Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8861

8861 - وَبِهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ رَجُلٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ إِلَّا أَسَدٌ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! کوئی آدمی کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8861

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8862

8862 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ: أَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءٍ إِلَّا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو نماز جیسے وضو کرتے اور اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ کو دھوتے ، پھر اپنے ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالتے ، پھر کلّی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے تھے تین مرتبہ ، پھر اپنے چہرے کو دھوتے تین مرتبہ ، پھر اپنی دونوں کلائیوں کو دھوتے تین مرتبہ ، پھر اپنے سراور جسم اطہر پر تین مرتبہ پانی ڈالتے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8862

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8863

8863 - حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ غِيَاثٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَمَرَّ عَلَى بِئْرٍ يُسْقَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَ هَذَا الْبِئْرِ يَحْمِلُهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ لَمْ يُؤَدِّ حَقَّهَا» ، وَأَتَى عَلَى غَنَمٍ، فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ الْغَنَمِ يُفْعَلُ بِهِ كَذَا وَكَذَا إِنْ لَمْ يُؤَدِّ حَقَّهَا» وَأَتَى عَلَى إِبِلٍ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: «لَيْسَ فِي الْمَالِ خَيْرٌ» ، قُلْتُ: فَمَا يُعَيِّشُنَا؟ قَالَ: «الْخَادِمُ يَخْدُمُكَ، فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ، أَوْ فَرَسُكَ تُجَاهِدُ عَلَيْهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ إِلَّا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أُسَدُ بْنُ مُوسَى "

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلا ، مد ینہ شریف سے باہر کسی کام کے لیے آپ ، ایک کنویں کے پاس سے گزرے جوز مین کو سیراب کر رہا تھا ، آپ نے فرمایا: یہ کنویں کا مالک اگر کنواں کا حق نہیں ادا کرتا ہے تو اس کو قیامت کے دن اٹھائے ہوئے ہو گا، آپ بکریوں کے پاس آئے ، فرمایا: یہ بکریوں کا مالک اس کے ساتھ ایسے ایسے کیا جائے گا اگر اس کا حق ادانہیں کرے گا، اونٹوں کے پاس آئے ، اس کے لیے بھی ایسے ہی فرمایا۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کون سا مال بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مال میں بہتری نہیں ہے ، میں نے عرض کی: ہم زندگی کیسے گزاریں؟ فرمایا: ایک خادم جو میری خدمت کرے جب وہ نماز پڑھے تو وہ تیرا بھائی ہے یا گھوڑا جس کے ذریعے جہادکرے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← غِيَاثٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8863

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8864

8864 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدٌ، نا عَافِيَةُ بْنُ يَزِيدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:357] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابَ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ: الْحَيَاةِ وَالْمَالِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَافِيَةَ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے آدمی کے دل میں دو چیزوں کی محبت جوان رہتی ہے: زندگی ، مال کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ، [ص:348] ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَافِيَةُ بْنُ يَزِيدَ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8864

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8865

8865 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، نا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ» ، قُلْتُ: وَمَا نِصْفُ يَوْمٍ؟ قَالَ: «إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ» قَالَ: «وَيَدْخُلُونَ جَمِيعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ» ، قُلْتُ: وَمَا صُورَةُ آدَمَ؟ قَالَ: «كَانَ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا طُولَهُ فِي السَّمَاءِ، وَسِتَّةً عَرَضًا» ، قُلْتُ: بِأَيِّ ذِرَاعٍ؟ قَالَ: «الذِّرَاعُ كَطُولِ الرَّجُلِ الطَّوِيلِ مِنْكُمْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ إِلَّا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَسَدُ بْنُ مُوسَى "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مسلمان فقیر لوگ جنت میں داخل ہوں گے مال دار سے آدھا دن پہلے، میں نے عرض کی:نصف دن کتنا ہو گا؟ آپ نے فرمایا:تمہارے رب کے ہاں ایک ہزار سال کے برابر، وہ لوگ جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر جائیں گے۔ میں نے عرض کی: آدم علیہ السلام کی صورت سے مراد کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: بارہ ہاتھ لمبائی ، چھ ہاتھ چوڑائی۔ میں نے عرض کی : زراع سے مراد کیا ہے؟ فرمایا: زراع سے مراد جتنا تم میں سے کوئی آدمی لمبا ہے۔

الْجُرَيْرِيِّ إِلَّا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَسَدُ بْنُ مُوسَى ← «الذِّرَاعُ كَطُولِ الرَّجُلِ الطَّوِيلِ مِنْكُمْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← «كَانَ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا طُولَهُ فِي السَّمَاءِ، وَسِتَّةً عَرَضًا» قُلْتُ: بِأَيِّ ذِرَاعٍ؟ ← «وَيَدْخُلُونَ جَمِيعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ» قُلْتُ: وَمَا صُورَةُ آدَمَ؟ ← «إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ» ← «يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ» قُلْتُ: وَمَا نِصْفُ يَوْمٍ؟ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُقَيْلِ بْنِ سُمَيْرٍ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8865

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8866

8866 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، نا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ الرَّاسِبِيُّ، نا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْقُرْدُوسِيُّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ ذَاتَ يَوْمٍ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَّا يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، وَيَدْعُو لَنَا، وَإِنَّ بَعْضَنَا لَمُسْتَتِرٌ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ وَجَهْدِ الْحَالِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ قُرَّائُنَا أَمْسَكَ عَنِ الْقِرَاءَةِ، فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْنَا، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَاسْتَدَارَتْ لَهُ حَلْقَةُ الْقَوْمِ، فَقَالَ: «أَلَمْ تَكُونُوا ترَادُّونَ حَدِيثًا بَيْنَكُمْ؟» ، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَاحِبُنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، وَيَدْعُو لَنَا قَالَ: «فَعُودُوا فِي حَدِيثِكُمْ» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: [ص:358] يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرَأُ وَأَنْتَ فِينَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، ثُمَّ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ» ، ثُمَّ قَالَ: «أَبْشِرُوا مَعَاشِرَ صَعَالِيكِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْفَوْزِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ بِمِقْدَارِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ، وَالْآخَرُونَ مَحْبُوسُونَ، يُمْسِكُونَ عَنِ الْفُضُولِ الَّتِي كَانَتْ فِي أَيْدِيهِمْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُوسَى بْنِ سَعِيدٍ الرَّاسِبِيِّ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى " وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ: حَمَّادُ بْنُ زَيدٍ وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانِ الضَّبْعِيُّ

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن کمزور مہاجرین کے گروہ میں بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی ہم میں سے قرآن پڑھ رہا تھا اور ہمارے لیے دعا کر رہا تھا ، ہم میں سے بعض دوسروں کے کپڑوں سے پردہ حاصل کر رہے تھے کیونکہ وہ ننگے تھے اور حالت بھوک میں تھے ، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، جب ہمارے قاری صاحب نے آپ کو دیکھا وہ خاموش ہو گیا قرآن پڑھنے سے، آپ ہمارے پاس بیٹھ گئے، آپ نے اپنے دست مبارک سے فرمایا:تم اردگرد حلقہ بناؤ!آپ نے فرمایا:کیا تم چاہتے ہو کہ تم کو حدیث سناؤں؟ صحابہ کرام نے عرض کی: کیوں نہیں! یا رسول اللہ! ہمارا ساتھی ہم پر قرآن پڑھنے لگا اور ہمارے لیے دعا کرنے لگا۔ ایک آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں پڑھوں اس حالت میں کہ آپ ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! پھر فرمایا: اس ذات کا شکر ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ بنائے ہیں جن کے پاس مجھے ٹھہرنے کا حکم دیا ہے، پھر فرمایا:اے کمزور لوگو! اے ایمان والو! تمہارے لیے خوشخبری ہے! قیامت کے دن تم مال داروں سے سو سال پہلے جنت میں جاؤ گے، دوسرے روک لیے جائیں گے اس وجہ سے جو ان کے پاس تھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← العلاء بن بشير ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْقُرْدُوسِيُّ ← موسى بن سعيد الراسبي ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8866

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8867

8867 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، نا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى قُبِضَ، وَمَا فَضَلَ مِنْ مَائِدَتِهِ كِسْرَةٌ فَضْلًا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین روز تک لگاتار روٹی نہیں کھائی گندم کی ، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال تک دستر خوان پر روٹی کا ٹکڑا نہیں تھا۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَيْمُونِ أَبِي حَمْزَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8867

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8868

8868 - حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَطَرٍ إِلَّا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ "

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں بہتر گروہ وہ ہے جس میں میں مبعوث ہوا ہوں ، پھر وہ لوگ جوان سے ملے ، پھر وہ لوگ جوان سے ملے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← داود بن الزبرقان ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الْعَبْدِيُّ، ← مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8868

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8869

8869 - حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، [ص:359] عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُزُرْجَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا ضَعْفَ الْيَقِينِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُزُرْجَ، تَفَرَّدَ بِهِ: سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر خوف یقین کی کمزوری کا ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُزُرْجَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، [ص:359] ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8869

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8870

8870 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، نا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَعَا رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ. قَالَ: وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ مَرَّةٍ، يَقُولُ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ تَمْرٍ، وَلَا صَاعُ بُرٍّ» ، وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ لِتِسْعِ نِسْوَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ، أَخَذَ فِيهِ طَعَامًا، مَا وَجَدَ مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَيْبَانَ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، وَآدَمُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی جَو کی روٹی اور بھنے ہوئے گوشت سے۔میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا:اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے! آل محمد نے صبح اس حالت میں نہیں کی ہے کہ ان کے پاس ایک صاع کھجور یا گندم ہو، حالانکہ ان دنوں آپ کے ہاں نو بیویاں تھیں ، آپ نے مدینہ میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ رکھی تھی بطور رہن ، اس کے بدلے آپ نے گندم لی تھی، آپ وہ زرہ لینے کے لیے کوئی شی نہیں پاتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شيبان أبو معاوية ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8870

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8871

8871 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدٌ، نا عَافِيَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقَالَتْ: «مَا أَشَاءُ أَنْ أَبْكِي إِلَّا بَكَيْتُ، مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ مَرَّتَيْنِ يَوْمًا» ثُمَّ انَّهَارَتْ عَلَيْهَا الدُّنْيَا «وَلَقَدْ كُنَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْمَاءَ وَالتَّمْرَ، وَلَقَدْ مَاتَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ حَتَّى افْتَكَّهَا أَبُو بَكْرٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَافِيَةَ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى "

حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا ، آپ رو رہی تھیں، میں نے عرض کی: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے کیا ہے میں کیوں نہ رؤوں! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال اس حالت میں ہوا کہ (آپ کے پاس ظاہراً ، ورنہ تو ساری کائنات کے مالک ومختار آپ ہی تھے اور ہیں ) گندم کی روٹی دو وقت کی نہیں ہوتی تھی جس کے ذریعے آپ پیٹ بھرتے، لیکن پھر بھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہم پر چار دن ایسے گزارتے کہ ہمارے پاس کھانا صرف پانی ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال اس حالت میں ہوا کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس بطور گروی تھی ، وہ حضرت ابو بکر نے لی تھی ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عَافِيَةُ بْنُ يَزِيدَ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8871

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8872

8872 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، نا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِصَّانَ بْنِ كَاهِنٍ قَالَ: أَخْبَرْتِنِي عَائِشَةُ، قَالَتْ: «أُهْدِيَ لَنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ رِجْلُ شَاةٍ مِنْ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ» ، قَالَتْ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأُمْسِكُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَجُزُّهَا» أَوْ «أَمْسَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَجُزُّهَا» ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، عَلَى مِصْبَاحٍ ذَاكَ؟ قَالَتْ: «لَوْ كَانَ عِنْدَنَا دُهْنُ مِصْبَاحٍ لَأَكْلَنْاهُ، إِنْ كَانَ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ فِيهِ خُبْزًا، وَلَا يَطْبُخُونَ فِيهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ إلا عَدِيُّ بْنُ الْمُفَضَّلِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَسَدُ بْنُ مُوسَى " وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں ایک رات حضرت ابو بکر کے گھر سے ایک آدمی نے بکری دی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے روک لیتی تو آپ کے لیے کافی ہوتا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھ لیتے جو میرے لیے کافی ہوتا۔ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اُم المؤمنین! آپ کے چراغ کیسے ہوتا ہے؟ فرمایا: اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لیے تیل ہوتا تو ہم اسے کھاتے ۔ آلِ محمد پر بھی ایک ماہ گزرتا کہ اس میں گندم کی روٹی نہیں پکاتے تھے اور نہ سالن پکاتے ۔

ھِصَّانُ بْنُ کَاھِنٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8872

chevron_left Previous
1…171819…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male