَتْ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ ثُمَّ أُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَتُكْوَى بِهَا [ص:384] جَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفِ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حِلَابُهَا يَوْمَ وَرْدِهَا، إِلَّا أُتِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَأَهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ آخِرُهَا مَرَّ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفِ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أُتِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، لَيْسَ فِيهَا عَضْبَاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفِ سَنَةٍ، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ آخِرُهَا مَرَّ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ إِلَّا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُ لَهِيعَةَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نہیں ہے سونے چانے والا جو ان کا حق ادانہیں کرتا مگر میدان کے لیے آگ کی تختیاں ہوں گی پھر ان کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا۔ان کے ساتھ اس کا منہ اور پیٹھ داغی جائے گی اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ، پس وہ اپنا راستہ خود ہی دیکھ لے گا، جنت کی طرف ہے یا دوزخ کی طرف، جو اوٹنی والا اس کا حق ادانہیں کرے گا اس کا حق بچہ جنے کے دن دودھ پلانا ہے مگر اسے قیامت کے دن لایا جائے گا، اس کا ہر چھوٹا بچہ ساتھ ہو گا۔ اس آدمی کو کھلی زمین میں ڈال دیا جائے گا، وہ اونٹ کے بچے اسے اپنے پاؤں کے ساتھ روندیں گے اور اپنے مونہوں کے ساتھ اسے کھائیں گے ، جب بھی اوّل سے لے کر آخر تک سارے گزر جائیں گے تو پھر پہلا گزرنا شروع کر دے گا ، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ۔گائے بکری والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر اسے کھلی زمین پر ڈال دیا جائے گا سینگوں والے اور بغیر سینگوں کے سب موجود ہوں گے ، اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے ، جب بھی آ خری گزر جائے گا تو پھر پہلا آ جائے گا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے وہ جنت و دوزخ کا اپنا راستہ دیکھ لے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8945

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8946

8946 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَصَدَّقُوا وَتَقَرَّبُوا إِلَى اللَّهِ» ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ بِشَيْءٍ، حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، تَصَدَّقُوا وَتَقَرَّبُوا إِلَى اللَّهِ» ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ بِقِطْعَةِ سِوَارٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّاسُ تَتَابَعُوا فِي الصَّدَقَةِ، فَأَسْفَرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةَ كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ لَهُ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مِنْ عَمِلَ بِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ إِلَّا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ "

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! صدقات وخیرات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرو۔ یہ بات تین بارفرمائی ۔ کوئی آدمی ، کوئی چیز لے کر نہ آیا یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس میں نا گواری دیکھی گئی ۔ پھر فرمایا: اے لوگو! صدقہ کرو اور اللہ کے قریب ہو جاؤ ۔ ایک انصاری کھڑا ہوا ، وہ کنگن کا ٹکڑا لایا۔ آپ نے اس سے لے لیا، جب دوسرے لوگوں نے یہ بات دیکھی تو پے در پے صدقہ دینے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چمک میں اضافہ ہوگیا، پھر فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کیا اسے اس کا اجر بھی ملے گا اور قیامت تک جو آدمی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ملے گا ، بعد والوں کے اجر میں کمی بھی نہیں کی جائے گی اور جس نے بُرا طریقہ رائج کیا، اس کا بوجھ اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بوجھ اس پر ہو گا، ان کے بوجھوں میں کمی نہیں کی جائے گی ۔

جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8946

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7781

7781 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، نا ثَابِتٌ أَبُو حَمْزَةَ، ثَنَا كَثِيرٌ النِّوَّاءُ، عَنْ رِفَاعَةَ الْفِتْيَانِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا أَنْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ قَالَ: يَا أَبَا عُمَرَ أَلَا تُعِينُنَا عَلَى هَذَا الْكُرْسِيِّ، فَإِنَّهُ قَامَ عَنْهُ جِبْرِيلُ آنِفًا، قُلْتُ: بَلَى، أُعِينَكَ عَلَى أَنْ تُحَرِّقَهُ وَتَنْسِفَهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا، قَالَ رِفَاعَةُ: فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِلَى قَائِمِ سَيْفِي، فَقُلْتُ: فِي نَفْسِي أَلَا أَقْتُلُ هَذَا الْكَذَّابَ، حَتَّى ذَكَرُتُ كَلِمَةَ أَخِي عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنِ ائْتَمَنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَثِيرٍ النَوَّاءِ إِلَّا ثَابِتُ بْنُ حَمْزَةَ , تَفَرَّدَ بِهِ زَحْمَوَيْهِ

حضرت رفاعہ الفتیانی فرماتے ہیں کہ میں مختار کے پاس داخل ہوا جب میں نے نکلنے کا ارادہ کیا ، مختار نے کہا: اے ابو عمر ! کیا تو ہماری اس کرسی پر مدد نہیں کرے گا کیونکہ اس سے ابھی حضرت جبریل کھڑے ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! تیری اس حوالہ سے مدد کروں گا۔ اسے جلاؤں گا اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے سمندر میں ڈال دوں گا ۔ حضرت رفاعہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ تلوار کی طرف بڑھایا، میں نے اپنے دل میں کہا: کیا اس جھوٹے کوقتل نہ کر دوں ۔ یہاں تک کہ یہ بات اپنے بھائی عمرو بن حمق کے پاس سے سنی ہوئی یاد کی کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو کسی آدمی کو اس کے خون کا امن دے وہ اس کوقتل کرے تو میں اس قاتل سے بَری ہوں اگرچہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو۔

دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا ← رِفَاعَةَ الْفِتْيَانِيِّ ← كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ← ثَابِتٌ أَبُو حَمْزَةَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7781

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7782

7782 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ، ثَنَا رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا نَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا أَحَدٌ، إِلَّا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، إِلَّا رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، تَفَرَّدَ بِهِ الْقَاسِمُ [ص:6] بْنُ عِيسَى "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھتے، ایسے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ، ہم میں سے کوئی آپ سے گفتگو نہ کرتا تھا سوائے ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ، ← رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ الْبَاهِلِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7782

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7783

7783 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَنْقُضَ مَزَاوِدَنَا بَعْدَ ثَلَاثٍ» يَعْنِي: الْأَضَاحِيَّ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَّا أَزْهَرُ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں: ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم قربانی کا رکھا ہوا گوشت تین دن کے بعد توڑ کر کھالیں ۔

«كُنَّا نُؤْمَرُ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7783

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7784

7784 - حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ: نا الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، ثَنَا نَافِعٌ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَانَ حَدِيثُهُ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ بَوْلٍ وَغَائِطٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ «ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ، فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ» قَالَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرِ التَّيَمُّمَ إِلَّا نَافِعٌ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا ، گلیوں میں سے کسی گلی میں آپ پاخانہ اور پیشاب کر کے نکل رہے تھے ، اس نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، جب وہ گلی میں اوجھل ہونے لگا تو آپ نے اپنا ہاتھ دیوار پر مارا ، آپ نے اپنے چہرے پر ہاتھ مارا ، پھر دوسرا ہاتھ دیوار پر مارا ، اپنی دونوں کلائیوں پر ہاتھ مارا ، یعنی تیمّم پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا ، آپ نے فرمایا: جو آپ کے سلام کا جواب دینے سے رکاوٹ یہ تھی میں نے وضونہیں کیا تھا۔

نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ ← مَحْمُودٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7784

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7785

7785 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،: ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا بَلَغَ بَنُو الْحَكَمِ ثَلَاثِينَ اتَّخَذُوا دِينَ اللَّهِ دَغَلًا، وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا، وَمَالَ اللَّهِ دُوَلًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُطَرِّفِ إِلَّا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، تَفَرَّدَ بِهِ زَحْمَوَيْهِ

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بنو حکم تیس کی تعداد کا ہو جائے تو وہ دین کو دھو کہ اور اللہ کے بندوں کو ذلیل وخوار اور اللہ کے مال کو ذاتی مال سمجھیں گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7785

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7786

7786 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ: نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى [ص:7] زَحْمَوَيْهِ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْيَمِينُ فِي الْبَيْعِ مُنَفِّقَةٌ مُمْحِقَةٌ لِلْكَسْبِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ إِلَّا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، تَفَرَّدَ بِهِ: زَحْمَوَيْهِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کاروبار میں قسم بیرکت کوختم کرتی ہے ۔

دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ إِلَّا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، تَفَرَّدَ بِهِ: زَحْمَوَيْهِ ← «الْيَمِينُ فِي الْبَيْعِ مُنَفِّقَةٌ مُمْحِقَةٌ لِلْكَسْبِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْعَبَّاسِ بنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيِّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى [ص:7] زَحْمَوَيْهِ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7786

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7787

7787 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَسْعَى عَلَى بَعِيرٍ لَهُ، فَلَمَّا أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ أَتَى الْمَسْجِدَ، فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَؤُمُّهُمْ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ أَوْ آلَ عِمْرَانَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الرَّجُلُ انْصَرَفَ فَصَلَّى نَاحِيَةً، ثُمَّ لَحِقَ بِبَعِيرِهِ، فَقَالَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ: نَافَقَ فُلَانٌ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا، فَقَالَ: «أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَلَا قَرَأْتَ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، إِلَّا خَالِدٌ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی انصار سے آیا ، اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نماز مغرب کے لیے اقامت پڑھی گئی ، مسجد میں آیا ، حضرت معاذ بن جبل کو دیکھا وہ امامت کروا رہے تھے ۔ حضرت معاذ نے سورۂ بقرة ، آل عمران شروع کر دی ، جب اس آدمی نے دیکھا تو وہ با جماعت نماز چھوڑ کر علیحدہ کونے میں پڑھنے لگا، پھر اپنے اونٹ پر سوار ہو گیا ، مدینہ والوں نے کہا: فلاں منافق ہے۔ اس آدمی نے جب بات کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ کو بتایا آپ نے حضرت معاذ کو بلوایا، فرمایا: کیا تو فتنہ ڈالنا چاہتا ہے کیا تو والشمس وضحاھا اور سبح اسم ربک الاعلیٰ کیوں نہیں پڑھ لیتے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← الشَّيْبَانِيِّ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7787

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7788

7788 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً مَا يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا عَبْدٌ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ إِلَّا خَالِدٌ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا: کہ جمعہ کے دن ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت اللہ سے کوئی شی مانگی جائے تو اللہ عطا کرتا ہے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الشَّيْبَانِيِّ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7788

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7789

7789 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ: نا [ص:8] سِنَانُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَوْمًا يَأْمُرُونَا أَنْ نَصْعَدَ عَلَى الْمَنَابِرِ فَنَتَكَلَّمَ، فَإِذَا نَزَلْنَا فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَخِرَّ أَحَدُنَا مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْهَا قَالَ: «كَانَ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِفَاقًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُجَالِدٍ إِلَّا سِنَانُ بْنُ هَارُونَ، تَفَرَّدَ بِهِ: زَحْمَوَيْهِ "

حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن ! ہم کو کچھ لوگ منبروں پر بیٹھنے کا حکم دیتے ہیں ، ہم گفتگو کریں ، جب ہم اترتے ، اللہ کی قسم ! ہم میں سے کسی کو زیادہ پسند ہوتا تھا کہ آسمان سے گرنا اس شی پر ثابت رہنے سے ۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہم منافقت شمار کرتے تھے۔

قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الشَّيْبَانِيِّ ← مجالد ← سِنَانُ بْنُ هَارُونَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7789

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ · حديث 7790

7790 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا زَكَرِيَّا، نا شَرِيكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقْطَعِ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ إِلَّا شَرِيكٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: زَحْمَوَيْهِ "

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ ختم نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ← شَرِيکٍ ← زَکَرِیَّا، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › A door of his name is Mahmoud · Hadith 7790

chevron_left Previous
1…242526…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male