Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8849

8849 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَخِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، أَخُو الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِي بَطْنِي حَدَثًا، فَأَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، فَقَالَ: «إِنَّا لَا نَقْتُلُ مَا فِي بَطْنِكِ لِذَنْبِكِ انْطَلِقِي حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ» ، فَانْطَلَقَتْ، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْ فَقَالَتْ: قَدْ وَضَعْتُ. فَقَالَ: «انْطَلِقِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ» ، فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ فَقَالَتْ: قَدْ فَطَمْتُهُ يَا رَسُولً اللَّهِ. فَقَالَ: «انْطَلِقِي فَاكْفُلِيهِ» فَانْطَلَقَتْ فَجَاءَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا تَمْشِيَانِ، فَعَجِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَبْرِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهَا، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: «انْطَلِقْ، فَإِذَا وَضَعْتَ فِي حَفْرِهَا فَقُمْ بَيْنَ يَدَيْهَا حَتَّى تَكُونَ نُصْبَ عَيْنَيْهَا، فَأَشِرْ إِلَيْهَا» ، وَأَمَرَ رَجُلًا، فَقَالَ: «انْطَلِقْ إِلَى حَجَرٍ عَظِيمٍ، فَائْتِهَا مِنْ خَلْفِهَا، فَارْمِهَا، فَاشْدَخْهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ إِلَّا دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، وَلَا عَنْ دُوَيْدٍ إِلَّا أَخُوهُ مَسْلَمَةُ بْنُ نَافِعٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی ، اس نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اپنے پیٹ میں کوئی شی محسوس کرتی ہوں ، مجھ پر حد لگائیں! آپ نے فرمایا: ہم اس کو نہیں ماریں گے جو تیرے پیٹ میں ہے تو واپس چلی جا یہاں تک کہ تو جن لے جو تیرے پیٹ میں ہے ۔ وہ گئی جب اس نے جن لیا جو اس کے پیٹ میں تھا تو وہ آئی ، اس نے عرض کی: میں نے جن دیا ، آپ نے فرمایا: تُو واپس جا اور اس کو دودھ پلا ، بڑے ہونے تک جب کھانے پینے لگے تو آ نا۔ اس نے عرض کی: وہ کھانے پینے لگا ہے ، یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: تو چل اس کی کفالت کر ۔ وہ گئی وہ خود اور اس کی بہن دونوں چل کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعجب کرنے لگے اس کے صبر پر ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جاؤ اس کو گڑھے میں رکھو، اس کے سامنے کھڑا ہوا ، جب آ نکھوں تک چلی جائے تو اس کی طرف اشارہ کرنا اور آپ نے ایک آدمی کو حکم دیا، آپ نے فرمایا:بڑے پتھر کی طرف جاؤ، اس کے پیچھے سے آؤ ، اس پر گرا دو۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، أَخُو الزُّهْرِيِّ، ← أَخِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، ← مَسْلَمَةَ بْنِ نَافِعٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8849

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8850

8850 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، نا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ، ثَنَا أَبُو لَبِيدٍ قَالَ: أُرْسِلْتُ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ، فَلَمَّا جَاءَتِ الْخَيْلُ، قُلْنَا: لَوْ مِلْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَسَأَلْنَاهُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي قَصْرِهِ بِالزَّاوِيَةِ، فَسَأَلْنَاهُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاهِنُ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، يُقَالُ لَهَا: سَبْحَةُ، فَسَبَقَ النَّاسَ، فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ إِلَّا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ "

حضرت ابو الولید فرماتے ہیں کہ حجاج کے زمانہ میں گھڑ سواروں کالشکر بھیجا گیا اورحکم بن ایوب جو بصرہ کے امیر تھے انہوں نے بھیجا ، جب لشکر آیا ، ہم نے کہا: اگر ہم حضرت انس سے ملیں تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں: اے ابو حمزہ! کیا تم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں رہن رکھتے تھے ، ہم آپ کے پاس آئے ، آپ مقام زاویہ میں تھے، ہم نے آپ سے پوچھا:کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں رہن رکھتے تھے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہن کرتے تھے؟ حضرت انس نے فرمایا: جی ہاں! آپ نے ایک گھوڑا رہن رکھا تھا ، اس کا نام سبحہ تھا ، وہ لوگوں سے سبقت لے گیا پس وہ اس لیے چست تھا اور زیادہ پسندیدہ۔

أَبُو لَبِيدٍ، ← الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8850

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8851

8851 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، نا هِلَالُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَبَطِيُّ، حَدَّثَنِي أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ، وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ عَادَ مَرِيضًا فَإِنَّهُ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هَارُونَ إِلَّا أَخُوهُ هِلَالٌ "

حضرت ہارون بن ابو داؤد فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک کے پاس آیا ، میں نے کہا: اے ابو حمزہ! مکان دُور ہے اور ہم پسند کرتے ہیں لوٹنا۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کوئی آدمی کسی مریض کی عیادت کرے وہ اللہ کی رحمت میں غوطہ زن ہوتا ہے ، جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو جب بھی غوطہ زن ہوتا ہے۔

أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، ← أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَبَطِيُّ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8851

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8852

8852 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدُ، ثَنَا سَلَّامٌ، ثَنَا يَزِيدُ الضَّبِّيُّ، ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: «مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ صَلَاةً أَخَفَّ وَلَا أَوْجَزَ فِي تَمَامٍ [ص:354] مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَزِيدَ الضَّبِّيِّ إِلَّا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو مکمل اور مختصر نماز پڑھتا ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدَ الضَّبِّيِّ، ← سَلَّامٌ ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8852

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8853

8853 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، نَعُودُهُ، فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُمْ؟ قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: يَا جَارِيَةُ، هَلُمِّي لِي وَضُوءًا، «مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا» وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَيُخِفُّ الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ إِلَّا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ»

حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے نماز ظہر پڑھائی ، پھر ہم حضرت انس بن مالک کے پاس آئے ، آپ کی عیادت کرنے کے لیے ، جب میں آپ کے پاس آیا تو فرمایا: تم نے نماز پڑھی ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: اے لونڈی! میرے پاس وضو کا پانی لاؤ! میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ نماز پڑھتا ہو ، تمہارے امام کے علاوہ ۔حضرت عمر بن عبد العزیز رکوع وسجود مکمل کرتے تھے اور قیام وقعود مختصر کرتے تھے۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8853

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8854

8854 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْبَصْرِيُّ، عَنْ مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ إِدَامِكُمُ الْمِلْحُ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ: مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کھانوں کا سردار نمک ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُوسَى ← عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْبَصْرِيُّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8854

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8855

8855 - حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَشْرَسُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو شَيْبَانَ الْهُذَلِيُّ، ثَنَا أَبُو ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيُّ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا ظِلَالٍ، مَتَى أُصِيبَ بَصَرُكَ؟ قَالَ: لَا أَعْقِلُهُ. قَالَ: أَفَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنَا بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَنْ رَبِّهِ تَعَالَى؟ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَا ثَوَابُ عَبْدِي إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْهِ إِلَّا النَّظَرُ إِلَى وَجْهِي، وَالْجِوَارُ فِي دَارِي» ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكُونَ حَوْلَهُ، يُرِيدُونَ أَنْ تَذْهَبَ أَبْصَارُهُمْ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَشْرَسَ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى»

حضرت ابو ظلال قسملی فرماتے ہیں کہ وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، حضرت انس نے ان کو فرمایا: اے ابو ظلال! آپ کی آنکھ کی بینائی کب گئی ہے؟ فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے ، حضرت انس نے فرمایا: کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو آپ نے حضرت جبریل کے حوالہ سے ، حضرت جبریل اللہ عزوجل سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: اے جبریل! جب میں اپنے بندے کی دو محبوب شی لے لوں ، جو صبر کرتا ہے میری رضا کی خاطر اور اس کے لیے کیا ثواب ہے؟ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا وہ آپ کے اردگرد روتے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کی آ نکھیں لے لی جائیں ۔

أَبُو ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيُّ ← أَشْرَسُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو شَيْبَانَ الْهُذَلِيُّ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8855

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8856

8856 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، نا أَسَدٌ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ [ص:355] عَطَاءٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الْأَمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ إِلَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، وَإِبْرَاهِيمُ السَّائِقِيُّ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ انسان مجھے تکلیف دیتا ہے ، وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے ، حالانکہ زمانہ میں خود ہوں ، حکومت میرے ہاتھ میں ہے ، دن ورات کو میں ہی پلٹتا ہوں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← [ص:355] عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8856

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8857

8857 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ، أَوْ خُفٍّ وَاحِدٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُرْوَةَ إِلَّا أَبُو الْأَسْوَدِ، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُ لَهِيعَةَ "

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی ایک جوتی پہن کر چلے یا ایک موزہ پہن کر ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أسد ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8857

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8858

8858 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَهْدَى مَلِكُ ذِي يَزِنَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً، أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً فَلَبِسَهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ أَلْقَاهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حلہ بطور ہدیہ پیش کیا ، وہ اتنا مہنگا تھا کہ اس کے بدلے تینتیس اونٹ لیے جا سکتے ہیں ، آپ نے دن میں کچھ دیر کے لیے پہنا پھر آپ نے اتار دیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8858

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8859

8859 - حَدَّثَنَا مِقْدَامٌ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُؤْمِنُ الرَّجُلُ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کامل مؤمن نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد،اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← مِقْدَامٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8859

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8860

8860 - وَبِهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مَعَهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ»

اور اس کے ساتھ فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: آدم کا بیٹا یعنی انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ دو چیزیں یعنی عمر اور مال کی حرص جوان ہوتی جاتی ہے۔

وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8860

chevron_left Previous
1…161718…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male