المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8873
8873 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، نا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بُسْرًا أَخْضَرَ، فَقَالَ: «كُلْ يَا ابْنَ عُمَرَ» ، قُلْتُ: مَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «مَا تَشْتَهِيهِ؟ إِنَّهُ لَأَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَالِمٍ إِلَّا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ "
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے کسی باغ میں داخل ہوا، آپ تازہ کھجوریں کھانے لگے ، آپ نے فرمایا: تم کھاؤ! میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے چاہت نہیں ہے ، آپ نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ کیونکہ یہ پہلا کھانا تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار دن کے بعد کھایا۔
«كُلْ يَا ابْنَ عُمَرَ» قُلْتُ: مَا أَشْتَهِيهِ ← دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بُسْرًا أَخْضَرَ، ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أسد ← مِقْدَامٌ،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8873
