Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8897

8897 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَصْبَغُ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: «أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارٌ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ شِعَارٌ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شُعْبَةً لَاتَّبَعْتُ شُعْبَةَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِهِمْ شَيْئًا فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَذَيْنِ» وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ يَعْنِي: قَلْبَهُ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ إِلَّا يَحْيَى بْنُ النَّضْرِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو صَخْرٍ»

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومنبر پر فرماتے ہوئے سنا:خبر دار! لوگ تہ درنہ ہیں، انصار نشانی ہیں ، اگر لوگ وادی کی طرف چلتے اور انصار گھاٹی کی طرف تو میں انصار کے گروہ کی اتباع کرتا، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کے مردوں میں سے مرد ہوتا ، جو ان میں کوئی امیر بنے تو وہ ان کی برائیوں سے درگزر کرے اور اچھائیاں دیکھے، جس نے ان کو پریشان کیا اس نے اپنے دل کو پریشان کیا۔

أَبُو صَخْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8897

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8898

8898 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَصْبُغَ بْنُ الْفَرَجِ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنٌ بِعُسْفَانَ، فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، هَلِ اجْتَمَعَ لَهُ النَّاسُ؟ فَخَرَجْتُ فَإِذَا النَّاسُ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ قَالَ: اجْتَمَعُوا لَهُ أَرْبَعُونَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: أَخْرِجُوهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «[ص:369] مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، لَا يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ إِلَّا أَبُو صَخْرٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُ وَهْبٍ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرا بیٹا عسفان کے مقام پر وصال کر گیا ، آپ نے فرمایا: اے کریب! کیا لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں؟ میں نکلا تو دیکھا کہ لوگ جمع ہیں ، فرمایا: چالیس آدمی ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! حضرت ابن عباس نے فرمایا: جناہ نکال لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان کے فوت ہو جانے پر اس کے جنازہ میں چالیس آدمی شریک ہوں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو اللہ عزوجل اس کی اس آدمی کے متعلق شفاعت قبول کرے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← شريك بن عبد الله ← أَبُو صَخْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8898

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8899

8899 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا، فَإِنْ عَادَ فَهُوَ زُكَامٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھینک کا جواب تین دفعہ ہے اگر دوبارہ آئے تو وہ زکام ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8899

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8900

8900 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً مَحَا اللَّهُ عَنْهُ سَبْعَ خَطِيئَاتٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءٍ إِلَّا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو صَخْرٍ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:جس نے چھپکلی کو قتل کیا اللہ عزوجل اس کے سات گناہ معاف کرے گا۔

عَطَاءٍ إِلَّا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو صَخْرٍ ← «مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً مَحَا اللَّهُ عَنْهُ سَبْعَ خَطِيئَاتٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← أَبُو صَخْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8900

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8901

8901 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، نا سَهْلٌ أَبُو حَرِيزٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: عَمَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَأَرْخَى لَهُ أَرْبَعَ أَصَابِعَ، وَقَالَ: «إِنِّي لَمَّا صَعِدْتُ إِلَى السَّمَاءِ رَأَيْتُ أَكْثَرَ الْمَلَائِكَةِ مُعْتَمِّينَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا سَهْلٌ أَبُو حَرِيزٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو عمامہ باندھا ، اس کو چار انگلیاں لٹکایا اورفرمایا: مجھے جب معراج کروائی گئی تو میں نے اکثر فرشتوں کو عمامہ پہنے دیکھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← سَهْلٌ أَبُو حَرِيزٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8901

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8902

8902 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْقَيْسِيُّ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ قَالَ: «لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ، وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَا لَيْلُ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي، فَنَظَرْتُ فِيهَا جِبْرِيلَ، فَنَادَانِي، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ هَذَا، أَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ بِمَا شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ فَعَلْتُ، فَقُلْتُ: بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا يُونُسُ، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُ وَهْبٍ "

حضرت عائشہ صدیقہ اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی: اے اللہ کے رسول! اُحد کے دن سے زیادہ سخت دن بھی آپ کی زندگی میں آیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آپ کی قوم سے ملا عقبہ کے دن ، ان کی طرف سے جوسلوک مجھ سے ہوا وہ زیادہ سخت تھا۔ جب میں نے ابن عبدیالیل بن عبدکلام پر میں نے اپنا آپ پیش کیا، جس چیز کا میں نے ان سے ارادہ کیا۔ اس کو انہوں نے قبول نہ کیا ، میں وہاں سے اس حال میں روانہ ہوا کہ پریشانی کے آثار میرے چہرے سے نمایاں تھے۔ قرن ِثعالیب تک پہنچنے سے پہلے میں بالکل نہیں رُکا، میں نے سر اٹھایا، اچانک ایک بادل نے میرے اوپر سایہ کیا ہوا ہے ، میں نے اس جبریل علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی آواز سن لی ہے اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا ہے۔ پہاڑوں پر مقرر فرشتے کو آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ ان کے بارے میں جو آپ چاہیں اسے حکم ارشاد فرمائیں ، سو پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے نداء دی ، مجھ پر سلام کیا۔، پھر عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی بات اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا ہے ، سن لیے ہیں، میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ ہوں ، آپ کے رب نے مجھے آپ کی طرف اس لیے بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں ، اگر آپ حکم دین تو میں ان پر دونوں پہاڑوں کو ملا دوں یہ میں کر سکتا ہوں، میں نے کہا: مجھے امید ہے کہ ان کی پشتوں سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيَّ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْقَيْسِيُّ، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8902

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8903

8903 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَجِدُ مَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِي النَّوْمِ حَتَّى تَجِدَ الْبَلَلَ؟ قَالَ: «فَإِذَا وَجَدَتْ ذَلِكَ إِحْدَاكُنَّ فَلْتَغْتَسِلْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ إِلَّا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ بتائیں کہ اگر ہم میں سے کوئی سوئے ہوئے تری پائے جس طرح مرد پاتا ہے رات کو؟ تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی پائے تو وہ غسل کرے۔

جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَتْ: ← عَائِشَةَ ← مُحَمَّدٍ ← الْقَاسِمِ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8903

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8904

8904 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ [ص:371] سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْتِرَابُ الزَّمَانِ أَنْ يَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَالْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ، وَالسَّاعَةُ كَضَرْمَةِ نَارٍ، وَلَيَنَامَنَّ أَحَدُكُمْ وَأَجَلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:قرب قیامت سال مہینہ کی طرح اور مہینہ جمعہ کی طرح اور جمعہ دن کی طرح گھنٹا گھڑی کی طرح اور گھڑی ایسے ہو گی جس طرح آگ کا شعلہ کہ تم میں کوئی آرام کرتا ہے اور اپنی آنکھوں کے درمیان نیند پاتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← [ص:371] سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8904

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8905

8905 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَرْزُوقِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ هَجَرَ نِسَاءَهُ، فَوَافَاهُ عَلَى سَرِيرٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوَّةٍ لِيفًا، قَالَ عُمَرُ: فَالْتَفَتُّ فِي أُهُبٍ مَعْطُوفَةٍ قَدْ سَطَعَ رِيحُهَا فَبَكَيْتُ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخِيرَتُهُ وَهَذَا كِسْرَى وَقَيْصَرُ فِي الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ؟ فَاسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَقَالَ: «أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَسْرُوقٍ إِلَّا الْوَلِيدُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، جس وقت آپ اپنی ازواج پاک سے علیحدہ تھے آپ کو ایسے بستر پر پایا اور جس تکیہ سے آپ نے ٹیک لگائی تھی وہ کھجور کی چھال کا بھرا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے گھر میں نظر پھیرائی تو رو پڑے، عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور افضل ہیں یہ کسریٰ قیصر، سونے اور چاندی کے محلات میں رہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھا ہو کر بیٹھ گئے ، فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تمہیں کوئی شک ہے؟ ان لوگوں کو یہ نعمتیں دنیا میں ہی دی گئی ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَرْزُوقُ بْنُ أبي الْهُذَيْلِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8905

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8906

8906 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُقَادُ وَلَدٌ مِنْ وَالِدٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ مَوْصُولًا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِلَّا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:والد اگر بیٹے کو قتل کرے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔

عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِلَّا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ← «لَا يُقَادُ وَلَدٌ مِنْ وَالِدٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ مَوْصُولًا ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8906

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8907

8907 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفٍ، وَنَحْنُ حَلَالِانِ، بَعْدَ مَا رَجَعَ مِنْ مَكَّةَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ مُجَوَّدًا عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ فِي مَتْنِ هَذَا الْحَدِيثِ: بَعْدَ مَا رَجَعَ مِنْ مَكَّةَ، إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ "

حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے شادی مقام ِسرف پر کی ، ہم دونوں نے مکہ کی طرف واپس جاتے ہوئے احرام کھولا۔

مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8907

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8908

8908 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جَزِّ السِّبَالَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا ابْنُ لَهِيعَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو الْأَسْوَدِ "

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا لٹکانے سے منع کیا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8908

chevron_left Previous
1…202122…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male