Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8873

8873 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، نا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بُسْرًا أَخْضَرَ، فَقَالَ: «كُلْ يَا ابْنَ عُمَرَ» ، قُلْتُ: مَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «مَا تَشْتَهِيهِ؟ إِنَّهُ لَأَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَالِمٍ إِلَّا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے کسی باغ میں داخل ہوا، آپ تازہ کھجوریں کھانے لگے ، آپ نے فرمایا: تم کھاؤ! میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے چاہت نہیں ہے ، آپ نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ کیونکہ یہ پہلا کھانا تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار دن کے بعد کھایا۔

«كُلْ يَا ابْنَ عُمَرَ» قُلْتُ: مَا أَشْتَهِيهِ ← دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بُسْرًا أَخْضَرَ، ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8873

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8874

8874 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، [ص:361] عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ، مَا لَنَا مِنْ زَادٍ إِلَّا السَّلْفَ مِنَ التَّمْرِ، نَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً، حَتَّى نَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ» . فَقُلْتُ: يَا أَبَةُ، وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمُ التَّمْرَةُ؟ قَالَ: لَا تَقُلْ ذَاكَ يَا بُنَيَّ، فَمَا عَدَا أَنْ فَقَدْنَاهَا فَوَجَدْنَا فَقْدَهَا « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ إِلَّا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: الْمَسْعُودِيُّ، وَلَا يُرْوَى عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ»

حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں سریہ میں بھیجتے ، ہمارے پاس زاد راہ میں پرانی کھجوریں ہوتی تھیں ، ہم کو ایک ایک مٹھی دی جاتی تھی یہاں تک کہ ہمیں ایک ایک کھجور دی جاتی، میں نے عرض کی: اے ابا جان! قریب ہے کہ ہمارے لیے ایک کھجور کافی نہ ہو ، یہ نہ کہو! اے بیٹے ! اس کے علاوہ ہے ، ہم نے تو پایا بھی نہیں جب پایا اسے کم ہی پایا۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8874

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8875

8875 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنَ آدَمَ عِنْدِكَ مَا يَكْفِيكَ وَأَنْتَ تَطْلُبُ مَا يُطْغِيكَ؟ ابْنَ آدَمَ لَا بِقَلِيلٍ تَقْنَعُ، وَلَا مِنْ كَثِيرٍ تَشْبَعُ؟ ابْنَ آدَمَ، إِذَا أَصْبَحْتَ مُعَافًى فِي جَسَدِكَ، آمِنًا فِي سِرْبِكَ، عِنْدِكَ قُوتُ يَوْمِكَ فَعَلَى الدُّنْيَا الْعَفَاءُ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عُمَرَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَسَدُ بْنُ مُوسَى "

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان تیرے پاس جو ہے وہ کافی ہے اور تو وہ طلب کرنے والا ہے جو تجھے سرکشی پر ابھارنے والا ہے ، اے انسان! کم پر قناعت نہیں کرتا اور زیادہ سے سیر نہیں ہوتا ہے؟ اے انسان! جب تو صبح کرے اس حالت میں کہ تو تندرست ہو اور امن میں ہو تیرے پاس ایک دن کا کھانا ہو تو دنیا پر ہلاکت ہے۔

عُمَرَ، ← خَالِدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8875

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8876

8876 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الرَّجُلَ لِيُعْطَى مِثْلَ قُوَّةِ مِائَةٍ فِي الْأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، وَالشَّهْوَةِ، وَالْجِمَاعِ» ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ وَيَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، وَالْجَنَّةُ مُطَهَّرَةٌ؟ قَالَ: «حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يُفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ كَرِيحِ الْمِسْكِ، فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ فُضَيْلٍ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى "

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے عرض کی : اے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ خیال کرتے ہیں کہ جنت والے جنت میں کھائیں پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ایک آدمی کھانے ، پینے، شہوت اور جماع میں ایک سو آدمیوں کے برابر طاقت دی جائے گی۔یہودی نے کہا:جو کھاتے اور پیتے ہیں ان کو حاجت ہو گی اور جنت پاک ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ان میں سے کسی کو پسینہ آئے گا، یا جس طرح مشک خوشبو ہے تو اس کا پیٹ پاک ہو جائے گا۔

يَا أَبَا الْقَاسِمِ، تَزْعُمُ ← جَاءَ يَهُودِيٌّ إلَى النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8876

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8877

8877 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الْبُنَانِيٍّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَدَّثَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: يَدْخُلُ الرَّجُلُ عَلَى الْحَوْرَاءِ فَتَسْتَقْبِلُهُ بِالْمُعَانَقَةِ، وَالْمُصَافَحَةِ» ، قَالَ ثَابِتٌ: قَالَ أَنَسٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَبِأَيِّ بَنَانٍ تُعَاطِيهِ، لَوْ أَنَّ بَعْضَ بَنَانِهَا بَدَا لَغَلَبَ ضَوْؤُهُ ضوء الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ، وَلَوْ أَنَّ طَاقَةً مِنْ شَعَرِهَا بَدَتْ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا، فَبَيْنَا هُوَ مُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَتِهِ إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ، فَيَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَى خَلْقِهِ، فَإِذَا حَوْرَاءُ تُنَادِيهِ: يَا وَلِيَّ اللَّهِ، أَمَا لَنَا فِيكَ مِنْ دَوْلَةٍ؟، فَيَقُولُ: وَمَنْ أَنْتِ يَا هَذِهِ؟، فَتَقُولُ: أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ} [ق: 35] ، فَيَتَحَوَّلُ إِلَيْهَا، فَإِذَا عِنْدَهَا مِنَ الْجَمَالِ وَالْكَمَالِ مَا لَيْسَ مَعَ الْأُولَى، فَبَيْنَا هُوَ مُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَتِهِ إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ، وَإِذَا حَوْرَاءُ أُخْرَى، تُنَادِيهِ: يَا وَلِيَّ اللَّهِ، أَمَا لَنَا فِيكَ مِنْ دَوْلَةٍ؟، فَيَقُولُ: وَمَنْ أَنْتِ يَا هَذِهِ؟ فَتَقُولُ: أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءَ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: 17] ، فَلَا يَزَالُ يَتَحَوَّلُ مِنْ زَوْجَةٍ إِلَى زَوْجَةٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَسَدُ بْنُ مُوسَى "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا، مجھے حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ آدمی حوروں کے پاس آئے گا، حوریں اس کا استقبال کریں گی، معانقہ اور مصافحہ کر کے۔حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت انس فرماتے ہیں:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر باغ کے کسی پھول کو ظاہر کیا جائے تو اس کے سامنے سورج چاند کی روشنی مدھم ہو جائے ، اگر وہاں کی کوئی حوریں اپنا ایک بال ظاہر کرے اس کی خوشبو سے مشرق اور مغرب مہک اٹھے، لوگ تکیہ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوں گے، اچانک ان کے اوپر نور چمکے گا، وہ گمان کرے گا کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق پر توجہ فرمائی ہے ، وہ حوریں اسے نداء دے رہی ہو گی ، اے اللہ کے دوست! کیا ہمارے لیے اس میں دولت ہے؟ وہ کہے گا: اے کہنے والے! تو کون ہے؟ وہ حور کہے گی: میں وہی ہوں! جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے: ہمارے پاس اس سے زیادہ ہے ، وہ مڑ کر اس کی طرف دیکھے گا تو وہاں حسن و جمال و کمال ہو گا جو پہلی مرتبہ نہیں ہو گا ، وہ اس حالت میں تکیہ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوں گے، اچانک ان کے اوپر نور ہو گا وہ دوسری حور ہو گی جو پڑھ رہی ہو گی:اے اللہ کے دوست! ہمارے لیے اس میں دولت ہے؟وہ کہے گا:اے پڑھنے والی! تو کون ہے؟ وہ کہے گی: میں ہی پڑھنے والی ہوں جن کے بارے اللہ عزوجل فرماتا ہے: کوئی جان نہیں جانتی کہ ان کے لیے کیا پوشیدہ ہے ، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، یہ جزاء ہے جو وہ عمل کرتے تھے ، ہمیشہ ایک بیوی سے دوسری بیوی کی طرف تبدیل ہوتا رہے گا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← يَدْخُلُ الرَّجُلُ عَلَى الْحَوْرَاءِ فَتَسْتَقْبِلُهُ بِالْمُعَانَقَةِ، وَالْمُصَافَحَةِ» ← جِبْرِيلُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتُ بْنُ الْبُنَانِيٍّ، ← سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8877

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8878

8878 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، نا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ حِلْيَةً عَدَلَتْ حِلْيَتُهُ بِحِلْيَةِ أَهْلِ الدُّنْيَا جَمِيعًا، لَكَانَ مَا يُحَلِّيهِ اللَّهُ بِهِ فِي الْآخِرَةِ أَفْضَلَ مِنْ حِلْيَةِ أَهْلِ الدُّنْيَا جَمِيعًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں رہنے والے کے لیے کم سے کم ایسے زیورات ہوں گے وہ تمام دنیا کے زیورات کے برابر ہو گا جو اللہ عزوجل اس کو قیامت کے دن زیورات پہنائے گا، وہ افضل ہو گا اس سے تمام دنیا پہنتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ قُرَّةَ، ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8878

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8879

8879 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْقِيَهُ اللَّهُ الْخَمْرَ فِي الْآخِرَةِ فَلْيَتْرُكْهَا فِي الدُّنْيَا، وَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْسُوَهُ اللَّهُ الْحَرِيرَ فِي الْآخِرَةِ فَلْيَتْرُكْهُ فِي الدُّنْيَا» لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس کو پسند ہو کہ اللہ عزوجل اس کو آخرت میں شراب پلائے تو وہ دنیا کی شراب چھوڑ دے، جس کو پسند ہو کہ اللہ عزوجل اس کو آخرت میں ریشم پہنائے تو وہ دنیا میں ریشم پہننا چھوڑ دے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ قُرَّةَ، ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8879

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8880

8880 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدٌ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ مَا تُقِلُّ ظُفُرٍ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا سِوَارُهُ لَطَمَسَ ضَوْؤُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرٍ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُ لَهِيعَةَ، وَلَا يُرْوَى عَنْ سَعِيدٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ "

حضرت داؤد بن عامر بن سعد بن ابو وقاص اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے کم کامیابی یہ ہو گی کہ زمین و آسمان کے برابر اس کے لیے زینت ہو گی ، اگر جنت والوں میں سے کوئی آدمی دنیا میں جائے تو اس کے سامنے سورج کی روشنی مدھم ہو جائے گی جس طرح کہ سورج کے سامنے ستاروں کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8880

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8881

8881 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، نا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ دِينَارٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْكَافِرَ لَيُلْجَمُ بِعَرَقِهِ مِنْ شِدَّةِ ذَلِكَ الْيَوْمِ، يَعْنِي: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يَقُولَ: يَا رَبُّ، أَرِحْنِي وَلَوْ إِلَى النَّارِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا عَبْدُ الْغَفَّارِ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کافر کو قیامت کے دن پسینے کی لگام دی جائے گی یہاں تک کہ وہ کہے گا:اے رب! اس سے راحت دے اگرچہ آگ کے ذریعہ ہو۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ دِينَارٍ الضَّبِّيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8881

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8882

8882 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، نا أَيُّوبُ بْنُ خُوطٍ، ثَنَا قَتَادَةُ، [ص:364] عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ وَسَدَمَهُ، وَلَهَا يَشْخِصُ، وَلَهَا يَنْصَبُ وَيَطْلُبُ، جَعَلَ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَشَتَّتَ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ، وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ وَسَدَمَهُ، وَلَهَا يَشْخِصُ، وَلَهَا يَنْصَبُ وَيَطْلُبُ، جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَجَمَعَ لَهُ الضَّيْعَةَ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ صَاغِرَةٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا أَسَدٌ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا أَيُّوبُ بْنُ خُوطٍ، وَهَمَّامٌ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ هَمَّامٍ إِلَّا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ "

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو دنیا میں غم و پریشانی پہنچے وہ اس کا اظہار کرے ، لوگوں سے مانگے تو اس کی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان رکھی جائے گی، اس کی محتاجی زیادہ ہو گی ، اس کو وہی ملے گا جو اس کے مقدر میں لکھا گیا ، جس نے آخرت کے غم کو ہی اپنا مقصد بنایا وہ اس کی پریشانی میں رہتے ہیں تو اللہ عزوجل غناء اس کے دل میں رکھ دے گا اور دنیا و آخرت کے سامان اس کے لیے جمع کر دے گا اور دنیا اس کے پاس آئے گی ذلیل ورسوا ہو کر۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ، [ص:402] ← أَيُّوبُ بْنُ خُوطٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8882

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8883

8883 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ» ، « لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدٍ إِلَّا أَسَدٌ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سجدہ میں میانہ روی کرو، تم میں کوئی اپنی کلائیاں ایسے نہ بچائے جس طرح کہ کتا بچاتا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8883

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8884

8884 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا أَبُو هِلَالٌ الرَّاسِبِيُّ، نا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي مِائَةَ أَلْفٍ» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَحَثَا بِهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَدُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا لَنَا ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُدْخِلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ: «صَدَقَ عُمَرُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا أَبُو هِلَالٍ " وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، [ص:365] وَرَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا کہ میری امت کے ایک لاکھ لوگ جنت میں لے جانے کا۔حضرت ابو بکر نے عرض کی: یا رسول اللہ!ہمارے لیے اضافہ کریں! آپ نے اپنا دست مبارک ایسے کیا اور اس کو ابھارا ، حضرت ابو بکر نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمارے لیے اضافہ کریں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ایسے کیا، حضرت ابو بکر نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمارے لیے اضافہ کریں! آپ نے اپنے دست مبارک سے ایسے کیا۔ حضرت عمر نے عرض کی: اے ابو بکر ! بس کریں! حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے ابن خطاب! آپ کو اس سے کیا ہے؟ حضرت عمر نے عرض کی: اللہ عزوجل اس پر قادر ہے کہ سارے لوگوں کو ایک گروہ بنا کر جنت میں داخل کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر نے سچ کہا۔

أَبِيهِ ← أَبي بكر بن عمير ← أبي بكر بن أنس ← قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← أَنَسٍ، [ص:365] وَرَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَنَسٍ إِلَّا أَبُو هِلَالٍ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، ← قَتَادَةَ ← النَّبِيُّ: «صَدَقَ عُمَرُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُدْخِلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ، ← أَبُو بَكْرٍ: مَا لَنَا ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ ← عُمَرُ: يَدُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، ← بِيَدِهِ هَكَذَا، ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، ← بِيَدِهِ هَكَذَا، ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، ← بِيَدِهِ هَكَذَا، وَحَثَا بِهَا، ثُمَّ ← أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، ← «وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي مِائَةَ أَلْفٍ» ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8884

chevron_left Previous
1…181920…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male